مراسلات

وکیل انجم

اس سے قبل ’زندگی نو‘ میں ڈاکٹر عبد الحمید مخدومی گلبرگہ کا مضمون  ’’تحریکِ اسلامی اورفکر ی چیلنج‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے ، یہ تبصرہ انہوںنے محترم نائب امیر ِ جماعت اِسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی کے مضمون پر کیا ہے ، جس میں محترم نائب امیر ِ جماعت نے تحریکِ اسلامی کی ناکامی یا سُست رفتاری کا سبب علمی اورفکری سطح کی بنیادوں میں کمزوری کا واقع ہونا قرار دیا ہے اورجگہ جگہ فکری اور علمی کمزوری ہی کوذمہ دار قرار دیا ہے ۔ محترم نائب امیرِجماعت کے اس خیال کی تردیدکرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے یہ لکھا ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئےضرور ی شرط اہلِ تحریک کا اونچے کردار کا حامل ہونا ہے اوریہ بھی لکھا ہے کہ ہمارا کردار وہ ہونا چاہیے جوحضـورؐ اورصحابۂ کرامؓ کا تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کردار کی یہ بلندی ہم اپنے اندر کس طرح پیدا کریں ، کردار کی یہ بلندی کوئی بازاری چیز تو نہیں ہے کہ خرید کر بازار سے لائی جائے  اور اپنے اندر پیدا کر لی جائے۔ کردار کی یہ بلندی خدا کا تقویٰ اور آخرت کی جزا وسزا کے تصوّر ہی کےذریعے پیدا کی جا سکتی ہے ، مکّہ کے ابتدائی دور میں جب حضور ؐ نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیادیں یہی تھیں ،توحید ، رسالت، اور آخرت کفار مکہ کےسامنے جب یہ عقائد پیش کئے گئے تو انہوں نے اُس کا مذاق اڑایا ،مگر اسلام کی راہ پر لانے کیلئے یہ انتہائی ضروری تھا کہ ُان کے اندر اس تصوّر کو کامل یقین کے ساتھ بٹھایا جائے، اس لئے قرآن کے اندر ان عقائد کو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ اُن کے اندر اس تصوّر کے ذریعے بلند کردار پیدا ہوسکے۔ ڈاکٹر صاحب نے جس بلند کردار کا ذکر کیا ہے وہ کردار اُن عقائد کوتسلیم کئےبغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔

دینِ حق نے اخلاق کی پوری عمارت انہی بنیادوں پر قائم کی ہے کہ اُس اَن دیکھے خدا سے ڈر کر برائی سے اجنتاب کیا جائے جو ہر حال میں انسان کودیکھ رہا ہے جس کی گرفت سے انسان  بچ نہیں سکتا اورجس نے خیر وشر کا ایک ہمہ گیر ، عالمگیر اورمستقل معیار انسان کودیا ہے، اُسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اورنیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جودینِ حق کی نگاہ میں قابل قدر ہے ، اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگرانسان بدی نہیں کرتا اور نیکی کواختیار کرتا ہے تو آخرت میں اُس کے یہ اخلاق  وزن کے مستحق نہ ہوں گے۔

ڈاکٹر صاحب نے تحریکِ اسلامی کے بالمقابل جن تحریکوں کانام لیا ہے وہ خدا کے وجود کی منکر ہیں۔ انہیں ان عقائد سے کیا واسطہ کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اورانسان دنیا کے اندر رہ کر جواچھے اوربُرے عمل کررہا ہے اس کے بارے میں اسے جوابدہی کرنی ہوگی ، مرنے کے بعداسے دوبارہ زندہ کرکے خدا کے  سامنے حاضر کیا جائے گا ، ا ور اس خدا کے سامنے حاضر کیا جائے گا جوانسانوں کے ہر عمل اوراس کی نیتوں اور ارادوں سے واقف ہے حتیٰ کہ مرنے کے بعد انسان دنیا میں جواثرات بھی چھوڑ جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تبصرے میں یہ بھی لکھا ہے کہ کمیونسٹ تحریک کے نام سے ایک بسکٹ فیکٹری لگا کردی ، اس کے بعد دیگر وابستگان نے بھی دولت جمع کرنا شروع کردی ، چنانچہ۳۰؍ سال تک حکمراں رہنے والی پارٹی کوایک عورت نے شکست دیدی۔

کمیونسٹ پارٹی نے اخلاقی پستی کا مظاہرہ میرے اپنے شہر کا مٹی میںبھی کیا ،  مندھیوں کی دکانیں لوٹی گئیں بعض مسلمانوں کی دھاگوں او رسوتوں کی دکانیں بھی لوٹ لی گئیں۔ یہ ہے وہ ’’ اعلیٰ کردار ‘‘ جوکمیونسٹوں نےدکھایا ، رہے نکسلائٹس تو انہوں نے بندوق کی نُو ک پر اپنے نظریات کوپیش کرنے کی ٹھانی ہے ۔ جن کے حالات سے ہر کوئی واقف ہے — ڈاکٹر صاحب نے تیسری تحریک تبلیغی جماعت کا بھی ذکر کیا ہے، جہاں اخلاقی پستی کی مثالیں ناپید نہیں ہیں۔

تحریکِ اسلامی کے متعلق ڈاکٹر صاحب نے اخبارات ورسائل اور دفاتر کا  ذکر کیا ہے اوریہ کہا ہے کہ جماعت کے قائدین موٹروں اور ہوائی جہازوں میں دورے کرتےہیں اور کہا ہے کہ ایسی تحریک میں جمود وانحطاط نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا۔ حالانکہ جمود تو ذرائع وسائل کے استعمال نہ کرنے سے آتا ہے۔ خود حضورؐ نے اپنے دورِ رسالت میں اس وقت جوبھی ذرائع وسائل حاصل تھے ان کا بھر پور  استعمال کیا تھا ۔ تبلیغی جماعت بھی سارے ذرائع وسائل اختیار کرتی ہے،ایسا کبھی دیکھنے اورسننے میں نہیں آیا کہ یہ جماعت دہلی سے ناگپو ر یا ممبئی سے دہلی پیدل سفر کرتی ہویا بیرونی ممالک کا سفر ہوائی جہاز کے بغیر کرتی ہواور پھر یہ کس نے کہا ہے کہ موٹر کار ،ٹرین یا ہوائی جہاز سے  اہلِ حق سفر نہ کریں؟— اب اگر تحریکِ اسلامی کے لوگ ا ورقائدین ان سارے ذرائع وسائل کا استعمال کررہے ہوں توکیا حرج ہے۔ کہاگیا ہے کہ قائدین برسہا برس سے مناصب پر فائز ہیں اورمتحرک افراد کیلئے جگہ خالی نہیں کرتے‘‘ ۔ یہ بات ڈاکٹر صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ تحریک کے قائد ارکان جماعت کی رائے سے منتخب ہوتے ہیں ، یہ ممکن  ہے کہ وہ اپنی مخلصانہ خدمات کی وجہ سے دوبارہ سہ بارہ چن لئے گئے ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب نے تحریک اسلامی کے متعلق جوتاثرات پیش کئے ہیں ان کی اصل وجہ تحریک کے میدان عمل میں نہ آنے کا ایک بہانہ معلوم ہوتی ہے ۔

اکتوبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau