نقد و تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

اسلامی تربیت

مصنف:                    مولانا ابوسلیم محمد عبدالحی ّ ؒ

صفحات:                    216        ٭قیمت 100/- روپے

ناشر:                        مکتبہ الحسنات 3004/2، سرسید احمد روڈ، دریا گنج،نئی دہلی۔۱۱۰۰۰۲

مولانا ابوسلیم محمد عبدالحی ّ رحمتہ اللہ علیہ تحریک اسلامی کے اہم، فعال اور مثالی ارکان میں تھے۔ وہ متعدد بار جماعت اسلامی ہند کی مجلس نمایندگان ومجلس شوریٰ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تبلیغ وترسیل اور افہام وتفہیم کی بے پناہ صلاحیتوں سے سرفراز کیا تھا۔ سہل وسلیس اور عام فہم انداز میں اپنی بات کو پیش کرنا ان کا خاص امتیاز تھا۔ ماہ نامہ الحسنات اور ادارۂ الحسنات کے دوسرے رسائل کے ماہانہ اداریوں، ان کی مشہور کتاب ’حیات طیبہ‘ اور ان کی دوسری کتابوں کو اس سلسلے میں دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ وہ ایک اچھے مربی بھی تھے۔ انھوں نے اپنے منفرد اندازِ تربیت سے نہ جانے کتنے لوگوں کو لکھنے والوں کی صف میں کھڑا کردیا۔

زیر نظر کتاب ’’اسلامی تربیت‘‘ محترم ابوسلیم محمد عبدالحی ّ مرحوم کی وہ کتاب ہے ،جو انھوں نے ایک منصوبے کے تحت ناخواندہ یا کم خواندہ دیہاتی اور قصباتی مسلمانوں کو اسلامی عقائد وتعلیمات سے روشناس کرانے کے لیے اسباق کے طور پر لکھی تھی۔ یہ اپنے موضوع اور مقصد کے اعتبار سے ایک منفرد کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو سامنے رکھ کر دیہات و قصبات میں ایسا ماحول پیدا کیاجاسکتا ہے کہ لوگ کسی وقت ایک جگہ جمع ہوں اور دین کی باتیں سننے اور سیکھنے کی کوشش کریں ۔ اس مجلس میں غیرمسلم بھائی بھی شریک ہوکر بڑی آسانی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ اجنبیت بھی دور ہوسکتی ہے،جو ہمارے ہاں دونوں طبقوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔

کتاب کے نام کے نیچے ٹائٹل پر یہ عبات لکھی ہوئی ہے: ’’باتوں باتوں میں دین سیکھیے‘‘

جب ہم کتاب کو پڑھتے ہیں تو قدم قدم پر اس بات کا ثبوت فراہم ہوتاہے کہ واقعی یہ کتاب باتوں باتوں میں دین سکھانے کا ماحول بناتی ہے۔

اجالوں کا سفر

مصنف:  یوسف راز

صفحات:                    156        ٭قیمت 150/- روپے

ملنے کا پتا:                   خالد بک ڈپو، چندر گھٹا ، کوٹا ﴿راجستھان﴾

شاعری کی اہمیت ومعنویت کو ہمیشہ اور ہردور میں تسلیم کیاگیا ہے۔ تحریکوں اور رجحانوں کو پھیلانے اور ان کے افکارونظریات کی ترسیل وتبلیغ میں شاعری کا بڑااہم کردار رہا ہے۔ شعر و ادب کی تاریخ سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے صفحات بھی شاعروں اور ادیبوں کے کارناموں سے خالی نہیں ہیں۔ اس کی اِسی اہمیت کے پیش نظر شیخ فریدالدین عطارؒ  جیسے رجلِ عظیم نے اسے ’جزویست ازپیغمبری‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کہتے ہیں:

شاعری جزویست از پیغمبری

جاہلانش کفر گویند از خری

تحریک اسلامی پوری دنیا میں غلبۂ حق اور اقامت دین کے لیے برپا ہوئی ہے۔ اپنے اس نصب العین کے لیے یہ پوری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے۔ یہی اس کی شناخت ہے۔ اس کی اِسی شناخت کی وجہ سے کچھ لوگ اسے دوست بنائے ہوئے ہیں اور اسی مقصد کی وجہ سے کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ایک ناپسندیدہ جماعت ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے:

کوئی کوسے، کوئی دعائیں دے

اپنا اپنا نصیب ہے پیارے

یہ تحریک اسلامی کی خوش نصیبی رہی ہے کہ اس کوہمیشہ اور ہر دور میں ایسے شاعر اور فن کار میسر رہے ہیں، جنھوں نے اس کے پیام کو پھیلانے اور باطل افکار ونظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ اس ذیل میں علامہ ابوالمجاہد زاہد، نعیم صدیقی، سہیل زیدی، حفیظ میرٹھی، انور اعظمی اور عزیز بگھروی کے اسمائے گرامی بہت نمایاں ہیں۔ یہ وہ شعراء ہیں جنھوں نے تحریک میں باقاعدہ شامل ہوکر اس کی دعوت کو عام کرنے میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ ورنہ ایک بڑی تعداد ایسے شعراء کی بھی ہے، جو کسی وجہ سے باقاعدہ تو تحریک میں نہیں شامل ہوسکے، لیکن اپنی شاعری کے ذریعے فکر اسلامی کی تبلیغ و ترسیل میں وہ کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ اس سلسلۃ الذہب میں علامہ شفیق  جون پوری، مولانا عامر عثمانی، ماہر القادری، فاروق بانسپاری، طاہر تلہری ،مہر فوقی بدایونی اور اعجاز رحمانی کے نام بہت نمایاں ہیں۔ ہمارے رفیق و دوست جناب یوسف راز بھی اسی قافلۂ خوش نصیباں سے تعلق رکھتے ہیں ، جنھوں نے اپنی زندگی کو بھی تحریک اسلامی اور اس کے نصب العین کے لیے وقف کردیا ہے اور اپنی شاعری کو بھی۔

جناب یوسف راز بارانوی ایک خوش فکر، خوش کلام ، خوش الحان اور خوش اخلاق شاعر ہیں۔ خوش فکری کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں اعلیٰ انسانی قدروں کو پروان چڑھانے اور اسلامی اخلاق وکردار کو اپنانے کی بات کرتے ہیں، خوش کلامی اس حد تک ہے کہ ان کی شاعری میں فنی بے راہ روی نہیں پائی جاتی، وہ زبان و بیان کی پابندیوں کا پوراخیال رکھتے ہیں۔ اس کے لیے جہاں سے ممکن ہوتا ہے بلا کسی جھجک کے استفادہ کرتے ہیں۔ پہلے انھوں نے اپنے ہم وطن شاعر جناب مفتوں کوٹوی سے رجوع کیا، ان کے انتقال کے بعد دبستانِ داغ کے نمایندہ استاذ شاعر اور علامہ سیماب اکبر آبادی کے شاگردِ رشید حضرت علامہ ابوالمجاہد زاہدؒ  کا دامن تھاما اور طویل مدت تک ان سے اصلاح لی۔ گرچہ اب وہ سخن وری میں کافی حد تک پختہ ہوچکے ہیں، تاہم وہ اپنے کو اصلاح اور مشورے سے بے نیاز نہیں سمجھتے۔ خرد وکلاں کاامتیاز کیے بغیر جہاں سے بھی مناسب سمجھتے ہیں مشورۂ سخن کرکے اپنی شاعری کو اعلیٰ ومعیاری بناتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم جیسے بے بضاعتوں سے بھی مشورہ کرنے میں انھیں عار نہیں محسوس ہوتی۔ جب اور جہاں موقع ہوتا ہے رجوع کرتے ہیں۔ یہ ان کے اخلاق اور فن شناسی کی واضح دلیل ہے۔ خوش الحانی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جہاں یا جس مشاعرے میں اپنے مخصوص لہجہ وترنم میں کلام سناتے ہیں، سامعین کی سماعتوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اُن کی خوش اخلاقی کی وضاحت کی یہاں اس لیے ضرورت نہیں کہ گزشتہ سطور میں جو کچھ کہا گیا ہے، اس سے ان کی خوش اخلاقی بھی واضح ہوجاتی ہے۔ میں کم وبیش پینتالیس ﴿۴۵﴾ برس سے شعر و ادب کی دنیا سے وابستہ ہوںاور ہر سطح کے شعر او ادباء سے واسطہ رہتا ہے، کسی ایک شاعر میں بہ یک وقت یہ چاروں خوبیاں کم ہی دیکھنے کو ملی ہیں۔

جناب یوسف راز غزلیں بھی کہتے ہیں اور نظمیں بھی اور قطعات اور دوسری اصناف میں بھی مشقِ سخن کرتے رہتے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے انھوں نے ’دوہے‘ کی طرف توجہ کی ہے۔ اس میں ان کے شعری جوہر زیادہ نکھرتے ہوئے محسوس ہوئے۔ گزشتہ دنوں دوچار مشاعروں میں ان کی زبانی سورۂ فاتحہ اور قرآن مجید کی بعض دوسری چھوٹی سورتوں کے ترجمے دوہوں کی شکل میں سننے کو ملے، طبیعت وجد میں آگئی۔ سامعین کے چہروں پر عجیب روحانی کیفیت محسوس ہوئی۔ سورۂ فاتحہ کی آخری آیتوں کے ترجمے تین دوہوں کی شکل میں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :

تیرے آگے ہی جھکیں سائیں ہمارے شیش

مانگیں تجھ ہی سے مدد، ہے تو ہی جگ دِیش

دکھا ہمیں تو راستا، سیدھا اے رحمان

ان لوگوں کا راستا، جس میں ہو کلیان

اُن دشٹوں کی راہ سے بچا ہمیں کرتار

جن پر تیرے کرودھ کی پڑی غضب کی مار

یوسف راز خواہ غزل لکھیں، خواہ نظم یا حمد ونعت، وہ اس بات کو کسی لمحہ نہیں بھولتے کہ وہ ایک اسلام پسند شاعر ہیں اور اسلامی افکار و خیالات کی ترویج وترسیل اور اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار کا فروغ و ارتقا ان کا مقصد زندگی ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اپنی اسی شناخت کی وجہ سے تعمیری ومقصدی شعر و ادب کی تاریخ میں وہ تادیر باقی رہیں گے۔

اپریل 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau