عصری تعلیمی ادارے اور ہماری ذمہ داریاں

حافظ کلیم اللہ عمری مدنی

دین برحق میں جو اصول  بتائے گئے ہیں ، عین فطرت انسانی کے موافق ہیں ، بے اعتدالی سے بغاو ت پیدا ہوتی ہے ، نتیجہ میں ساری انسانیت پریشان ہوتی ہے، یورپی تہذیب میں مساوات مرد وزن کے نعرہ بلند کئے گئے کالج ، کلب، پارٹیوں میں آزادانہ اختلاط  ہوا۔ نئے لڑیچر میں فحاشی کو فطری عمل قراردیا گیا ، نتیجہ میں نکاح سے زائد طلاقیں عام ہوئیں۔

انسائیکلو پیڈیا آف برطانیا۱۹۸۴م نے بتایا کہ طلاق کی شرح میں اضافہ کا سبب عورتوں میں کمانے کاشوق ہے۔نیز امریکی اخبار The Plaine Truth 1987  کے مطابق فرانس میں  80%شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں، کناڈا میں % 40 اور امریکہ میں % 50 شادی بیاہ طلاق پر ختم ہوتی ہیں ، نیز امریکہ میں دس عورتوں میں سے چھ طلاق کا تجربہ کرچکی ہیں، برطانیہ میں ہر پانچ بچوں میں ایک ناجائز بچہ پیدا ہوتا ہے ،  مغربی ممالک میں  اجڑے گھر بہت ہیں، جہاں سے مجرمانہ کردار ابھرتے ہیں، انسائیکلو پیڈیا آف برطانیہ ۱۹۸۴م کے مطابق ناجائز اولاد نفسیاتی بے اعتدالی کا شکار ہوتی ہے ۔  افسردگی غالب ہے ،دوسری طرف آزاد صنفی تحریک کے نتیجہ میں کم عمر لڑکیاں مانع ِحمل گولیاں استعمال کرنے پر مجبور ہیں، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ ۱۵،اور۱۶سال کی لڑکیاں ما ں بنتی جارہی ہیں ، ایڈز جیسی مہلک بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں، جب کہ اسلام کی نظر میں نکاح سماج اور انسانیت کے لئے باعث رحمت اور زنا باعث زحمت اور عذاب اِلٰہی کا موجب ہے ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن و حدیث اور احکام شرعیہ کی تعلیم کو تمام دوسرے علوم پر فوقیت وبرتری حاصل ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی میں جن علوم کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ سب علم نافع میں شامل ہیں، اور ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دینی تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ان علوم میں آگے بڑھیں ؛تاکہ وہ ایک باعزت قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندگی گزار سکیں، اور انسانیت کی خدمت کر سکیں، اس کے لئے اس تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہے، جس کو آج کل عصری تعلیم کہاجاتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ نظام تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے،  ہمارے ملک میں تعلیم کو خدا بیزاری کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، مسلمان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کہ انہیں اپنی نسلوں کو دین پر ثابت قدم رکھنا بھی ضروری ہے اور تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے۔

اس پس منظر میں در پیش مسائل اور ان کاممکنہ حل پیش ٍ خدمت ہے:

مسائل اور حل

۱- اسلامی ماحول میں مطلوبہ معیار ِتعلیم کے مطابق عصری علوم پڑھانے کی غرض سے مناسب اور معیاری اسکول اور کالجس قائم کرنا امت محمدیہ پر واجب کفائی ہے ۔

۲- ایسے ادارے اگر مسلمانوں کے زیر انتظام ہوںتونصاب تعلیم میں غیر شرعی افکار ونظریات سے کلی طورپر اجتناب ضروری ہے، بعض اسکولوں میں غیر شرعی افکار مثلاً غیر معقول دیومالائی کہانیاں پڑھائی جاتی ہیں جو معصوم بچوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی کوشش ہے ، اسکول اگر مسلم افراد یا تنظیموں کے زیر ِ اثر ہوں تو مسلم قوم کے لئے ضروری ہے کہ نصاب تعلیم میں اسلامیات کو شامل کریں، تاکہ نئی نسلیں بچپن سے ہی اسلامی علوم ومعارف سے متعارف ہوں ، خصوصا اسلام کی بنیادی تعلیمات یعنی صحیح اسلامی عقائد ، عبادات سے متعلق معلومات ، اور معاملات و معاشرت وغیرہ سے متعلق بنیادی ضروری معلومات سے آگاہی حاصل کریں، نقد وتبصرہ کے ساتھ اسلامی اور غیر اسلامی نظریات کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے ساتھ پڑھانا چاہئے ، خیر اور شر کے درمیان فرق واضح کرنا اور اسلام کی حقانیت کو دلائل کی روشنی میںواضح کرنا بھی مسلم اساتذہ اور مربیوں کا فرض منصبی بنتا ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ معلمین کے اندر یہ بھی صلاحیت ہوکہ وہ خیر وشر کی تمیز کرسکیں ۔

۳- نصاب تعلیم کے مذکورہ مفاسد سرکاری تعلیمی اداروں میں زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح بعض مقامات پر ایسے اسکول نہیں ہیں، جو مسلمان انتظامیہ کے تحت چلتے ہوں، وہ عیسائی مشنری یا سنگھ پریوار کے تحت چلنے والے ادارے ہوتے ہیں، قریب میں مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والا اسکول نہیں ہوتا، جس میں مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں، ایسی صورت میںمسلمانوں کوان اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم د لانی  پڑتی ہے۔  والدین پر یہ ضروری ہوگا کہ وہ اسلامیات پر مشتمل علمی مواد کی تعلیم کے لئے الگ سے انتظام کریں ، یعنی ٹیوشن ، کوچنگ کلاسس اور سمر اسلامک کورس یا سمر اسلامک کیمپ خود والدین اپنے بچوں کی صحیح اسلامی تربیت کے لئے اپنے گھروں میں بھی ایسا ماحول بنائیں کہ نئی نسلیں باہر کی غیر اسلامی نظریات کی یلغار سے محفوظ رہ سکیں، مساجد میں صبح وشام دینیات کی تعلیم کا صحیح نظم قائم کریں تاکہ ہر مسلم طالب علم کا صحیح عقیدہ اور صحیح عمل ہواور وہ صحیح اسلامی طرز زندگی سے مکمل واقف ہو۔

۴۔                     عصری درسگاہوں کے اندر مخلوط تعلیم کا نظام ہوتا ہے، لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کلاسوں میں پڑھتے ہیں،جب بچے دس سال کے ہوجائیں تو انہیں مخلوط تعلیم سے دور رکھنا ضروری ہے ، خواہ انتظامیہ کے لئے کسی بھی طرح کی دشواریوں کا سامنا ہو، کیونکہ دفع مضرت مقدم ہے جلب مصلحت پر ۔ لہٰذا دس سال کی عمر سے ہی بچوں اور بچیوں کے مابین حد فاصل قائم کرنا شرعا ضروری ہے ورنہ اختلاط کے مفاسد کا سامنا ہوگا۔

۵- جداگانہ نظام کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

٭ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ بلڈنگ ہو۔

٭ دونوں کے لئے الگ الگ کلاس روم ہوں، داخل ہونے اور نکلنے کے دروازے اور قضائے حاجت کے مقامات الگ ہوں، چاہے بلڈنگ ایک ہی ہو۔

٭ ایک ہی بلڈنگ اور ایک ہی کلاس روم ہو، لیکن طلبہ وطالبات کی نشستوں کے درمیان مستقل یا عارضی ایسی دیوار یں ہوں کہ ایک استاذ دونوں کو پڑھا سکے، یا آگے لڑکوں کی نشستیں ہوں اور پیچھے لڑکیوں کی نشستیں ہوں، باقی آمد ورفت کے راستے وغیرہ الگ الگ ہوں۔

اسلام بے پردگی ا ور مخلوط نظام تعلیم کی ہر گز حوصلہ افزائی نہیں کرتا ، بلکہ دونوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کے لئے الگ الگ بلڈنگ کے انتظام کو ہی ترجیح دیتا ہے، تاکہ شراور فساد کا سد باب کرسکے، مذکورہ جداگانہ نظام تعلیم کی تین صورتوں میں سے پہلی صورت سب صورتوں میں بہتر اور محفوظ صورت ہے جس میں شرکے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں، اختلاط کے مفاسد سے دور رہنے کی بہتر صورت یہی ہے ۔

۶- اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کے لئے مخصوص لباس-یونیفارم-لازم ہے، اس میں بعض ادارے ٹائی کو لازم کرتے ہیں، لڑکیوں کو اسکرٹ پہننی ہوتی ہے اور لڑکوں کو نیکر پہننا ضروری قرار دیتے ہیں، اگر کوئی طالب علم شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ساتر لباس پہنے، یا کوئی طالبہ برقعہ پہننا چاہے تو اس کو خلافِ ڈسپلن کہہ کر باہر کردیاجاتا ہے، اب تو بعض اسکولوں میں اسکارف پہننے کو بھی منع کیاجاتا ہے،یہ مسلمانوں کے زیر انتظام اسکولوں میں ہوتا ہے، اور غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں بھی، تو سوال یہ ہے کہ یونیفارم مقرر کرنے کے کیا اصول و ضوابط ہوں گے، جو شریعت کے مطابق  ہوں ، اسکول کی طرف سے شناخت کی خاطر الگ الگ یونیفارم متعین کرنا درست تو ہے لیکن یہ لباس ساتر ضرور ہوں ، غیر شائستہ نہ ہوں ، لہٰذا والدین اور سرپرست ا س بات کا پورا خیال رکھیں کہ لباس مکمل شرعی اور ساتر ہوں ، اور اسکول کے انتظامیہ کو بھی اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ، بچوں اور بچیوں کو شروع سے ہی اسلامی لباس کا پابند بنایا جائے اور غیر اسلامی اور ناشائستہ لباسوں اور غیر مہذب لباسوں سے مسلم طلبہ اور طالبات کو دور رکھاجائے، غیر اسلامی تہذیبوں سے مرعوبیت کی ذہنیت ختم کی جائے۔

۷-  ان اسکولی طلباء سے داخلہ فیس، ماہانہ فیس، ٹرم فیس، ٹرانسپورٹ فیس، مطبخ فیس، امتحان فیس وغیرہ کے نام سے مختلف فیسیں لی جاتی ہیںاور داخلہ فیس کی مقدار بعض اوقات بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ رقم تعمیر، اسٹیشنری، تزئین کاری اور جدید وسائل مثلاً کمپیوٹر لیب وغیرہ خریدنے میں بھی صرف ہوا کرتی ہے، داخلہ فیس دینے والا فیس دے کر محدود عرصہ تک اس سے مستفید ہوتا ہے پھر وہ اسکول سے چلاجاتا ہے، فیس کی بڑھتی ہوئی اس مقدار نے غریب ہی نہیں متوسط طبقہ کے لوگوں کے لئے بھی اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا مشکل سے مشکل تر کردیا ہے، تعلیم کوخدمت کے بجائے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع دینے والی تجارت بنا لیا گیا ہے ،نیز ان میں بعض اسکول تو شخصی ہوتے ہیں اور بعض تعلیمی اور رفاہی اداروں کے تحت چلتے ہیں؛ لیکن ا ن سے حاصل ہونے والے پیسوں سے غریب بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے بجائے بلڈنگوں کووسعت دینے اور خوب صورت بنانے میں خرچ کردیاجاتا ہے، اسلام اس کو نا پسندیدگی کی نظروں سے دیکھتا ہے،اسلام کی نظر میں تعلیم خدمت خلق کا ذریعہ ہے،لیکن موجودہ حالات میں تعلیم کو کسب معاش کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ، بلکہ تعلیم کامیاب تجارت بن گئی ہے ، ان اسکولوں سے حاصل شدہ فیس سے غریب بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے بجائے بلڈنگوں کووسعت دینے اور خوب صورت بنانے میں خرچ کردیاجاتا ہے جو کہ ظلم ہے،تعلیم کو عام کرنا اور آسان کرنا اور جہالت کا خاتمہ مقصد  ہونا چاہئے ہیں، لہٰذا تعلیم کوکسب معاش کا وسیلہ ہر گز نہ بنایاجائے۔

۸۔                     عصری تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے والے بہت سے بچے غریب ہوتے ہیں، جو اپنی تعلیم کے اخراجات کے متحمل نہیں ہوتے تو ایسے بچوں پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے، ہر وہ تعلیم جو دینی شعور پیدا کر نے کے لئے یا احیاء دین کی خاطرہویا خدمتٍ انسانیت کی خاطر ہوتو زکوۃ کی رقم ان پر خرچ کی جاسکتی ہے البتہ تعلیم اگر دین بے زاری کی خاطر ہوتو زکوۃ کی رقم ان پر خرچ نہیں کی جاسکتی ۔

۹- بعض سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں مشرکانہ ترانے، وندے ماترم یا گیتا کے اشلوک شروع میں پڑھوائے جاتے ہیں، سوریہ نمسکار کرایاجاتا ہے، یوگا کرایاجاتا ہے ،جس کاایک جز سوریہ نمسکاربھی ہے، کہیں طلبہ پر اس کو لازم کردیاگیا ہے، کہیں اس کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس کے لئے ماحول سازی کی جاتی ہے، بعض ریاستوں میں خود ریاستی حکومت نے اسکولوں پر اس کا آرڈر جاری کردیا ہے، مشنری اسکولوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی فرضی تصویر یا مجسمہ کے سامنے دعا کرائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض مسلمان انتطامیہ اسکول میں زیادہ داخلے کی لالچ یا حکومت کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کا عمل کراتے ہیں ، مذکورہ حالت کے پیش ٍ نظر بہتر تو یہ ہے کہ مسلمان اپنا مستقل اسکول کھول لیں ،غیر اسلامی نظریات وافکار سے محفوظ رہنے کی کوشش کریں ۔

٭ اگر دوسرے ایسے ادارے موجود ہوں جو ان برائیوں سے پاک ہوں اور وہاں داخلہ ہوسکتا ہے تو اِن مشرکانہ افعال کو لازم کرنیو الے یا ترغیب دینے والے ادارے میں مسلمان بچوں کو داخل کرنا جائز نہ ہوگا ، جو مشرکانہ افعال کو لازم کرتے ہوں یا ترغیب دیتے ہوں اس کے بالمقابل ایسا ادارہ موجود ہو جو ان برائیوں سے پاک ہو تو ایسے ادارہ کو ہر حال میں ترجیح دینا ضروری ہوگا، جہاں تک ہوسکے مسلم قوم اپنے بچوں کو مشرکانہ امور اور نصرانیت کے نظریات یا غیر اسلامی عقائد رکھنے والے اداروں سے دور رکھے۔  کفر والحاد اوردین بے زاری کے ماحول سے بچائے رکھنا واجب ہے۔

۱۰- عالمی سطح پر یہ رجحان پروان چڑھ رہا ہے کہ بچوں کو جنسیات کی تعلیم بھی دینی چاہئے،ہمارے ملک کے نصاب میں اس مضمون کو بھی شامل کردیا گیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اس کو لازم کردیاجائے، اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بڑھتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی کی وجہ سے زنا اور خلاف فطرت فعل وغیرہ کے واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں، اور اس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں، اس لئے طلبہ وطالبات کو جنس کی حقیقت سمجھائی جائے اور اس کی آڑ میں محفوظ سیکس کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ بدکاری سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہیں، یہ افسوس کی بات ہے کہ اخلاقیات کی تعلیم دینے اور برائی سے بچانے کے بجائے برائی کے محفوظ راستے تلاش کئے جارہے ہیں ، ایسے اداروں سے جو اخلاقیات کو بگاڑنے والے ہیں اپنے بچوں کو دور رکھنا ضروری ہے ، کیونکہ جنسیات کی تعلیم سے اخلاقی انحطاط لازم ہے ، برائی سے بچنے کی تدبیریں اپنانے کی بجائے برائی کے  نئے راستے تلاش کرنا انتہائی مضر ثابت ہوگا، کیونکہ جنسیات کی تعلیم کو یورپی ممالک نے آزمایا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ آزادانہ اختلاط ، ننگے پن اور جنسیات کی تعلیم نے شہوانی جذبات کو اس طرح ابھارا کہ نکاح کا طریقہ ناکافی ثابت ہوا ، آزاد جنسی تعلقات کو فطری اور بے ضرر قراردیا گیا، کم عمر لڑکیاں جو ۱۲، ۱۳،سال کی عمر میں مانع حمل گولیوں پر رہنے لگی ہیں، اور وہ ۱۵،۱۶سال کی عمر میں حاملہ ہوجاتی ہیں، خاندان کا مستحکم نظام بگڑگیا، غلط تعلقات نے ایڈز جیسی مہلک بیماری کو جنم دیا ہے، ایڈز اورہسٹریا کے مرض میں بہت سارے مرد اور خواتین مبتلا ہوگئے ۔ العیاذ باللہ ۔ یقینا یہ بات مناسب ہوگی کہ حکومت سے کہاجائے کہ ہم بچوں کو اسلامی اقدار کی روشنی میں جنسیات کی تعلیم دیتے ہیں،اور مسلمان تعلیمی ادارے ایسی کتاب مرتب کریں جس میں بلوغ اور قریب البلوغ لڑکوں اور لڑکیوںسے متعلق شرعی احکام ، اخلاقی ہدایات، عفت و پاکیزگی کی اہمیت اور بے راہ روی کی مضرتوں کو واضح کیاجائے۔

۱۱- عصری اسکولوں میں تفریحی ، طبی سرگرمیوں کے نام پر وقتا فوقتا بچوں کی دوڑ، سائیکل ریس، دوسرے شہروں کی سیر اورمختلف کھیلوں کے مقابلے کرائے جاتے ہیں جس میں طلبہ و طالبات کا اختلاط بھی ہوتا ہے، اختلاط مرد وزن سے مکمل احتراز کے ساتھ دونوں صنفوں کے لئے الگ الگ تفریحی ، طبی یا ثقافتی پروگراموں کا نظم ہو تو مذکورہ پروگرام کا انعقاد شرعا صحیح ہے ورنہ نہیں۔

۱۲- ثقافتی پروگرام کے عنوان سے تقریریں، ڈرامے اور مکالمے کرانے کا سلسلہ بھی اسکولوں میں عام ہے، اس میںطالبات کو بھی تقریروں اور ڈراموں میں شریک کیاجاتا ہے، مذکورہ پروگرام صرف لڑکوں یا صرف لڑکیوں کے لئے مخصوص ہوتوایسے پروگرام کی ترتیب صحیح ہوگی ورنہ نہیں ، کیونکہ شریعت نے اختلاط سے روکا ہے ، اور پردہ کا حکم بھی دیا ، سورہ نو ر، النساء ، اور سورہ احزاب کی آیتیں اس پر شاہد ہیں لہذا مجالس کی تعیین اور تنسیخ کی اشد ضرورت ہے ، ہمارا نصب العین بے حیائی اور فخاشی سے امت کو بچانا ہے ۔

۱۳- نصاب تعلیم میں ابتدائی درجات کے بچوں کے لئے ایسی کتابیں -جن میں جانوروں کی تصاویر اور اعضاء انسانی کی تصاویر ہوتی ہیں-نصاب میں شامل کرنا درست ہے ، تعلیمی مقاصد کے لئے کسی چیز پر نقش کئے بغیر ڈیجیٹل تصویر کے ذریعہ کام لیاجاسکتا ہے، اسی طرح آج کل ابتدائی درجات کے بچوں کے لئے پلاسٹک یا لکڑی کے مجسمے-جو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں-کلاسوں میں رکھے جاتے ہیں ؛ تاکہ بچے جانوروں کے نام پڑھتے ہوئے ان کے مجسمے بھی دیکھ لیں،اس کو جدید طریقہ تعلیم میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے، بچوں کے لئے چھوٹی چھوٹی تصویروں کے ذریعہ تعلیم دینے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ، نیز تعلیمی مقاصد کے لئے کسی چیز پر نقش کئے بغیر ڈیجیٹل تصویر کے ذریعہ کام لیاجاسکتا ہے، تاکہ بچے جانوروں کے نام پڑھتے ہوئے ان کے مجسمے بھی دیکھ لیں، مقصد یہ ہو کہ اشیاء کا نام یا تعارف پیش کیا جائے ، یہ تصاویر صرف تعلیم اور تعلم کے لئے ہی ہوںورنہ ذی روحوں کی تصاویر بنانا شریعت محمدی میں درست نہیں ہے۔

۱۴- آج کل عصری تعلیمی اداروں میں طالبات کو بھی وہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو طلبہ کے لئے ہوتے ہیں، ان کو ایسے مضامین کی تعلیم نہیں دی جاتی ،جو ان کی ضرورتوں سے متعلق ہو، جیسے: سلائی، کڑھائی، پکوان، امور خانہ داری میں مہارت، اور اولاد کی تربیت وغیرہ، جو ادارے مسلم انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں، وہ لڑکیوں کے لئے ان امور کی تعلیم کا انتظام کرسکتے ہیں ،مسلم خواتین کے لئے سلائی، کڑھائی، پکوان، امور خانہ داری میں مہارت، اور اولاد کی تربیت وغیرہ، کی تعلیم وتربیت کا انتظام و انصرام یقینا مفید ثابت ہوگا-

۱۵- یہ بات ظاہر ہے کہ ہر مسلمان کے لئے دین کی بنیادی واقفیت ضروری ہے، پہلے بچے پانچ چھ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر میں اسکول میں داخل کئے جاتے تھے، اور ابتدائی جماعتوں میں تعلیم کابوجھ بھی کم ہوا کرتا تھا؛ اس لئے گھر میں بچوں کی بنیادی تعلیم ہوجایاکرتی تھی، خود ماں باپ میں بھی اتنی صلاحیت ہوتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھالیں؛ لیکن مادیت کے غلبہ اور مغربی نظام تعلیم نے اس اہم فریضہ سے نہ صرف لوگوں کو غافل کردیا ہے؛ بلکہ اب اس کی ضرورت و اہمیت بھی دلوں سے رخصت ہوگئی ہے، اس پس منظر میں ضروری ہے کہ مسلمان اسلامی ماحول کے ساتھ عصری و تعلیمی ادارے قائم کریںاور ان میں ضروری حد تک بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں اور کالجس میں ہر مسلم طالب علم کو اسلام کے مبادیات ، یعنی عقائد ، عبادات ، معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات کی بنیادی معلومات بقدر ضرورت روزانہ ایک گھنٹی ضرور دینی چاہے، اس نیک مقاصد کے لئے ہمارے علماء کرام کی تصانیف موجود ہیں ، مثلا تعلیم الاسلام ، مفتی کفایت اللہ صاحب ، (مکتب اور اسکول کے بچوں کے لئے ۵ سالہ ابتدائی نصاب )دینیات ، ادارہ دینیات ،ممبئی۔ چمن ٍ اسلام وغیرہ کی تدریس کے ذریعہ بچوں کی اسلامی تربیت کا اہتمام ممکن ہے، خصوصا دسویں جماعت یا بارہویں جماعت پڑھے ہوئے طلبہ کے لئے موسم گرما یا رمضان مبارک کے موقعہ پر دینیات پر کورس مختصر اور مطول کورس کی تدریس اور تدریب ہوتو یقینا امت کے نوجوانوں اور نونہالوں کے لئے مفید ثابت ہوگا ۔

۱۶- اساتذہ کے تقرر میں مرد معلمین اور خواتین معلمات کا مسئلہ بہت ہی اہم ہے، بالغ لڑکے اور بالغ طالبات کے لئے جنس مخالف میں سے ٹیچر مقرر کرنے کے متعلق شرعی نقطہ نظر سے غور کرنے کی ضرورت ہے، بچوں کی تعلیم کے لئے معلمین اور معلمات کاتقرر بلا تفریق خصوصا ابتدائی پانچ جماعتوں کے لئے کوئی حرج نہیں ہے البتہ جب بچے سنِ شعور میں داخل ہوں تو جنس مخالف ٹیچرکا تقرر درست نہ ہوگا، خواہ خاتون معلمہ کم تنخواہ پر مہیا ہو اور اسکول کی مالی حالت کمزور کیوں نہ ہو۔

الغرض عصری تعلیمی اداروں میں مذکورہ اصلاحات اور اسلامی سوچ وفکر کو داخل کرنا لازم ہوگاورنہ آنی والی نسلیں اسلام سے دور ہوجائیں گی، اللہ تعالی ہمیں صحیح نقطہ نظر کے ساتھ دینی رجحانات کو لاگو کرنے اور تعلیم کو خدمت خلق کا ذریعہ بنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ۔

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau