تحریکی فکر اور فکری حرکت

استاذ احمد الریسونی

تحریک کی زندگی گہرے جائزے اور احتساب سے ہے، اونچے ہدف کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ گام زن تحریکوں کو اپنی سمت، اپنی رفتار، اور اپنی خصوصیات کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ درج ذیل تحریر عالم اسلام کے ممتاز عالم استاذ احمد ریسونی کی ہے، جس میں انھوں نے اسلامی تحریکات کو ایک اہم مسئلے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس تحریر کے حوالے سے ہندوستان میں گفتگو چھیڑتے ہوئےدرج ذیل دو سوال اہل نظر کی خدمت میں پیش کیے گئے:

اول: ہندوستان کی اسلامی تحریک کے تناظر میں مضمون نگار کے تجزیے سے آپ کس حد تک اتفاق رکھتے ہیں ؟

دوم: تحریک اسلامی میں فکری حرکت کو پیدا کرنے، بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے آپ کیا تجاویز رکھتے ہیں ؟

کچھ اہل نظر کے تبصرےیہاں مضمون کےساتھ شامل ہیں۔ مزید اہل علم ونظر کے تبصروں کا استقبال ہے۔ (ادارہ)

عالم اسلام کے مختلف حصوں میں جو اسلامی جماعتیں قائم ہوئیں ، ان کی ابتدا اور نشوونما ایسے حالات میں ہوئی کہ وہ ان خطرناک چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے مجبور تھیں ، جو اسلامی امت پر ہر طرف سے ٹوٹ پڑے تھے، اور بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اپنی انتہائی سنگینی کو پہنچے ہوئے تھے۔ اتنا ہی نہیں تھا کہ یہ چیلنج مشرق سے مغرب تک اس امت اور اس کے ملکوں کے سیاسی وجود اور جغرافیائی آزادی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ اس امت کے سماجی اور دینی وجود کو بھی دھمکیاں دے رہے تھے۔

ان خطروں اور چیلنجوں کے رحم سے اسلامی تحریک نے جنم لیا، انھی کی آغوش میں پرورش پائی اور مختلف اسلامی ملکوں میں پھیل گئی۔ اس طرح یہ تحریکیں مقابلہ، معرکہ آرائی اور کشمکش کے ہنگامے میں پیدا ہوئیں۔ اور پھر یہیں سے یہ ہوا کہ ان میں سے (سب نہیں تو) اکثر تحریکوں نے اپنی توجہ بےدریغ بحث کرنے والے داعیوں ، سخت کوش کارکنوں ، اور سرفروش مجاہدوں کی تیاری پر مرکوزرکھی، اور علما، مفکرین اور محققین کی تیاری پر توجہ مرکوز نہیں کی۔ ان تحریکوں کی صفوں میں جو ایسے لوگ ابھرے بھی تو وہ (اگر غلطی سے کہنا درست نہ ہو تو) بلا ارادہ ابھرے۔ غرض اس طرح جب اسلامی تحریکوں کی قیادتوں ، ان کی صفوں ، ان کی فکرمندیوں ، اور ان کی ترجیحات کی تشکیل ہوئی، تو دعوت وتبلیغ اور عملی تربیت کے لیے فکرمندی، جہاد اور سپاہیانہ زندگی کے اصول، اور انفاق اور قربانی کے تقاضے اس تشکیل کی بنیاد بنے۔

اسی رخ اور اسی راستے پر اسلامی تحریک کے لیے فکر کا سفر شروع ہوا، فکر کےپودوں کی آبیاری بھی ہوئی، اور فکری پیداوار بھی حاصل ہوئی۔ تاہم یہ فکر تحریک کی خدمت اور درپیش معرکے کے تقاضوں کے لیے وقف رہی۔ یہ ایسی فکر بنی جو تحریک کے راستے، تحریک کے فیصلوں اور تحریک کی ترجیحات اور تحریک کے مفاد کا دفاع کرتی ہے۔ ایسی فکر جو روزمرہ کے معاملات کا سامنا کرتی ہے، اور درپیش حالات میں منہمک رہتی ہے۔ یہ فیصلوں ، پالیسیوں اور مصالح کی پابند رہتی ہے۔ یہ ’تحریکی فکر‘ہے۔ حقیقت میں یہ اس چیزسے قریب ترہے جسے عام طور سے پارٹی والی فکر یا پارٹی والی ذہنیت کہا جاتا ہے۔ تحریکی فکر اس مفہوم میں ایسی فکر ہے، جس کا رخ طے ہے، جو پابند اور بے دست وپا ہے۔ بات اپنے مسائل اور موضوعات کی ہو، یا اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کی ہو۔

اور چونکہ فکر کا یہی رنگ ہے جو اسلامی تحریکات کے اوپر غالب ہے، اور اس کے افراد بلکہ قائدین پر بھی چھایا ہوا ہے، اس لیے تحریکی فکر نئے حالات اور نئی تبدیلیوں کا ساتھ دینے سے عاجز ہے۔ خواہ خود اسلامی تحریکات کے اندر کی بات ہو یا ان کے آس پاس کی بات ہو۔ اور ظاہر ہےکہ اس میں اس کی توقع کیسے کی جائے کہ وہ خود بہتر تبدیلیوں کی خالق اور اجتہادات میں ماہر ہوجائے۔

بسا اوقات تو ہم نے یہ پایا کہ اسلامی تنظیمیں آزاد فکر رکھنے اور تجدیدو اجتہاد کی پیش قدمیاں کرنے والوں کے تعلق سے تنگی اور ناگواری میں مبتلا ہوجاتی ہیں ، خواہ وہ ان کے اپنے افراد اور اپنے لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہیں سے ‘تحریکی فکر ‘ اور ‘فکری حرکت ‘کے درمیان فرق اور کشمکش کا ظہور ہونا شروع ہوتا ہے۔

اسلامی تحریک جب نمودار ہوئی تھی، تو اپنے آغاز میں وہ ‘تحریک آزادی ‘ سے قریب تر تھی، اور اسے سخت ضرورت تھی سنگھرش والی فکر، ضابطوں کی پابند فکر، اور تحریک کے فیصلوں سے ہم آ ہنگ فکر کی۔ لیکن آج تقاضا بھی ہے اور ضروری بھی ہے، کہ اسلامی تحریک ‘تجدیدو اجتہاد والی تحریک ‘ بن جائے۔ اپنے اندرون میں بھی اور اپنے بیرونی سماج میں بھی۔ اور اسی لیے اسے شدید ضرورت ہے آزاد فکر اور تخلیقی فکر کی۔ اسے ضرورت ہے کہ وہ ‘فکری حرکت ‘کوقید سے آزاد کرے اورمہمیز لگائے، اسے تحریکی فکر کا پابند اور ماتحت بنائے بغیر۔

فکری حرکت پر نظم واطاعت کا بوجھ ڈال دئے جانے کا مطلب اس کے خلاف جمود اور پسپائی کا فیصلہ کردینا ہوتا ہے۔

اور اب مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے، اسی پر یہ گفتگو مکمل کرتا ہوں۔ ایک مراکشی مفکر نے ایک اسلامی تحریک کی کانفرنس سے واپسی کے بعد بتایا کہ وہاں اسے شدید تنگی کا سامنا کرنا پڑا، اس پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ وہ کانفرنس سے باہر چلا جائے، کیوں کہ وہ کچھ ایسی رائیں رکھتا تھا جو موقع ومحل کے لیے’مناسب‘نہیں سمجھی گئیں۔ یہاں تک کہ اس نے ناراض ہوکر وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا: ہمارے ملک کا جابر نظام ہمیں اظہار رائے اور تنقید کی اس سے بہت زیادہ آزادی دیتا ہے جتنی آپ لوگ ہمیں دیتے ہیں۔ ■

تبصرہ ؂۱

صلاح الدین خان شبیر

معرو ف سماجی مفکر اور کارکن، گیا، بہار

پہلی بات: تحریک اسلامی کی علمی پسماندگی کا تجزیہ: مضمون نگار نے تحریک اسلامی کی ابتدائی نشو و نما اور درپیش حالات و مسائل کے حوالے سے جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ وسیع جائزہ اور علمی استدلال کا طالب تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مضمون نگار کا ادراک کرب و تمنا کے گرداب میں اس سوال سے الجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ تحریک اسلامی سے وابستہ افراد میں علمی استعداد اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ غور و فکر کی نمایاں کمی کیوں ہے؟ لیکن اس کا سبب تلاش کرتے ہوئے اسی آسان بیانیہ کی پناہ ڈھونڈھ لیتا ہے جو اکثر تحریک اسلامی سے انسیت کے باوجود الگ راستہ اپنانے والے صاحب قلم ناقدین کا رہا ہے، جنھوں نے تحریک اسلامی کے ویژن کا محاکمہ کرنے پر تو توجہ دی لیکن کوئی قابل ذکر علمی اضافہ کرنے سے قاصر رہے۔ ان سب کے نزدیک تحریک اسلامی نے جن چیلنجر کے رد عمل سے جنم لیا، اس میں ایسی ہی تحریکی فکر اور سیاسی سرگرمیوں کا امکان تھا۔ مزید یہ کہ اس طرح کی تحریکی فکر سے فروغ پانے والی ڈسپلن نے فکری صلاحیتوں اور اجتہادی قوتوں پر بندشیں لگا دیں ، جس کی وجہ سے تحریکی افراد کی علمی صلاحیتیں فروغ نہ پا سکیں۔ میرے نزدیک اس طرح کے قیاسات کو حقیقت ثابت کرنے کے لیے جس معروضی مشاہدہ، تجزیاتی مطالعہ اور علمی استدلال کی ضرورت ہے، وہ اس مضمون اور اسی طرح کے دیگر محاکموں میں نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ تحریکی فکر نے اپنی ڈسپلن کے پابند افراد کی اجتہادی تگ و تاز پر پہرے بٹھا دئے تھے، لیکن پوری امت مسلمہ کی اجتہادی قوت پر کس نے گرہن لگا دیا تھا؟ کیا جدید علوم اور حالات و مسائل پر غور و فکر کے حوالے سے امت کی اجتہادی حصولیا بیاں آج کی دنیا میں کوئی قابل ذکر مقام رکھتی ہیں ؟ دراصل تحریک اسلامی کی علمی تہی دامنی اور فکری ٹھہراؤ کا احساس ہونا ایک بات ہے اور اس کے اسباب و علل تک پہنچنا دوسری بات ہے، جو وسیع جائزہ اور گہرا تجزیہ چاہتا ہے۔ مضمون نگار کے ساتھ پہلے احساس میں تو ہم بھی شریک ہیں ، لیکن دوسرے معاملہ میں اصل حقیقت کی کھوج لگانے میں انھیں کی طرح ہم خود بھی اپنے آپ کو عاجز پاتے ہیں۔ مجھے زبانی سنا ہوا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ کی کسی تقریب میں جب کئی مقررین اس بات کا رونا رو چکے کہ امت اپنی زکوۃ و صدقات کا کروڑوں روپیہ مدارس اسلامیہ پر ہر سال اتنی مدت سے خرچ کررہی ہے تو اس کا فائدہ کیا ہے؟ اب کوئی غزالی و رازی کیوں نہیں نکلتا؟ تب اپنی باری آنے پر محترم مولانا جلال الدین عمری نے فرمایا کہ علی گڈھ یونیورسٹی اور اس جیسے سینکڑوں جدید تعلیمی اداروں پر مدارس سے لاکھوں گنا زیادہ خرچ ہورہا ہے اور مدارس کے طلبا سے سینکڑوں گنا زیادہ امت کی افرادی قوت تعلیم پارہی ہے لیکن سینکڑوں سال کے دوران کتنے آئن اسٹائن اور نوبل انعام یافتہ علما جیسے تو چھوڑیے ان سے دوسرے درجہ کے ہی کتنے سائنٹسٹ اور سوشل سائنٹسٹ پیدا ہو سکے۔ مولانا کے تبصرہ کو رد جواب کے بجائے اس بات پر غور و فکر کی دعوت سمجھنا چاہیے کہ امت کی علمی و فکری پسماندگی کا تجزیہ سطحی تبصروں کے بجائے گہرے غور و فکر پر مبنی ہونا چاہیے۔ میرا علمی تجزیہ تو نہیں لیکن قدرے غور و فکر کے بعد تحریک اسلامی کی فکری اور اجتہادی کمی کے سلسلے میں یہ احساس ہے کہ: (۱) تحریک اسلامی، مختلف اسباب کی وجہ سے، امت میں سے اوسط یا بہت ہی کم صلاحیت و علمی استعداد رکھنے والے افراد کو اپنی طرف راغب کر پائی، (۲) ایسے افراد کی تعداد بھی امت کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہے، اور (۳) راغب ہونے والے افراد کی بھی ایک قلیل ترین تعداد ہی نظم جماعت کی پابند ہے۔ لہذا میرے نزدیک مضمون نگار کا جائزہ و تجزیہ عمومی طور پر برصغیر ہند و پاک ہی نہیں بلکہ کم و بیش دیگر اسلامی تحریکوں کے سلسلے میں بھی درست نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک اسلامی تحریکوں کے محدود ہی سہی علمی ماحول کی بدولت تحریک اسلامی کے وابستگان کی علمی سطح اپنے جیسے ملت کے دیگر افراد کے مقابلے میں بلند ہوئی ہے۔

دوسری بات: فکری حرکت کا تحفظ اور نشو و نما: جیسا کہ میں نے کہا کہ تحریک اسلامی کے وابستگان کا فکری نشو و نما نسبتاً بہتر طور پر ہوا ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے، یہ محدود ہے اور درپیش علمی و فکری چیلنجر کا جواب دینے سے بڑی حد تک قاصر ہے۔ سوال ہے کہ اس کے تدارک کی قابل عمل صورت کیا ہے؟ اس سلسلے میں پہلی قابل غور بات تو یہ ہے کہ کیا کسی بھی نظریاتی نظم والی تحریک مثلاً اشتراکی، ہندتووادی یا اسلامی، اپنے ارد گرد کے سماج کے مقابلہ میں اعلی درجہ کے مفکرین، فلاسفراور جدید علوم کے ماہرین کی کوئی قابل لحاظ تعداد اپنے نظم سے وابستہ افراد میں سے نکال سکی ہے؟ میرے خیال میں نظم کے اندر ایسے افراد کی پیدائش کا تناسب انتہائی قلیل رہا ہے۔ ہاں ، سماج پر اس نظریہ کے اثرات کی وسعت، علمی اداروں میں نفوذ اور سیاسی اداروں پر اثر و اختیار کی بنا پر ایسے افراد کی قابل لحاظ تعداد ضرور پیدا ہوتی رہی ہے، جنھوں نے علمی اور فکری سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ لہذا میرے خیال میں تین اقدامات مناسب معلوم ہوتے ہیں (۱) تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کو جدید علمی دنیا سے روبرو کرنے کی باضابطہ منصوبہ بندی اور اقدام، (۲) علمی اور تحقیقی اداروں میں متاثرین تحریک کی شرکت، اور(۳) سماج کے بہترین دماغوں اور باصلاحیت طالب علموں کو تحریک کے بنیادی نظریہ سے متاثر کرنے کی منصوبہ بندی اور پیش قدمی۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہماری اصل توجہ مختلف علمی و تحقیقی میدانوں میں وحی الہی کی روشنی میں عقل کو مہمیز دینے اور موجود علم کو نئی جہت دینے اور اس میں اضافہ کرنے پر ہونی چاہیے۔ وحی الہی کی روشنی اور اسلامی علمی ورثہ سے مستفید ہو کر نئی علمی پیش رفت کے لیے طویل المیعاد کوشش ناگزیر ہے۔ لہذا باصلاحیت نوجوانوں کو شوق، وسائل اور ماحول فراہم کرنے کے لیے تحریک اسلامی کو ادارہ جاتی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ ■

تبصرہ ؂۲

ڈاکٹر سلمان مکرم

سا بق صد ر حلقہ ا یس آ ئی او ،مہارا شٹرساؤ تھ زون

تحریک اسلامی اصلا ایک فکری انقلاب کی داعی ہے، ایک ایسا انقلاب جو انسانی زندگی کے جملہ پہلوؤں کو اسلام کی روشنی سے منور کردے۔ وہ ایسی فکر پیش کرتی ہے جو انسانی تمدن اور اس کی تعمیر و ترقی میں اس کی سمت متعین کرے، وہ زندگی کے تمام مسائل و پیچیدگیوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور پورے انسانی وجود کو اپنا مخاطب بناتی ہے، اوراس سے زندگی کو معنویت، اخلاق و اعمال کو بلندی، عقل کو اطمینان اور روح کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے۔

تحریک اسلامی اس فکر کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ دیگر ازموں اور نظریات کے بالمقابل اسلام کی حقانیت اور بالادستی قائم ہو اور انسانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ اسلام ہی انسانیت کے لیے دنیا و آخرت میں واحد راہ نجات اور تکمیل حیات کا ضامن ہے۔

مولانا مودودی رح نے علمی و فکری کام کی اہمیت کو اس طرح واضح فرمایا ہے:

اب اسلام اگر دنیا کا رہنما بن سکتا ہے تو اس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں ، جو فکر ونظر اور تحقیق و اکتشاف کی قوت سے ان بنیادوں کو ڈھادیں ، جن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہوئی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکرونظر پر آثار کے مشاہدے اور حقائق کی جستجو سے ایک نئے نظامِ فلسفہ کی بنا رکھیں جو خالص اسلامی فکر کا نتیجہ ہو۔

اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تحریک اسلامی کا اصل کام علمی و فکری میدان میں اسلام کی بالادستی قائم کرنا اور انسانوں کو درپیش مسائل میں فکری رہنمائی فراہم کرنے کا ہے۔

استاذ ریسونی کا مضمون اسی تناظر میں تحریک اسلامی کے تنقیدی جائزہ پر مشتمل ہے۔ موصوف نے تحریکات کا جائزہ لیا ہے، کہ تحریکات اسلامی ملت اسلامیہ کو اور دنیا کو فکری رہنمائی دینے میں کیوں حسب امید کامیاب نظر نہیں آتی ہیں ؟ کیوں تحریکات میں ہمیں بڑے بڑے محققین، مفکرین اور علما کے نام نظر نہیں آتے؟ اور اگر معدودے چند نظر آتے بھی ہیں تو یہ اتفاقیہ ہیں منصوبہ بند کوششوں کا نتیجہ نہیں ہیں۔

موصوف اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ تحریکات اپنے ماضی کے سوالات اور ترجیحات سے نکل نہیں پائیں۔ جیسے اگر ہم ہندوستان کی بات کریں تو یہاں پر یہ سوالات بہت اہم تھے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد آنے والے دنوں میں ملک میں کون حکومت کرے گا؟ اسلام کو ایک متبادل نظام حکومت کے طور پر کس طرح پیش کیا جائے؟ ملک کا سیاسی نظام کیا ہوگا ؟ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال کیا ہیں ؟ غرض اس زمانے میں تحریک کی ترجیح اسلام کو بطور سیاسی نظام اور متبادل نظام حکومت کے طور پر پیش کرنا تھا۔ ہمارے لٹریچر کا زیادہ تر حصہ انھی سوالوں کے جوابات دیتا ہے۔ اس زمانے میں انھی جوابات نے اسلام کو پوری دنیا میں بحث کا موضوع بنادیا تھا۔ پھر ان آئیڈیاز پر بننے والے اداروں نے اسلام کو ایک بہترین متبادل اور مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا، جیسے اسلامی بینکنگ اور دنیا کے علوم میں اسلامی معیشت و سیاست جیسے علوم کا اضافہ یہ تحریک اسلامی کے زبردست کونٹریبوشنس ہیں۔

لیکن آج ہندوستان میں سوالات بدل گئے ہیں۔ جیسے آج یہ سوال بہت اہم ہے کہ انسان کو مادی ترقی کے ساتھ روحانی سکون کیسے حاصل ہو؟ اقلیتوں کے تہذیبی تشخص کا مسئلہ؟ غریبی کو کیسے ختم کیا جائے؟ ٹکنالوجی کے استعمال کے کیا حدود ہوں ؟آلودگی پر قابو پانے کی کیا شکلیں ہوں ؟ لیکن ہمارے پاس ان سوالوں کے ایسے جوابات نہیں ہیں ، جو دنیا کو ہماری طرف متوجہ کرسکیں یا ایسے جوابات ہیں جو بہت زیادہ فلسفیانہ اور نظریاتی نوعیت کا حل پیش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہم out of context ہوتے چلے گئے۔ اسی فکری ٹھیراؤ کو استاد نے ‘تحریکی فکر ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اور اسی فکری جمود سے تنظیمیت والا رویہ پیدا ہوتا ہے جو ہر نئے معقول سوال کو نئے مشاہدات، نئی روشنی اور نئے نقطہ نظر سے سمجھنے کو تحریک کے لیے نقصان دہ یا تحریکی فکر سے انحراف سمجھتاہے۔ تحریکات میں یہ مرض ’فکری عمل‘کے رک جانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (میری ناقص رائے میں اگر استاذ ’تحریکی فکر‘ کے بجائے’ تنظیمی فکر‘کی اصطلاح استعمال فرماتے تو مفہوم کی اور بہتر ادائیگی ہوپاتی)۔ ان نئے سوالات اور چیلنجز کا جواب کس طرح دیا جائے۔ یہ فکری مباحثے دراصل فکری ارتقاء کا باعث بنتے ہیں ورنہ فکری عمل ٹھٹھر کے رہ جاتاہے اور خدانخواستہ تحریک mediocrity اور جمود کا شکار ہوسکتی ہے۔ استاذ ریسونی کی یہ تحریر فکری عمل کو اپنے اندر جاری کرنے اور تجدید و اجتہاد کے میدان میں زبردست پیش رفت کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ بھی ہوتاہے۔

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

تحریک اسلامی ہند نے اس محاذ پر خاطر خواہ کوششیں کیں ہیں ، جس میں ثانوی درسگاہ رامپور کی غیرمعمولی خدمات، ادارہ تحقیق و تصنیف اور اسلامی اکیڈمی کا قیام اور میقات رواں میں علاحدہ شعبۂ فروغ فکر اسلامی کے تحت فکری محاذ پر کوششیں قابل مبارکباد ہیں۔

ذیل میں امت مسلمہ کو درپیش فکری چیلنج وعمومی تجاویز پر گفتگو کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

(۱) علامہ حمید الدین فراہیؒ نے ایک عظیم الشان علمی منصوبہ پیش فرمایا ہے۔ جس میں علامہؒ قرآن کو علوم کائنات کا مرکز بنانے کی بات کہتے ہیں۔ علوم کی قرآنی بنیاد پر تدوین نو جس میں شرعی اور غیر شرعی دونوں علوم شامل ہوں ۔ سب سے بنیادی اور انتہائی ضروری کام ہے۔ اس کے نتیجے میں دین کی بحیثیت نظام تشریح ہوسکے گی اور دین میں ترجیحات متعین ہوسکیں گی نیز ضعیف و کمزور روایات جو امت کو کینسر کی طرح کھوکھلا کررہی ہیں اور بیرونی اثرات و موشگافیوں سے گلو خلاصی ممکن ہوسکےگی اور دین اسی صاف و شفاف چشمہ کی مانند ہوجائے گا جس طرح کہ آپ ﷺ نے اسے چھوڑ ا تھا اور جس چشمہ صافی سےصحابہ کرام ؓاجمعین سیراب ہوئے تھے۔ دین کی ایسی مکمل اور منزہ تشریح ہی سے ملت اسلامیہ میں ایک عظیم نصب العین کےلیے حقیقی اتحاد اور جدوجہد کرنے کا داعیہ اور واضح منصوبہ سامنے آسکے گا اور مسلم قوم کا امت مسلمہ کی شکل میں ظہور ہوگا۔ دوسری طرف برادران وطن کے سامنے اسلام کی انتہائی بلند، روشن اور بے عیب تصویر سامنے آئے گی۔

(۲) علامہ حمید الدین فراہیؒ ایک ایسے منفرد ’نظام استدلال‘ کی تعمیرکی طرف متوجہ فرماتے ہیں جس کی بنیاد فطرت انسانی پر رکھی گئی ہو۔ دوسرا بنیادی کام توحید و فطرت انسانی پہ مبنی ایک نظریہ عالم ونظام استدلال کی تعمیر جس کی بنیاد پر انسانی و سائنسی علوم میں تحقیق کی ایک نئی بنیاد فراہم ہوسکے، جو انسانی تمدن اوراس کی ترقی کی ضامن ہو، جس کی بنیاد پر نئے مشاہدات اور معلومات کو علوم کی شکل میں منظم کیا جاس کے۔ اور اسی توحیدی فلسفے کی بنیاد پر درسی کتب کی تیاری اور معلومات کو پیش کیا جاس کےاور اسی کی بنیاد پر سائنس کے انطباقات واستعمالات، جسے ٹکنالوجی کہتے ہیں ، کی پالیسی متعین ہوسکے۔ اس نظام فلسفہ میں مستقل ارتقا کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔

(۳) نئے لٹریچر اور نئے علوم کی تیاری۔ موجودہ مسائل / مشاہدات کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے اور توحید پر مبنی نظریہ عالم کی بنیاد پر نئے علوم اور نئےلٹریچر کی شکل میں نئی تخلیقات جو انسانی تہذیب و تمدن کو مالا مال کریں گی اور اسلام کی برکتوں سے ساری انسانیت کو حقیقی فلاح نصیب ہوگی۔

(۴) اقامت دین پوری امت کا مقصد ہے۔ پوری امت کی شمولیت کے بغیر یہ عظیم مقصد حاصل نہیں ہوسکتا اس کے لیے پوری امت میں ایک زبردست کلچرل بدلاؤ کی ضرورت ہے جو امت کے مزاج، پسند، ذوق غرض ہر چیز کو مقصد کے مطابق کردے۔ درپیش فکری مسائل کا حل تلاش کرنے میں امت کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس سے ایک فائدہ جہاں امت کی فکری تربیت کی شکل میں حاصل ہوگا وہیں امت کے اداروں خصوصا مدارس و مکاتب سے تحریک کی قربت بڑھے گی۔ اس طرح تحریک امت میں ایک بڑے کلچرل بدلاؤ کی شروعات کرے گی جس کے مثبت اثرات بہت جلد محسوس کیے جائیں گے۔

(۵) طلبا میں عموما ًاور طلبا تنظیم میں خصوصاً، فکری تربیت کو اولین ترجیح حاصل رہے۔ تحریک اسلامی کو فکری سطح پر جس انسانی سرمایہ کی ضرورت ہے اس کو بہم پہنچا نا طلبا تنظیم کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

(۶) ہمارے تحریکی کلچر میں فکری کاموں کی حوصلہ افزائی ہو، اسی طرح ہمارے کلچر میں فکری تربیت اور ذہنی پختگی کسی مخصوص تفسیر قرآن کے بجائے راست قرآن کے زیر سایہ انجام دی جائے، تاکہ تحریک میں فکری عمل ہمیشہ جاری رہے اور تحریکی فکر ارتقاء کی نئی منزلیں طے کرے اور انسانوں کی علوم و تمدن کی ترقی میں رہنمائی کرسکے۔ ■

تبصرہ ؂۳

مطلب مرزا

سا بق صد ر حلقہ ا یس آ ئی او، راجستھان

ہندوستان میں تحریک اسلامی کے قیام کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ اخلاقی پسماندگی، سیاسی بے بصیرتی اور دینی زوال کے مسائل سے گھری ہوئی تھی۔ یہ وہ بڑے محرکات ہیں جن کے بطن سے تحریک اسلامی نے جنم لیا، اس لیے مضمون نگار کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک اسلامی کے قیام کی وجہ فقط بیرونی خطرات، سیاسی وجود کی بقا اور اسلام مخالف طاقتوں کی یلغار ہے۔

ہندوستان میں تحریک اسلامی کا قیام در اصل’احیائے دین‘کی شروعات تھی۔ تحریک اسلامی کے بنیادی لٹریچر میں امت مسلمہ کو دین کے محدود اور ناقص تصور سے نکال کر دین کے وسیع اور قرآنی تصور کا تعارف کروایا گیا ہے۔ بانی تحریک مولانا مودودی کے وہ خطبات جو دیہات کے لوگوں کے سامنے دئے گئے تحریک اسلامی کی فکر اس کے قیام کے مقصد اور تحریک اسلامی کی دعوت کے بہترین ترجمان ہیں۔

اس بات سے بھی اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک اسلامی نے اپنی توجہ سخت کوش کارکنان اور سرفروش مجاہدین کی تیاری پر مرکوز رکھی اور علما محققین و مفکرین کی تیاری پر توجہ نہیں دی گئی۔ ہندوستان میں تحریک اسلامی کےوجود سے قبل جس قدر علمی و تحقیقی کام ہوا اس سے کئی گنا زیادہ تحریک اسلامی کے وجود کے نتیجہ میں ہوا۔ امت مسلمہ کے سر پر جو علمی جمود کا سایہ تھا اور گلے میں جو تقلید کا طوق پڑا تھا اس سے آزادی کی راہ تحریک اسلامی کے وجود ہی سے ہموار ہو سکی۔ تحریک اسلامی نے ہندوستان میں کبھی علمی و تحقیقی کام سے اپنی نظر نہیں ہٹائی اور نہ اس کی اہمیت کو کبھی کم ہونے دیا۔ علم و تحقیق کے تعلق سے تحریک اسلامی کی فکرمندی ہی کے سبب رامپور میں ‘ثانوی درس گاہ ‘ کا قیام عمل میں آیا۔ جس کا مقصد امت مسلمہ کے تاب ناک مستقبل کے لیے ایسے افراد کی تیاری کرنا تھا، جو ہر شعبہ میں انسانیت کی قیادت و رہ نمائی کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے ہندوستان کے مختلف مقامات پر دینی مدارس کو بھی قائم کیا گیا اور یہ مدارس و درس گاہ ’غلطی سے یا بلا ارادہ‘ قائم نہیں ہوئے تھے بلکہ تحریک اسلامی کے منصوبہ کے تحت قائم ہوئے تھے- لیکن یہ بات درست ہے کہ تحریک اسلامی کی فکرمندی کے باوجود علم و تحقیق کا کام جس بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ علم و تحقیق کا کام سردمہری کا شکار بھی ہوا اور تحریک اسلامی سے متعلق کارکنان کی بڑی تعداد علمی جمود کا شکار ہو گئی۔ مضمون نگار کی اس بات سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ تحریک اسلامی میں ایسے افراد کی بھی خاطر خواہ تعداد موجود ہے جو آزاد فکر رکھنے والوں اور تجدید و اجتہاد کا کام کرنے والوں کو تنگ نظر سے دیکھتی ہے- لیکن وابستگان تحریک کے اس رویہ کو موصوف کا’تحریکی فکر ‘کہنا درست نہیں بلکہ یہ’فکری جمود ‘ہے۔ تحریک اسلامی نے اس رویہ کو قبول نہیں کیا ہے۔ تحریک اسلامی اور ذمہ داران تحریک اصولی طور پر آج بھی تجدید و اجتہاد اور علم و تحقیق کے میدان کو آباد رکھنے کے لیے فکر مند ہیں اور اس کے لیے کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

تحریک اسلامی میں فکری حرکت کو پیدا کرنے، بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے کیا کیا جائے؟

فکری حرکت اصلاً’تجدید فکر‘ کا نام ہے جو مسلسل ارتقائی مرحلوں سے گزرتی ہے اس لیے لازمی ہے کہ تحریک اسلامی اپنے شروعاتی دور کے لٹریچر ہی پر قناعت نہ کرے بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ لٹریچر کو بھی اپڈیٹ کیا جاتا رہے، تاکہ وابستگان تحریک اپنے قلب و نظر کو جمود کے جالوں کی آلودگی سے بچا سکیں۔ جدید چیلنجوں کی سمجھ پیدا کرنے والا لٹریچر بڑے پیمانے پر شائع کروایا جائے اور وابستگان تحریک تک پہنچایا جائے۔ وابستگان تحریک میں ’فکری وسعت‘پیدا کرنے کے لیے مختلف نظریات اور مکتب فکر کے لٹریچر کی جانب بھی توجہ مرکوز کی جائے اور وابستگان تحریک میں نقد و تبصرہ کی صلاحیت پیدا کی جائے۔ وابستگان تحریک کی تربیت میں اس بات پر بھی توجہ دی جائے کہ کوئی اجتہاد اگر عام رائے سے مختلف بھی ہوں تو کس طرح احترام کے ساتھ اسے دیکھا جائے۔ رد و قبول کے لیے مضبوط دلائل کو بنیاد بنایا جائے اور اختلاف کے باوجود تنگ نظری و ناگواری کا مظاہرہ نہ کیا جائے- اور سب سے بڑ کر جو شے’فکری حرکت ‘ و فکر کو تروتازہ رکھنے کا ذریعہ ہے، وہ یہ کہ قرآن و سیرت رسول کے ساتھ وابستگان تحریک کا غیر معمولی تعلق قائم کیا جائے۔

اپریل 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau