نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

اسلام اور انسانی حقوق

مصنف        :       مولانا سید جلال الدین عمری

صفحات        :    ۲۴٭ قیمت=/۱۰روپے

ناشر    :     مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،نئی دہلی ۲۵

مولانا سید جلال الدین عمری نے یوں تو اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر فراہم کیا ہے، لیکن ان کے علمی کاموں کافوکس اسلام میں انسانی حقوق کی توضیح وتشریح اور ان کے سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کاازالہ ہے۔ اس موضوع پر انھوں نے مختلف پہلوؤں سے کام کیا ہے۔ خواتین سے متعلق ان کی تصانیف—عورت اسلامی معاشرے میں ، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کاجائزہ، عورت اور اسلام اور اسلام کا عائلی نظام— میں اسلام میں حقوق نسواں سے متعلق بحث کی گئی ہے۔ بچے اور اسلام نامی کتابچے میں اسلام میں حقوق اطفال کو موضوع بحث بنایاگیاہے۔ مولانا کی ایک اہم تصنیف ’غیر مسلموں سے تعلق اور ان کے حقوق‘ ہے۔ اس میں اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق سے مفصل ومدلل بحث کی گئی ہے۔ انسانی حقوق پر بنیادی اور اصولی بحثیں انھوں نے اپنی کتاب، اسلام-انسانی حقوق کا پاسباں، میں کی ہیں۔ اس کتاب کی ابتدایں حقوق انسانی کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کے ساتھ مغربی تصور حقوق کے کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ پھر اسلام کے بنیادی تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے فرد کے شخصی اور معاشرتی حقوق کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ کمزور طبقات و افراد اور معذوروں کے حقوق کا تذکرہ خصوصیت سے کیاگیا ہے۔ آخر میں اسلام کے زیر سایہ فرد کے حق دفاع کے حدود کا تذکرہ کیاگیا ہے اور اس سے بھی بحث کی گئی ہے کہ مذہب کے معاملے میں اسلام نے ہر فر کو کتنی آزادی دی ہے۔ مولانا کی ایک کتاب ’’کم زور اورمظلوم اسلام کے سایے میں ‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس میں کم زوروں اور مظلوموں کو عطا کردہ حقوق زیر بحث آئے ہیں۔

زیر نظر کتابچہ ’اسلام اور انسانی حقوق‘ اصلاً مولاناکی ایک تقریر ہے، جو انھوں نے مرکز جماعت اسلامی ہند میں اکتوبر ۲۰۰۴ء میں فرمائی تھی۔ بعد میں نظر ثانی اور حذف واضافہ کے بعد اسے کتابچے کی شکل میں شائع کیاگیا۔ اب اسی کا دوسرا ایڈیشن کسی قدر اصلاح وترمیم کے بعد منظر عام پر آیا ہے۔ اس میں مذکورہ بالا کتاب ﴿اسلام- انسانی حقوق کا پاسبان﴾ کے تمام مباحث کا خلاصہ آگیا ہے۔ اس کاانگریزی ترجمہ بھی Islam and Human Rightsکے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کو کتنی اہمیت دی ہے؟ اور مغرب کے تصورِ حقوق کے مقابلے میں انھیں کن پہلوؤں سے امتیازی حیثیت حاصل ہے؟ اس کتابچے کے ذریعے ان باتوں کی بہت اچھی طرح وضاحت ہوگئی ہے۔ امید ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے گا۔

The Simplified Quran

﴿تیسویں پارے کا آسان ترجمہ وتفسیر﴾

مفسر     :   سید حامد عبدالرحمن الکاف

صفحات     :      ۲۰۶٭ قیمت=/۱۸۰روپے

ملنے کا پتا       :           سب ڈپو مرکزی مکتبہ اسلامی ، چھتابازار، حیدرآباد۔

قرآن کریم کا تیسواں پارہ ۳۷چھوٹی سورتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مکی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ ان میں دین کے بنیادی عقائد ، توحید، رسالت اور آخرت کا بڑا موثر بیان ہے۔ اسی بنا پر عربی زبان میں بھی بعض اہل علم نے خاص طور پر ان سورتوں کی تفسیر بیان کی ہے اور دیگر زبانوں میں ان کے ترجمہ اور تفسیر کی خدمت انجام دی ہے۔زیر نظر ترجمہ وتفسیر کی خدمت جناب سید حامد عبدالرحمن الکاف ﴿پ:۱۹۳۵﴾ نے انجام دی ہے۔ وہ جماعت اسلامی ہند کی ثانوی درسگاہ رام پور کے فیض یافتہ ہیں۔قرآنیات ان کے مطالعہ و تحقیق کا خاص موضوع ہے۔ تفسیر اور علوم قرآنی سے متعلق ان کے قیمتی مقالات سے زندگی کے قارئین بھی مستفید ہوتے رہے ہیں۔

تیسویں پارے کی یہ آسان تفسیر عام قارئین اور خاص طور پر طلبہ کے استفادے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اسی لیے اس میں دقیق فنی مباحث سے گریز کیاگیا ہے۔ ہر سورہ کی آیتوں کوکئی ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ان کا ترجمہ کیا گیا ہے اور تفسیر بیان کی گئی ہے۔ آخر میں پوری سورہ کا خلاصہ بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ مصنف نے خود کو آیات کے الفاظ تک محدود رکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ آیتوں کو پڑھنے سے دل پر جو تاثر قائم ہوتا ہے اسے وہ صفحہ قرطاس پر منتقل کردیں۔ سورتوں کے باہم ربط اور نظم پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ یہ آسان ترجمہ وتفسیر عام انگریزی خواں طبقے اور اسکول اورکالج کے طلبہ کے لیے مفید ہے۔ امید ہے اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایاجائے گا۔   ﴿محمدرضی الاسلام ندوی﴾

سلسلۂ روز وشب

مصنف                     :               ڈاکٹر سلیم خان

صفحات                     :               ۳۱۲٭ قیمت=/۲۵۰روپے

ناشر :   بلیک ورڈس پبلی کیشنز، اقصیٰ اپارٹ منٹ، متصل سن رائز ٹاور شیل ڈاولہ، ضلع تھانے ، مہاراشٹر

ڈاکٹر سلیم خاں ہمارے جماعتی حلقے کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، ان کے تعارف کے متعدد حوالے ہیں۔ زیر نظر کتاب بھی ان کے تعارف کا ایک حوالہ ہے۔ اِس میں زیادہ تر ان کے وہ مضامین شامل ہیں، جو وہ مختلف عالمی، قومی، ملّی اور مقامی موضوعات پر وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ہیں۔ یہ تمام مضامین اپنے اپنے وقت پر قابل ذکر اخبارات وجرائد کی زینت بنتے رہے ہیں۔ البتہ چند مضامین ایسے بھی ہیں، جو انھوں نے اپنی کسی پسندیدہ شخصیات یا کسی کی کتاب پر تاثراتی طور پر تحریر کیے ہیں۔ پہلا مضمون ہم سب کے ہر دل عزیز دوست جناب محمود عالم کی وفات سے متعلق ہے۔ اِسے پڑھ کر آنکھیں بھیگ گئیں، اس میں واضح طور پر مضمون نگار کا مرحوم سے دیرینہ خلوص ومحبت شامل ہے۔ آخر میں ایک مضمون ایک مجموعۂ سخن پر بھی ہے۔

’’سلسلۂ روز وشب‘‘کے تمام ہی مضامین اپنے مصنف کی ذہانت اور عصری آگہی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سلیم خان کے اندر ایک بہترین صحافی اور تجزیہ کار بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ میں کتاب کی اِشاعت پر ان کا تہِ دل سے استقبال کرتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ یہ قلمی سفر مشق وجستجو کے ساتھ خوب سے خوب تر انداز میں جاری رہے گا۔      ﴿تابش مہدی﴾

ستمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau