مولانا محمود احمد خانؒ

چند یادیں، چند باتیں

سید محی الدین علوی

اگرچہ کہ وطن ہونے کے ناطے میری بودو باش اور تعلیم و تربیت حیدرآباد میں ہوئی، لیکن مہاراشٹر سے مجھے ایک خاص لگائو رہا۔ یہاں کے لوگوں کی سادگی خلوص اور اخلاق ، وہ اوصاف ہیں جن سے میں بے حد متاثر رہا۔ غیرمسلموں میں بھی یہ کیفیت پائی جاتی ہے۔ کیلاری کے زلزلے کے بعد جب ریلیف کیمپ میں ایک ضعیف العمر شخص پہنچا تو اس نے روتے ہوئے مولانا عبد العزیز صاحب نائب امیر جماعت اسلامی ہند سے کہا: مولانا میں نے پولیس ایکشن میں ۲۴ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا، آج اسی جگہ میرے افراد خاندان میں سے ۷۲ اس زلزلے میں زندہ دفن ہوگئے ہیں۔ یہ قدرت کا انتقام نہیں تو اور کیاہے؟ بابری مسجد کی شہادت میں شریک ایک ’رام سیوک‘ نے اپنے قبولِ اسلام کے بعد اپنے گناہ کی تلافی میں مسجدیں بنانے کاکام شروع کردیا۔

مہاراشٹر سے میری یک گونہ نسبت یہ بھی ہے کہ مرہٹواڑا میں میرے بہت سے اعزّہ ہیں۔ بل کہ میرا سسرالی گھرانا یہیں کا متوطن ہے، جو بعد میں حیدرآباد منتقل ہوگیا۔ اورنگ آباد کے ویٹرنری پالی کلینک میں اسسٹنٹ سرجن کی حیثیت سے ملازمت انجام دیے۔ میرا قیام چھائونی میں رہا جو مو لانا محمود احمد خانؒ کی گرفتاری کے بعد گویا تحریک اسلامی کا مرکز رہا۔ مولانا عبدالقیوم ناظم جماعت اسلامی ہند مرہٹواڑا کے اورنگ آباد بار بار تشریف آوری نے میرے دل کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ ایک بار مولانا محموداحمدخاںؒ ﴿سابق امیر حلقہ اورنگ آباد﴾ کا لڑکا جُنید احمد خاں اپنی بیمار بھینس کو دواخانہ لے کر پہنچا۔ جس کا علاج کرنے کے بعد میں نے ارادہ کرلیاکہ ان کی بھینسوں کا علاج اب آئندہ سے ان کے وسیع و کشادہ مکان واقع روہیلہ گلی میں کیاجائے گا۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا۔ ہمارا اجتماع بھی وہیں ہوتاتھا اور علاج بھی وہیں ہوتا تھا۔

مولانا محمود احمدخانؒ کو ہند-چین جنگ کے بعد پابند سلاسل کردیاگیاتھا۔مولانا محمود احمد خان کی گرفتاری ڈی آئی آر کے تحت عمل میں آئی تھی اور چوں کہ وہ پہلے پولیس عہدیدار تھے ، اس لیے انھیں جیل میں اچھا مقام دیاگیاتھا اور گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا بھائی بھی جس پر گاندھی جی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا الزام تھا، جناب محموداحمد خاںؒ کا جیل کا ساتھی تھا۔ اس کا نام گوہال گوڈسے تھا۔

مولانا سید حامد حسین معاون قیم جماعت اسلامی ہند جب اورنگ آباد تشریف لاتے تھے تو محمود احمد خاں صاحب کے مکان میں قیام فرماتے تھے۔ جامع مسجد اورنگ آباد بڈّی لائن میں ان کا جمعہ کے موقع پر خطاب ہوتا تھااور شاہ گنج میں پبلک میٹنگ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ مولانا سید حامد حسینؒ نے مجھ سے کہا: گویا بھینس تمھیں یہاں کھینچ لائی ہے۔ وہ دور قربانیوں کا دور تھا اور لوگ اپنی قیمت نہیں مانگا کرتے تھے۔ لیکن مہاراشٹر کو اب بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے کئی ذمہ دار اب بھی مرکز میں ایسے ہیں اور رہے ہیں جنھوںنے اپنی جوانی تحریک اسلامی کی نذر کرکے ایثار و قربانی کی غیرمعمولی مثال قائم کی ہے۔ مولانا محمود احمد خانؒ کی اہلیہ جو خود رکن جماعت تھیں، اپنے شوہر کے محروس ہونے کے باعث گھر کے اخراجات چلانے کے لیے گھر پر ڈیری فارم چلاتی تھیں اور ان کا دودھ کا کاروبارتھا۔ نئی پود کی اُٹھان اور اعلیٰ تربیت سے مجھے شروع سے دلچسپی رہی۔ محکمۂ تعلیم یا شعبۂ تدریس کاتجربہ نہ ہونے کے باوجود میں نے عزم کرلیاکہ مولانا محمود احمد خاںؒ کے دو فرزندان کو جو اس وقت بہت کمسن تھے، بلامعاوضہ پڑھائوںگا۔ بچوں کا اسکول کا ہوم ورک بھی دیکھنا میری ذمہ داری ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں ائمہ اسلام اور خلفائے راشدین کے واقعات سنانا بھی میری ذمہ داری میں شامل ہوگیا۔ بعد میں جب مولانا محمود احمد خانؒ پیرول پر رہاہوکر آئے تو میری کارکردگی سے وہ بہت خوش ہوئے۔ خیر وہ قربانیوں کادور تھا اور برہمن لابی مسلمانوں سے سخت تعصب رکھتی تھی۔ جیسے ہی ستمبر ۵۶۹۱ کے اوائل میں ہند،پاک جنگ چھڑی، اورنگ آباد میںمسلمان عمائدین خواہ وہ کسی تنظیم یا پارٹی کے ہوں گرفتار کرلیے گئے، جن میں جماعت اسلامی ہند کے ذمے دار سید عبدالحلیم صاحب مرحوم، عبدالحمید خان اور عبدالکریم خان بھی تھے۔ مولانا عبدالقیوم صاحب ناظم اورنگ آباد ڈویژن جن کا مستقرجالنہ تھا، پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہوئے تھے، وہ بھی گرفتار کرلیے گئے۔ اگرچہ میں جماعت اسلامی ہند کا اس وقت رکن نہیں تھا لیکن اجتماعات میں شرکت اور ذمہ داران سے ربط ضبط کے باعث اس کا امکان تھا کہ میرے خلاف بھی کارروائی ہو۔کیونکہ اس زمانے میں سی آئی ڈی کا تانا لگارہتاتھا۔ مولانا عبدالقیوم صاحب کی تربیت کا مجھ پر اتنا اثر ہوا تھاکہ میں نے یہ عزم کرلیاکہ خواہ کچھ ہوجائے یا اپنی جان پر بن آئے اللہ کے دین کی سربلندی اور آخرت میں سرخروئی حاصل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کروں گا اور دین کی آبرو کے لیے اگر جان کا نذرانہ بھی دینے کی نوبت آئے تو اس کے لیے بھی تیار رہوںگا۔

جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران سے لے کر معمولی کارکن تک جیل میں دعوت و تبلیغ کے فریضے سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگوں نے اپنے جرائم سے توبہ کی اور خدا کا خوف ان کے دل میں پیدا ہوا۔ لاتعداد لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ غرضے کہ جیل میں رہتے ہوئے بھی ہمارے ذمہ داران اور عام کارکنوں نے سنت یوسفی میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔

مولانا محموداحمد خانؒ رہا ہوگئے۔ اورنگ آباد کاحلقہ بدل گیا اور اسے مہاراشٹر میں ضم کردیاگیا، جس کے امیر مولانا شمس پیرزادہؒ تھے۔ مولانا محمود احمد خانؒ کو تامل ناڈو کا امیر حلقہ بنادیاگیا۔ اس اثنائ میں میں اپنے وطن حیدرآباد منتقل ہوگیا اور ۲/اپریل ۱۹۶۷ کو حیدرآباد میں میری شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد ملاقات ہوئی تو مولانا محمود احمد خانؒ نے مجھے دلی مبارکباد دی اور میرے تحریکی کاموں سے بہت خوش ہوئے۔ وہ چھٹیوں میں جب بھی مدراس سے اورنگ آباد جاتے، راستے میں انھیں حیدرآباد ملتا اور کبھی کبھی مجھے بھی دفتر حلقہ پرانی حویلی حیدرآباد میں ان سے ملاقات کاموقع ملتا۔ بالآخر نومبر ۱۹۹۷ میں وادی ہدیٰ میں کل ہند اجتماع ارکان ان کا آخری اجتماع رہا۔ اس کے بعد وہ اللہ کوپیارے ہوگئے اور اپنے پیچھے ایک سوگوار خاندان کو نہیں بل کہ تحریک اسلامی کے ایک بڑے قافلے کو اپنے مشن کی تکمیل میں چھوڑگئے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau