مولانا سعد الدینؒ

شخصیت اور خدمات

مجتبی فاروق

مولانا سعد الدینؒ کی شخصیت اتنی پُر اثر اور کثیر الجہت ہے کہ اسے ایک مضمون میں سمیٹنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہو گا۔ مولانا سعدالدین ایک دیدہ ور شخصیت کے مالک تھے،  ریاست جموں وکشمیر سے باہر بھی لوگ ان کے سیرت وکردار اور کارناموں سے واقف ہیں۔ مولانا سعد الدینؒ بیک وقت مربی، قائد، مصنف، داعی، استاد، مبلغ اور بانی جماعت اسلامی جموں وکشمیر تھے۔ وہ ایسے قائد ومربی تھے کہ نہ صرف ان کے ہم فکر وخیال کے لوگ بلکہ دین دشمنان وتحریک اور حکومت وقت کے کارندے تک بھی ان کی دلکش اور پُر اثر شخصیت سے متاثر تھے۔ مولانا مرحومؒ نہ صرف ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے بلکہ یہاں غیر مسلم ہم وطنوں کے بھی حقیقی بہی خواہ تھے۔ ان کی شخصیت اس دور میں ابھر کر سامنے آئی جس میں باطل پرستوں کے کارندے نہ صرف ہر جگہ چھائے ہوئے تھے بلکہ ان ہی کی بالادستی قائم ودائم تھی۔

ابتدائی تعلیم وتربیت:

مولانا سعد الدین ؒ سرزمین کشمیر میں قدرتی حسن سے مالا مال ایک دور دراز علاقے میں اپنے ننھال کے ہاں ۱۱ ؍ اپریل ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انتہائی ذہین وفطین ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف النفس بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتبہ سے حاصل کرنے کے بعد حفظِ کلام اللہ ہونے کی سعادت اپنے چچا بدر الدین کی نگرانی میں حاصل کی۔ ان کے والد پیر غلام صاحب جو خود بھی دین دار تھے، نے سعد الدین کو اسلامی خطوط پر تربیت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مولانا سعد الدین ؒنے سرینگر میں ایس پی کالج سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ۱۹۴۲ء میں پرنس ویلز کالج سے بی ٹی کی سند حاصل کی۔ عصری علوم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دینی کتب کا بھی خوب مطالعہ کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے انہیں علم وصلاحیت میں کافی اضافہ ا وروسعت ملی۔ وہ علم وحکمت کے نہ صرف شیدائی بلکہ علم ومعرفت میں ہمیشہ سرگرداں رہتے تھے۔ انہیں تاجران کتب سے دوستانہ تعلقات رہتے تھے جس کی وجہ سے وہ نئی کتب کے شائع ہونے کے بارے میں باخبر رہتے تھے اور جہاں بھی کوئی نئی کتاب ملتی اولین فرصت میں اس کو خرید کر مطالعہ کرتے تھے اوروسعت مطالعہ کی وجہ سے وہ ریاست میں بڑے بڑے دانشوروں میں شمار ہوتے تھے۔

فکر مودودیؒ سے شناسائی:

مولانا سعد الدینؒ اس ارشاد رسولﷺ کے عملی نمونہ تھے جس میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: حکمت ودانائی کی بات خواہ کہیں بھی ہو، مومن کی گمشدہ پونجی ہے ۔ ( ترمذی ، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العباد)۔ انہوں نے اپنے فکر وعلم میں بہت ہی قلیل وقت میں بے حد اضافہ کیا۔ مولانا مرحوم کو فکرِ مودودیؒ سے شناسائی ۱۹۳۰ء کے دہائی میں ہوئی تھی۔ سید مودودیؒ نے جب ۱۹۳۳ء میں ترجمان القرآن کے ذریعہ احیائے اسلام کا عَلَم بلند کیا تو یہ آواز بہت جلد برصغیر کے سب سے خوبصورت خطے وادیٔ کشمیر میں بھی  پہنچ گئی، اور اس طرح سے ایک بڑی تعداد اس فکر میں شامل ہو گئی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سید مودودیؒ ۱۹۴۱ء میں تحریک اسلامی کو وجود میں آنے سے قبل کشمیر کے دورے پر آئے اور یہاں چند دن وادیٔ کشمیر کے ایک خوبصورت اور مردم خیز علاقے شوپیان میں قیام کیا تھا۔ مولانا سعد الدینؒ کو اس دورے کے بارے میں کچھ معلوم تھا یا نہ تھا بحرحال اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مولانا سعد الدینؒ کو ترجمان القرآن کے زریعے ہی فکر مودودیؒ سے شناسائی ہوئی انہیں ایک دن سرینگر کے ایک کتب فروش سے ماہنامہ ترجمان القرآن کا ایک شمارہ ملا جسے پڑھ کر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے یہ ان کی دل کی آواز ہے۔ اس کے بعد وہ ۱۹۳۷ء سے ترجمان القرآن کے مستقل قاری بن گئے۔ اس طرح سید مودودیؒ کے انقلابی نظریات سے نہ صرف متعارف ہوئے بلکہ اسی کے ہو کر رہے۔ پھر ایک سال کے بعد یعنی ۱۹۳۸ء میں انہوں نے سید مودودیؒ کے قائم کردہ ادارے’’ دار السلام‘‘میں خود کو پیش بھی کر دیا تھا۔ جب ۱۹۴۵ء میں جماعت اسلامی کا کل ہند سہ روزہ اجتماع بمقام پٹھان کوٹ منعقد ہوا جس میں وادی کشمیر سے مولانا سعد الدینؒاور سید محمد شفیع صاحب کے علاوہ مولانا احرار صاحب اور مولانا قاری سیف الدین نے بھی اس روح پرور اجتماع میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مذکورہ اجتماع نے مولانا سعد الدینؒ میں انقلابی تبدیلیاں پیداکیں کیونکہ ابھی تک مولانا سعد الدینؒ سید مودودیؒ کے افکار ترجمان القرآن سے ہی مطالعہ کرتے تھے لیکن اس اجتماع میں انہوں نے سید مودودیؒ سے براہ رأست استفادہ کیا جن سے مولانا سعد الدینؒ کی تحریک اسلامی سے وابستگی اور بھی مستحکم ہو گئی ۔ سید مودودیؒ نے’’ سلامتی کا راستہ‘‘کے نام سے جو خطاب کیا اس کو مولانا نے براہ رأست سماعت فرمایا۔

کشمیر میں جماعت اسلامی کا تاسیسی اجتماع:

پٹھان کوٹ سے واپس لوٹنے کے بعد اس مختصر سے قافلے نے آپس میں صلح ومشورہ کرنے کے بعد کشمیر میں تحریکِ اسلامی کا کام کرنے کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ۱۹۴۶ء میں دار المطالعہ نواز بازار میں تاسیسی اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں وادی کے اطراف واکناف سے تقریباً ۱۰۰؍ کے قریب تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی جو پہلے ہی سے جماعت اسلامی کے نصب العین سے واقف تھے۔ اس تاسیسی اجتماع میں مولانا سعد الدینؒ نے انتہائی بصیرت افروز تقریر کی جس میں انہوں نے کشمیر میں اسلام کے پہلے داعی امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی انقلاب آفرین دعوت وتحریک کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امیر کبیر نے کفر وشرک کی تاریکیوں کو چیر کر اسلام کے آفاقی کرنوں سے پورے علاقے کو منور کر دیا اور لاکھوں انسانوں کو جہالت سے نکال کر صراط مستقیم پر لاکھڑا کیا۔ آج ہم ان کے اسوہ پر چلتے ہوئے اقامت دین پیش کرتے ہوئے جماعت اسلامی کا قیام عمل میں لا رہے ہیں۔ اس بصیرت افروز خطاب کے بعد تحریک اسلامی کشمیر منصہ شہود پر لائی گئی اور مولانا سعد الدینؒ کو امیر منتخب کیا گیا۔ مولانا سعد الدینؒ کا سید مودودیؒ سے خط وکتابت کا سلسلہ ۱۹۴۱ء کے بعد شروع ہوا جو کشمیر میں تحریکی حلقہ قائم ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔ یہاں پر اس اہم واقعے کا تذکرہ ضرور کرنا چاہوں گا جس میں انہوں نے خط کے ذریعے سے سید مودودیؒ سے استفادہ کیا۔ اس واقعے کا پس منظر یہ ہے  کہ جب مولانا سعد الدینؒ محکمہ تعلیم میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ان دنوں اسکول میں بچوں کو ڈوگرہ شاہی کے تئیں وفاداری کا روح پھونکنا پڑتا تھا ۔ مولانا سعد الدینؒ بالکل اس کو غیر اسلامی حرکت تصور کرتے تھے اس لیے اطمینان قلب کے لیے حلقہ کے ذمہ دار کی حیثیت سے بھی اس الجھن کے متعلق سید مودودیؒ سے دریافت کیا۔ سید مودودیؒ نے جواب میں لکھا کہ’’ سلامی دینا اور جھک کر غیر اسلامی نظرئے اور نظام کے سامنے سراطاعت خم کرنا اسلامی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔ آپ ایسا نہ کریں اور معاملے کو حکمت سے ٹالنے کی کوشش کریں۔اس کے بعد جو بھی نتائج سامنے آجائیں آپ برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘‘(بحوالہ ترجمان القرآن جولائی اگست ۱۹۴۶ء)

جماعت اسلامی جموں وکشمیر تقسیم ہند کے بعد قائم کی گئی۔ مشترکہ نصب العین اور نظریہ ہونے کے باوجود اس مرد خود آگاہ نے تقسیم ہند کے پانچ سال بعد جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو ایک علٰحدہ تنظیمی وجود بخشا ۱۹۵۳ء میں جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے اپنا ایک الگ دستور وضع کیا اور اس کے بعد ۱۹۵۴ء میں برزلہ، سرینگرکے مقام پر ارکان اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سعد الدینؒ کثرت رائے سے امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر منتخب ہوئے۔ موصوف نے تحریک اسلامی کی قیادت مسلسل ۴۰ سال تک کی اور اپنی قیادت کے دوران اپنی تمام تر صلاحیتوں کو تحریک اسلامی کے پھیلاؤ کے لیے تج دیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت کے پہلے ہی روز سے اقامت دین اور اشاعت دین کے کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کر ڈالا۔ انہوں نے ریاست میں تحریک اسلامی کو منظم انداز میں وجود بخشا، اس کے لیے حلقوں کو خوب پھیلایا اور اس کے پھل سے ہر ایک کو فیض پہنچانے کی بھرپور کوششیں کیں۔ ان ہی کے دورِامارت میں تحریک اسلامی ریاست کی ایک بڑی تنظیم اور مذہبی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ انہوں نے اپنے دورِ امارت میں جماعت کے متعدد شعبۂ جات قائم کئے اور انہیں ہر وقت متحرک رکھا بلکہ ان میں سے کسی شعبہ کو کسی دوسرے شعبہ سے کم تر توجہ نہ دی۔

مولانا سعد الدینؒ انتہائی کم گو تھے لیکن جو بات بھی فرماتے تھے وہ انتہائی وزن دار ہوتی تھی وہ میدان عمل کے آدمی تھے، جو کہتے تھے وہ کر کے دکھاتے تھے۔ وہ رات کے زاہد اور دن کے غازی تھے۔ ان کی انتھک محنت اور بے پناہ خلوص کی وجہ سے ہی تحریک اسلامی پھلنے پھولنے اور وسعت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ نظام تعلیم ایک اہم شعبہ ہے، مولانا سعد الدینؒ نے آغاز ہی سے نظام تعلیم کے صحیح خدوخال پر بھی کام کرنا شروع کیا اور اس کے لیے ہر جگہ اسلامی درسگاہیں اور مروجہ اسکولوں کو قائم کروایا۔ جس سے اقامت دین کے کام کو انجام دینے کے سلسلے میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ انہوں نے تحریک اسلامی کو طول وعرض تک پہنچانے میں دن ورات ایک کر دیا اور اس کو ایک عوامی جماعت بنانے میں جی توڑ کوششیں کیں۔

مولانا سعد الدین ؒنے افرادی قوت کی کمی اور مالی وسائل نہ ہونے کے باوجود تحریک اسلامی کو جس حسن وخوبی اور منظم انداز سے بلند مقام تک پہنچایا وہ راہ حق کے اس عظیم سپوت کا ہی مرہون منت ہے۔ انہوں نے خلوص وایمان سے لیس ایک ایسی انسانی ٹیم تیار کردی جنہوں نے طویل عرصے تک تحریک اسلامی کے مختلف شعبوں کی خدمات انجام دیں۔ وہ فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق کام سونپ دیتے تھے، وہ کسی شعبے میں خانہ پوری کرنے کے قائل نہ تھے۔  انہوں نے تحریک اسلامی کے افراد کو مجتمع رکھا۔ تحریک اور تحریک سے باہر بھی جو بھی اعتراضات اور مسائل لیکر ان کے پاس آتا تھا تو مولانا مرحومؒ انتہائی سنجیدگی، متانت اور محبت کے ساتھ نہ صرف تسلی بخش جواب دیتے تھے بلکہ مطمئن بھی کر دیتے تھے۔ مولانا سعد الدینؒ ایک دور اندیش قائد تھے۔ آپ ہمیشہ گہری بصیرت اور انتہائی فہم وبصیرت سے کام لے کر مسائل کو حل کرنے میں تہہ تک جاتے تھے۔

 ایک بے باک داعی:

مولانا سعد الد ین ایک عظیم داعی تھے۔ آپ بچپن سے ہی دینی مزاج کے حامل تھے۔اور اسلامی کُتب کا مطالعہ کرنے کے بے حد شوقین تھے۔مطالعے سے اُن کے دل ودماغ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔اسلام کا مطالعہ کرنے سے اُنھیں اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو گئی اورانھوں نے دورشباب میں ہی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ آپ اس اہم فریضہ کو کافی سرعت کے ساتھ انجام دینے لگے۔یہاں تک کہ وہ اِسی کام کے ہو کر رہے۔وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے’’داعی کو لوگوں کے پیچھے دیوانوں کی طرح لگ جا نا چاہیے‘‘اشاعتِ دین کے سلسلے میں وہ ریاست کے کونے کونے تک پہنچ گئے۔وہ وعظ و نصیحت ، تبلیغ اور اپنے عمل و کردار کے ساتھ اسلام کے عظیم نمائند ہ تھے۔وہ اپنے خطابات میں شعلہ بیانی کے برعکس انتہائی متانت اور سنجید گی کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔آپ جو بات بھی کہتے تھے وہ دل کو چھو لیتی تھی۔وہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے امیر ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے ترجمان’’ اذان‘‘کے مدیر بھی  رہے اور اس اہم ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ وہ اخباروں سے بھرا بستہ اپنے کندھوں پر خود اُٹھا کر مطلوبہ مقام تک پہنچاتے تھے۔

پند ونصائح اور نصیحت کرنے کے معاملے میں وہ ہمیشہ نرم خو ثابت ہوئے۔ لیکن جہاں ٹوکنے کی ضرورت ہوتی وہاں مفاہمت سے کام نہیں لیتے تھے۔اُنھوں نے دعوتِ دین کے معاملے میں کبھی بھی معذرت خواہانہ لہجہ اختیار نہیں کیا۔وہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر انتہائی بے باکانہ انداز میں تنقید کرتے تھے اور اس معاملے میں وہ کسی سے کبھی خائف نہیں ہوئے۔حکومتِ وقت اُن کی باتوں اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتی تھی کیونکہ وہ اُن کے احیائے اسلام پر کام کرنے سے سخت پریشانی میں مبتلا تھی۔مثلاً جب مولانا سعد الدین محکمۂ تعلیم میں اُستاد کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور اس دوران حکومت نے نئے ہیڈ ماسٹروں کا تقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔مرحوم شیخ عبد اللہ پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ ہیڈ ماسٹروں کے منصب پر فائز کرنے کے لیے خوب جانچ پڑتال ہوگی۔ مگر جب چھان بین کا موقعہ آیاتو اُنھوں نے اُمید واروں کو قطار میں کھڑا کر دیااور اپنے قد کی مناسبت سے طویل القامت اُمید واروں کو منتخب کرنے کا اعلان کیا۔لیکن اس موقع پر مولانا سعد الدین نے شیخ عبد اللہ کے رُعب ودبدبہ کو خاطر میں لائے بغیر اُنھیں ٹوکا اور کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا کہ سخت چھان پھٹک ہو گی، اسلئے آپ کو چھان پھٹک کرنی ہوگی۔ اس پرمرحوم شیخ عبد اللہ نے آپ سے آپکا نام پوچھا۔ جب مردِ قلندر نے اپنا نام بتایا تو شیخ عبد اللہ کو اُن کے بارے میںسی -آئی-ڈی رپورٹس ذہن میں تازہ ہو گئیں اور مولانا سعد الدین کو ہی مخاطب ہو کر کہاکہ آپ ہی ہیں وہ جو اسلام پھیلانے اور اسلام کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔تو مرحوم شیخ عبد اللہ نے دل کی بھٹراس نکالتے ہوئے مولانا سعد الدین کوسروس سے معطل ہی کر دیا۔ (بحوالہ: ترجمان القرآن۔۱۹۹۹ء)

 عظیم مربی واُستاد:

مولانا سعد الدین ہر فن مولا شخصیت کے مالک تھے ۔ انھوں نے جس کام کو بھی اپنے ہاتھ میں لیااُس کو خوب سے خوب تر بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔وہ اگرچہ قائد بھی تھے، مصنف بھی اور داعی بھی ۔لیکن ان سب سے علاوہ وہ ایک اعلیٰ پایہ استاد اور مربی تھے۔ان کا تربیت کرنے کا انداز بڑا منفرد تھا۔وہ فرد کی صلاحیت کے مطابق اور اُسکی نبض کو دیکھکرتربیت اور رہنمائی فرماتے تھے۔ وابستگانِ تحریک اور کارکنان کو تقویٰ و تزکیہ اختیار کرنے میں ہر وقت اور ہر آن اُبھارتے تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ تربیت کرنا ہی اُن کی شخصیت کا سب سے نمایا ںپہلو ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ہر شخص اُن کی با رعب اور پُر اَ ثر شخصیت سے متاثر تھا۔کیونکہ اُن کی شخصیت سے تقویٰ اور تزکیہ دور دور سے جھلکتا تھا۔اُن کی اسی پُر اثر شخصیت کے بارے میں عالمِ اسلام کے ایک مایہ ناز مفکر پروفیسر خورشید احمد لکھتے ہیں’’میرے دل پر سب سے گہرا اثراُن کی پُر سوز شخصیت کا ہے جس میں بلا کی مقناطیسی کشش تھی۔ہر بار اُن سے مل کر احسا س ہواکہ ایسے شخص کی رفاقت حاصل ہے جو فنافی اللہ ہے۔جس کے پُر نور چہرے سے اور پُر تاثیر کلمات سے للہیت کی روشنی اور خوشبوں ضوفشاں ہے۔ جس سے اُن سے ملنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘

فرد اور سماج کی فکر ی تطہیر اور عملی تربیت کر نے کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔آپ چاہتے تھے کہ فرد اور سماج کی تعمیر قرآنی اصولوں کی بنیاد پر ہو۔انھوں نے قرآن ہی کو بنیاد بنا کر تحریک کو قرآنی اصولوںاور خطوط پر اُستوار کیا۔

بحیثیت مصنف:

مولانا سعد الدین ایک اچھے مصنف بھی تھے۔انھوں نے دین کے مختلف موضوعات پر قلم اُٹھایا اور جاندار تحریریں قلم بند کیں۔انھوں نے وقتاً فوقتاًاہم مسائل کو بھی تحریری صورت میں موضوع بنایا ۔ اُن کی تحریریں انتہائی آسان اور عام فہم ہیں۔اور اُسلوب نہایت دلکش اور پُر کشش ہے۔اس کے علاوہ اُنھیں شعرو ادب پر بھی یدِ طولیٰ حاصل تھا۔اس لیے ان کی تحریروں میں جگہ جگہ اشعار اور ادبی جملے پڑھنے کو ملتے ہیں۔مولاناسعد الدین کو عربی اور فارسی پر بھی عبور حاصل تھا۔اس لیے ان دونوں زبانوں کے اثرات بھی اُن کی تحریروں میں نمایاں ہیں۔

تحریک اسلامی کے مفکرین اور مصنفین کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اُن کی تحریروں میں قرآنی رنگ غالب ہوتا ہے۔اور قرآنی دلائل سے ہی اپنی بات واضح کرتے ہیں۔اور یہی خوبی مولانا سعد الدین کی تحریروں میں بھی بدر جہ اتم موجود ہے۔مولانا موصو ف نے جس موضوع پر بھی قلم اُٹھایاتو قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی بات کو وزن دار بنایا۔مثلاً ان کا ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں کافروں کے إنفاق کا ذکر ان الفاظ میں فرماتا ہے الذین کفرو اموالھم لیصدون عن سبیل اللہ ۔ کافروں کے إنفاق کا مقصد اللہ کے دین کو نیست کرنا اور اس کے راستے میں روڑے اٹکانا ہے اور کچھ نہیں۔ منافق راہِ حق میں خرچ کرنا پسند نہیں کرتے اور وہ لوگوں کو بھی اس راستے میں مال خرچ کرنے سے روک لیتے ہیں۔ھم الذین لیقولون علی من عند اللہ حتی ینفقون (ملاحظہ ہو: قرآن اور إنفاق از مولانا سعد الدین)

مولانا سعد الدین کے تصنیفی سرمایہ کوچار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

۱۔ دینی موضوعات،۲۔ مسائل حاضرہ

۳۔ ترجمہ نگاری اور ۴۔شعرو شاعری

۱۔ دینی موضوعات:

اسلام کے مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف حسب ذیل ہیں:اللہ اکبر، حضرت محمدؐ سائنسی دور کے بھی مکمل رہنما ہیں، پیغمبر اور اسٹیٹ، عید سعید، خدا کے محبوب،اسلام کا فلسفۂ معاش، شیخ نور الدینؒ کا پیغام،شبِ برات، معراج کی برکتیں، تحفۂ حرم،Economic Philosophy of Islam، پارہ عم، ترجمہ و تفسیر۔

۲۔ مسائل حاضرہ:

عالمی یکجہتی اور اسلام، انتخابات اسلام کی روشنی میں ،تعمیری راہ پرمیں مسلم اقلیت کیا کچھ کر سکتی ہے،اسقاطِ حمل،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، صدی جو رخصت ہوئی،عالم اسلام غربت کی زد میں،یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لاء۔

۳۔ ترجمہ نگاری:

اُم القرآن (از: مولانا ابوالکلام آزاد) کا کشمیری ترجمہ، ترجمہ اورادِ قادریہ، ترجمہ اورادِ فتحیہ، حیاتِ بلال، قرآن ایک لاثانی معجزہ۔

۴۔ شعرو شاعری:شعر و ادب پر مولانا کی درج ذیل کتب ہیں۔

من وتو، سوزشِ حرم، نقوشِ حرم

ابتلاء وآزمائش:

مولانا مرحوم و مغفور نے اقامت ِ دین کی خاطربے شمار قربانیاں دیںاور ہر طرح کی صعوبتیں جھیلیں۔انھوں نے دارے، درمے، سخنے غرض کہ ہر چیز اس عظیم نصب العین کی خاطر کھپا دی۔وہ راہِ حق کی خاطر کبھی ذرہ بھر بھی پیچھے نہ ہٹے۔۱۹۴۰ء میں جب مولانا سعد الدینؒTourismٹورزم کے شعبے میں ملازم ہو گئے تو انہیں کِٹ اور ہیٹ پہنے کا حُکم جاری ہوا جس سے انھوں نے صاف انکار کیااور جس کے نتیجے میں یہ نوکری اُن سے چھین لی گئی۔بعد میں جب  محکمۂ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی۔تو شیخ عبد اللہ نے ذاتی عناد اور دین دشمنی کی بنیاد پر ان کو معطل کیا۔ لیکن جب شیخ عبد اللہ کی حکومت کی بساط الٹ دی گئی تو انہیں استاد کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔اس کے بعد ۱۹۵۷ء میں محکمۂ تعلیم میں گذیٹیڈ آفیسر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔لیکن بالآخر انھوں نے تحریکی ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر سرکاری ملازمت کے قلادہ کوباالفاظ دیگر حکومت کی غلامی سے استعفیٰ دے دیا۔انھوں نے سنتِ یوسفی کو ادا کرتے ہوئے  جیل میں قیدہونا قبول کیا۔ چناچہ  ۱۹۶۵ء حکومت نے اُنھیں گرفتار کر کے سب جیل کُد بھیج دیااور پھر سنٹرل جیل سرینگر منتقل کیا۔۱۸ ماہ  قید رہ کرآپ رہا کیے گئے۔

مولانا سعد الدین نے اپنی تمام ترصلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے گھر بار کو بھی تحریک کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کے فرزند قاضی کلیم اللہ کہتے ہیں کہ ’’ تحریک ِ حق کے لیے جب بھی مالی مشکلات کا مسئلہ پیش آیا تو مالی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ امی جان کے زیور ات تک اسی تحریک کی نذر کر دیے۔ کبھی کبھی گھر کے اسباب میں سے چیزیں اُٹھا کر دفتر کی احتیاج پوری کر تے تھے۔‘‘

مولانا موصوف نے ہمیشہ تنگ دستی اور غربت میں زندگی گذاری اوراُن کو دین کی راہ میں کبھی کبھی فاقہ کشی بھی اختیار کرنی پڑی۔ اُن کے کپڑوں میں پیوندکاریاں بھی دیکھی گئیں لیکن ان کی زبان اور جبین پر کبھی بھی کم ہمتی کا پہلودکھائی نہیں دیا۔اور نہ کبھی اُن کے پائے استقامت متزلزل ہوئے۔انھوں نے ہمیشہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی کو ترجیح دی۔اور دوسروں کو بھی تقویٰ کی زندگی گذارنے کی تلقین کرتے رہے۔مولانا موصوف کی پوری زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ:

یخبرک من شھد الوقیعۃ اننی

اغشیٰ الوعنی واعف عند المنعم

یعنی جنگ میں شریک ہر آدمی تم کو خبر دے گا کہ میں میدان ِ جنگ میں سر بکف لڑتا ہوں ۔لیکن مالِ غنیمت کے تقسیم کے موقعہ پر کنارہ کش ہو جاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس درویش صفت انسان کی برپا کردہ تحریک کو اوجِ ثریّا تک لے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

فروری 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau