استاذ محمد عمارہ

فکر اسلامی کے نقیب

سدید ازہر فلاحی

اگر عالم اسلام کے سو علما و مفکرین اپنے آپ کو علمی و فکری کاموں کے لیے وقف کردیں تو اس دور کا فکری منظرنامہ بالکل تبدیل ہوجائے گا. — محمد عمارہ

عالم عرب کے عظیم اسلامی مفکر ڈاکٹر محمد عمارہ علمی و فکری جولانیوں سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ۲۸ ؍فروری کی شام کو تقریباً ۸۹سال کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ ڈاکٹر محمد عمارہ ۸ دسمبر ۱۹۳۱ کو مصر کے کفر الشیخ نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآن حفظ کیا۔ قاہرہ یونیورسٹی سے اسلامیات میں بی اے اور ایم اے کیا۔ وہیں سے ۱۹۷۵ میں اسلامی فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ کئی علمی اداروں سے بحیثیت رکن وابستہ تھے جن میں مصرکی مجلس اعلی برائے اسلامی امور، ھیئۃ کبار علما الازھر، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ، اور مجمع البحوث الاسلامیۃ، جامعہ ازہر نمایاں ہیں۔ آپ نے مجلۃ الازھر کی ادارت کی خدمات بھی انجام دیں۔

ڈاکٹر محمد عمارہ نے تقریباً ڈھائی سو کتابیں لکھیں اور علمی و فکری مجلات کے لیے متعدد مضامین سپرد قلم کیے۔ انھوں نے بہت ساری علمی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر عمارہ نے علمی و فکری کاموں لیے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔ وہ روزانہ ۱۸ گھنٹے مطالعہ و تحریر میں صرف کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر عالم اسلام کے سو علما و مفکرین بھی اپنے آپ کو علمی و فکری کاموں کے لیے وقف کردیں تو اس دور کا فکری منظرنامہ بالکل تبدیل ہوجائے گا۔

ڈاکٹر صاحب کی پرورش و پرداخت گرچہ ازہر کے دینی پس منظر میں ہوئی لیکن چونکہ شروع ہی سے وہ سماجی انصاف اور غیر ملکی تسلط سے آزادی کے بڑے علمبردار تھے اس لیے مارکسی فکر سے متاثرہوئے اور اس تحریک کی نمایاں شخصیت بن گئے۔ اسی بنیاد پر تقریبا چھ سال وہ جیل میں رہے۔ جیل کی زندگی میں انھوں نے اپنے افکار کاتنقیدی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ سماجی مسائل کا صحیح حل مارکسیت اورطبقاتی کشمکش میں نہیں بلکہ اسلام میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی مارکسی فکر و تحریک سے وابستگی نے انھیں اس بات کا موقع دیا کہ وہ مغرب کے مادی افکار کوگہرائی کے ساتھ سمجھیں اور ان پر مضبوط تنقیدکرسکیں۔ وہ خود اس کو خدائی منصوبہ قرار دیتے ہیں جس کا مقصد یہ تھاکہ وہ مارکسی فکر کو اچھی طرح سمجھیں اور اس کے محل کو سبوتاژ کریں۔ یہی وجہ ہے سیکولر اور مارکسی حضرات نے ڈاکٹر صاحب کو شدید دشمنی کا ہدف بنایا۔ ڈاکٹر عمارہ خیارھم فی الجاھلیۃ خیارھم فی الاسلام کے مصداق سیکولرزم کے کیمپ سے نکلنے کے بعد اسلام کے بہترین داعی اور ترجمان ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں نمایاں فکری تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ وہ اپنی فکری لغزشوں کو تسلیم کرنے اور اپنے افکار سے رجوع کرنے میں عار نہیں کھاتے تھے۔ یہ علمی جرأت آج بہت سارے علما و مفکرین میں مفقود ہے۔ وہ ان تبدیلیوں کو فکری پختگی اور ارتقاء سے موسوم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عمارہ کے نزدیک فکری ارتقاء انسانی زندگی کی علامت ہے اور جو لوگ فکری جمود کو اپنا شیوہ بنالیتے ہیں وہ مردہ و بے جان ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے امام حسن البنااور مولانا مودودی پر بھی تنقید کی اور پھر اپنے موقف سے رجوع بھی کیا۔ اسی طرح امام ابن تیمیہ پر تنقید کے بعد انھوں نے بعد میں ان کے سلسلے میں ایجابی موقف اختیار کیا اور کہا کہ اگر ان کے تجدیدی کاموں کو حکومت کی مدد حاصل ہوتی تو آج امت کی صورتِ حال کچھ اور ہوتی۔ عرب قومیت سے مارکسیت اور مارکسیت سے اسلام تک کا سفر اسی کشادہ ذہنی کی وجہ سے ان کے لیے ممکن ہوسکا۔ اس پورے فکری سفر کے دوران وہ ہمیشہ آزادیٔ وطن اور سماجی انصاف کے علمبردار رہے۔

علامہ محمد غزالی ڈاکٹر محمد عمارہ کو ‘اسلام کا عظیم داعی اوراسلامی تعلیمات کاپاسبان ‘ بتاتے ہیں۔ علامہ یوسف قرضاوی ڈاکٹر محمد عمارہ کی شخصیت پر اپنی کتاب میں انھیں’اسلامی سرحدوں کا نگہبان‘قرار دیتے ہیں۔ اس سے جہاں ڈاکٹر عمارہ کی فکری عظمت کا احساس ہوتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ علما اپنے معاصرین کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے معاملے میں کس قدر فیاض ہیں۔ ڈاکٹر عمارہ نے بھی علامہ یوسف قرضاوی اور علامہ غزالی پر کتابیں لکھیں اور انھیں اسی طرح خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد عمارہ نے فکری محاذ پر کئی کام کیے۔ انھوں نے اسلام پر اٹھائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا۔ مغربی افکار کے حملوں کا جواب بھی دیا۔ فکر اسلامی کے قدیم و جدید دھاروں پر لکھا۔ سلسلۃ التنویر الاسلامی کے عنوان کے تحت کئی کتابیں لکھ کر اسلام کے روشن پہلووں کو واضح کیا۔ محمد غزالی، حسن البنا اور ابولاعلی مودودی جیسی تجدیدو احیائے دین کی علمبردارشخصیات اور ان کے کام کو بھی موضوع بنایا۔

ڈاکٹر عمارہ نے کئی ایسے مفکرین کی اسلامی خدمات کو نمایاں کیا جنہیں عموماً مغرب زدہ تصور کیا جاتا ہے اور بتایا کہ وہ اصلاًفکر اسلامی سے وابستہ ہیں۔ مشہور عرب ادیب طہ حسین کو سیکولر اور مغربیت زدہ لوگ اپنے لیے نمونہ مانتے ہیں اور اسلام پسندحلقہ انھیں مغربیت کا داعی سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر عمارہ نے طہ حسین کی پوری زندگی کا جائزہ لے کر بتایا کہ کس طرح وہ فکری ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد بالآخراسلام کی طرف لوٹ آئے۔ اسی طرح جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، قاسم، رفاعۃ طہطاوی، قاسم امین، عبد الرحمن کواکبی جیسی شخصیات کی تحریروں کو الاعمال الکاملہ کے عنوان سے جمع کیا اور ان پر تحقیقی کام کرکے ان کے سلسلے میں شکوک و شبہات کو دور کیا اور فکراسلامی میں ان کی خدمات کو واضح کیا۔

ڈاکٹر عمارہ نے تصنیف و تالیف کے علاوہ فکری موضوعات پر فرج فودہ اور نصرحامد ابو زید جیسے سیکولر دانش وروں سے مکالمے اور ڈبیٹس بھی کیے۔

ڈاکٹر عمارہ کے منہج میں وسطیت اور اعتدال کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ وہ فکر اسلامی میں أصالت (اسلام کے جوہر اور ثوابت سے وابستگی)اور معاصرت (عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگی)دونوں کو ضروری سمجھتے تھے۔ وہ امت کے مکاتب فکر میں تقلیدی سوچ کے مخالف بھی تھے اور افکار مغرب کی کاسہ لیسی کے خلاف بھی۔ وہ کہتے تھے کہ امت کے دانشورقطبیت (polarization)کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ صرف اسلامیات کے ماہر ہیں لیکن مغربی افکار کوسمجھنے اور ان کا جواب دینے پر قادر نہیں ہیں اورکچھ لوگ مغربی افکار سے واقف ہیں لیکن اسلام سے ناواقف۔ ڈاکٹر عمارہ نے اپنے علمی کام کے ذریعے اسی بات کی کوشش کی ہے کہ اسلام اور مغربی افکار دونوں کا مطالعہ کریں اور مغربی افکار کے مقابلے میں اسلام کی بالادستی کو واضح کریں۔

ڈاکٹر عمارہ نے اپنی کتاب’تحریر المرأۃ بین الاسلام و الغرب  ‘میں عورت کی آزادی کے سلسلے میں معتدل موقف اختیار کیا ہے۔ وہ مغربی سماج کے طرز پر عورت کی بلاحدود و ضوابط آزادی کے بھی خلاف تھے اور دینداری کے نام پر اسے مکمل طور پر محبوس کردینے کی خلاف بھی۔ ڈاکٹر عمارہ کہتے ہیں کہ سد ذرائع کے اصول میں غیر ضروری توسع حلال کو حرام کرنے کا موجب بنتا ہے۔ ان کے نزدیک بعض اوقات سماجی وسیاسی سرگرمیوں عورتوں کی شرکت سماج کی ضرورت ہوتی ہے اور اسلام کچھ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دیتا ہے۔

ڈاکٹر عمارہ نے عورت کی گواہی، میراث میں عورتوں کا حصہ، مرد کی قوامیت جیسے نازک مسائل پر بحث کرکے ان پر پیدا ہونے والے اشکالات کے تشفی بخش جوابات دیئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت کی گواہی ہمیشہ آدھی نہیں ہوتی۔ وہ شھادۃ(قاضی کی عدالت میں عورت کے گواہ بننے) اوراشھاد( لین دین کے معاملے میں عورت کو گواہ بنانے )میں فرق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ عورت کی گواہی سے متعلق سورۂ بقرہ کی آیت کا تعلق لین دین کے معاملے میں گواہ بنانے سے ہے۔ رہا عدالت میں گواہی کا معاملہ تو اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ بعض حالات میں عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، بعض حالات میں صرف عورت کی گواہی قبول کی جائے گی اور بعض حالات میں صرف مرد کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اسی طرح میراث کے معاملے میں وہ یہ کہتے ہیں کہ میراث کی تقسیم میں اصل معیار مرد و عورت ہونا نہیں بلکہ قرابت داری ہے۔ قرآن کی رو سے بعض حالات میں عورت کو مرد کے برابر حصہ ملتا ہے اوربعض حالات میں عورت کو مرد کا نصف حصہ ملتاہے۔

ڈاکٹر عمارہ نے اسلامی تحریکات کے مسائل، طریق کار اور مستقبل پربھی لکھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اسلامی تحریکات سیاسی سرگرمیوں میں زیادہ الجھ کر رہ گئی ہیں اور اصلاحی کام کو نظرانداز کردیا ہے۔ اسی طرح ان تحریکات نے سماجی انصاف کے مسئلے کو بھی نظرانداز کیاہے۔

ڈاکٹر عمارہ نے اپنی تحریروں میں اسلام میں فنون لطیفہ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام جمالیاتی قدروں کو پسند کرتا ہے اور فنون لطیفہ کا دشمن نہیں ہے۔ ان کے نزدیک آلات موسیقی اصلاًحرام نہیں بلکہ اس وقت حرام ہوجاتے ہیں جب وہ حرام کاموں کے ارتکاب کا وسیلہ بنیں۔

ڈاکٹر عمارہ اپنے پیچھے ایک بڑا علمی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی وفات سے علمی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی فکری خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔

اپریل 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau