مولانا عبدالرشید عثمانیؒ

چند مشاہدے

سید محی الدین علوی

دنیا   میں بعض ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں، جو اس عالم ہست و بود سے گزر جانے کے بعد بھی اپنی خوش اخلاقی، نیکی، تقویٰ اور بعض دوسری خوبیوں کے باعث بھلائی نہیں جاسکتیں۔ مولانا عبدالرشیدعثمانی ؒ بھی انھی لوگوں میں تھے، جن کی اسلام سے گہری وابستگی اور تحریکِ اسلامی سے غیرمشروط اور مخلصانہ تعلق اور اس کے کاموں سے بے پناہ دل چسپی نے مجھے بے حد متاثر کیاہے۔

اگر کسی کو دنیا کی بے بضاعتی اور آخرت کی تیاری کا منظر دیکھنا ہو تو وہ عبدالرشید عثمانیؒ کی زندگی کو دیکھے۔ افسوس کہ وہ اب ہم میں نہیں رہے۔ مرکز جماعت اسلامی ہند سے سکریٹری شعبۂ تربیت کی حیثیت سے ریٹائرہونے کے بعد اپنے وطن مہاراشٹر منتقل ہوچکے تھے اور گمنامی میں ان کاانتقال ہوگیا۔ ان کی موت کو میں نے گمنامی کی موت تصور کیا اور مجھے شاہ فہد یادآگئے، جن کو گمنامی میں ایک عام قبرستان میں دفن کیاگیاتھا۔

یہ ۲۹جنوری ۲۰۰۶؁     کاواقعہ ہے۔ اورنگ آباد میں آل مہاراشٹر اجتماع شروع ہوکر دوسرا دن ہوچکاتھا۔ فجر کے وقت کڑاکے کی سردی تھی، میں حیدرآباد سے پربھنی گیاہواتھا۔ وہیں سے صبح کے وقت ۲۹جنوری ۲۰۰۶؁کو آل مہاراشٹر اجتماع میں شرکت کے لیے ٹرین کے ذریعے اورنگ آباد روانہ ہوگیا۔ سیلوسے میری ملاقات ایک طالب علم سے ہوگئی۔ وہ بھی اورنگ آبادکے ریاستی اجتماع عام میں شرکت کے لیے جارہاتھا۔ میں نے اس کے تعلیمی کوائف معلوم کیے تو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ طالب علم جامعۃ الہدیٰ مالیگاؤں سے فارغ ہوا ہے۔ یہ وہی جامعۃ الہدیٰ ہے، جس کے سرپرست اعلیٰ مولانا عبدالرشید عثمانی تھے۔ اس طالب علم کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر جامعۃ الہدیٰ مالیگائوں کے معیاری درس گاہ ہونے کا احساس ہوا۔

مجھے آل مہاراشٹر اجتماع اورنگ آباد کے شہ نشیں پر مولانا عبدالرشید عثمانی نظرنہیں آئے۔ جب کہ مولانا محمد سراج الحسن سابق امیر جماعت، مولانا نذر محمد مدعو امیرحلقہ مہاراشٹر اور مولانا محمد عبدالقیوم ناظم اجتماع کے علاوہ مسجد اقصیٰ کے سابق امام شیخ صیام صاف نظرآرہے تھے۔ شاید اپنی علالت کے باعث مولانا عبدالرشید عثمانیؒ وہیں کہیں لیٹے لیٹے کارروائی میں حصّہ لے رہے ہوں گے۔ جماعت کا یہ آل مہاراشٹر اجتماع بڑا بامقصد اور عظیم الشان نظرآیا۔ بڑا آڈیٹوریم تھا، خواتین کاپنڈال الگ تھا۔ بُک اسٹالس کے لیے علاحدہ علاحدہ جگہ تھی اور نمائش کے اسٹال پر لوگوں کاہجوم تھا۔ اس اجتماع کو میڈیا والوں نے بڑی پبلسٹی دی تھی اور اورنگ آباد ٹائمز کے شعیب خسرو نے خاص نمبر ہی نکال دیاتھا، جس میں جماعت اسلامی ہند کی پوری تاریخ موجود تھی۔

میں نے پہلے ہی اندازہ لگالیاتھاکہ یہ ریاستی اجتماع بہت کامیاب رہے گا۔ کیوں کہ اس کے ناظم اجتماع مولانا محمد عبدالقیوم تھے، جو ان تھک محنت، سلیقے، تجربے اور نوجوانوں سے کام لینے میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ لیکن مجھے اِس اجتماع میں مولانا عبدالرشید عثمانی کے نہ ملنے کا بڑا قلق رہا۔ شومِی قسمت کہ چند دنوں بعد ہی مجھے ان کے انتقال کی اطلاع ملی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

مولانا عبدالرشید عثمانیؒ سے میری پہلی ملاقات پربھنی میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ امیرحلقہ تھے۔ مولانا عبدالقیوم نے مجھ جیسے عامی کا ان سے تعارف کرایا۔ اس دن جمعہ کا دن تھا اور جھری کی مسجد میں محترم موصوف کاخطبۂ جمعہ تھا۔ شام کوتنظیمی اجلاس کی کارروائی سے پہلے امیرحلقہ کے ساتھ ناظم مرہٹواڑہ ڈویژن موجودتھے۔ اس وقت کے پربھنی کے امیرمقامی حبیب اللہ صاحب کا یہ دونوں ذمّے داران سخت انتظار کررہے تھے، جو منہاری کا سامان لے کر پھیری کے لیے نکل چکے تھے۔ اس موقع پر مجھے امیرحلقہ سے استفادے کا کافی موقع ملا۔ انھوںنے مجھ سے آندھرا پردیش میںالیکشن کے موقع پر ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے اتفاق رائے کے بارے میں دریافت کیا۔

مجھے رفقا پربھنی سے معلوم ہواکہ مولانا عبدالرشید عثمانی بہت سادگی پسند ہیں، کم وقت میں ریزرویشن نہ ملنے کی صورت میں سکنڈکلاس کے ڈبے میں خواہ کتناہی رش ہو ، وہ ٹرین میں داخل ہوجاتے ہیں اور کھڑے کھڑے کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرتے ہیں۔ انھی دنوں موصوف مرحوم کے فرزند سخت علیل تھے۔ میں نے دیکھاکہ ان کی صحت یابی کے لیے انھوںنے بارگاہ عالی میں کافی گریہ و زاری کی اور خوب دعائیں کیں۔ لیکن اپنے کام سے وہ غافل نہیں ہوئے اور اپنے دوروں کاسلسلہ منقطع نہیں کیا۔

فروری ۱۹۸۱میں وادی ہُدیٰ میں جماعت اسلامی ہند کاچھٹا کل ہند اجتماع منعقد ہوا، جس کے ناظم مولانا عبدالعزیز امیرحلقہ آندھراپردیش اور ان کے معاونین مولانا عبدالرشید عثمانی امیرحلقہ مہاراشٹر اور مولانا محمد سراج الحسن امیر حلقہ کرناٹک تھے۔ چوں کہ ہم میزبان تھے، اس لیے ہمیں اجتماع کی تیاری میں ہر قسم کا کام کرنا پڑا۔ مزدوروں سے لیاجانے والا کام ہمارے نوجوانوں نے انجام دیا۔ اس وقت مجھے مولانا عبدالرشید عثمانی سے ملاقات کاکوئی موقع نہیں ملا۔ صرف چھتہ بازار کے دفتر جماعت میں ایک بار ان کی جھلک دیکھی تو انہیں باہمّت اور پرعزم پایا۔ وہ اپنی چلت پھرت اور مسلسل کوشش اور تگ ودو سے سراپا عزم اور پیکر ہمت و استقلال نظر آتے تھے۔

مارچ ۱۹۹۱ میں وادی ہُدیٰ میں مولانا محمد سراج الحسن امیر جماعت اسلامی ہند کی صدارت میں مرکزی مجلس شوریٰ کااجلاس منعقد ہوا، جس میں حلقے کی شوریٰ کے ارکان اور سکریٹریز بھی شامل تھے۔ میں مقامی جماعت وادی ہُدیٰ کاامیر مقامی تھا۔ الحمدللہ! ہمیں میزبانی اور خدمت کے مواقع ملے۔ جامعہ دارالہدیٰ کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ بعض کمروں میں پنکھے بھی نہیں لگائے جاسکے تھے۔ مولانا عبدالقیوم صاحب کو جو کمرہ ملا، اس میں بھی پنکھا نہیں تھا۔ لیکن انھوںنے یہ ظاہربھی نہیں ہونے دیاکہ مارچ کے مہینے میں پنکھا نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف ہے۔ البتہ چوں کہ وہ مجھ سے بے تکلف تھے، یہ کہاکہ ناشتے میں انھیں نیم برشت آملیٹ نہ دیاجائے کیوں کہ ان کے لیے مضر ہے۔ لیکن مولانا عبدالرشید عثمانی کی جانب سے کوئی فرمائش نہیں ملی۔ وہ اپنے کام کی طرف متوجہ رہے اور ہر آنے جانے والے سے نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے اور اس کی اور اس کے متعلقین کی خیریت دریافت فرماتے رہے۔

مولانا عبدالرشید عثمانی مرکزمیں ناظم شعبۂ تربیت تھے اور بارہا مسجد اشاعت اسلام میں ان کے خطبات جمعہ ہوئے۔ بعد عشائ بندگان خدا سے ملاقات کے لیے ان کا تن تنہا باہرآبادی میں نکل جانا بہت اثر آفریں تھا۔ ان کے اس روّیے سے وہاں کے اِرد گرد کے رُفقا کافی متاثر تھے۔ اپنی صحت کاوہ خاص خیال رکھتے تھے اور مضر چیزوں سے سخت اجتناب فرماتے تھے۔ امرود وہ پابندی سے کھاتے تھے۔ کہتے تھے کہ جو امرود کھائے گا، اسے کبھی ہارٹ کا مرض نہیں ہوگا۔

ایک بار مولانا عبدالرشید عثمانیؒ نے مجھے بڑی محبت سے نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیشہ تحریکی کاموں پر دھیان رہناچاہیے اور ہر آنے جانے والے کے سامنے تحریک اور تحریک کے پروگرام کو پیش کرتے رہنا چاہیے کہ آج مجھے اجتماع میں جانا ہے، آج مجھے انفرادی ملاقاتوں سے نکلنا ہے، آج مجھے دعوتی کیمپ میں شریک ہونا ہے وغیرہ وغیرہ۔

آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ان کی ایک ایک ادا رہ رہ کر یاد آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ان کی تربُت کو اپنے نور سے معمور کرے اور جنت الفردوس میں ان کو درجات عطا فرماے۔

مشمولہ: شمارہ جولائی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau