اسلامی معاشیات کا مقصد اور اس کے حدود اربعہ

ڈاکٹر وقار انور

انگریزی زبان کے لفظ ورک (work)کا سادہ اردو ترجمہ ،کام، ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے الفاظ سعی،محنت، کوشش، جہد اور فعل بھی ہو سکتے ہیں۔ البتہ اس کے مقصد کی تلاش کے حوالے سے لفظ،عمل، زیادہ مناسب ہے۔ اس سوال کے جواب کا تعین کرنے سے قبل کہ عمل کیوں کیا جاتا ہے اس بات کا فہم مناسب ہو گا کہ ورک (عمل) ہوتا کیا ہے؟ اسے درج ذیل طریقہ سے بیان کیا جا سکتا ہے:

”کسی مقصد کےحصول میں قصداً کی جانے والی ذہنی، جسمانی یا دونوں نوعیت کی کوششیں۔”

وہ مقصد انسان اور بنی نوع انسان کے لیے نافع بھی ہو سکتا ہے اور غیر نافع بھی۔ البتہ اس مقام پر ہم اپنی گفتگو کو صرف نافع عمل تک مرکوز رکھیں گےجو اپنی افادیت کے باعث مطلوب ہے۔ ورک (عمل) کی اس تعریف کے ساتھ ہی اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اس کے بعد ہم اس سوال پرمتوجہ ہوں گے کہ معاشی عمل کیا ہے اور کیا چیز اس عمل کو مروجہ معاشی عمل سے ممیز کر کے اسلامی معاشی عمل بناتی ہے؟

مقاصد عمل (objects of work):  مقاصد عمل کو تین اقسام اور مدارج میں بیان کیا جا تا ہے۔[1]

پہلا مقصد : مفید اور ضروری اشیاءاور خدمات فراہم کرنا (to provide useful and necessary goods and services)

دوسرا مقصد: ہر شخص کا اچھے اہتمام کے ذریعے اپنی حصولیابی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاون ہونا(to enable everyone to use and thereby perfect their respective gifts by good steward)

تیسرا مقصد: خدمت اور تعاون باہمی کے ذریعے انا پرستی سے نجات پانا۔ (to serve and cooperate with others for liberation from egocentricity)

انسان کے لیے عمل کا بنیادی سبب اور محرک اپنی حیات کے لیے درکار اشیا اور خدمات ہیں جن کے بغیر روئے زمین پر اس کا وجود ممکن نہیں ہے۔ دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں ضروری اشیا اور خدمات کی فراہمی کے لیے اسے زیادہ تگ و دو کرنی ہوتی ہے کیوں کہ یہ چیزیں عموماً از خود موجود نہیں ہوتی ہیں۔ اور جو چیزیں موجود ہوتی بھی ہیں توان میں سے زیادہ تر اپنی اصلی حالت (raw state)میں قابل استعمال نہیں ہوتی ہیں۔ انھیں قابل استعمال اور مفید بنانے کے لیے تیاری کے ادوار سے گزارنا ہوتا ہے۔ اسے اگر معاشیات کے حوالے سے بیان کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ پیداوار، تبادلہ اور تقسیم (production، exchange and distribution)کے مراحل درپیش ہوتے ہیں۔یہی معاملہ خدمات کا بھی ہے۔ مثلاً اگر انسانی سماج کو علاج کے لیے معالج کی ضرورت ہے تو اس خدمت کے انجام دینے والے بھی تعلیم و تجربہ کے قابل لحاظ عرصہ سے گزر کر اس خدمت کو فراہم کرنے کے لیے موجود ہوپاتے ہیں۔

انسان صرف ایک حیوانی وجود نہیں ہے کہ صرف حیات کے بنیادی عناصر کی فراہمی اس کے لیے کافی ہو۔ محض حیوانی وجود سے بالاتر اس کے ذہنی، نفسیاتی، اخلاقی، روحانی اور وجود کے دیگر عناصر کے تقاضے بھی ہیں، جن میں تمام انسان یکساں نہیں ہیں۔ یہ تقاضے تکمیل کا مطالبہ کرتے ہیں جو تدریجاً جاری رہتا ہے اور ایک صحتمند انسانی سماج میں ان مختلف النوع تقاضوں کی تکمیل کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ یہ عمل فرداً فرداً ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے با ضابطہ تعاون باہمی کی حاجت ہوتی ہے۔ ورک (عمل) کا دوسرا مقصد اسی سلسلہ کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کے لیے اپنی انفرادی غرض اور ذاتی مفادسے اوپر اٹھ کر دوسروں کے کام آنا ہوتا ہے۔ مثلاً ایک کنبہ کے افراد ایک دوسرے کے لیے جو خدمات کرتے ہیں اس کو اسی مقصد کے تحت بیان کیا جا سکتا ہے۔ عمل کے اس مقصد کو ایثار (altruism)سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

انسانی افراد اور ان کے گروہ مثلاً خاندان، قبیلے اور ممالک پر مشتمل افراد کی،جو خود کسی یکساں مفاد کے سبب ایک اکائی بن جاتے ہیں، کسی حیثیت سے تکمیلی عمل سے گزرنے کا ایک خطرہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں انانیت اور خود پسندی پیدا ہو جائے جو دیگر افراد اور گروہوں کے لیے مضر ہو جائے۔ اس کی اصلاح اور اس پر کنٹرول رکھنے والی کاوشوں کو ورک (عمل) کا تیسرا مقصد کہہ سکتے ہیں۔

اسلامی تصورات کو سامنے رکھ کر گفتگو کی جائے تو ہم نافع عمل کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جو معاش کی ضرورت ہے اور دوسری وہ جو معاد کا لازمہ ہے۔ معاش سے مراد زمین پر انسانی حیات کے تقاضے ہیں اور معاد اخروی فلاح پر مشتمل ہے۔ ابن قیمؒ نے اسلامی شریعت کے مصالح اور حکمت کے سلسلے میں اپنے استاد ابن تیمیہؒ کی رائے پر زور دیتے ہوئے درج ذیل لفظوں میں اعمال کی اس تفریق کا ذکر کیا ہے۔

”شریعت کی بنیاد حکمتوں پر ہے۔ معاش اور معاد کے تئیں بندوں کے مصالح پر۔ شریعت تمام تر عدل، رحمت، مصالح اور حکمت سے عبارت ہے۔”[2]

(ابن قیم : اعلام الموقعین، جلد 3، صفحہ 4)

معاد سے متعلق امور کے بارے میں اسلامی رویہ معاش سے متعلق رویہ سے متغائر نہیں ہے بلکہ زیادہ تر امور اول الذکر میں ہی پوشیدہ ہیں۔ آخرت کا سفر بہرحال دنیا سے ہو کر گزرتا ہے اور اس غرض سے کیے جانے والے اکثر اعمال روز مرہ کے دنیاوی (mundane) امور سے متعلق ہوتےہیں۔ نافع عمل کی ایک دوسری طرح کی تقسیم بھی کی جا سکتی ہے: معروف ( جس کی ضدمنکرہے) اور عمل صالح۔ معروفات کے لیے کسی عقیدہ کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ انسانی فطرت کا جزو ہیں۔ اسی وجہ سے معروف کی تلقین اور منکر سے روکنے کا معاملہ ان کے ساتھ بھی ہو گا جو اسلام پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس صالح اعمال خالص ایمان کے تقاضے کے طور پر کیے یا نہیں کیے جانے والے کام ہیں، یعنی جس حکم کا تعلق اسلامی عقیدہ پر ایمان لانے والوں کے لیے خاص ہے۔ مثلاً کار خیر میں خرچ کرنا معروف کا تقاضا ہے لیکن زکوٰة یعنی خاص ہیئت میں، متعین طریقہ سے اور مخصوص مدت کے اختتام پر حساب کر کے مخصوص مدوں میں خرچ کرنے کا تقاضا ایمان کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ اول الذکر معروف کے تحت اور آخرالذکر عمل صالح درج ہوتاہے۔

مروجہ معاشیات، اسلامی معاشیات اور مقاصد عمل

علم معاشیات اصلاً ورک (عمل) کے پہلے مقصد یعنی مفید اور ضروری اشیاءاور خدمات فراہم کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کے لیے مفید اور ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے جن وسائل کی حاجت ہے، وہ قلیل ہیں جن کی ضرورت ایک سے زائد امور کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے سبب ایک باضابطہ علم کی حاجت ہے تاکہ قلیل اشیا کا بہترین (optimum)استعمال ہو سکے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس علم کی یہ جدید تعریف لندن یونیورسٹی کے استاد رابنس(Robbins)نے 1932ء میں کی تھی۔ رابنس نے مزید یہ رائے دی تھی کہ معاشیات کے ماہر کی دل چسپی کا موضوع اور اختصاص کسی مقصد(ends)کے لیے وسائل کا صحیح استعمال ہے۔ مقاصد (ends)کے درمیان انتخاب اس علم کے تحت نہیں آتا ہے۔چوں کہ مقاصد کے درمیان انتخاب اخلاقیات کی جمالیات (ethics of aesthetics) کی دل چسپی کا موضوع ہے اس لیے علم معاشیات کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔[3] اسی بات کو کیمبرج یونیورسیٹی کے استاد آرتھر سیسل پیگو (Arthur Cecil Pigou: 1877-1959)نے دوسرے الفاظ میں بیان کیا تھا۔[4]

“Economics is a positive science of what is and tends to be not a normative science of what ought to be.” [stress added]

”معاشیات دراصل معاشیات کیا ہے سے متعلق ایک مثبت سائنس ہے، اس کا رجحان کیا ہونا چاہیے سے متعلق اصولی سائنس سے نہیں ہے۔”

حالاں کہ درج بالا رویہ اس علم کے دائرہ کار کو محدود کر دیتا ہے کیوں کہ، کیا ہے، سے،کیا ہو گا،کے سوالوں کے جواب میں، کیا ہونا چاہیے، کے جواب سے مفر آسان نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ بات کہ معاشیات کا مذہب اور اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے،بہت سے ماہرین کہہ چکے ہیں۔ تقریبًا یہ ایک مسلمہ اصول بن چکا ہے کہ اس علم کا مذہب اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ واضح رہے کہ اس طرح حقیقتاً مذہب اور اخلاقیات کی نفی نہیں کی جاتی ہے بلکہ اس خیال کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک دوسرے سے لا تعلق ہے۔ اخلاقیات اور اقدار کے سلسلے میں معاشیات کی غیر جانب داری (morality and value neutrality in economics)کے عنوان سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ البتہ حالیہ دنوں میں کچھ ماہرین اس رائے کے برعکس یا اس خیال کی شدت کو کم کرنے والی باتیں بھی کرنے لگےہیں۔

مقاصد عمل کے درج بالا مشمولات کے پیش نظر یہ بات کہی جاتی ہے کہ اقدار سے غیر جانب داری (value neutrality)کے رویہ کی حد تک علم کی اس شاخ کو رکھا جائے تو اس کے مفہوم سےصرف مذکورہ بالاپہلے مقصد تکمیل ہو گی۔ اور اگر بعد کے مصنفین کی رائے سے اتفاق کیا جائے تو دوسرے اور تیسرے مقاصد کی معنویت تک رسائی ہوگی۔

اسلامی معاشیات بہرحال اس پہلے مقصد تک محدود نہیں رہ سکتی ہےاور اس میں تینوں مذکورہ مقاصد عمل کا احاطہ کیا جائے گا۔ایثار بھی ہو گا اور انانیت اور خود پسندی پر روک لگا کر افراد اور اقوام کے حرص اور مظالم سے بچانے کی تدابیربھی کی جائیں گی۔ اس لیے وسائل کے موزوں استعمال سے برآمد ہونے والے نتائج کا خواہ وہ اقدار، اخلاقیات یا مذاہب کے دائرے میں آتے ہوں یا نہیں، لحاظ کیا جائے گا۔ ”علم معاشیات اقدار کے سلسلے میں غیر جانب دار ہے”کے نام پر انسانیت کی فلاح سے متعلق امور سے گریز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بنی نوع انسان کے لیے مفید اقدامات میں انسانی عقل و تجربات کی دریافت پر مشتمل پالیسی اور طریقہ کار وضع ہوتے رہتے ہیں۔ یہ انسانیت کے مشترک اثاثے ہیں جن سے مستفید ہونے میں، کوئی وجہ نہیں ہے کہ، اسلامی معاشیات پیچھے رہے۔ اسلامی معاشیات کے لیے ماضی کے ان تجربات و دریافتوں کی، جن کا سر رشتہ وحی الٰہی سے نہیں ہو،حیثیت صرف نئے طریقہ کار وضع کرنے میں حوالہ کی ہے۔ ان کی حتمی حیثیت نہیں ہے۔ ماضی میں دی گئی رائیں اور کی گئی کاوشیں اس وقت تک کی عقل و تجربات کا نتیجہ تھیں جن کو زیر مطالعہ رکھنا چاہیے۔ اس سے زیادہ ان کو اہمیت دینا نامناسب ہے۔ البتہ وحی الٰہی کی بنیاد پر جو علمی اثاثہ ہے جسے قران کریم اور نبی کریمﷺ کی سنت کی شکل میں محفوظ کر لیا گیا ہے اور جس سے استفادہ کر کے جو دریافتیں ہوئی ہیں، ان کی حیثیت ہر دور کے لیے بنیادی ماخذ کی ہو گی۔ قران کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ سے استنباط کے سلسلے میں انسان کی جو عقلی کاوشیں ہیں ان کے قابل قدر ہونے کے اعتراف کے باوجود ماہرین کے فہم کے نتیجہ میں جو آراء کا فرق ہے اور ان پر اس وقت کے مخصوص حالات کا جواثر ہے، اس کا لحاظ کرنا ضروری ہوگا۔

اسلامی معاشیات کے سلسلے میں ایک سنجیدہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی افادیت صرف اسلام پر ایمان لانے والوں کے لیے ہے تو اس سلسلے میں شریعت کا علم جو اب تک ہم تک پہنچا ہے اس کے تمام مقتضیات کے حوالے سے احکام مرتب کرنے کی حاجت ہے۔ بصورت دیگر اگر اسے تمام انسانوں کے لیے مفید بنانا ہے تو توجہ ان امورپر مرکوز رکھنی چاہیے جنھیں معروفات و منکرات کے تحت بیان کیا جاسکتاہے۔ یعنی وہ احکامات جو عمل صالح کے تحت ایمان کے بعد لازم ہوتے ہیں پر علمی گفتگو تو کی جا سکتی ہے لیکن عملی صورت گری میں ان پر زور نہیں دیا جا سکتا ہے۔ احکام میں یہ تمیز ضروری ہے ورنہ اس موضوع پر ساری علمی کاوشوں کی کوئی عملی معنویت نہیں رہ جاتی ہے۔ اس تصور کے پیش نظر انسانی معاشیات کے لیے ایک نئی تعریف کے پیش نظر راقم الحروف نے اس موضوع کی ایک تعریف کی تجویز دی تھی، جو درج ذیل ہے: [5]

A systematic effort to try to understand the economic problem and man’s behaviour in relation to that problem from Islamic perspective of prohibitions.

”اسلامی محرمات کے تناظر میں معاشی مسئلہ اور اس سے متعلق انسانی رویہ کا مربوط مطالعہ”

اسلامی معاشیات کا اصل چیلنج یہی ہے کہ اس سلسلے میں ربا اور میسر جیسے قران کریم کے واضح منہیات اور ان کے تعلق سے سنت ثابتہ میں جو وضاحتیں درج ہیں ان کو معروف و منکر کی حیثیت میں ہونا ثابت کیا جائے۔ یعنی اس بات کو علمی و مشاہداتی [empirical] طریقے سے مدلل کیا جائے کہ یہ چیزیں انسانی معیشت کے لیے مہلک ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سود اور قمار کی شناعت کے لیے قران و سنت کے حوالے کی ضرورت نہ رہے بلکہ یہ انسانوں کی فطرت کی آواز قرار پائے۔

یہاں پر یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اعمال کی یہ تقسیم دو زمروں میں نہیں ہے بلکہ دو درجات میں ہے۔ معروف و منکر سے متعلق رویہ بھی عمل صالح ہے جب کہ ہر عمل صالح معروف و منکر سے متعلق نہیں ہے۔ سید ابولاعلی مودودیؒ نے اخلاقیات کے ذکر میں اسے بنیادی انسانی اخلاقیات اور اسلامی اخلاقیات سے موسوم کیا ہے۔ بنیادی اخلاقیات کے بارے میں لکھتے ہیں:

”بنیادی انسانی اخلاقیات سے مراد وہ اوصاف ہیں جن پر انسان کےاخلاقی وجود کی اساس قائم ہے۔ ان میں وہ تمام صفات شامل ہیں جو دنیا میں انسان کی کام یابی کے لیے بہرحال لازم ہیں، خواہ۔۔۔۔آدمی خدا اور رسول اور آخرت کو مانتا ہے یا نہیں” [6]

اسلامی اخلاقیات کے بارے میں لکھتے ہیں:

”یہ بنیادی انسانی اخلاقیات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی تصحیح اور تکمیل ہے۔” [7]

حقیقتاً یہ محرمات انسانی فطرت میں ودیعت رہی ہیں۔ انسانوں نے ہمیشہ سود اور قمار کو ناپسند کیا ہے۔ لیکن پچھلی تین صدیوں کے سرمایہ دارانہ استعمار کے زیر اثر شر کی یہ صورتیں خیر سمجھی جانے لگیں۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ معیشت کی گاڑی ان کے بغیر چل نہیں سکتی ہے۔اس طرح حسن قبح بن گیا اور قبح نے حسن کی صورت اختیار کر لی۔اب دنیا کی تقریباً تمام معیشتیں ان باطل طریقوں کے سبب تباہی کے دہانے کی طرف رواں دواں ہیں۔ ان حقائق کی تائید میں علمی اور مشاہداتی ثبوت فراہم کرنا محال نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سمت میں زیادہ سے زیادہ تحقیقات کی جائیں اور متبادل معیشت جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہو پیش کی جائے اور اس کی عمل آوری کی طرف پیش قدمی ہو۔

متبادل اسلامی معیشت کی سمت علمی کام اور عملی صورت گری کی سمت میں مسلم ماہرین معاشیات پچھلی صدی کے وسط میں متوجہ ہوئے تھے۔ لیکن افسوس ہے کہ اسلامی تمویل کے نام پر ایک دوسری نوعیت کا کام شروع ہوا جس نے آنکھیں خیرہ کر دیں اور توجہ اسلامی معاشیات کی طرف برائے نام رہ گئی۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی کے مطابق:

”معاصر اسلامک فائنانس نے گذشتہ صدی کی ستر کی دہائی کے اواخر سے اس صدی کی پہلی دہائی تک، مرابحہ سے تورق تک جو سفر طے کیا ہے—اس سفر کے مختلف مراحل سے متعلق الگ الگ کافی لٹریچر موجود ہے۔” [8]

‘مرابحہ سے تورق تک کا یہ سفر’ایک دوسری نوعیت کا رہا ہے جس کا اسلامی معاشیات سے رشتہ بہت کم زور ہے بلکہ اکثر امور میں دونوں ایک دوسرے کی مخالف سمت میں گئے ہیں۔ بلاشبہہ اسلامی مالیاتی اداروں کے روز مرہ کے مسائل سے متعلق شریعہ محققین نے بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔لیکن اس معاملہ میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی درج ذیل رائے بھی قابل لحاظ ہے :

”گذشتہ تیس برسوں میں جزئی نظراور روز مرہ کے مسائل پر مرکوز فتاویٰ نے آج اسلامک بینکنگ اور فنانس کو ایسی شکل دے دی ہے جو مآل کار اور اپنے عواقب کے اعتبار سے ہمیں وہیں پہنچا رہی ہے جہاں سودی قرضوں پر مبنی بینکنگ اور فناننس نے پوری انسانیت کو پہنچا رکھا ہے۔”[9]

اس وقت ہم اسلام کے نام پر ہونے والی تمویل کا جائزہ نہیں لے رہے ہیں۔ نجات اللہ صدیقی کی درج بالا رائے کافی ہے۔ موصوف نے مقاصد شریعت کے موضوع پر اپنی کتاب کے چھٹے باب میں اس موضوع پر جو معلومات فراہم کی ہیں وہ چشم کشا ہیں۔ البتہ معاشیات اور تمویل کے رشتہ کی تھوڑی سی وضاحت مفید ہوگی۔

فنانس (مالیات) اور معاشیات کے رشتہ کے حدود

معاشیات اشیا اور خدمات کے پیداواری عمل اور جو چیز پیداوار کو اس کے استعمال کرنے والوں تک پہنچا دینے سے متعلق علم ہے۔

”پیداواری عمل میں لگے ہوئے عواملِ پیداوار کو معاوضے دینے پڑتے ہیں اور خام مواد کی قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔ فنانس(مالیات) پیداواری عمل کی تنظیم کے عمل میں رقم لگانے کا نام ہے۔ اس کا اطلاق خود اس رقم پر بھی ہوتا ہے جو کاروبار کرنے والے نے ان مصارف کے لیے حاصل کی ہو۔”[10]

درج بالا تعریف کی روشنی میں جو مال لگانے (تمویل) کا کام پیداواری عمل کے علاوہ دوسرے کسی کام میں کیا جائے اس پر تمویل کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ یعنی پیداواری عمل کے علاوہ جو مال استعمال کیا جاتا ہے اسے زیادہ سے زیادہ غیر معاشی تمویل کہہ سکتے ہیں۔ جیسے کسی اثاثہ کو جیسے زمین، سونا، یا شیئر اس ارادے سے خریدنا کہ قیمت بڑھ جانے پر اسے فروخت کر کے منافع حاصل کیا جائے غیرمعاشی تمویل ہے کیوں کہ اس میں پیداواری عمل نہیں ہے۔ مثلاً شیئر کی مثال پر غور کریں۔ پیداواری عمل شروع کرتے وقت تمویل کی جو حاجت ہو اس کے لیے بازار میں شیئر فروخت کیا جاتا ہے اور اس یافت سے کمپنی اپنا کام کرتی ہے۔ یہ باضابطہ معاشی نوعیت کی تمویل ہے۔ اس کے بعد بازار میں اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے اس شیئر کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ اس طرح خرید و فروخت کرنے والوں کو جو منافع یا نقصان ہوتا ہے اس کا کمپنی کے پیداواری عمل پر کوئی اثر نہیں پڑھتا ہے۔ ہم اسے غیر پیداواری تمویل کہہ سکتے ہیں۔

تمویل کی پیداواری اور غیر پیداواری تقسیم سے یہ مراد نہیں ہے کہ آخرالذکر غلط، غیر اسلامی یا نامطلوب ہے۔ گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ انسانوں کے لیے مقصد اول کے حوالے سے اشیا اور خدمات کی فراہمی کا اہم کام یعنی معاشی عمل اور اس طرز کی تمویل میں جو فرق ہے وہ واضح رہے۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے، بلکہ حقیقی روپ میں پایا بھی جاتا ہے، کہ وسائل ضروری پیداواری عمل کے لیے استعمال نہیں ہوتے ہیں اور غیر پیداواری عمل کے ذریعے بازار میں سرمایہ کی بہتات ہو جاتی ہے جس کے سبب افراط زر (مہنگائی) سے انسانوں کا واسطہ پڑتا ہے۔

مروجہ اسلامک بینکنگ، فنانس یا تمویل کے نام پر کاروبار کے بڑے حصہ کا رشتہ اسلامی معاشیات سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ یہ دونوں دو الگ الگ موضوع ہیں اور دونوں کے تقاضے اور مقاصد اکثر امور میں جدا ہیں اور کبھی کبھی ایک دوسرے سے متصادم بھی ہیں۔

حواشی و حوالہ جات

  1. El-Ansary¡ Dr. Waleed (2022); “What is Real Islamic Economics?” ; IIIT- Al Faruqi Memorial Lecture

https: //www.youtube.com/watch?v=3444HKSPhHk

  1. نجات اللہ صدیقی(2017)؛مقاصد شریعت: نظر ثانی شدہ ایڈیشن،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزدہلی؛ (صفحہ 35)
  2. Mitra¡ Jitendra Kumar (2010)¡ Economics¡ Micro and Macro¡ World Press¡ Kolkata¡ P8
  3. ibid¡p4
  4. انور، ڈاکٹروقار؛ ماہنامہ زندگی نو، دہلی؛دسمبر 2022؛ (صفحہ 70)5
  5. مودودی، سید ابولاعلی؛ تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں؛ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دہلی؛( صفحہ 12)
  6. ایضاً صفحہ 15
  7. صدیقی، ڈاکٹر محمد نجات اللہ(2017)؛ مقاصد شریعت، نظر ثانی شدہ اڈیشن؛ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی ؛ (صفحہ 198)
  8. ایضاً صفحہ 97۔196
  9. ایضاً صفحہ 74۔173

مارچ 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau