عقیدۂ توحید اور وحدتِ اُمت

احراز الحسن جاوید

آج اتحاد کا خواہش مند ہر مسلمان ہے۔خواہ وہ کسی مکتب فکر اور مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔ سنی ہو یا شیعہ۔ سب اپنے فکرونظر اور مسلک کے مطابق اتحاد کی باتیں کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سارے مسلمان ان کے فکر وعمل اور مسلک کے ساتھ متحد ہوجائیں اورنیک نیتی سے سوچتے ہیں، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ دین اسلام اس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ ہر مسلمان کا ہے کیا وہ کسی خاص مسلک کا پابند ہے اور قیامت میں اللہ تعالیٰ مسلکی بنیاد پر جنت اور دوزخ کا فیصلہ فرمائے گا؟ اس پر ذرا ٹھہر کر اور پوری سنجیدگی کے ساتھ تفکر وتدبر کی ضرورت ہے۔ اللہ تو صرف یہ دیکھے گا کہ اس کی کتاب اور اس کے نبی کے طریقوں پر کس نے کتنا عمل کیا اور کس نیت سے کیا؟ (انما الاعمال بالنیات اور انما یبعث الناس علی نیاتہم) اس کے مطابق اللہ کا فیصلہ ہوگا۔ مسلک نبی کا بنایا ہوا نہیں بلکہ غیر نبی نے اپنے اجتہادات کے ذریعے نبی کریم ﷺ کے طریقوں کو پیش کیا تھا۔ ائمہ مجتہدین ابوحنیفہ ؒ ، مالک ؒ، شافعیؒ ، احمد بن حنبلؒ ، علامہ ابن تیمیہؒ وغیرہ نے  اپنی پوری زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق اسلامی احکام کی تدوین میں لگا دیں تاکہ عوام الناس کو دین پر چلنے میں آسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نبیؐ نے ایک ہی عمل کو مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے انجام دیا۔ ائمہ مجتہدین نے اپنے فہم وشعورکے مطابق ان میں ترجیحات قائم کرکے کسی ایک سنت کو اختیار کرلیا۔اس طرح اللہ نے اپنے نبی ؐکی ہر سنت پر عمل کرا دیا۔ ان میں اختلافات بہت کم اور جزوی معاملات میں ہیں۔ منصوص معاملات میں سب متفق ہیں اور سب حق پر ہیں، لیکن اس سے بہتر بات اور کیا ہوگی کہ سارے مسالک کے علماء باہمی مشاورت سے کسی ایک طریقے پر اتفاق کرلیں تاکہ مسلکی تعصب وتشدد سے محفوظ رہ کر ایک بڑے مقصد کو لے کر آگے بڑھ سکیں۔ بصورت دیگر اپنے اندر اتنی رواداری اور تحمل پیدا کریں جو مقصد کے آڑے نہ آئے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر مولانا شاہ محمد انور کشمیری کا ایک خاص واقعہ جو نہایت اہم اور عبرت خیز ہے وہ تحریر کردیاجائے۔ اس کے راوی جناب مولانا مفتی محمد شفیع ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں:  ’’قادیان میں ہر سال ہمارا سالانہ جلسہ ہوا کرتا تھا اور حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسے پر تشریف لائے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضرہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا: حضرت کیسا مزاج ہے؟ کہا ہاں! ٹھیک ہی ہے۔ میاں مزاج کیا پوچھتے ہو عمر ضائع کردی۔

میں نے عرض کیا، حضرت آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں، دین کی اشاعت میں گزری، ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں، مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں، آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی۔

فرمایا:میں تمہیں صحیح کہتا ہوں ، عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا، حضرت بات کیا ہے؟

فرمایا: ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدوکاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کردیں ۔ امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں اور دوسرے ائمہ کے مسائل پر آپ کے مسلک کی ترجیح ثابت کریں، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔ اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی؟ ابوحنیفہؒ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں؟ ان کو اللہ نے جو مقام دیا ہے وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا وہ ہمارے محتاج نہیں اور امام شافعی ؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اور دوسرے مسالک کے فقہاء جن کے مقابلے میں ہم یہ ترجیح قائم کرتے آئے ہیں کیا حاصل ہے اس کا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو ’’صواب محتمل الخطا‘‘ (درست مسلک جس میں خطا کا احتمال موجود ہے) ثابت کریں اور دوسرے مسلک کو ’’خطا محتمل الصواب‘‘ (غلط مسلک جس کے حق ہونے کا احتمال موجود ہے) کہیں۔ اس سے آگے کوئی نتیجہ نہیں۔ ان تمام بحثوں، تدقیقات اور تحقیقات کا جن میں ہم مصروف ہیں۔ پھر فرمایا:

ارے میاں! اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک صواب تھا اور کون سا خطا؟ اجتہادی مسائل صرف یہی نہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں بھی ہم، تمام تر تحقیق وکاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا؟ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی؟ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔

حضرت شاہ صاحب کے الفاظ یہ تھے: اللہ تعالیٰ شافعی کو رسوا کرے گا نہ ابو حنیفہ کونہ مالک کو نہ احمد بن حنبل کو، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بہت بڑے حصے کو لگا دیا ہے، جنھوں نے نورہدایت چار سو پھیلا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدان حشر میں کھڑا کرکے یہ معلوم کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا شافعی نے غلط کہا تھا۔ یا اس کے برعکس یہ ہوگا۔

تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں نہ محشر میں۔ اس کے پیچھے پڑکر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی۔ اپنی قوت صرف کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائل متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے ، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا اور وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج یہ دعوت تو نہیں دی جارہی ہے۔ یہ ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہورہی ہیں اور اپنے اور اغیار ان کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔ گمراہی پھیل رہی ہے ۔ الحاد آرہا ہے۔ شرک وکفر اور بت پرستی چل رہی ہے۔ حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے ۔ لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی  اور فروعی بحثوں میں۔

حضرت شاہ صاحب نے فرمایایوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کردی‘‘۔ (وحدت امت)

اسلام میں عقیدہ توحید کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ توحید کیا ہے؟ اسے کیسے سمجھا جائے اور سمجھنے کے بعد اس پر عمل کیسے کیا جائے، یہ بتانے کے لئے خالق کائنات نے انسانوں میں سب سے بہتر انسان کو چن کر اور اپنا نمائندہ بناکر لوگوں کے پاس اپناپیغام دے کر بھیجا جنہیں انبیاء ورسل کہا جاتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ان کی نسل میں جو پہلے نبی آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِہٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝۰ۭ (اعراف: ۵۹(

ہم نے نوح ؑ کواس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا اے برادران قوم! اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے‘‘۔

یہی پیغام اور دعوت ہر نبی ورسولؐ کی ہرزمانے میں رہی تھی سب نے اپنی قوم سے یہی کہا لا الٰہ الا اللہ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ نبیوں اور رسولوں کے نام بدلتے رہے لیکن سب کا پیغام یہی رہا، سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا:

قولوا لاالٰہ الا اللہ تفلحوا۔  )مسند احمد۳؍۹۲(

’’کہو اللہ تعالیٰ کےسوا کوئی خدا نہیں تبھی تمہیں کامیابی اور نجات ملے گی‘‘۔

من تقیت لیشہدوا ان لا الٰہ الا اللہ مستیقنا بہا قلبہ فبشرہ بالجنۃ۔ (صحیح مسلم۔ کتاب الایمان(

’’جس سے ملاقات ہو اور اس کا دل لاالٰہ الا اللہ پر یقین رکھتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے کہا: ’’اے چچا میں لوگوں سے ایک کلمہ کا مطالبہ کرتا ہوں ، وہ کلمہ ایسا ہے کہ اگر آپ لوگ مان لیں تو پورا ملک عرب اس کلمے کی بدولت ان کے ماتحت آجائے گا اور غیر عرب قومیں ان کو جزیہ دیں گی۔ لوگ نبی ﷺ کی بات سن کر چونک پڑے۔ انھوں نے کہا تم ایک کلمہ کامطالبہ کرتے ہو، ہم دسیوں باتیں ماننے کے لئے تیار ہیں تو بتائو وہ کلمہ کیا ہے، ابوطالب نے بھی کہا : اے بھتیجے وہ کلمہ بتائو کیا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ کلمہ لا الٰہ ا الا اللہ ہے۔ (مسند احمد، نسائی بحوالہ زاد راہ از مولانا جلیل احسن ندوی، صفحہ ۲۲۳(

غور کرنے کی بات ہے کہ اس کلمے میں وہ کون سی خوبی ہے جسے مان لینے سے دنیا خراج اور جزیہ دینے لگے اور کون سا راز اس میں پوشیدہ ہے جس کے مضمرات اتنے وسیع وعمیق ہوں جو ساری کائنات پر چھا جائیں۔ یہ بات جاننے کے لئےالٰہ کے مفہوم کو اچھی طرح اور مکمل طور سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا مودودیؒ اس کا مفہوم بتاتے ہوئے فرماتے ہیں: الٰہ کے مفہوم میں یہ تمام معانی شامل ہیں:

)۱( حاجت روائی، مشکل کشائی، پناہ و بندگی، امداد واعانت، خبر گیری و حفاظت اور استجابت دعوت ، جن لوگوں نے معمولی کام سمجھ رکھا ہے ۔ دراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سررشتہ پورے نظام کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سے جاملتا ہے…. پس دعائیں سننے اور حاجتیں پوری کرنے کے لئے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین وآسمان کو پیدا کرنے کے لئے ہوائوں کو گردش دینے اور بارش برسانے کے لئے، غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لئے درکار ہے۔

)۲( یہ اقتدار ناقابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ خلق کا اقتدار کسی کے پاس ہو اور رزق کا کسی اور کے پاس۔ سورج کسی اور کے قبضے میں ہو اور زمین کسی اور کے قبضے میں۔ پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری اور صحت دنیا کسی اور کے اختیار میں ، اور موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کائنات کبھی چل ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا تمام اقتدار ات اور اختیارات کا ایک ہی مرکزی فرمانروا کے قبضے میں ہونا ضروری ہے۔

)۳( جب تمام اقتدار ایک ہی فرمانروا کے ہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرہ برابر بھی کوئی حصہ نہیں ہے تو لامحالہ الوہیت بھی بالکلیہ اسی فرمانروا کے لئے خاص ہے۔ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ فریاد رسی کرسکے، دعائیں قبول کرسکے، پناہ دے سکے، حامی وناصر اور ولی کارساز بن سکے، نفع یا نقصان پہنچا سکے۔ حتیٰ کہ کوئی اس معنی میں بھی الٰہ نہیں کہ فرمانروائے کائنات کے یہاں مقرب بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور اس کی سفارش مانی جاتی ہو۔ اس کے انتظام سلطنت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔کوئی اس کے معاملے میں دخل نہیں دے سکتا اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اسی کے اختیار میں ہے ۔کوئی ز ور کسی کے پاس نہیں کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کراسکے۔

)۴(اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت اور فرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جزبھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ۔ جب رازق وہ ہے اور رزق رسرائی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب پورے نظام کائنات کا مدبر ومنتظم وہ ہے اور تدبیر وانتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، تو یقیناً حاکم وآمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہئے۔ اور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاکم اور خود مختار فرمانروا اور قانون ساز ہونا بھی غلط ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی احیاء و امانت،تسخیر شمش و قمر اور تکویر لیل ونہار، قضا وقدر ، حکم اور بادشاہی ، امراور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار وحاکمیت کےمختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کےحکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے تو وہ ایسا ہی شرک کرتا ہے جیسا ایک غیر اللہ سے مانگنے والا مشرک کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتد ر اعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کایہ دعویٰ بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے جس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تمہارا ولی و کارساز  اور مددگار ومحافظ میں ہوں۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں۔ پورے بیس صفحات میں مولانا نے الٰہ کا مفہوم لغات اور تقریباً چالیس قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ یہاں اختصار سے بیان کیاگیا ہے۔(

الٰہ کا مندرجہ بالا مفہوم سامنے رکھتے ہوئے جو قرآنی آیات سے ثابت کیاگیا ہے اس کی وسعت پر غور کریں ۔ مشرکین مکہ کے سامنے کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی دعوت دی گئی تو وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ گئے کہ ان سے کس چیز کا مطالبہ کیاجارہا ہے۔ عقیدہ توحید کا لازمی جز اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے اور اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ (الیس اللہ باحکم الحاکمین) اس کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کی مخلوق سے اپنا حکم منوائے۔کلمہ طیبہ نفی سے شروع ہوتا ہے ۔ لاالٰہ۔ پہلے ہر ایک کی ہر قسم کی خدائی سے انکار پھر ایک خدا کا اقرار۔

چونکہ بت پرست مشرکین کے خدا لکڑی، پتھر، سونے چاندی اور لوہا پیتل وغیرہ مختلف دھاتوں سے بنے تھے۔ شکل وصورت اور جسم رکھتے تھے۔ انہیں کھانے پینے کی ضرورت بھی پڑتی تھی۔ مشرکین کی خاصی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں اوتار بھی لیتا ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے خدا کے بیٹے بنا رکھے تھے ۔ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس صورت میں جب اللہ وحدہ‘ لاشریک کو ماننے کی دعوت دی گئی تو ان کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے کہ جس خدا کی طرف حضرت محمد ﷺ بلا رہے ہیں وہ کیسا ہے؟  اس کا نسب کیا ہے اور اس نے زمین پر خدا ئی کی میراث کس سے حاصل کی ہے اور اس کے بعد کون اس کا وارث ہوگا وہ سونے کا ہے یا چاندی پیتل کا۔ کھانا کھاتا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ اس کے جواب میں سورہ ٔ اخلاص نازل ہوئی جس میں خالص توحید کا بیان تھا اسی لئے اس کا نام اخلاص رکھا گیا اور آپؐ سے کہا گیا کہ آپ اعلان کردیں۔

قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۔ اَللہُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ۝۰ۥۙ وَلَمْ يُوْلَدۙ وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۔ (سورہ اخلاص(

’’کہو ، وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب (اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے‘‘۔

اس کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: نزول قرآن سے پہلے کی عربی زبان میں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ محض لفظ احد وصف کے طور پر کسی شخص یا چیز کے لیے بولا گیا ہو اور نزول قرآن کے بعد یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال کیاگیا ہے، دوسرے کسی کے لیے کبھی استعمال نہیں کیاگیا۔ یکتا ویگانہ ہونا اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ موجودات  میں سے کوئی دوسرا اس صفت سے متصف نہیں ہے۔ مکہ میں جب حضرت بلالؓ کا آقا امیہ بن خلف ان کو دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹاکر ایک بڑا سا پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ احدٌ احدٌ پکارتے تھے یہ لفظ احد اسی سورۃ سے ماخوذ تھا۔

مولانا عبدالحمید فراہی فرماتے ہیں: احد۔ عربی زبان میں صرف ذات پاک کی صفت میں مستعمل ہوتا ہے۔ اس سے یکتائی اور بے ہمائی من کل الوجوہ سمجھی جاتی ہے۔ تمام رشتوں سے پاکی اور برتری اس کا مضمون ہے۔ (نظام القرآن۔ علامہ فراہی، صفحہ ۵۲۵(

متعدداحادیث میں اس سورۃ کی بڑی اہمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اس سورۃ کی بڑی عظمت تھی۔ آپؐ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو اس کی اہمیت کا احساس دلاتے تھے تاکہ وہ کثرت سے اس کو پڑھیں۔ آپؐ نے اسے ایک تہائی قرآن بتایا ہے۔ بعض صحابہ کرامؓ اسے اپنی نمازوں میں مستقل پڑھتے تھے ۔ یہاں تک روایت میں آتا ہے کہ انصار مدینہ میں سے ایک صحابی مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے ان کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قل ھو اللہ پڑھتے پھر کوئی سورۃ ملاتے۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ کیا تم کرتے ہو کہ قل ھو اللہ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورۃ بھی اس کے ساتھ ملا لیتے ہو۔ یہ ٹھیک نہیں۔ یہ نزاع جب بڑھا تو معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیاگیا۔ آپؐ نے ان سے پوچھا تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اسے قبول کرنے میں تم کو کیا امر مانع ہے؟ تمہیں ہر رکعت میں یہ سورۃ پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوںنے عرض کیا مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس سورۃ سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ چار آیات پر مبنی اس مختصر سورۃ کے معانی کی گہرائی بہت وسیع اور عمیق ہے۔ اس میں وحدانیت کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے ۔ پوری تفسیر سمجھ کر دل میں اتارنے کی ضرورت ہے۔ (تفہیم القرآن جلد ۶ ‘تفسیر سورہ اخلاص۔ سید قطب شہید نے فی ظلال القرآن میں بھی بڑی دل نشیں تفسیر کی ہے۔ پارہ عم ،ترجمہ مولانا سید حامد علی(

اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک اس حقیقت سے تمام انسانوں کو آگاہ کرتی ہے کہ سارے انسان جو اس وقت پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں خواہ وہ کسی بھی دین دھرم اور مذہب اور ازم سے تعلق رکھتے ہوں وہ سب ایک آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ اس لیے اسلام وحدت آدم کی بنیاد پر اور عقیدۂ توحید کے تحت سب کو متحد کرناچاہتا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ سارے انسان پہلے ایک ہی امت تھے۔ قرآن میں فرمایاگیا ہے:

كَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝۰ۣ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۝۰۠ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِــيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ۝۰ۭ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْہِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْہُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ۝۰ۚ فَہَدَى اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ مِنَ الْحَقِّ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ۔(البقرہ: ۲۱۳(

’’ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کےبارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے ان کا فیصلہ کرے (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی نہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں) اختلاف ان لوگوں نے کیا جنھیں حق دیا جاچکا تھا۔ انھوںنے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھادیتا ہے‘‘۔

مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب اس آیت کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قرآن کی یہ آیت ان بہت ساری آیتوں میں سے ایک ہے جو اعلان پر اعلان کرتی ہیں کہ سارے انسانوں کو ہمیشہ سے ایک ہی دین عنایت ہوتا رہا ہے۔ اصل دین میں ہرگز کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ اس لیے باوجود اس کے کہ وہ دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد ہیں۔ ان پر علیٰحدہ علیٰحدہ زبانوں میں کتابیں نازل ہوئی تھیں۔ ان کے پاس الگ الگ انبیاء آتے رہے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہی دین کی طرف بلائے گئے ہیں اور اگر ان میں حقیقت کی پہچان، دین کی روح اور مقصد کا شعور موجود ہوتو وہ خود بھی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہم سب انسان ہمیشہ سے ایک ہی ملت اور ایک ہی گروہ رہے ہیں اور ہیں۔ اور جب انھیں یہ احساس ہوجائے گا اور ساتھ ہی اس اصول کی اہمیت بھلا دینے کی جہالت سے مجتنب بھی رہیں گے کہ انسانیت کا اصل مرکزِ اجتماع خدائی ذات ہے نہ کہ کسی شخص کی ذات تو وہ کسی نئے نبی کے زیر قیادت جمع ہونے میں بھی کوئی تامل نہ کریں گے‘‘۔

بَغْیاً بَیْنَہُمْ کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

درحقیقت یہ بڑا ہی عجیب وغریب مسئلہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے امر حق دوپہر کے سورج کی طرح روشن کرکے لوگوں کے سامنے رکھ دیا تھا اور برابر رکھتا رہا ، تو پھر یہ باطل کہاں سے درآتا رہا اور لوگ ایک سیدھی شاہراہ کو چھوڑ چھوڑ کر کیوں کج مج اور خطرناک پگڈنڈیوں میں جابھٹکتے رہے؟ اور اس طرح ایک ہی خدا کے بندے ،ایک ہی منزل مقصود کی طرف سفر کرنے والے اور ایک ہی طرح کے بنیادی نظریات زندگی رکھنے والے باہم کیوں اتنے مختلف ہوگئے کہ ایک دوسرے کو پہچاننا ان کے لیے ناممکن ہوگیا۔ یہ جملہ اسی کا جواب ہے۔ فرمایا : مختلف راہوں میں جاپڑنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ایسا کرنے والوں کو حق کی راہ راست معلوم نہ تھی ۔ نہیں، انھیں خوب معلوم تھی، جن لوگوں نے جب کبھی بھی خدا کی بتائی ہوئی راہ سے کٹ کر سفر کے نئے راستے نکالے اور پھر اپنے بعد کی نسل کو بھی اسی راہِ کج پر چلانے کا ذریعہ بنے وہ دنیوی مرغوبات ، نفسانی لذات اور متعصبانہ جذبات کے غلام بن چکے تھے، خود غرضی، مفاد پرستی، کبر نفس اور حب جاہ و مال نے انھیں سجھا دیا تھا کہ دین اور خدا پرستی کی راہ گوسیدھی ہو مگر ہے بڑی تنگ اور دشوار گزار۔ اگر تم نے اس کی حدود کے اندر اپنے فکروعمل کو مقید رکھا تو تمہیں اپنی خواہشات کا خون کرنا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ تمہیں اپنے مواقع منفعت سے دست بردار ہوناپڑے، اپنے اقتدار کو خیرباد کہنا پڑے، اپنی سوجھ بوجھ کو ناقص قرار دینا پڑے۔ اپنی رایوں کی غلطی تسلیم کرنی پڑے، اپنے ذاتی یا قومی یا نسلی مفاخر پر خط تنسیخ کھینچ دینا پڑے، جن لوگوں کو تم کوئی حیثیت دینےکے لیے تیار نہیں ہو، ان ہی کے آگے عقیدت واحترام کا سر جھکا دینا پڑے اس لیے اس بھلی بات کو جس کے ساتھ اتنی ’’برائیاں‘‘ ہجوم کیے چلی آرہی ہوں، کنارے ہی رکھو ۔ دنیا کے پجاریوں نے اس ’’اپدیش‘‘ کو دل کے گوشوں میں جگہ دی اور جانتے بوجھتے حق کے تانے میں بالکل بانے ڈال کر زندگی کا ایک نیا لباس تیار کردیا اور دنیا کے سامنے اسے یہ کہہ کر پیش کردیا کہ یہ ہے وہ جامۂ حقیقت جو انسان کی انسانیت پر راست آتا ہے اور اسی کا حکم اس دنیا کے مالک نے ہمیں دیا ہے‘‘۔ (تیسرالقرآن ،صفحہ ۲۵۵۔۲۵۶۔ ناشر مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی ،جون ۲۰۰۶ء۔ مسئلہ اتحاد پر مولانا صدرالدین اصلاحی کی کتاب مسلمان اور امامت کبریٰ۔ تیسیر پبلی کیشنز۱؍۱۱۹، غفار منزل ، جامعہ نگر، نئی دہلی۔ ایک مفید اور معیاری کتاب ہے اس میں آپ نے تفصیل سے اس مسئلے پراظہار خیال کیا ہے۔(

مذکورہ گفتگو تمام انسانوں کے اتحاد سے متعلق تھی اور مطلوب یہی ہے ۔ تاکہ سارے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے جوڑ کر انھیں خدا کے عذاب سے بچایا جاسکے۔ لیکن موجودہ مسئلہ مسلمانوں کے ملی اتحاد کا ہے۔ جب تک یہ اتحاد نہ ہو اس وقت تک مسلمان ایک ملت یا امت نہیں کہلائے جاسکتے۔ اس وقت تو مسلمانوں کاایک منتشر جم غفیر ہے۔ جب تک سارے مسلمان ایک امیر یا اولوالامر کے تحت نہ آجائیں۔ اولو الامر کا قیام درحقیقت خلافت کا قیام ہوگا۔ جب تک یہ نا ہو اس وقت تک تمام انسانوں کو متحد کرنے کا خیال محض ایک خواب ہوگا۔

توحید کو ماننے کے باوجود اتحاد نہ ہونے کے اسباب

یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ پوری امت اور اس کے دونوں گروپ اہل سنت اور اہل تشیع ایک اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں۔ ایک ہی سب کا نبی، دین بھی ایمان بھی ایک۔ لیکن سب جدا جدا متفرق ٹولیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ الگ الگ اپنے من پسند کاموں میں لگے ہیں۔ اتحاد کا احساس تو پایا جاتا ہے لیکن اس کے لئے عملی تدبیریں اور اقدام عنقا ہے۔   (جاری(

مارچ 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau