متبحر فقیہ اور بحری سالار

شیخ علی طنطاوی | ترجمہ : محی الدین غازی

یہ سنہ ۱۷۲ ہجری کی بات ہے، تیونس سے ایک تیس سالہ نوجوان علم کے سفر پر نکل رہا ہے۔ اس کا نام اسد بن فرات ہے۔ وہ اصل میں تو نیشا پور کا تھا لیکن اس کے باپ ایک جنگی مہم پر مغرب اقصی کی سمت آئے اور وہیں بس گئے۔  اس کی پرورش تیونس میں ہوئی، جب وہاں کے علما سے سیر ہوچکا تو اس کا شوق اور بڑھا اور اس نے طے کیا کہ مشرق کی درس گاہوں میں جاکر علم کی تکمیل کرے گا۔  وہ سب کا چہیتا اور ہر دل عزیز تھا۔شہر کے لوگوں نے آب دیدہ ہو کر دعاؤں کے ساتھ اسے الوداع کیا۔

وہ مختلف شہروں سے گزرتا صحراؤں کی خاک چھانتا، دریاؤں کو پار کرتا مدینہ منورہ پہنچ گیا۔

اس زمانے میں علم کے دو مرکز تھے،  یعنی دو بڑی جامعات۔ ایک روایت پسند جامعہ تھی جہاں نصوص کی روایت و فہم کا اہتمام تھا یہ مدینہ میں واقع تھی اور اس کے سب سے بڑے استاذ امام مالک تھے، دوسری جدت پسند جامعہ تھی جہاں عقل کی روشنی میں تحقیق ہوتی تھی اور قانونی گفتگو کا اہتمام زیادہ تھا، یہ عراق میں تھی اور اس کے سب سے بڑے استاذ امام ابوحنیفہ تھے۔

اسد بن فرات مدینہ کی جامعہ پہنچے، اس زمانے میں جامع مسجد یں ہی علم وتعلیم کی جامعہ ہوا کرتی تھیں، علم کے تمام حلقے وہاں آراستہ ہوتے ، اور علم کے دیوانے جمع ہوتے ۔ اسد بن فرات مسجد نبوی میں امام مالک کے حلقہ بگوش ہوگئے۔

امام مالک کا دلوں میں بڑا رعب اور وقار تھا، کوئی لب کشائی کی جرأت نہیں کرپاتا۔ ان کے تلامذہ کا طریقہ سن کر سیکھنے کا تھا۔ مباحثے کم ہوتے، مسائل اور صورتیں فرض نہیں کی جاتیں، جو معاملہ پیش نہ آیا ہو اسے فرض کرکے احکام متعین نہیں کیے جاتے۔ یہ عراق کے علما کا طریقہ تھا۔ یہاں صرف پیش آمدہ مسائل کے بارے میں سوال ہوتے۔ اسد بن فرات کو یہ طریقہ نہیں بھایا، وہ ہر مسئلے سے مسئلہ پیدا کرتے اور سوال پر سوال کرتے۔امام مالک کے تلامذہ نے ان کی جرأت دیکھی تو اپنے سوال بھی ان کے حوالے کرنے لگے کہ وہ پوچھ لیں، آخر کار امام مالک اکتاگئے اور انھوں نے کہا: اگر ایسا ہوا تو پھر ایسا ہوگا، ایک زنجیر سے دوسری زنجیر پیدا کرلی، اگر تمھیں اسی سب کا شوق ہے تو عراق کا رخ کرو۔

وہ امام مالک کے ساتھ دو سال رہے پھر دوسری جامعہ منتقل ہونے کی ٹھانی، امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوئے، شکریہ ادا کیا، الوداع کہا اور نصیحت چاہی۔

انھوں نے نصیحت کی: ’’میں تمھیں اللہ کے تقوی کی، قرآن کی اور لوگوں کے لیےخیرخواہی کی نصیحت کرتا ہوں۔‘‘ تین الفاظ نے تمام خوبیوں کو سمیٹ لیا۔

