نقد وتبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

ادبیاتِ محمود ﴿اوّل﴾

مصنف:    ڈاکٹر محمودحسن الٰہ آبادی

صفحات:    ۰۶۲        ٭قیمت:  -/200 روپے

ناشر:        ادارہ ٔ ادب اسلامی ہند، حامد بلڈنگ، ۶۹، حافظ علی بہادر مارگ، ممبئی-۱۱۰۰۰۴

ڈاکٹر محمود حسن الٰہ آبادی ہندستان کے تحریکی حلقے کے لیے غیرمعروف و گم نام نہیں ہیں۔ وہ جماعت اسلامی ہندکے بزرگ خادم اور اس کی ادبی و مذہبی فکر کے ترجمان ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک طبیب ہیں، لیکن علم و تحقیق سے انھیں گہرا شغف ہے۔ وہ گزشتہ کئی برس سے علمی، ادبی اور تحریکی موضوعات پر ہندستان کے موقرجرائد میں مسلسل لکھ رہے ہیں۔ چوںکہ وہ دینی وعصری دونوں علوم سے باخبر ہیں اور دونوں ہی شعبوں میں انھیںاعلیٰ اسناد حاصل ہیں، اس لیے جدید وقدیم علوم وادبیات پر ان کی گہری نگاہ ہے۔ وہ جب اور جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں علم وتحقیق کے تمام اصولوں کو سامنے رکھ لکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے مضامین و مقالات کو سنجیدہ اہل علم طبقے میں بڑی توجہ اور دل چسپی کے ساتھ پڑھاجاتاہے۔

’’ادبیات محمود‘’ ڈاکٹر محمودحسن کے ان مقالات اور چھوٹے بڑے مضامین کا مجموعہ ہے، جو وہ ملک میں منعقد ہونے والے مختلف علمی وادبی مذاکروں کے لیے یا بعض رسائل وجرائد کی فرمایش پر لکھتے رہے ہیں اور جب انھوںنے ان کو اُن مذاکروں میں پڑھا یا رسائل و جرائد میں وہ شائع ہوئے تو اہل علم طبقے کی طرف سے انھیں خاصی پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اِن میں چار مضامین راقم السطور ﴿تابش مہدی﴾ کی کتابوں:

اردو تنقید کا سفر

شفیق جون پوری- ایک مطالعہ

رباب رشیدی: ایک سخن ور پیارا سا

ابوالمجاہد زاہد: فکر اور فن

سے متعلق ہیں۔ اِن میں انھوںنے اِن چاروں کتابوں کی اہمیت پر بھی گفتگو کی ہے اور ان گوشوں کو بھی اجاگر کیاہے، جو ان کی تصنیف کاباعث ہوئے ہیں۔ اس ذیل میں ان کی بعض باتوں سے اختلاف بھی کیاجاسکتا ہے اور اس کی پوری گنجایش بھی ہے، لیکن ان کا خلوص اور تحقیقی کاوش و عرق ریزی بہ ہرحال قابلِ تحسین ہے۔

’’ادب- غیرادب‘’ اور ’’اردو ادب پر مغربی فکر کے اثرات‘’ کتاب کے ایسے مضامین ہیں،جن سے قاری کی علمی وادبی بصیرت میں اضافہ ہوتاہے۔

’’اِدراک ِ زوال امت‘’ کتاب کاایک نہایت اہم مضمون ہے۔ یہ دراصل تبصرہ ہے اس کتاب پر جو پوری کی پوری انکارِ سنت اور فکری گم راہی کے نتیجے میں کبھی وجود میں آئی تھی۔ ڈاکٹر محمودحسن نے اس پر بڑی عالمانہ گفتگو کی ہے اور ان چور دروازوں کی بھی نشان دہی کی ہے، جہاں سے اس قسم کے افکار و نظریات سیدھے سادے مسلمانوں کے ذہنوں میں داخل ہوتے ہیں۔

’’ادبیات محمود‘’ میں ایک تبصراتی قسم کا مضمون مشہور اسلامی اسکالر اور جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر محترم ڈاکٹر محمد عبدلحق انصاری کی کتاب ’’مقصد زندگی کا اسلامی تصور‘’ سے متعلق بھی ہے۔ مصنف نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ مقصد زندگی کا اسلامی تصورمطالعہ کیاہے اور موجودہ عہد میں اس کی اہمیت و معنویت کو واضح کیاہے۔ البتہ ان کی اس راے سے کامل اتفاق نہیں کیاجاسکتاکہ ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری کی یہ کتاب صرف اہل علم کے لیے ہے۔ دوسرے لوگوں کو اس سے فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ کتاب دونوں طبقوں کے لیے ہے اور دونوں کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ فرق صرف کم و بیش کاہوسکتا ہے۔

تبصرہ نگارکی راے میں ’’ادبیات محمود‘’ ایک قیمتی اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند کی مہاراشٹر شاخ نے اِسے شائع کرکے علمی و ادبی سرمایے میں اضافہ کیاہے۔‘‘

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau