نقد و تبصر

ڈاکٹر تابش مہدی

تصوف کیا ہے؟

مصنف:     ڈاکٹر تابش مہدی

صفحات:    ۴۰          ٭ قیمت:                  -/۲۵ روپے

ناشر:        کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند 247554ضلع سہارن پور﴿یوپی﴾

ڈاکٹر تابش مہدی کا تعارف یوں تو اسلام پسند اور راسخ العقیدہ نعت گو شاعر کی حیثیت سے ہے، لیکن علم وادب کی دنیا میں وہ نقّاد، ادیب اور تذکرہ نویس کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی تصانیف اردو تنقید کا سفر، نقدِ غزل، تنقیدو ترسیل، شفیق جون پوری: ایک مطالعہ، جہاں اردو زبان وادب میں ان کے بلند مقام اور مرتبے پر دلالت کرتی ہیں، وہیں سنت و بدعت کی کش مکش، کیسے کیسے لوگ تھے؟ اور تبلیغی نصاب- ایک مطالعہ جیسی کتابیں اسلامیات پر ان کی ماہرانہ دست رس کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ زیرنظرکتاب تصوف کیاہے؟ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

تصوف کاموضوع اس کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان ہمیشہ زیربحث رہا ہے۔ کچھ لوگ اسے عجم کی پیداوار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام سے اس کا دور کا بھی رشتہ نہیں ہے، تو کچھ لوگ تزکیۂ نفس اور اصلاح باطن کے لیے مروّجہ اشغال تصوف میں انہماک کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ جب کہ نقطۂ اعتدال افراط و تفریط پر مبنی مذکورہ دونوں نقطہ ہائے نظر کے درمیان ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں اسی نقطۂ اعتدال کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کی ابتدا میں مصنف نے تصوف کے لغوی و اصطلاحی معانی بعض قدیم اور معاصر صوفیہ کے حوالے سے بیان کیے ہیں۔ تصوف اور شریعت کاباہمی تعلق واضح کیا ہے۔ تصوف پر گفتگو کی جاتی ہے تو طہارت قلب، پاکیزگی روح اور تزکیۂ نفس کی اصطلاحات زیرِ بحث آتی ہیں، اس لیے مصنف نے قلب، روح اور نفس کے لغوی اور اصطلاحی معانی کی وضاحت کی ہے اور ان کی ذیلی تقسیموں پر روشنی ڈالی ہے۔ اسلام کے دور اول میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ  کے اصحاب، تربیت و تزکیہ کے لیے کیا تدابیر اختیار کرتے تھے، اس کاتذکرہ مثالوں کے ذریعے کیا ہے۔ آخر میں انھوں نے اس سے بحث کی ہے کہ متاخر عہد میں صوفیہ میں جو اشغال تصوف رائج ہوئے ان میں سے اگر کچھ چیزیں جاہلی طورطریقوں پر مبنی اور خلافِ شریعت ہیں تو یقینا وہ قابلِ رد ہیں لیکن پورے تصوف کوعجمی فلسفہ کہہ کر رد کردینا قرینِ انصاف نہیں ہے۔

امید ہے اس کتاب کے ذریعے تصوف کی حقیقت کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور اس کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہوںگی۔  ﴿محمد رضی الاسلام ندوی﴾

توحید اور قیامِ عدل

مصنف:    مولانا محمد جرجیس کریمی

صفحات:    ۹۲           ٭ قیمت:                  -/۵۰ روپے

ناشر:        مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دعوت نگر،ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۵۲

توحیدکاعقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اس کامطلب ہے ایک ایسی ہستی کو جاننا اور ماننا، جس نے تمام انسانوں اور اس کائنات کی دیگر تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور جو اس کائنات کا نظام چلارہا ہے اور اس معاملہ ﴿خلق وامر﴾ میں کسی دوسری ہستی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا۔ یہ محض ایک بے جان عقیدہ نہیں ہے، بل کہ اس کے ماننے یا نہ ماننے سے انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس عقیدے پر ایمان لانے سے انسانی زندگی میں نظم، توازن اور اعتدال پیدا ہوتاہے اور اس پر ایمان نہ لانے سے وہ بدنظمی، بے اعتدالی اور فساد کاشکار ہوجاتی ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی فکر جس پر زیرنظر کتاب مبنی ہے۔

یہ کتاب چار مباحث پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں عقیدۂ توحید کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اور اس میں انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے۔ اس کا مقصد اس کی آزمائش ہے۔ یہاں وہ حالتِ امتحان میں ہے۔ اس دنیا کے بعد اللہ تعالیٰ ایک دوسری دنیا پیدا کرے گا اور وہاں انسانوں کو پہلی دنیا میں کیے گئے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ دوسرے اور تیسرے باب میں تفصیل سے یہ بحث کی گئی ہے کہ یہ عقیدہ کس طرح انسانی زندگی میں اعتدال و توازن پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ دوسرے باب میں انفرادی زندگی میں اعتدال و توازن کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ تیسرے باب میں اجتماعی زندگی میں اس کے ثمرات واثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخری باب میں عقیدۂ توحید سے محرومی اور شرک و الحاد میں آلودگی کے نقصانات اور افکار و خیالات اور اخلاق وکردار پر پڑنے والے اثرات سے بحث کی گئی ہے۔

مولانا محمد جرجیس کریمی ادارۂ تقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے رکن ہیں۔ ان کی کتابوں ’ جرائم اور اسلام‘ اور ’مسلمانوں کی حقیقی تصویر‘ کو علمی حلقوں میں قبول عام حاصل ہے۔ قرآن اور مستشرفین اور تفہیماتِ قرآن کے نام سے ان کے مقالات کے دو مجموعے بھی شائع ہوچکے ہی۔ امید ہے زیرنظر کتاب کو بھی مقبولیت حاصل ہوگی اور اس سے خاطرخواہ فائدہ اٹھایاجائے گا۔                                                                     ﴿محمدرضی الاسلام ندوی﴾

 آخری پڑاؤ کا کرب

مصنف:    پرویز اشرفی

صفحات:    ۱۴۴        ٭           قیمت:       -/۱۲۰۱ روپے

ملنے کا پتا:   پرویزاشرفی، ڈی۳۲۱، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی-۱۱۰۰۲۵

پرویزاشرفی ایک خوش فکر اور صالح مزاج ادیب ہیں۔ وہ تعلیمی طورپر ساینس کے آدمی ہیں لیکن مخصوص علمی وادبی صحبتوں اور بعض علمی، ادبی اور صحافتی اداروں سے وابستگی کی وجہ سے انھیں اردو ادب سے خصوصی دل چسپی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ گزشتہ ربع صدی سے افسانے لکھ رہے ہیں اور ملک کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہورہے ہیں۔

زیرنظر کتاب ’آخری پڑاؤ کاکرب‘ جناب پرویز اشرفی کے بائیس ﴿۲۲﴾ افسانوں کامجموعہ ہے، جسے انھوں نے اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ کے مالی تعاون سے شائع کیاہے۔ ’آخری پڑاؤکاکرب‘ کے افسانوں کے مطالعے سے یہ بات نہایت واضح طوپر سامنے آتی ہے کہ پرویز اشرفی کی فکر میں بلندی ہے، ان کا مزاج تعمیری اور اصلاحی ہے اور وہ جو کچھ لکھتے ہیں، ان کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ اس سے قاری کو کیا ملے گا؟ ان کے افسانوں کے بالعموم موضوعات موجودہ عہد میں اخلاقی قدروں کا اِنحطاط ، انسانی رشتوں کی زوال پزیری، تمام انسانوں کے مسائلِ حیات اور باہمی عداوت و منافرت ہوتے ہیں، لیکن جو بات بھی لکھتے ہیں، افسانہ افسانہ ہی رہتا ہے۔ وعظ و صحافت کا رنگ اس میں نہیں آنے پاتا۔

ان کے افسانوں میں زبان وبیان کی سطح پر بھی بڑی حد تک احتیاط پائی جاتی ہے۔ لہجے میں شایستگی اور اسلوب میں سنجیدگی و متانت ملتی ہے۔ بیان میں ایک ایسا تسلسل ہوتاہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔

تبصرہ نگار کو جناب مرتضیٰ ساحل تسلیمی کی اس رائے سے کامل اتفاق ہے کہ ’پرویز اشرفی ایک ایسے افسانہ نگار ہیں، جنھوں نے مختلف موضوعات پر اچھے افسانے اردو ادب کو دیے ہیں۔‘ امید ہے کہ پرویز  اشرفی کے افسانوں کا یہ مجموعہ تعمیرپسند حلقے میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجائے گا۔ ناقدین ادب کو متوجہ کرے گا اور اہل ذوق شائقین اِسے خریدکر اپنی ذاتی لائبریریوں کی زینت بنائیں گے۔ ﴿تابش مہدی﴾

نواے جاں

شاعر:       شمیم بیکانیری

صفحات:    ۱۲۸         ٭           قیمت:       -/۲۰۰روپے

ملنے کا پتا:   انیس کتاب گھر،مخمورسعیدی روڈ، ٹونک۳۰۴۰۰۱ ﴿راجستھان﴾

جناب شمیم  بیکانیری راجستھان کے ایک کہنہ مشق اور ہردل عزیز شاعر ہیں۔ ہندستان کے بڑے بڑے مشاعروںمیں ان کی شرکت ناگزیر تصور کی جاتی ہے۔ راجستھان کی اُردواکادمی نے ان کی شاعرانہ خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے بھی سرفراز کیا ہے۔

’نواے جاں‘ جناب شمیم بیکانیری کی نعتیہ شاعری کا دل کش مجموعہ ہے۔ ان کی نعت و سلام کے اشعار سے اہلِ دل کی محفلوں میں گرمی پیدا ہوتی ہے اور سیرتِ رسولﷺ  کے مطالعے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ آغاز کتاب میں ڈاکٹر محمد حسین، جناب شین کاف نظام، احمد علی خاں منصوری اور خدادخاں مونس  کے تاثرات بھی ہیں۔ امید ہے کہ شمیم بیکانیری کی غزلیہ شاعری کی طرح یہ نعت و سلام کی شاعری بھی مقبولیت کا ریکارڈ قائم کرے گی۔                      ﴿تابش مہدی﴾

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau