جماعت اسلامی ہند کے بزرگ قائد

مولانا عبدالعزیز صاحب کا انتقال

انتظار نعیم

جماعت اسلامی ہند کے سابق نائب امیر اور ملت اسلامیہ ہند کے عظیم قائد اور بزرگ و محبوب رہنما مولانا عبدالعزیز صاحب کا  حیدرآباد میں16مارچ2015کو 91 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔محترم امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے مولانا عبدالعزیز صاحب کی رحلت پر بڑے ہی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مولانا کی دینی و ملی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے۔ مولانا مرحوم ایک طویل عرصے تک جماعت کی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔

مولانا عبدالعزیز صاحب خطابت کی غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے اور موصوف نے سکریٹری جماعت ۔ نائب امیر جماعت اسلامی ہند کی حیثیت سے اپنے مسلسل دوروں کے ذریعہ جماعت کی دعوت و پیغام کو عام کرنے کا غیر معمولی فریضہ انجام دیا۔ ان ذمہ داریوں سے قبل موصوف نے حلقہ آندھرا پردیش اور حلقہ ٹمل ناڈو کے امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس کے ساتھ ہی موصوف مغربی اور عرب ممالک کے سفر کر کے جماعت کے پیغام کو عام کرتے رہے۔ موصوف سادگی، انکساری اور محبت کا پیکر تھے۔

مولانا عبدالعزیز صاحب امیر حلقہ کی حیثیت سے مدراس میں قیام کے دوران سالہا سال تک رمضان المبارک میں نماز تراویح کے بعد اپنے مخصوص انداز میں خلاصہ قرآن کریم بیان فرماتے رہے جس کی غیر معمولی شہرت تھی اور نمازیوں کی بڑی تعداد اس سے استفادہ کرتی رہی۔

مولانا عبدالعزیز صاحب نے ۱۹۷۵ء میں ملک میں نافذ کی گئی ایمر جنسی میں جماعت کے دیگر قائدین اور وابستگان کی طرح قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، لیکن ایام اسیری کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ایک ضخیم کتاب ’’ اللہ کی نشانیاں‘‘ مرتب کی جو مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز دہلی سے شائع ہو رہی ہے۔ مولانا عبدالعزیز صاحب جماعت اسلامی ہند کے آل انڈیا اجتماع ۱۹۸۱ کے ناظم تھے اور اجتماع کے حسن انتظام اور اس کی غیر معمولی کامیابی کے لئے بڑے احترام و محبت سے یاد کئے جاتے تھے۔

مرکز جماعت میں قائد و خطیب تحریک کی رحلت کی اطلاع ملی توپورے مرکز اور اس کے مختلف اداروں کے وابستگان کو سوگوار کر گئی اور اپنے بزرگ رہنما کی تابناک زندگی کو ہر طرف یاد کیا گیا۔احباب نے مولانا عبدالعزیز صاحب کی رحلت پر شدید رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے اس احساس کا اظہار کیاکہ ایک ایسا مجاہد اللہ کے جوار رحمت کی طرف رخصت ہوا جس نے اپنی  پوری زندگی ہند میں تحریک اسلامی کے پیغام کو عام کرنے اور اللہ رب العالمین کی خوشنودی کے حصول میں لگادی تھی۔ محترم امیر جماعت مولانا عمری صاحب نے اپنے قدیم رفیق کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے مرکز کے نمائندے کی حیثیت سے مولانا محمد رفیق قاسمی صاحب کوحیدرآباد روانہ فرمایا۔

اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور احباب و پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

مئی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau