تحریک اور ادارے

مطلوب توازن اور توجہ طلب امور

اس سلسلہ مضامین میں تحریک اسلامی اور اداروں کے درمیان تعلق کو تفصیل سے زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسلامی تحریک میں اداروں کی اہمیت تین پہلوؤں سے ہے۔ اول یہ کہ جس طرح انفرادی زندگی سے متعلق اسلام کی عملی شہادت اسلام کے ماننے والوں کے کردار کے ذریعے انجام پاتی ہے، اجتماعی زندگی سے متعلق اسلام کی عملی شہادت اصلاً اسلامی معاشرے کے ذریعے ہوتی ہے۔ لیکن بگڑے ہوئے یا غیر اسلامی معاشرے میں اس شہادت کا ذریعہ اسلامی اصولوں کے مطابق چل رہے ادارے ہی ہوسکتے ہیں۔ غیر اسلامی ماحول میں یہ ادارے ہی اُن جزیروں کا کام کرسکتے ہیں جو اسلامی اجتماعیات کی کچھ جھلکیاں دنیا کو دکھا سکیں۔ دوسرے یہ کہ تحریک اسلامی کا نصب العین اقامت دین ہے جو افراد کے ارتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل، تینوں مقاصد کے مجموعے کا نام ہے۔ معاشرے کے عناصر ترکیبی میں، افراد کے ساتھ ساتھ ادارے اور روایتیں بھی شامل ہیں۔ اداروں کو درست رخ دیے بغیر اور مثالی اداروں کی نشو و نما کے بغیر معاشرے کی وہ تعمیر ممکن نہیں ہے جو اقامت دین کا اہم جزو ہے۔ اس لیے ادارے اقامت دین کے مقصد سے راست تعلق رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ موجودہ دور میں ادارے قوت و طاقت کا اہم مرکز ہیں۔ اب سول سوسائٹی کو مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے ساتھ ایک اسٹیٹ (estate)تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ جو تحریک زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے وہ اداروں کو یعنی قوت کے فوری ممکن الحصول سرچشمے کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ اداروں کے یہ مقاصد انہیں تحریک کی اسٹریٹجی کی سطح پر تحریک سے جوڑتے ہیں۔ ان مقاصد کو نظر انداز کرکے محض اداروں کے قیام یا ان کے حسن انتظام’ کو اگر مقصد بنالیا جائے تو ادارے بجائے تحریک کے لیے مفید بننے کے، الٹا بوجھ بن جاتے ہیں۔ گویا اصل مسئلہ اداروں کا وجود نہیں بلکہ ادارہ سازی کے عمل کو تحریک کی مجموعی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کا چیلنج ہے۔

ان مضامین میں مختلف قسم کے اداروں کے سلسلے میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ کیسے تحریک کے مقصد کے لیے مفید بن سکتے اور اسلام کی عملی شہادت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں؟ اسلامی تاریخ میں اداروں نے کیسے یہ کردار ادا کیا، اس کے بھی تاریخی نمونے پیش کیے گئے اور موجودہ دور میں اداروں کے اس کردار کے احیا کی عملی شکلیں کیا ہوسکتی ہیں؟ اس پر بھی بحث کی گئی۔ اداروں سے متعلق اس سلسلے کو مکمل کرتے ہوئے آج ہم اس بنیادی سوال کو زیر بحث لانے کی کوشش کریں گے کہ اداروں اور تحریک کے درمیان توازن کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے؟ توازن کے عملی تقاضے کیا ہیں؟ اور متوازن رویے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟

مشترک مقصد، متصادم تقاضے

توازن کا یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ تنظیمی مزاج اور اندرونی حرکیات (internal dynamics) کے حوالے سے اداروں اور تحریک کے تقاضے کئی پہلوؤں سے مختلف بلکہ بعض اوقات باہم متصادم بھی ہوسکتے ہیں۔ تحریک کا مزاج انقلابی یا تبدیلی پسند ہوتا ہے۔ تخلیقی اضطراب (creative restlessness)تحریکوں کی اصل کارفرما قوت ہوتی ہے۔ وہ موجودہ نظام اور موجودہ کیفیات سے کبھی مطمئن نہیں رہتیں ۔[1] تحریکیں مثالیت پسند (idealist)ہوتی ہیں۔ بہتر سماج اور بہتر مستقبل کا خواب اور اس کے مطابق تبدیلی کی شدید آرزو ہی ان کا اصل ایندھن ہوتے ہیں۔ ہمت و حرکت، جذبہ بے تاب، ہر آن بے اطمینانی، خطرہ مول لینے کی جرأت اور ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادگی جیسی انقلابی خصوصیات تحریک کے خاص عناصر ترکیبی ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ادارے نظم، تسلسل، استحکام، احتیاط اور تحفظ کی نفسیات رکھتے ہیں۔ خطرات سے بچ کر، تبدیلی کی رفتار کو قابو میں رکھ کر، اور کارفرما قوتوں سے مزاحمت کو کم سے کم رکھ کر آگے بڑھتے رہنا، ان کی سرشت کا ایک اہم تقاضا ہوتا ہے۔ وہ آئیڈیلوں کو عملی سسٹم میں بدلتے ہیں۔ جذبے اور امنگ کو ٹھوس عملی طریق کار (procedure)کا روپ دیتے ہیں۔ تحریکوں کے اٹھائے ہوئے سوالات کو قابل عمل جوابات کا ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔ تحریکوں کا کام سماج میں سیمابی حرکت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اداروں کا کام اس حرکت کو استحکام فراہم کرنا ہوتا ہے۔ تحریک سوال اٹھاتی ہے، ادارہ جواب کو نظام میں ڈھالتا ہے۔ تحریک امکان پیدا کرتی ہے، ادارہ امکان کو پائیداری دیتا ہے۔

صالح تمدن کی تعمیر میں دونوں قوتوں کا اپنا کردار ہے۔ تحریک رفتار فراہم کرتی ہے اور ادارے پائیداری فراہم کرتے ہیں۔ تحریکی اسپرٹ نہ ہو تو ادارے محض این جی او بن جاتے ہیں اور ادارے کارکرد نہ ہوں تو تحریک کے اثرات وقتی اور غیر پائیدار ہونے لگتے ہیں۔ سماج میں پائیدار تبدیلی کے لیے تحریکوں کا ‘تخلیقی اضطراب’ بھی درکار ہے اور اداروں کا ساختی استحکام (structural  permanence)بھی ۔ اس لیے اصل ضرورت توازن کی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی کہ اداروں کی نفسیات تحریک کی انقلابی اسپرٹ کو متاثر نہ کرنے پائے اور تحریک کا حرکیاتی مزاج اداروں کے استحکام کو متاثر نہ کرنے پائے۔

کامیابی کا اصل راز یہ ہے کہ دونوں تقاضوں میں توازن کو برقرار رکھا جائے۔ نہ تحریکی اسپرٹ کو کم زور ہونے دیا جائے اور نہ اداروں کے کردار کو۔ اس دنیا میں سب سے مشکل کام ‘توازن’ ہی ہے لیکن خالق کائنات کی بنائی ہوئی اس کائنات کا اصل حسن بھی توازن ہے۔ اس لیے یہ کام مشکل ہی سہی لیکن ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے رسی پر چلنے کی صلاحیت (rope-walk)پیداکرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

اگر یہ توازن قائم نہ رہے اور تحریک اور ادارے گڈ مڈ ہوتے رہیں تو دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ تحریک ادارہ جاتی مزاج اپناکر انقلابی کیفیت اور تخلیقی اضطراب سے محروم ہونے لگتی ہے۔ ایک ماہرسماجیات نے اس کے لیے ایک دلچسپ ترکیب استعمال کی routinization of charisma یعنی تحریکوں کی کرشماتی کشش کا معمولات میں بدل جانا۔[2] اور دوسری طرف اداروں میں رواں دواں تحریکی مزاج کبھی استحکام پیدا نہیں کرپاتا۔

مطلوب توازن کے لیے دو امور پر توجہ درکار ہے۔

ا۔ کسی ادارے کے قیام کے فیصلے کے وقت مطلوب توازن یعنی کب، کس مرحلے میں اور کن شرائط پر کس قسم کے ادارے قائم کیے جائیں، یہ فیصلہ تحریکی اور ادارہ جاتی تقاضوں میں توازن برقرار رکھتے ہوئے کرنا۔

۲۔ جب ادارے قائم ہوجائیں تو ان کو کس طرح چلایا جائے اور ان سے متعلق امور میں تحریکی و ادارہ جاتی تقاضوں کا توازن کیسے نبھایا جائے، اس سلسلے میں قدم قدم پر فیصلہ سازی اور ضروری احتیاطیں۔

ذیل کی سطروں میں ان دونوں پہلوؤں کو زیر بحث لایا جارہا ہے۔

ادارہ جاتی بوجھ کی حد

اداروں کے قیام سے متعلق بنیادی اصول یہ ہے کہ اداروں کی تعداد اور ان کا پیدا کردہ بوجھ تحریک کی استعداد کے مطابق ہو اور تحریک کے مجموعی وژن اور ترجیحات کے مطابق ہو۔ تحریک کے پاس محدود انتظامی، مالی اور قیادتی وسائل ہوتے ہیں۔ ان وسائل کا درست اندازہ اور ادارہ جاتی بوجھ کو ان کے مطابق رکھنے کی صلاحیت قیادت کا اصل امتحان ہوتی ہے۔ اگر اداروں کی تعداد یا ان سے متعلق کاموں کا بوجھ استعداد سے بڑھ جائے تو ادارے پیروں کی بیڑیاں بننے لگتے ہیں۔

ادارے مختلف وجوہ سے سماجی کام کرنے والوں کے لیے پرکشش ہوتے ہیں۔ تحریکی کام نظر نہیں آتا، ادارے نظر آتے ہیں۔ تحریکی جد و جہد میں بسا اوقات مخالفتوں اور ملامتوں کا نشانہ بننا ہوتا ہے جب کہ ادارے منتظمین کو سماجی مرتبہ اور عزت فراہم کرتے ہیں۔ تحریکی کام کے نتائج فوری ظاہر نہیں ہوتے جب کہ اداروں سے روزانہ لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ وہ قوت، اثر و رسوخ اور دبدبے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ بتدریج وہ جائیدادوں اور اثاثوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ وسیع وسائل پر اختیار اور ان سے انسانوں کو فائدہ پہنچانے کا احساس بھی ایک طرح کا لطف و سرور فراہم کرتا ہے۔ ان وجوہ سے لوگوں کی دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ادارے قائم کریں۔

لیکن دوسری طرف ادارے کا قیام بالعموم ایک طویل المیعاد کام ہوتا ہے۔ اس سے فوری پلٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے دور تک دیکھ کر اور مستقبل کی ممکنہ افرادی، مالی اور دیگر ضرورتوں کا لحاظ رکھ کر ہی ایسے کام کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ اگر یہ لحاظ نہ رکھا جائے اور استعداد سے بڑھ کر بوجھ لاد لیا جائے تو قیادتوں کا وقت اداروں میں صرف ہونے لگتا ہے۔ دعوتی و فکری جدوجہد کم زور ہونے لگتی ہے۔ شکایتیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے اور اداروں کی کثرت خود اپنے مقصد کے خلاف کام کرنے لگتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ادارہ سازی کو ایک اسٹریٹجک عمل سمجھا جائے۔ درج ذیل محرکات کے تحت عجلت میں اوراسٹریٹجک تقاضوں کو سمجھے بغیر اداروں کا قیام عام طور پر نقصان دہ ہوتا ہے۔

۱۔ شوقیہ: محض خدمت خلق یا عوامی پذیرائی کی خواہش کی تکمیل کے لیے جب بڑے ادارے قائم کیے جاتے ہیں تو وہ بوجھ بن سکتے ہیں اور تحریکی جدوجہد میں رکاوٹ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

۲۔ عطیہ دہندگان کی خواہش پر: بعض اوقات ادارے صرف عطیہ دہندگان کی خواہش پر قائم کرلیے جاتے ہیں۔ کسی نے اسپتال کے قیام کے لیے ایک بڑی رقم دے دی۔ کسی نے اپنی عمارت وقف کردی اور چاہتا ہے کہ وہاں اسکول قائم ہو۔ عطیہ دہندگان کو اپنے وژن اور اسٹریٹجی پر مطمئن کرنا اصل کام ہے۔ ان کی آرزوؤں اور حسرتوں کی تکمیل میں تحریک کو جھونکنا دانش مندی نہیں ہے۔

۳۔ کسی زمین، عمارت یا اثاثے کے استعمال کی خاطر: اگر تحریک کی اسٹریٹجی میں ادارے کا قیام مفید ہو تو بہت اچھی بات ہے لیکن محض کسی اثاثے کو استعمال میں لانے کے لیے ایک پورا ادارہ کھڑا کرنا اکثر صورتوں میں مفید نہیں ہوتا۔ اثاثوں کے مفید استعمال کی اور بھی آسان شکلیں ہوسکتی ہیں۔

ادارہ سازی کب اور کیسے؟

ادارہ سازی کے اسٹریٹجک عمل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کب کسی ادارے کا قیام کیا جائے اور کب نہ کیا جائے؟ کس مرحلے میں کس قسم کا ادارہ ہو؟ یہ فیصلے تحریک کی مجموعی صورت حال، مرحلے اور ہر مرحلے کی اسٹریٹجک ضرورتوں کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ خاص طور پر مقامی سطحوں پر اور چھوٹی ریاستوں میں اداروں کے قیام کا فیصلہ دور رس اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ چند ارکان پر مشتمل ایک چھوٹی سی مقامی جماعت جب کسی بڑے ادارے کو قائم کرتی ہے تو وہ اپنے لیے کئی طرح کے چیلنج پیدا کرلیتی ہے۔ ادارے کے انتظامی، مالی و عملی مسائل میں ساری قوت کھپ سکتی ہے۔ افراد سازی اور تحریک کی توسیع کا کام سست پڑ سکتا ہے یا رک بھی سکتا ہے۔ دعوت، تربیت اور اصلاح کے بنیادی محاذوں پر توجہ کم ہوسکتی ہے۔ باصلاحیت افراد کی کمی کی وجہ سے خود ادارہ ناکام ہوسکتا ہے اور ایک ایسا بھنور بن سکتا ہے جس سے نہ نکلنا ممکن ہو اور نہ اس جال میں پھنسے رہ کر کسی اور محاذ پر پیش رفت ممکن ہو۔ اس لیے ادارے کے قیام سے پہلے درج ذیل سوالات پر سنجیدہ غور ضروری ہے:

۱۔ تحریک کا بنیادی کام دعوت، تربیت، اصلاح اور افراد سازی جیسے امور ہی ہیں۔ ادارے کو اس کام میں معاون ہونا چاہیے، رکاوٹ نہیں۔ ادارے کے قیام کا فیصلہ اسی وقت ہونا چاہیے جب ان بنیادی کاموں کے لیے مناسب افرادی قوت، صلاحیت اور توانائی موجود ہو اور انھیں متاثر کیے بغیر ادارے کے قیام و انتظام کے لیے وسائل میسرکرنا ممکن ہو۔ اس سلسلے میں رہنما اصول یہ ہوسکتا ہے کہ افرادی قوت اتنی ہو کہ کارگر افرادی قوت اور توانائی کا پچیس تیس فیصد حصہ لگا کر ادارہ چلانا ممکن ہو اور تحریک کی قوت کا بڑا حصہ (ستر، پچہتر فی صد) اداروں سے غیرمتعلق رکھا جانا ممکن ہو تاکہ وہ تحریک کے اصل محاذوں پر یکسوئی سے متوجہ رہ سکے۔ یہ کوئی جامد فارمولا نہیں ہے بلکہ ایک لچک دار رہنما اصول ہے۔ اصل مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تحریک کی غالب قوت اداروں سے غیر متعلق رہ کر تحریکی جذبے کے ساتھ سرگرم رہ سکے۔

۲۔کئی مقامی جماعتوں میں اوپر بتائی گئی صورت حال کے برعکس صورت حال بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یعنی افرادی قوت بہت زیادہ ہے اور افراد کی ایک بڑی تعداد کے پاس کوئی مستقل کام نہیں ہے۔ بہت سی صلاحیتیں غیر مستعمل ہیں۔ یہ صورت حال بھی تحریکوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ بے کار آدمی کسی بھی اجتماعی نظم کے لیے دردِ سر ہوتا ہے۔ ایسے مقامات پر یہ سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کس طرح صد فیصد افرادی قوت، توانائی اور صلاحیتیں اسلام کی قولی و عملی شہادت کے لیے فعال بنائی جاسکتی ہیں۔ ایسے مقامات پر اداروں کا قیام تحریک کی اسٹریٹجک ضرورت بن جاتی ہے۔

۳۔ ادارے کے قیام کے ساتھ ساتھ کس قسم کا ادارہ قائم کیا جائے؟ یہ فیصلہ بھی بڑا اہم ہے۔ عام طور پر ادارے کے نام کے ساتھ کچھ روایتی اداروں، اسپتال، کلینک، اسکول یا بلاسودی بینک کا تصور ذہن میں آجاتا ہے۔ یہ سب کثیر سرمائے اور انفراسٹرکچر کے متقاضی (capital-intensive projects) منصوبے ہیں۔ اس سلسلہ مضامین میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اداروں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہر شعبے میں اسلام کی ادارہ جاتی عملی شہادت کے مواقع موجود ہیں۔ کثیر وسائل، بلڈنگ، انفرا اسٹرکچر، وسیع اسٹاف اور پیچیدہ انتظامی الجھنوں کے حامل روایتی ادارے بھی ہیں اور اداروں کی بہت ہلکی پھلکی اور آسان شکلیں بھی موجود ہیں۔ (ہر محاذ پر ایسے اداروں کی نشان دہی اس سلسلہ مضامین میں کی جا چکی ہے [4]) ہر طرح کی صلاحیت، مزاج اور رجحان کے حامل افراد کے حسب حال اداروں کے لیے مواقع موجود ہیں۔ اپنی مقامی صورت حال، افرادی قوت اور افراد کی صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر مناسب ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں۔

۴۔افراد کی طرح مقامی جماعتوں کی بھی ادارہ جاتی نظم و انصرام کی اجتماعی صلاحیت ہوتی ہے جو تجربے سے بڑھتی ہے۔ اس لیے پہلے مرحلے میں بڑے ادارے کے قیام کے حوصلہ مند فیصلے کے بجائے، ابتدا چھوٹے اور ہلکے پھلکے ادارے سے ہونی چاہیے۔ پہلے اسپتال نہیں بلکہ کلینک قائم ہونا چاہیے جو بتدریج ترقی کرکے اسپتال بنے۔ اسکول نہیں بلکہ مکتب یا تعلیمی خدمت کا کوئی ہلکا پھلکا ادارہ قائم ہونا چاہیے جو تحریک کی توسیع کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہے اور ایک بڑے اسکول کی شکل اختیار کرلے۔

خلاصہ یہ کہ ادارے درج ذیل پہلوؤں سے تحریک کی (یعنی مقامی جماعت یا حلقے کی) صورت حال سے مطابقت رکھنے والے ہونے چاہئیں۔

الف) تحریکی مرحلے کے حسب حال: یعنی آپ کی تحریک اس وقت کس مرحلے میں ہے؟ اگر افرادی قوت بہت کم ہے اور توسیع کی اصل ضرورت ہے تو اس وقت بڑے اداروں کا قیام نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اصل توجہ توسیع پر ہونی چاہیے اور حسب ضرورت توسیع میں معاون ہلکے پھلکے ایسے ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں جن کا نظم و انصرام بہت آسان ہو اور جن کے سلسلے میں فیصلوں کی تبدیلی (یوٹرن) زیادہ دشوار نہ ہو۔ افرادی قوت تو ہے لیکن سماج میں اثر ورسوخ پیدا کرنے کی ہنوز ضرورت ہے تو ایسے ادارے قائم کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے جو سماج میں وسیع تعارف کا ذریعہ بنیں اور اثرات بڑھائیں۔

ب) وسائل کے حسب حال: کتنے مالی، انسانی اور قیادتی وسائل میسر ہیں اور کتنے آسانی سے فراہم کیے جاسکتے ہیں؟ ان میں اصل تحریکی کام کے لیے کتنے وسائل کی ضرورت ہے اور وہ کتنے اداروں کے لیے فراہم ہوسکتے ہیں؟ اوپر بیان کیا گیا 70-30 کا فارمولہ ملحوظ رکھتے ہوئے اس سلسلے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

ج) صلاحیتوں کے حسب حال: اگر آپ کی مقامی جماعت میں ریٹائرڈ بزرگوں کی اکثریت ہے تو ایسے ادارے ڈیزائن کیے جاسکتے ہیں جن سے ان کے وقت کا مؤثر استعمال ہوسکے۔ اسی طرح اگر خواتین زیادہ ہیں تو ان کی مناسبت سے منصوبے، اساتذہ کی کثرت ہے تو کوئی اختراعی تعلیمی منصوبہ، پروفیشنلوں کی بڑی تعداد ہے تو ایسا کوئی پروجیکٹ جس سے آن لائن طریقوں سے خدمات فراہم کی جاسکیں۔ وغیرہ۔

انتظامی علیحدگی اور اخلاقی و نظریاتی ربط

ادارے کے قیام کے بعد اصل چیلنج اداروں کے نظم و انصرام کا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں بھی توازن بگڑتا ہے۔ توازن کا یہ بگاڑ اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب تحریکوں اور اداروں کی قیادتیں گڈ مڈ ہوجاتی ہیں۔ تحریکی قیادتیں اداروں کے انتظامی امور میں دلچسپی لینے لگتی ہیں۔ تحریکی اور ادارہ جاتی کاموں میں توازن کے لیے سب سے اہم اصول وہی ہے جس پر’اداروں کی قیادت اور نظم و انصرام’ کے عنوان سے ہم ایک مضمون میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں۔[4] ادارے تحریک کے مقاصد کے تابع ہیں اس لیے ان کی لیڈرشپ کا کام، یعنی اداروں کے رخ، ان کے فلسفے، وژن، اقدار اورمقاصد کے تعین کا کام اور ادارے کو ان سے ہم آہنگ رکھنے کا کام، تحریکی قیادت کا کام ہے۔ جب کہ تکنیکی و انتظامی امور ماہرین(technocrats) کا کام ہے۔ ادارے کو کیا کرنا چاہیے؟ اسے دیکھنا قیادت کا کام ہے اور جو کچھ کرنا ہے وہ کیسے کرنا ہے؟ اسے دیکھنا ماہرین کا کام ہے۔ جب تحریک کے ذمہ دار افراد کی دلچسپی اور مداخلت، ادارے کے مقاصد، اقدار اور اس کے مجموعی رخ کی بجائے روز مرہ کے انتظامی امور میں بڑھ جاتی ہے تو اسی سے تحریک اور ادارے گڈ مڈ ہوجاتے ہیں اور دونوں کے تقاضے متصادم ہوکر دونوں کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔ تحریک کا اداروں سے تعلق کنٹرول کا نہیں بلکہ سمت اور اقدار کی رہنمائی کا ہونا چاہیے۔ اس تقسیم کار ہی سے اداروں اور تحریک کے تقاضوں کے درمیان اُس تصادم سے بچا جاسکتا ہے، جس کی طرف اوپر کی سطروں میں اشارہ کیا گیا ہے۔

پورے سماج کو ساتھ لینا

تحریکی اور ادارہ جاتی تقاضوں میں توازن کی ایک اہم شکل یہ ہے کہ اداروں کو صرف تحریکی کیڈر تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سماج کے باصلاحیت اور صالح افراد کی خدمات سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے۔ تحریکوں کی قوت صرف ان کے وفادار کارکنوں تک محدود نہیں ہوتی۔ کسی تحریک کی اصل سماجی قوت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دائرے سے باہر موجود خیر اور صلاحیت کو بھی اپنے مقصد کے لیے مفید بنا سکے۔ اس لیے حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ جو جس حد تک ساتھ چل سکتا ہے، اسے وہاں تک ساتھ لیا جائے۔ جو تحریک کے جتنے کاموں سے متفق ہوسکتا ہے اور جن جن میدانوں میں حصہ لے سکتا ہے، اسے اس کے مطابق حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ ایک عوامی اور ہمہ گیر تحریک کے لیے یہ اندازِ کار ناگزیر ہے۔

ادارے اس سمت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ ایسا دائرہ فراہم کرتے ہیں جہاں سماج کا وہ صالح عنصر، جو کسی نظریاتی یا عملی وجہ سے تحریک کے مجموعی نظام سے ہم آہنگ نہ ہوسکے، وہ بھی تحریک کے کاموں میں سے اپنے من پسند کاموں کا انتخاب کرکے تحریک کی جدوجہد کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس طرح ادارے تحریک اور سماج کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں۔ وہ مختلف صلاحیتوں، تجربات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو تحریک کے لیے مفید بناتے ہیں اور تحریک کے کارکنوں کو دہرے بوجھ سے بچاکر انہیں تحریک کے بنیادی محاذوں پر جدوجہد کے لیے فراغت فراہم کرتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ صرف سماج کی وسیع تر صلاحیتیں حرکت میں آتی ہیں بلکہ تحریک کے لیے سماجی اعتماد، اثرات کی توسیع اور تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ادارہ جاتی کام تحریکی مقاصد کے لیے ایک تکمیلی (complementary)اور تقویتی (strengthening)کردار ادا کرتا ہے۔

سماج کے اداروں پر اثر اندازی

تحریکی مزاج اور بنیادی تحریکی جدوجہد کومحفوظ رکھتے ہوئے اداروں کے فائدے حاصل کرنے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ ہمیشہ خود ادارے قائم کرنے کے بجائے سماج میں موجود اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جائے۔ اثر اندازہونے کا مطلب ‘قبضہ کرنا’ نہیں ہے بلکہ انتظام وانصرام اور مفاد و ملکیت کے جھگڑوں سے خود کو بچاکر ادارے کی سمت اور اقدار پر اثر انداز ہونا ہے۔ تحریکیں صرف اپنے زیر انتظام اداروں پر توجہ نہیں دیتیں بلکہ معاشرے کے تمام اداروں کو درست رخ دینے کی ممکنہ کوشش کرتی ہیں۔ وہ بڑے دل کے ساتھ معاشرے میں موجود ہر ادارے کو اپنا سمجھتی ہیں، اس سے اپنائیت کا رشتہ قائم کرتی ہیں اور انتظامی بکھیڑوں نیز اداروں سے وابستہ مفادات کے جھگڑوں میں الجھے بغیر اور اختیارات اور انتظامی طاقت کو دوسروں کے ہاتھ میں رہنے دے کر، صرف اپنے اخلاقی اثر کے بل بوتے پر اس کے رخ، سمت اور مقاصد کو درست کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

دنیا کی نظریاتی تحریکوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو تحریکیں کامیاب رہی ہیں ان کی ایک اہم خصوصیت اجنبی اداروں کو اپنالینے اور ان پر اثر انداز ہونے کی ان کی صلاحیت رہی ہے۔ یہ صلاحیت اداروں کی بڑی تعداد کو( انتطامی ذمے داری اور انتظامی مسائل کا بوجھ اٹھائے بغیر)، تحریکی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتی ہے۔ اس طرح صحیح معنوں میں پورے معاشرے کی تعمیر میں تحریک اپنا زبردست رول ادا کرنے لگتی ہے۔

افرادِ تحریک کے ذریعے آزادانہ ادارہ جاتی کام کرانا

اسی طرح تحریکیں افراد کو تیار کرتی ہیں اور ان کی ہمت افزائی کرتی ہیں کہ وہ آزاد ادارے قائم کریں اور چلائیں۔ تحریکوں میں ان کے راست زیر انتظام ادارے بہت کم ہوتے ہیں۔ اصلاً تحریکوں کے افراد ادارے چلاتے ہیں اور تحریکیں اُن کی رہنمائی کرتی ہیں اور ان کو اخلاقی تعاون فراہم کرتی ہیں۔ اخوان کی تحریک ہو یا ہمارے ملک میں سنگھ ہو، ترکی کی اسلام پسند تحریک ہو یا دنیا بھر کی کمیونسٹ تحریکیں ہوں، ان سب نے افراد تیار کیے اور ان افراد نے طرح طرح کے ادارے آزادانہ قائم کیے اور چلائے۔ اس صورت میں تحریک کی قیادت کو یہ موقع حاصل رہتا ہے کہ وہ انتظامی الجھنوں میں پڑے بغیر اور اداروں کے مخصوص تقاضوں کو تحریکی تقاضوں کے راستے میں رکاوٹ بنائے بغیر محض افراد کی تربیت و رہنمائی کرکے ان کے اداروں کے ذریعہ تحریکی مقاصد حاصل کرسکے۔ یہ صورت پیدا ہوجائے تو بڑی تعداد میں تحریکی مقاصد کے لیے اداروں کا کارگر ہونا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس صلاحیت کو بھی تحریک میں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

کچھ اور عملی تدابیر

اوپر بیان کردہ اصولوں کو عملی شکل دینے کے لیے کچھ ایسے انتظامی اور تنظیمی اقدامات اختیار کیے جاسکتے ہیں جو اداروں اور تحریک کے درمیان مطلوب توازن کو برقرار رکھنے میں مدد گار ہوں۔

دوہری رپورٹنگ کا نظام

اداروں کے ذمے داران کی رپورٹنگ صرف انتظامی کارکردگی تک محدود نہ ہو بلکہ اس میں مقصدی ہم آہنگی کا جائزہ بھی شامل ہو۔ اس مقصد کے لیے دو طرح کی رپورٹوں کا نظام اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ایک رپورٹ ادارے کی کارکردگی، مالی حالت اور انتظامی امور سے متعلق ہو۔ دوسری رپورٹ اس بات سے متعلق ہو کہ ادارے نے تحریک کے مقصد کو اور اجتماعی شہادت کے ہدف کو کس طرح اور کس حد تک حاصل کیا ہے۔

ادارہ جاتی توانائی کا بجٹ

جس طرح مالی وسائل کے لیے بجٹ بنایا جاتا ہے اسی طرح قیادت کی توجہ، وقت اور انسانی وسائل کے لیے بھی ایک طرح کا “ادارہ جاتی بجٹ” ہونا چاہیے۔ مثلاً شوریٰ کے اجلاسوں کے وقت کا دس فی صد سے زیادہ حصہ اداروں کے لیے نہ لگے۔ تحریک کے ہمہ وقتی کارکنوں کی ایک متعین حد سے زیادہ تعداد اداروں میں نہ لگائی جائے۔ یہ تدبیر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ادارے تحریک کی توانائی کو مکمل طور پر کشید نہ کرلیں۔

 ادارہ جاتی ذمہ داران کی تحریکی فعالیت

اداروں کے منتظمین اگر طویل عرصے تک صرف انتظامی امور میں مصروف رہیں تو ان کا تحریکی جذبہ کم زور پڑ سکتا ہے۔ اس لیے یہ مفید ہوگا کہ وقتاً فوقتاً انہیں تحریکی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ مثلاً: طویل عرصے سے ادارہ چلا رہے افراد کو کچھ مدت کے لیے دعوتی یا تربیتی کاموں میں شامل کیا جائے اور اس سے متعلق ذمے داریاں دی جائیں۔ اداروں کے ذمے داران کے لیے تحریکی پروگراموں میں شرکت کو ضروری قرار دیا جائے۔ اس طرح اداروں اور تحریک کے درمیان فکری اور عملی ربط برقرار رہتا ہے۔

 ادارہ جاتی ذمہ داری سے قبل تحریکی تربیت

اداروں کے انتظامی ذمے داران کے لیے یہ مفید ہوسکتا ہے کہ وہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے کچھ عرصہ تحریک کے بنیادی کاموں میں گزاریں۔ مثلاً: دعوتی سرگرمیوں میں شرکت، تربیتی پروگراموں میں شمولیت، سماجی خدمت کے میدان میں عملی تجربہ، اس سے ادارے کے منتظمین میں مقصد کا شعور مضبوط ہوتا ہے اور ادارے کے ماحول میں تحریکی روح برقرار رہتی ہے۔ ذیل کے جدول میں ان نکات کا خلاصہ ایک چیک لسٹ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

تحریک اور اداروں کے درمیان توازن ایک فیصلے کے ذریعے فوری حاصل ہوجانے والی کیفیت نہیں ہے بلکہ رسی پر چلنے (rope walk)کا ایسا عمل ہے جس کے لیے مسلسل کوشش اور جد و جہد درکار ہے۔ روپ واک ہی کی طرح اس کوشش کے دوران مختلف مرحلوں میں دائیں بائیں توازن بگڑنے کے پورے امکانات رہتے ہیں۔ گرنے کے بھی امکانات رہتے ہیں۔ ان سے گھبرائے بغیر ہر لغزش کے بعد سنبھلنا اور دوبارہ متوازن راستے پر قدم جما کرآگے بڑھنے کی کوشش کرنا، یہی کام یابی کا اصل راز ہے۔  (ختم شد)

حواشی اور حوالہ جات

  1.  تحریکوں کی خصوصیات پرایک مطالعہ
  • Touraine, Alain. “An Introduction to the Study of Social Movements.” Social Research, 52(4), 1985.
  1. Weber, Max. Economy and Society: An Outline of Interpretive Sociology. Berkeley: University of California Press, 1978.
  2.  یہ بحث اس سلسلے کے متعدد مضامین میں آچکی ہے۔ خاص طور پر ملاحظہ ہو:
  • سید سعادت اللہ حسینی؛وقف: ادارے اور اختراع و ایجاد؛ زندگی نو، اگست 2025
  1.   سید سعادت اللہ حسینی؛وقف: اداروں کی قیادت اور نظم و انصرام؛ زندگی نو، جولائی 202

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تحریک اور ادارے

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223