اللہ کا تقوی تمام معاملات کی کلید ہے۔ جس کے دل میں اللہ کا تقوی نہیں اس کے لیے نہ علم فائدے مند ہوگا نہ عمل کام آئے گا۔ کیوں کہ تقوی علم کی روح ہے، جو عالم ہو مگر تقوی سے عاری ہو اس کا علم بے روح جسم کی طرح ہے۔ مردہ لاش۔ خود اس کے لیے وبالِ جان۔ اور جس کے پاس عمل ہوگا اور تقوی نہیں ، اس کا عمل محض ریا ہوگا، اور ریاکاری اچھی چیز کو بھی خراب کردیتی ہے۔

اور قرآن تو دین کا ستون، علم کا سمندر اور ہر خیر کا راستہ ہے۔

رہی خیر خواہی تو وہ  تمام اخلاق حسنہ کا خلاصہ ہے۔ خیر خواہی قول کی سچائی اور معاملات کی راستی ہے،خیر خواہی یہ ہے کہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

اسد بن فرات عراق روانہ ہوگئے۔

وہاں امام ابو حنیفہ اللہ کو پیارے ہوچکے تھے، استاذ کا مقام ان کے دونوں شاگردوں ابو یوسف اور محمد کو حاصل تھا۔

ابویوسف قضا کے منصب پر فائز اور مشغول تھے۔ امام محمد تدریس وتحقیق کے لیے فارغ تھے، علماء کی سرداری اب انھیں حاصل تھی۔ امام احمد کے استاذ امام شافعی بھی ان کی شاگردوں میں تھے۔ مغربی افریقہ سے آئے ہوئے اسد بن فرات نے ان کا دامن تھام لیا۔ وہ ان کے عمومی دروس میں شریک ہوتے، بعد میں علم کی پیاس بڑھی تو اپنی خواہش استاذ کے سامنے رکھ دی۔ کہا مجھے خصوصی طور پر تعلیم دیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کا سارا علم اپنے دیس کو لے جاؤں۔

استاذ امام نہایت مصروف شخص تھے۔ ہزاروں شاگرد اور تحقیق و افتا کے لیے روزانہ دسیوں مسائل ۔ پھر ایک اجنبی اور نامعلوم شخص کی یہ خواہش۔

لیکن امام محمد جوہر شناس تھے۔ ان کے جذبہ صادق اور اعلی صلاحیت کو تاڑ لیا۔  انھیں اپنے گھر لے گئے، اپنے کمرے کے بغل والا کمرہ انھیں دیا۔ اب دونوں رات رات بھر جاگ کر علمی مذاکرہ کرتے۔ شاگرد کو نیند آنے لگتی تو استاذ منھ پر پانی کے چھینٹے مارتے اور نیند بھگادیتے۔

اسد بن فرات ایک عرصے تک امام محمد کے ساتھ رہے۔ ہمارے علم کی حد تک وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے مسلکوں کو اکٹھا کیا۔ مدینہ کی منقولات کی درس گاہ اور عراق کی معقولات کی درس گاہ دونوں سے فیض یافتہ ہوئے۔ وہ بیک وقت دونوں مسلکوں کے عالم تھے۔

پھر وہ مصر کے لیے روانہ ہوئے۔

اس وقت مصر میں امام مالک کے دو شاگرد وں کو مسندِ تدریس کی صدارت حاصل تھی۔ ایک اشہب اور دوسرے ابن القاسم۔ شافعی ابھی اتنے نمایاں نہیں تھے۔ یہ دونوں مجتہد تھے اور بعض مسائل میں اپنے امام سے اختلاف بھی کرتے تھے، لیکن اشہب کے یہاں مزاج کی تیزی اور زبان کی درازی تھی، جب کہ ابن القاسم کے یہاں نرمی اور بردباری تھی۔

اسد بن فرات اشہب کے حلقے میں شامل ہوئے، لیکن ایک دن ناخوش گوار واقعہ پیش آگیا۔ اشہب ابو حنیفہ اور مالک کو کسی مسئلے میں غلط قرار دے رہے تھے اور ان کے حق میں سخت الفاظ کا استعمال کررہے تھے۔ اسد بن فرات تو بے باک اور جری تھے، انھیں غصہ آگیا اور انھوں نے سب کے سامنے اشہب کو نہایت سخت بات کہہ دی۔

اگر اجازت ہو تو میں بیان کروں، کیوں کہ اس میں بہت سے لوگوں کے لیے عبرت کا پیغام ہے۔

انھوں نے کہا: کہاں آپ اور کہاں وہ دونوں!! یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی دو لبریز دریاؤں کے پاس جائے، ان دونوں کے درمیان پیشاب کردے اور اترا اترا کر کہے کہ یہ تیسرا دریا ہے۔ پھر وہ انھیں چھوڑ کر ابن القاسم کے حلقے سے وابستہ ہوگئے اور لمبی مدت تک ان کے ساتھ رہے۔ انھوں نے ابن القاسم سے جتنے مسائل سنے تھےسب جمع کیے، اور پھر ان کے ذہن میں تیونس، مدینہ اور عراق کے جتنے علوم پک رہے تھےان سب کو ملاکر ایک رسالہ تدوین کردیا جس کانام اسدیہ رکھا۔

پھر ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی۔ ہوا یہ کہ دوسرے طلبہ نے چاہا کہ اس مسودے کی نقل تیار کرلیں ، لیکن انھوں نے انکار کردیا اور کہا کہ یہ میں نے اپنے لیے تدوین کیا ہے۔ انھوں نے عدالت میں ان کے خلاف علم کی ذخیرہ اندوزی کامقدمہ دائر کردیا۔ اس انوکھے مقدمہ کو لے کر قاضی صاحب حیران ہوئے، بہرحال انھوں نے فیصلہ سنادیا کہ اس کتاب میں ابن القاسم کے مسائل جمع کیے گئے ہیں اور ابن القاسم با حیات ہیں، اس لیے مدعی حضرات ان سے جاکر سیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح مقدمہ خارج ہوگیا۔

تاہم قاضی صاحب نے فیصلہ سنانے کے بعد الگ سے اسد بن فرات سے درخواست کی کہ وہ کتاب کی نقلیں بنادینے دیں۔ وہ آمادہ ہوگئے۔ اس کی نقلیں تیار ہوئیں۔ اور پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ کتاب پوری مالکی فقہ کی اساس بن گئی۔

اب وہ لوٹ کر مراکش کے دار السلطنت قیروان  آئے۔ ہاں وہی عربی شہر جسے فاتح افریقہ عقبہ بن نافع نے بسایا تھا۔  یہ واپسی بیس سال کے بعد ہوئی تھی۔ اس طویل مدت میں صرف علم سے ان کی دوستی رہی اور صرف علما کی انھیں رفاقت ملی، علما بھی وہ جو اپنے اپنے وقت اور علاقے کے امام تھے۔ اس دوران انھوں نے علم کے حصول میں دن رات ایک کردیے۔ نہ ایک لمحہ آرام کے حوالے کیا نہ کھیل وتفریح میں جانے دیا۔

اب وہ پچاس سال کے ہوچلے تھے۔ یہاں سے انھوں نے علم کا قرض اتارنے کے لیے تدریس کا آغاز کیا۔ ان کا تدوین شدہ رسالہ ہر مالکی درس گاہ کی نصابی کتاب بن گیا، ان کے شاگردوں میں سحنون بھی شامل ہوئے، ان سے وہ مدونہ پڑھا۔ اس کے بعد سحنون نے مشرق کا سفر کیا اور خود ابن القاسم کی شاگردی اختیار کی۔ اس عرصے میں ابن القاسم کی رائے کچھ مسائل میں تبدیل ہوگئی تھی۔ انھوں نے اسد بن فرات کو خط لکھا کہ اپنے مسودے میں تبدیلی کرلیں۔ لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ اس کے بعد سحنون کا مدونہ مقبول ہونے لگا اور وہ مالکی مسلک کا مرجع بن گیا۔ تمام شروح وحواشی کی بنا اس پر رکھی گئی، اور وہ سحنون کے مدونہ کے نام سے مشہور ہوا، حالاں کہ اصل میں تو وہ اسد بن فرات کا تھا۔

بیس سال علم کی تدریس کے ساتھ گزارنےکے بعد منصب نے ان کے یہاں حاضری دی۔ ابو محرز اور وہ، دونوں کو قاضی بنایا گیا۔ دونوں بہترین قاضی تھے، البتہ ابو محرز کے یہاں نرمی تھی اور اسد بن فرات تو اسم بامسمی اسد یعنی شیر تھے۔ اس دوران ایسا ہوا کہ قیروان کے گورنر منصور طبری نے بغاوت کی اور قیروان پر قبضہ کرلیا۔ پھر ان دونوں قاضیوں کو طلب کیا کہ اس کے اقتدار کو تسلیم کرلیں۔ ابومحرز ڈر گئے لیکن اسد بن فرات نے بے لاگ لپیٹ جواب دیا اور بغاوت کو ناجائز قرار دیا۔

اب تک آپ نے اسد بن فرات کو طالب علم  کے روپ میں دیکھا، فقیہ کے روپ میں دیکھا، قاضی کے روپ میں دیکھا اور ہر روپ میں اسم بامسمی شیر صفت پایا۔ اب آپ بحری سپہ سالار کی حیثیت سے بھی اس شیر صفت کو دیکھیں۔

ہوا یہ کہ اس وقت مسلمانوں کی حکومت بحر متوسط کے کناروں پر تھی۔ جنوبی ساحل تو ان کے تسلط میں تھا اس کے علاوہ شمالی ساحل سے ان کا امن کا معاہدہ تھا۔ اس وقت صقلیہ (سسلی) سے مسلمانوں کا ایک سردار بھاگ کر مراکش کے حاکم امیر زیادۃ اللہ کے پاس آیا اور بتایا کہ صقلیہ کی حکومت نے عہد شکنی کی اور مسلمانوں کو قیدی بنالیا اور مسلم آبادی کے ساتھ ظلم و زیادتی کی۔

حاکم کو خبر کی تصدیق کرنے میں تردد تھا، اس نے بہتر سمجھا کہ شریعت کا فیصلہ معلوم کرے، کہ کیا یہ خبر اس کے لیے کافی ہے کہ معاہدے کو کالعدم سمجھا جائے اور جنگ کا اعلان کردیا جائے۔

اس نے دونوں قاضیوں کو طلب کیا اور فتوی مانگا۔ ابو محرز کے نزدیک یہ خبر کافی نہیں تھی، لیکن اسد بن فرات نے کہا: معاہدہ قاصدوں کے ذریعے انجام پایا تھا اور قاصدوں کی خبر اسے کالعدم ماننے کے لیے کافی ہے۔

اسد بن فرات کا فتوی سن کر بحری بیڑے کی تیاری شروع کردی گئی۔

قاضی اسد بن فرات نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں مجاہدین کے ساتھ بھیجا جائے، لیکن امیر  مراکش تیار نہیں تھے، وہ اتنے بڑے فقیہ کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن وہ اصرار پر اصرار کرتے رہے۔ انھوں نے کہا: تمھارے پاس کشتیوں کو تیرانے والے ملاح تو ہیں، لیکن تمھیں بہت زیادہ ضرورت اس کی بھی ہے جو انھیں کتاب وسنت کی روشنی میں چلانے کی ذمے داری لیں۔

جب امیر نے ان کا اصرار دیکھا تو مہم کی کمان انھیں سونپ دی۔ وہ تو ایک رضاکار سپاہی رہنا چاہتے تھے، سالاری نہیں چاہتے تھے، انھوں نے امیر سے کہا: کیا مجھے قضا سے معزول کرکے سپاہ کی ذمے داری دیں گے؟۔

امیر نے کہا: آپ کو قضا سے معزول نہیں کیا ہے ، آپ قاضی بھی ہیں اور سالار بھی۔

اس طرح وہ پہلے شخص تھے جو بیک وقت قاضی بھی تھے اور سالار بھی۔

بحری بیڑہ تیار ہوا۔ اس میں اٹھانوے جہاز تھے۔ دس ہزار پیادہ اور نو سو شہ سوار تھے۔

لوگ سوسہ کی بندرگاہ پر الوداع کہنے نکل آئے۔ مراکش کے لیے یہ بے نظیر دن تھا۔ امیر کی تقریر ہوئی ، خطیبوں نے داد خطابت دی، پھر اسد بن فرات کھڑے ہوئے۔

ان کی تقریر میں نہ فخر وغرور تھا اور نہ کڑک اور گرج، انھوں نے اس مجمع کو ایک معلم کی نگاہ سے دیکھا اور گویا مدرسے کے طلبہ سے خطاب کیا: ’’اللہ کی قسم میرے باپ دادا میں سے کسی کو کوئی منصب کبھی نہیں ملا۔ میرے اسلاف میں سے کسی نے کبھی یہ شان نہیں پائی۔ میں صرف اور صرف علم کے راستے یہاں تک پہنچا ہوں۔ سو علم حاصل کرو۔ اپنے ذہنوں کو اس کے لیے تھکاؤ، اپنے جسموں کو اس کی خاطر کھپاؤ، تمھیں دنیا اور آخرت میں اونچا رتبہ ملے گا۔‘‘

تم سوچتے ہوگے یہ شیخ اس عظیم بحری بیڑے کی قیادت کیا کرپائے ہوں گے؟ ان کے پاس نہ حرب کا علم تھا اور نہ بحر کا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنی بہادری اور شجاعت سے انھوں نے بے مثال کام یابی رقم کی۔

ہوا یہ کہ جنگ نے طول پکڑ لیا، اشیائے خورد و نوش کی کمی ہونے لگی، اور پھر فوج میں ابتری پھیلنی شروع ہوئی، کچھ سپاہیوں نے فتنہ انگیزی شروع کی اور مضبوط جتھا بنالیا۔ پھر انھوں نے سپہ سالار اسد بن فرات کو گھیر لیا۔ ان کا سردار اسد بن قادم آیا اور اس نے کہا کہ سپاہ واپس لوٹنا چاہتی ہے۔ اس کے الفاظ سےاطاعت عیاں تھی لیکن اندر بغاوت پوشیدہ تھی۔

اسد بن فرات نے پہلے تو حکمت سے معاملہ کو رفع کرنے کی کوشش کی، انھیں سمجھایا کہ فتح قریب ہے، اللہ کے یہاں اجر عظیم بھی منتظر ہے۔ لیکن ان کی سرکشی بڑھتی گئی۔ دونوں اسد آمنے سامنے ہوئے، باغی اسد نے دھمکی دیتے ہوئےکہا: دیکھو اس سے کم پر خلیفہ عثمان بن عفان قتل کردیے گئے تھے۔

یہ تو کھلی ہوئی بغاوت تھی، اب وہ کیا کرتے؟ کیا اس بغاوت کی وجہ سے فتح سے ہاتھ دھو بیٹھتے، یا اس سے سختی سے نپٹتے، اور وہ بھی کس طرح؟

انھوں نے یکایک ایک فیصلہ لیا۔ ایک سپاہی کے ہاتھ سے کوڑا لیا، اور اس باغی کے منھ پر کوڑے کی بارش کردی، پھر فوج کو للکارا: آگے بڑھو۔ اور خود سب سے آگے نکل گئے۔  پھر یہ ہوا کہ فتح وکامرانی نے آگے بڑھ کر قدم چومے، اور صقلیہ میں اسلامی سلطنت قائم ہوئی جو صدیوں تک برقرار رہی۔ لیکن اس فتح کی قیمت بھاری تھی۔ اس میں سالار، ہیرو، فقیہ، قاضی علامہ اسد بن فرات کام آگئے۔ انھوں نے جام شہادت نوش فرمالیا۔ وہ زمین پر تو گرپڑے، لیکن اس حال میں کہ ان کے ہاتھ میں فتح کا پرچم تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا منظر تھا۔ مشہور شاعر ابوتمام نے ان کی یاد میں بےمثال مرثیہ کہا۔

 

نومبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau