مولاناابو اللیث ندویؒ کی بصیرت افروز رہنمائی

(موجودہ حالات کے تناظر میں)

مولانا ابوللیث اصلاحی ندویؒ

مولاناابو اللیث اصلاحی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک فکر انگیز کتاب (مطبوعہ۱۹۵۲ء) کا حاصل مطالعہ پیش ہے ۔آپ کی دیگر تصنیفات سے بھی استفادہ کیاجائے گا۔

مولانا مرحوم نے کم وبیش ۳۲ سال بحیثیت امیر جماعت اسلامی ہند قیادت و رہنمائی کے فرائض بہ حسن وخوبی انجام دیے۔ آپ مثالی شخصیت کی حیثیت سے معروف ہیں۔ کل ہند مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانیوں میں سے بھی تھے۔ ایک اصولی ونظریاتی جماعت کے قائد کی حیثیت میں آپ نے ملت اسلامیہ ہند کو اپنے بے لاگ انداز تخاطب کے ذریعے بروقت اور صحیح رہنمائی فراہم کی۔مذکورہ بالا ملّی اداروں کے توسط سے بھی آپ نے موثر کردار ادا کیا۔

آپ کے دور امارت ۱۹۴۸؁ء تا ۱۹۷۲؁ء اور ۱۹۸۲؁ء تا ۱۹۸۹؁ء میں ملکی و ملّی احوال کے سیاق میںجو رہنمائی آپ نے کی وہ حالات حاضرہ میں بھی معنویت کی حاملہے۔ آپ کی بصیرت کے جواہر پارے ماہنامہ زندگی رام پور کی اشاعتوں میں اشارات اور خصوصی مقالات کی شکل میں موجود ہیں۔درج ذیل کتب میں موصوف کے افکار کامطالعہ کیاجاسکتاہے:

۱۔ جماعت اسلامی کا مقصد اور طریق کار

۲۔ مسلمانان ِ ہند کا لائحہ عمل ۔ (۱۹۵۲ء؁)

۳۔ پس چہ باید کرد؟ (۱۹۶۲؁ء)

۴۔ حالات حاضرہ اور ہماری ذمہ داریاں ۔(۱۹۷۲؁ء)

۵۔ ملک و ملت کے مسائل اور ان کا حل ۔ (۱۹۸۳؁ء)

۶۔ مغرب میں اسلام کی دعوت ۔ (۱۹۸۳؁ء)

۷۔ جماعت اسلامی ہند ۔ حقائق اور الزامات۔(۱۹۸۴؁ء)

۸۔ دعوت اسلامی ہندوستان میں ۔ (۱۹۸۴؁ء)

۹۔ ملک وملت کے چند قابل توجہ مسائل ۔ (۱۹۸۷؁ء)

۱۰۔ ہندوستان کا مستقبل اور جماعت اسلامی کی دعوت ۔ (۱۹۷۱؁ء)

مولانا مرحوم نے دستور ہند،بنیادی حقوق، سیکو لرزم، جمہوری نظام، پارلیمانی انتخابات میں شرکت، فرقہ پرستی ،ملکی امن و امان، مسلم پرسنل لا،شعائر اسلامی کی حفاظت و بقاء، جارحانہ قوم پرستی، فسطائت اور کلیت پسندی و آمریت جیسے مسائل پر بالغ نظری اور بصیرت کی حامل رہنمائی فراہم کی ہے۔ ذیل میں ان کتب سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں۔

غیر مسلمین سے براہ راست خطاب !

’’اسلام مسلمانوں کا کوئی مخصوص مذہب نہیں ہے ۔ بلکہ وہ آپ کا بھی ویسا ہی ہے جیسا مسلمانوں کاہے۔ اگر مسلمان اس کو اپنا مخصوص مذہب سمجھتے ہیں تویہ ان کی غلطی ہے اور اس غلطی کی وجہ سے اس پر آ پ کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ اگر دنیا میں کسی مشترک چیز پر کسی ایک فریق کے قبضے کو آپ برداشت نہیں کرسکتے تو دین تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی اور گراں چیز ہے۔ اس پر صبر کیوں کر کر لیا جاسکتاہے؟ ہم نے جو باتیں پیش کی ہیں ان کا بہت کچھ حصہ آپ اپنے آسمانی نوشتوں میں پاسکتے ہیں اور جو باتیں آپ کو نئی معلوم ہوں گی آپ غور کریں ‘ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ باتیں انہیں باتوں کا براہ راست تقاضہ یا ان کا تتمّہ ہیں جن کو کسی حال میں چھوڑ ا نہیں جاسکتا ۔ ہماری آپ سے یہ خواہش ہے کہ دین دھرم کے نام سے آپ کے پاس جو کچھ بھی سرمایہ ہے اس کو آپ اپنے معاشرہ اور نظام سیاست و حکومت کی بنیاد بنائیں یعنی خالص خداپرستی اور خدا کے سامنے اپنے اعمال کو جوا بدہی کی بنیاد بناکر اپنے انفرادی و اجتماعی معاملات کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دلوں میں مسلمانوں سے جوبے گانگی پیدا ہوگئی ہے اس کی وجہ سے آپ اسلام یا قرآن کا نام سننے کے روادار نہ ہوں لیکن اگر آپ نفس مذہب اور خد ا کے تصّور سے متنفرنہ ہوگئے ہوں تو مذہب کے ان بنیادی تصورات یعنی خدا پرستی اور محاسبہ اعمال اور رسالت سے نفرت کرنے کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے ‘‘ ّ(بحوالہ کتاب سلسلہ نمبر (۱) صفحہ 54-55)

دستور ہند کے بنیادی حقوق اکثریت کا صدقہ نہیں ہیں

مولانا محترم کی دستور ہند پر عمیق نظر تھی۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر عالمانہ بصیرت آپ کو حاصل تھی۔ تعجب ہے کہ مذکورہ دستور مملکت منظر عام پر آتے ہی اولین فرصت میں اس کا مطالعہ کرلیاتھا۔ انہوں نے بنیادی حقوق کی دفعات 5تا 30کانہایت شستہ لفظی ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ کسی ماہر دستور وقانون کی طرح اس کے عواقب و نتائج پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور اس کی اہمیت واضح کی۔ لکھتے ہیں:

’’گویا جہاں تک آئین کا تعلق ہے اس میں اور وجوہ سے نقائص ہوسکتے ہیں لیکن جن امور کے سلسلہ میں مسلمان خاص طور سے پریشانیاں محسوس کررہے ہیں ‘ان کے سلسلہ میں ان کے موجودہ ظرف کے مطابق کافی سامانِ اطمینان موجود ہے‘‘۔ (مسلمانان ہند کا لائحہ عمل ، صفحہ : ۶۸)

آپ کا یہ تبصرہ کس قدر مناسب حال ہے :

’’یہ تو آئینی حیثیت سے ہندو ستان میں مسلمانوں کی پوزیشن ہے ‘ جسے خود ملک نے اپنے نمائندوں کی زبان سے تسلیم کیاہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے قطع نظر عقل و دیانت اور دنیا کے ہر قانون کی روسے ہندوستان مسلمانوں کا ویسا ہی وطن ہے اور اس پر ان کو اسی طرح حقوق حاصل ہیں جس طرح یہاں کے دوسرے باشندوں کو حاصل ہیں۔ ان کے حقوق کو کسی منطق ودلیل کی رو سے رد نہیں کیا جاسکتا اور آئین ہند میں ان کے لئے جو مساویانہ حقوق تسلیم کئے گئے ہیں وہ کچھ اکثریت کا صدقہ نہیں بلکہ وہ ان کے جائز حقوق ہیں جن کو تسلیم کیاجانا ہی چاہیے تھا‘‘(ایضاً صفحہ ۶۹۔۶۸)

ملکی نظام کی نوعیت اور مسلمانوں سے اُس کا تعلّق

ملک کا موجودہ نظام سیکولر و جمہوری ہے۔ اس کے فسطائیت کے زیر اثر آجانے کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے موصوف نے اس نظام سے نتیجہ خیزرابطے کی راہوں کے ہموار کرنے اور مسلمانان ہند کو اس کی اصلاح کرنےکابصیرت افروز مشورہ دیا۔ ملک کے تیسرے انتخابات عام کے موقع پر آپ نے فرمایا :

’’مسلمانوں کا حالات و مسائل سے الگ ہو کر زندگی گزار نا خود کشی کے مترادف ہے۔ اسلام کو مایوسی اور خلوت اور گوشہ نشینی سے دور کی بھی نسبت نہیں مایوسی اسلام کے نزدیک کفر ہے اور وہ خلوت و گوشہ نشینی کی بجائے اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ انسان ہر طرح کے معاملات زندگی میں گُھس کر خود بھی راست روی پر قائم رہے اور ان کا رخ بھی راستی کی طرف پھیردے‘‘۔ (پس چہ باید کرد؟ صفحہ ۹) ۔

موجودہ نظام کی سیکولر نوعیت

موجودہ نظام کی سیکولر نوعیت کا خوفناک نقشہ کھینچ کر بعض دانشور مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کامشورہ دیتے رہے ہیں مگر مولانا محترم اس بارے میں کیا رائے رکھتے تھےملاحظہ فرمائیں:

’’بہت سے ایسے مسلمان جو کمیونزم کے زیر اثر ہیں وہ بھی ہمیں مطعون کررہے ہیں کہ ہم سیکولرزم کو نہیں مانتے ۔ اب ان کو کون قائل کرے کہ سیکولرزم کاکوئی ایک ہی متعین مفہوم نہیں ہے بلکہ اس کے مختلف مفہوم دنیا میں رائج ہیں جس میں ایک مفہوم وہ بھی ہے جس سے مذہب کی نفی کا اظہار ہوتاہے کیونکہ وہ انسانی فکر و عمل کو تمام تر عقل کا تابع بنانے کا علمبردار ہے اور اس کے اس مفہوم میں ہم کیا ‘ کوئی بھی مذہب کا ماننے والا اسے قابل قبول نہیں قرار دے سکتا۔ لیکن اس کا ایک مفہوم وہ بھی ہے جو ہندوسان کے واضعین دستور کے ذہنوں میں تھا اور جس کی تشریح و توضیح ملک کے ذمہ داروں کی طرف سے بار بار کی جاچکی ہے کہ ہمارے ملک میں سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ حکومت تمام مذاہب کو یکساں نظر سے دیکھے گی اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شخص سے کوئی امتیازیاجا نبداری نہیں برتی جائیگی۔ اور ہم باربار اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ سیکولرزم کے اس مفہوم سے ہم اس کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہندوستان جیسے کثر المذاہب ملک کے لئے تویہ بہت سے پہلوؤں سے موزوں و مفید ہے ‘‘۔ (حالات حاضرہ اور ہماری ذمہ داریاں ، صفحہ ۱۵)۔

موجودہ نظام کا جمہوری کردار

سیکولرزم کو ہندوتوادی مسلمانوں کی منہ بھرائی قرار دے کر اپنا سیاسی وزن بڑھانے کی سعی کرتے رہے ہیں نتیجتاً سیکولرزم کے معنی ہندوستانی سیاست میں سیاسی منافقت کے ہوگئے ہیں جو دستور ہند کی روح کے مغائرہیں۔ اس پہلو سے باشندگان ملک کی ذہنی اصلاح ضروری ہے۔ اس طرح ملک کے نظام کا جمہوری کردار کا معاملہ ہے ۔ مولانا موصوف اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

’’ملک میں بظاہر اس کابھی کوئی امکان نہیں کہ آزادی کے بعد یہاں جو جمہوری نظام قائم ہواہے وہ کلیتاًختم ہوجائے یہاں کے عوام کا مزاج جمہوریت سے پہلے بھی بہت کچھ آشناتھا اور انگریزی دور حکومت میں بھی اس کو ایک حدتک نشونما پانے کا موقع ملاہے اور آزادی کے بعد متعدد الیکشنوں نے اس کو مزید پختگی عطا کی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتاہے جمہوری نظام کی کچھ کڑیاں کل آج سے کچھ مختلف شکل اختیار کرلیں مثلاً یہ کہ برطانوی طرز کے پارلیمانی نظام کے بجائے امریکہ کے صدارتی نظام کاکوئی طرز اس کی جگہ لے لے یا اقتدار کا جو مرکز اس وقت پایا جاتاہے آئندہ اس میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوں اور ملک کے وحدانی طرز حکومت میں جیسا کچھ بھی وہ اس وقت ہے آئندہ کچھ زیادہ وفاقی انداز پیدا ہو سکے اور اس سے مرکز اور ریاستوں کے تعلق کی موجودہ شکل اور گور نروں کی موجودہ حیثیت بھی تبدیل ہو جائے لیکن جہاں تک جمہوریت کی روح و مزاج اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا تعلق ہے اس میں کسی تبدیلی کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے اور یہ بات بھی بظاہر امکان سے خارج معلوم ہوتی ہے کہ یہاں جمہوریت کے بجائے فوجی حکومت قائم ہو ، ہوسکتا ہے اس میں عوام کے مخصوص مزاج کے ساتھ فوج میں مختلف علاقوں اور گروہوں کی نمائندگی اور موجودگی سب سے بڑا مانع ہو‘‘ (ہندوستان کا مستقبل اور جماعت اسلامی کی دعوت ، صفحہ ۹۔۸)۔

مولانا محترم نے موجودہ مرحلے میں ’’جمہوری نظام کے اچھے اور خوش نماپہلوؤں ‘‘ پر اس لئے زور دیا کہ جمہوری آزادیوں سے کام لے کر وہ مطلوبہ تبدیلی لانے کی سعی کی جائے جس سے یہاں کی اجتماعی زندگی کارخ اسلام کی طرف مائل ہو۔

موجودہ نظام اور فسطائیت کا خطرہ

ہندوتواوادی موجودہ نظام کے جمہوری کردار کو اپنے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنا سکتے ہیں اس کو مولانا محترم کی دورر س نگاہوں نے نصف صدی قبل ہی بھانپ لیاتھا:

’’نیشنلزم اپنی سادہ شکل میں چند امعیوب چیز نہیں ہے اور نہ اس سے مسلمانوں کو کوئی خاص خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ بلکہ اگر اس کو اس معنی میں لیا جائے کہ وطن کے باشندے کو اپنے وطن سے محبت ہونی چاہئے تو مسلمان اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتا کیونکہ کس کو اپنے ملک سے محبت نہیں ہوتی اور اسلام اس سے روکتا نہیں بلکہ اس کو پسند کرتا ہے اور اس معنی میں نیشنلزم مسلمانوں کے لئے خطرناک ہونے کے بجائے ان کے حق میں مفید ہی ہوسکتاہے ۔ کیونکہ ملک کے وہ بھی ایک غیر منفک جز و ہیں۔ لیکن جب نیشنلزم اپنی سادہ اور فطری حدود سے آگے بڑھ کر یہ شکل اختیار کر لے کہ مسلمان اس بناء پر اپنے دیس میں پردیسی سمجھے جانے لگیں کہ وہ خدائے واحد کے سوا کسی درخت یا پتھر اور ندی کے آگے سر جُھکانے کے لئے تیار نہیں ہیں ‘ یا وہ اپنی نمازوں میں اپنا رخ کعبہ کی طرف کرتے ہیں جو ہندوستان سے باہر عرب میں واقع ہے اور یہاں کی قدیم شخصیتوں کے احترام کے ماسوا قابل پر ستش نہیں سمجھتے اوراپنی عقیدتوں کا مرکز ہند وستان سے باہر کی شخصیتوں کو بھی قرار دیتے ہیں اور اس پر نہ صرف یہ کہ بہت سے وسیع ظرف و دماغ رکھنے والے لوگ ناک بھوں چڑھائیں بلکہ اس پر مسلمان جبل پورسا گر اور علی گڑھ و میرٹھ وغیرہ کے لرزہ انگیز واقعات کے ذریعہ قابل تادیب قرار دیئے جائیں تو ایسانیشنلزم قابل نفرت ہے اور مسلمانوں کے لئے اس کاانتہائی خطرناک ہو نا بالکل ظاہر ہے۔ یہ نیشنلزم نہیں بلکہ جیسا کہ الہ آباد کے ایک جج مسٹر دھاون اشارہ کرچکے ہیں ‘ یہ ہٹلر کی فاشنرم ہے جو آگے چل کر صرف مسلمانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ خود ملک کے لئے انتہائی خطرناک نتائج کا موجب ہوسکتا ہے۔ ‘‘ (پس چہ باید کرد ؟ صفحہ ۱۳۔۱۲)

مولانا کی تحریروں سے معلوم ہوتاہے کہ فاشنزم(فسطائیت) کے خطرے کی نشاندہی ۱۹۶۲؁ء ہی میں کرتے ہوئے مولانا محترم نے اس کے تدارک کے لئے حسب ذیل اقدامات کی نشاندہی فرمائی تھی۔

(الف) برادران وطن میںافراد ادارے اور جماعتیں جو فسطائیت کی مخالف ہیں لیکن محض منفی تد بیروں سے اس کاازالہ کر رہے ہیں انکے سامنے اس کا مثبت حل حقیقی ‘ صحیح اور سچے مذہب کی پیروی پیش کیاجائے ۔

(ب) چونکہ فسطائیت جمہوری راہ (انتخابات ) سے ملک پر غالب آ نیکی سعی کررہی ہے اس لئے مسلمان اور دیگر مخالف فسطائیت عناصر متحد ہوکر انتخابات کی راہ اپنا نے پر غور کریں۔

(ج) عظیم خطرے (فسطائیت) کا مقابلہ صرف انتخابات کی راہ سے بھی نہیں ہو سکتا ‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ :

i)) تعلیم و تربیت کے ذریعہ ذہنون کو بدلاجائے۔

ii)) خدمت خلق کے ذریعہ عوام الناس کے مسائل حل کئے جائیں (وگر نہ وہ فاشنرم و کمیونزم کے حامیوں کے جال میں پھنسے رہیں گے)۔

مسلمانوںکا لائحہ عمل

ملکی نظام کی بنیادیں،انکے بارے میں مسلمانوں کا موقف اور تبدیلی حالات کے طریق کار کو وہی گروہ سمجھ سکتاہے جو اہلیت اور آزاد فضاء میں سانس لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ’’مسلمانان ہند کا لائحہ عمل‘ ‘کتاب کا ایک باب ’’مستقل امراض ملّی‘‘ ہے۔ آزادی ہند کے بعد امراض ملّی کی تشخیص اور ان کے موزوں علاج کی تدبیر آپ نے پیش کیہے۔اس علاج میں تدریج بھی ہے ‘ اور مریض و حالات زمانہ (موسم) کی رعایت بھی ملحوظ رکھی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ملت کی اصولی حیثیت کو فراموش نہیں کرتے۔ فرماتے ہیں۔

’’ہمارے نزدیک کسی قوم کی بقاء و ترقی کے لئے سب سے مقدم اور بنیادی چیز یہ ہے کہ :

(الف) اس قوم کے سامنے کوئی واضح اور روشن مقصد اور نصب العین ہو نا چاہئے جو اس کے حوصلوں کو بلند کرسکے اس کے افراد کو ایک رشتہ اتحاد میں منسلک کر سکے اور انکی قوتوں اور صلاحیتوں کو ایک نقطہ پر مرکوز کرسکے۔

(ب) اس مقصد و نصب العین کے ساتھ اس کا اتنا گہر ا عشق اور لگاو ہونا چاہئے کہ وہ اس قوم کے ہر فرد یا اس کی اکثریت کے رگ و ریشہ میں سما جائے اور وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ حتٰی کہ اپنی جان بھی قربان کردینے پر آمادہ ہوجائے۔جب تک یہ کیفیت پیدانہیں ہوگی ‘ محض مقصد کی تعین یا اس کا نام لیتے رہنا اس قوم کے لئے کچھ سود مند نہ ہوگا۔

(ج) مقصد جس طرح کا بھی ہواس کو اپنا نے سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا۔ کیونکہ یہ مقصد ونصب العین کا خاصہ ہے لیکن وہی مقصد حقیقی زندگی کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بحیثیت مجموعی کا ئنات کے مجموعی نظام سے ہم آہنگ ہو ورنہ قدم قدم پر اس کائنات کی اصل کار فرما طاقتوں سے تصادم شروع ہوجائے گا جس سے اس مقصد کا دامن بہت جلد ہاتھ سے چھوٹ جائگا یا وہ قوم ان طاقتوں سے ٹکراکر پاش پاش ہو جائیگی اور کم از کم اسکے مزاج و افتا دطبع اور اس کے حقیقی داعیات و مقتضیات کے مطابق ہو ورنہ وہ زیادہ دنوں تک اس قوم کے لئے موجب کشش نہیں رہے گا اوراگر حالات و اسباب کے تحت و ہ اس کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے ہی پر مجبور ہو جائے تو تھوڑے ہی دنوں میں وہ اپنی تمام ملّی خصوصیات کھو بیٹھے گی اور پھر اگر وہ اس مقصد کے طفیل میں کچھ تھوڑی سی زندگی حاصل بھی کرلے تو وہ اس قوم کی زندگی نہیں ہوگی بلکہ اس کی موت کے مترادف ہوگی اور وہ اپنی اصل حیثیت میں بالکل مر دہ ہو چکی ہوگی‘‘ (کتاب محولہ بالا ۔ صفحات : ۹۰۔۸۹)

دعوت اسلامی کا طریقہ کار

ہندوستان کے مخصوص سیاسی حالات میںمولانا محترم دعوت دین کی ترجیحات کے قائل تھے ۔داعی حق کو مسلم اکثیر یتی ملک اور کسی مسلم اقلیتی ملک میں اپنے طریقہ کار میں کیا فرق ملحوظ رکھنا چاہئے اس کی حکمتوں سے بخوبی آگاہ تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’میرے اپنے خیال کے مطابق مغربی ممالک امریکہ و کنیڈا وغیرہ میں دعوت دین کے لئے ان ملکوں کے دعوتی کاموں اور ان کے طور طریقوں کو جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں اور صاحب اقتدار ہیں ‘ اپنے سامنے رکھنا اور ان کی تقلید کرنا اتنا سود مند نہیں ہو سکتا جتنا ان ملکوں کے دعوتی کاموں اور ان کے طور طریقہ کا ہو سکتا ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں بلکہ اس سے آگے میں کہنے کی جرائت کرونگا کہ پہلی صورت اختیار کر نے میں اگر ضروری احتیاط اور تنبیہ سے کام نہ لیا جائے تو ہو سکتا ہے اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو اور کام میں طرح طرح کی رکاوٹیں اور مشکلات پیدا ہو جائیں ۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رکھنے کی ہے کہ جن ملکوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کو موٹی موٹی دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک قسم ‘ ان ملکوں کی ہے جہاں مسلمان کافی بڑی تعداد میں آباد ہیںلیکن وہ ایک ایسے نظام حکومت کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جو صرف یہی نہیں کہ غیر اسلامی ہے بلکہ اپنے بنیادی افکار و نظریات کی بناء پر مخالف مذہب اور کچھ مخصوص اسباب وجوہ کی بناء پر خصوصیت کے ساتھ سخت دشمن اسلام بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے شہریوں کو شہریت کے بنیادی حقوق سے بھی عملاً محروم کر رکھا ہے ۔دوسری قسم ان ممالک کی ہے جہاں مسلمان ہیں تو اقلیت میں اور ان ملکوں کا نظام حکومت بھی غیر اسلامی ہی ہے لیکن ملکی قانون و دستور کے تحت دوسروں کی طرح ان کو بھی عام شہری حقوق حاصل ہیں اور وہاں کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے اور اسکی تبلیغ و اشاعت کی بھی پوری آزادی ہے اور ان میں کچھ ملک ایسے بھی ہیں جہاں اپنے دستوری حق کی بناء پر تمام شہری اقتدار میں بھی برابر کے شریک سمجھے جاتے ہیں ‘ یہ اور بات ہے کہ مختلف وجوہات و احوال کی بناء پر وہ نظام مملکت پر اسلامی نقطہ نظر سے اثر انداز ہونے کے موقف میں نہ ہوں۔ اس تقسیم کے پیش نظرمیر اخیال یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور مغربی ممالک اور امریکہ کے مسلمانوں کے مابین متعدد وجوہ سے کافی حدتک مشابہت اور یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اکثریتی مسلم ممالک کے دعوتی کاموں اور ان کے بالمقابل باہم خود ایک دوسر ے کے دعوتی کاموں اور دعوت کے طور و طریق سے زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کرنے اور حتیٰ الوسع اور حسب گنجائش فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تو یہ ان کے لئے زیادہ مفید اور کار آمد ہوسکتا ہے ۔ مغربی ممالک اور امریکہ وغیرہ کا تو امتیاز ی وصف بھی یہ شمار ہوتاہے کہ اول الذکر قسم کے ملکوں کے مقابلے میں ان کا دستور جمہوری ہے اوران کے شہریوں کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ ہندوستان کے بارے میں بھی یہ ایک معروف بات ہے کہ اس کا دستور و آئین اپنے بنیادی ڈھانچے اور شہریت کے بنیادی حقوق کی حدتک بہت کچھ ان ملکوں کے دساتیر سے مشابہت رکھتا ہے۔ (دعوت اسلامی ہندوستان میں صفحہ ۳۴۔۳۳)

یہ بات ہمارے غور فکر کے لئے ایک اہم جہت فراہم کرتی ہے۔ نظام حکومت میں تبدیلی کی دعوت سے آغاز کرنے کے بجائے مولانا محترم نے دستوری و جمہوری حقوق سے استفادہ کا مشورہ دیا۔سیاست میں حصہ لینے کے لئے نہایت عملی انداز سے متوجہ کیا:

’’قوم پرستانہ تصور کے تحت الیکشن او رسیاست میں حصہ لینے کو تو ہم ضرورغلط اور ان کے لئے مُضر سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ اپنے ملّی تصور کے تحت اور صرف شہادت حق کا فریضہ ادا کرنے کے جذبہ سے اس میں حصہ لیں تو یہ بات نہ صرف یہ ان کے لئے جائز ہوگی بلکہ کچھ حالات میں شاید یہ ان کے لئے ضروری بھی ہو۔ ہم نے خود اپنے بارے میں بھی اپنی پالیسی کے تمہیدی حصے میں صاف صاف یہ وضاحت کردی ہے کہ جماعت اسلامی اپنے نصب العین کے حصول کے لئے پر امن جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کرتی ہے۔اس کے مفہوم میں انتخابی سیاست میں حصہ لینا بھی شامل ہے ۔ چنانچہ مناسب وقت آنے پر وہ اپنے اصولوں کے تحت الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے‘‘(ایضاً صفحہ ۵۱)

مسلمانون کی دینی تعلیم ‘ مدارس دینیہ اور پرسنل لا

مستقبل قریب میں ہندوستان کی نئی حکومت کے منصوبوں میں مدارس کی جدید کاری کے نام پر دور رس تبدیلیاں آسکتی ہیں آزادی ہند کے بعد ہندی اور علاقائی زبانوں کا چلن (اردو کونظر انداز کرنا) مذہبی تعلیم سے لاتعلقی ‘ ہند و مذہبی رسوم (سرسوتی پوجا اور سوریانمسکار) نے مسلمانون کو دینی مدارس کی طرف رخ کرنے پر مجبور کیا۔ اس وقت مدارس ہزاروں کی تعداد میںقصبات کی سطح پر قائم ہیں۔ انہیں جدید بنانے کا مطلب اگر سائنس و ٹیکنالوجی اور میاتھمٹیکس وغیرہ علوم کو داخل نصاب کر وانا ہے تویہ اس پر غورہوسکتاہےکیونکہ یہ علوم مسلمانوں کی ہی متاع گم شدہ ہیں ۔ ان مدارس کے نصاب کے دینی پہلو کوکم کئے بغیر ان علوم کوشریک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر مقصد یہ ہے کہ مدارس کے دینی کردار کو مجروح کیاجائے تو یہ قابلِ قبول نہیں۔

دوسرا مسئلہ یکساں دیوانی قانون (Uniform Civil code)کی تدوین ہے اس کا ذکر دستور کے رہنما اصولوں میں ہے۔ مدارس دینیہ کی طرح یہ مسئلہ بھی حساس نوعیت کاہے اس پر جذباتی انداز سے غور نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس نازک مسئلہ پر ایک اہم فیصلہ ۴/جون ۲۰۱۴؁ ء کو سنایا ہے ۔ اس فیصلے کے چند پہلو غور طلب ہیں:

’’ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ ان کے اپنے الگ الگ سماجی قوانین اور مذہبی روایات ہیں۔ اس صورت میں سب کے لئے یکسان سماجی قوانین بناناممکن نہیں ہے۔ ‘‘ (سہ روزہ ’دعوت‘ نئی دہلی ۱۳جون ۲۰۱۴؁ء )۔

’ہندوکوڈ‘کو یونیفارم سول کوڈ کا پیش خیمہ کہاگیاتھا اس سلسلہ میں حقیقت پسند انہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کی ۸۵فی صد آبادی میں سماجی وقانونی یکسانیت لانے میں یہ کہاں تک کامیاب رہا کیااس کوڈ نے خاندانوں کے معاشرتی مسائل حل کیے۔ کیاانصاف کے تقاضوں کے مطابق کوئی نمایاں کردار نبھایا ؟

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ’مولانا ابو اللیث ؒ نے ۱۹۶۲؁ء میں بڑی دوررس رہنمائی دی تھی ’’سب سے بڑی اور مقدم ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک ایسااجتماعی ادارہ ہونا چاہئے جو مسلمانوں کی تمام ملّی ضروریات کا کفیل ہو اور اس کے ہاتھوں یہ تدابیر (فریضہ شہادت حق ‘ دینی تعلیم و تربیت ‘ مسلم پرسنل لاقوانین شخصی از روئے شریعت کا تحفظ) عمل میں لائی جائیں لیکن مشکل یہ ہے کہ بد قسمتی سے اس وقت ان کا شیرازہ ملّی بالکل منتشر ہے اور ان میں کوئی ایسا اجتماعی ادارہ موجود نہیں ہے جو انکے معاملات کی دیکھ بھال کرسکے اور ان کو ٹھیک طور سے حل کرے‘‘۔ (مسلمانان ہند کا لائحہ عمل صفحہ ۳۳۹)

مولانا محترم کی شرکت سے دینی تعلیمی کو نسل ‘ مسلم مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لابورڈ جیسے ادارے قائم ہوئے۔ ان اداروںکے ذریعہ خاصا کام ہوا۔ اب ملّی کونسل اور فقہ اکاڈمی جیسے اداروں سے تال میل کی صورت نکلے تو ایک مسلم وفاقی ادارہ وجود میں آسکتا ہے۔ یہ سارے فورم غیرسرکاری موثر اداروں کی صورت میں ملت کی متحدہ آواز بن سکیں تو احسن ہو گا۔ مسلمانوں کی دستوری پوزیشن بہتر بنانے کے لیےدستور ہند کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ بنیادی حقوق دستوری ماہرین کی تحریروںاور عدالتوں کے نظائرکامطالعہ درکار ہے۔ ملت اسلا میہ ہند کے گونا گوں مسائل کاحل ‘ دستور ہند کی فراخدلانہ تعبیر کے ذریعے نکل سکے تو یہ مُلک اور مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau