نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

نام کتاب : جاں نثار انِ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

مصنف     :               مذکر احمد منکوی ندوی

ناشر          :               مجلس صحافت ونشریات جامعہ اسلامیہ بھٹکل

سنہ اشاعت:            ۲۰۱۲؁ء صفحات:۱۱۶، قیمت:۲۵روپے

اُردو زبان میں سیرت صحابہ پر ہر سطح کی کتابیں موجود ہیں۔ علمی وتحقیقی بھی اور آسان زبان اور عام فہم اسلوب میں بھی۔ زیر نظر کتاب میں عشرۂ مبشرہ کے حالاتِ زندگی اور کارنامے بیان کیے گئے ہیں۔ یوں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی، لیکن جامع ترمذی کی ایک حدیث کے مطابق ایک موقع پر آپ نے دس صحابۂ کرام کا ایک ساتھ نام لے کر انہیں جنت کی خوش خبری دی تھی۔ انہی صحابۂ کرام کو عشرۂ مبشرہ کہا جاتا ہے، یعنی وہ دس صحابہ جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی ہے۔ وہ یہ ہیں : حضرت ابوبکر صدیقؓ ، حضرت عمرفاروقؓ ، حضرت عثمان غنیؓ ، حضرت علی بن ابی طالبؓ ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ، حضرت ابوعبیدہؓ  بن الجراحؓ ، حضرت سعید بن زیدؓ ، حضرت زبیر بن العوامؓ ، حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ  اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم ورضواعنہ۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل جنوبی ہند کا ایک مشہور مدرسہ ہے، جس کا دارالعلوم ندوۃ العلماء سے الحاق ہے۔ مصنف موصوف اسی میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں۔ اس مدرسہ کے قیا م کو نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس کے پچاس سالہ تعلیمی اجلاس کے موقع پر اس کتاب کی اشاعت عمل میں آئی ہے۔

اس کتاب کی تالیف کے دوران مصنف کے پیش نظر حدیث ، تاریخ اور سیرالصحابہ کے مستند مصادر ومراجع رہے ہیں۔ انہوں نے حسب موقع ان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں حوالے درست نہیں معلوم ہوتے۔ مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علیؓ  کے ہاتھ میں دیا۔ انہیں آشوب چشم تھا۔ آپﷺ  کے لعاب دہن لگادینے سے وہ دور ہوگیا۔ پھر ان کا مقابلہ خیبر کے رئیس مرحب سے ہوا، جس کا ان کے ہاتھوں کام تمام ہوا۔ اس کا حوالہ صحیح بخاری ﴿حدیث نمبر۴۲۱۰﴾ کا دیاگیا ہے، جب کہ بخاری میں صرف جھنڈا حضرت علیؓ  کو دیے جانے اور حضورﷺ  کے لعاب دہن سے آشوب چشم ٹھیک ہوجانے کا بیان ہے، مرحب سے مقابلہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ یہ مصنف موصوف کی پہلی علمی کاوش ہے۔ امید ہے، ان کا علمی سفر جاری رہے گا اور ان کے قلم سے اُمت کو فیض پہنچے گا۔

ماہ نامہ پیام سری نگر کا نظام تعلیم نمبر

ایڈیٹر       :               غازی امتیاز، معاون ایڈیٹر برائے خصوصی شمارہ : فاروق احمد

پتہ           :               جمعیت بلڈنگ، باراں پتھر، بٹاملّو، سری نگر﴿کشمیر﴾ اکتوبر-نومبر۲۰۱۲؁ء

اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر کے اسلام پسند طلبہ اور نوجوانوں کی ایک فعّال اور منظم تنظیم ہے، جو ان میں دینی شعور کی بیداری کے ساتھ انہیں تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ مختلف دینی موضوعات پر کتابوں کی اشاعت کے علاوہ گیارہ سال سے ’پیام‘کے نام سے ایک ماہ نامہ بھی شائع کررہی ہے۔ اس عرصہ میں اس مجلہ کی متعدد خصوصی اشاعتیں بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس کا ایک خصوصی شمارہ ’سماجی برائیاں نمبر‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ زیر نظر اشاعت میں’نظام تعلیم‘ کو موضوع بنایاگیا ہے۔

یہ خصوصی شمارہ نظام تعلیم کے تین پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔ ابتدائی حصہ کے مضامین میں اس سے بحث کی گئی ہے کہ اسلام کا نظریۂ تعلیم کیا ہے؟ اس کے تحت نظام تعلیم کی بنیاد کن اصولوں پر استوار ہونی چاہئے؟ اور مغربی نظریۂ تعلیم میں کیا خامیاں ہیں؟ دوسرے حصہ کو ’روایت‘ کا عنوان دیاگیا ہے۔ اس کے تحت شامل مضامین میں مسلمانوں کی تعلیمی روایات کا جائزہ لیاگیا ہے اور اس ضمن میں جموں وکشمیر میں تعلیم کے میدان میں سرگرم فلاح عام ٹرسٹ کی سرگرمیوں اور خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرا حصہ تعلیمی مسائل کے لیے مخصوص ہے۔ اس میں خاص طور پر جموں وکشمیر میں طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مضمون نگاروں میں پاکستانی دانش وروں اور اصحاب قلم میں پروفیسر خورشید احمد، خرّم جاہ مراد، شاہ نواز فاروقی، ڈاکٹر محمد سہیل شفیق اور ہندوستانی قلم کاروں میں ڈاکٹر غلام قادر لون، محمد الیاس بھٹکلی، سید سعادت حسینی، عرفان وحید، تنویر عالم فلاحی، اس کے علاوہ جمعیت طلبہ کے ذمہ داروں، غازی امتیاز احمد، ایس، احمدپیرزادہ، عبدالمجید فلاحی، ریاض احمد شاہ، محمدفاروق خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ اس خصوصی مجلہ کی اشاعت پر جمعیت اور مجلّہ کے ذمہ داران مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے اور انہیں ثمر بار بنائے۔

  یادگارمجلہ : ’’محمدمسلمؒ – حیات وخدمات‘‘

مرتب      :               سید شکیل احمد انور

ملنے کا پتا   :               سب ڈپو مرکزی مکتبہ اسلامی،چھتہ بازار، حیدرآباد-۲،

سن اشاعت:            ۲۰۱۳ ، صفحات۱۰۴، قیمت :۵۰ روپے

جناب محمد مسلمؒ  ﴿۱۹۲۰-۱۹۸۶﴾ جماعت اسلامی ہند کے اکابر میں سے تھے۔ ۱۹۵۳؁ء سے ۱۹۸۶؁ء تک سہ روزہ دعوت کے مدیر کی حیثیت سے انہوں نے مسلم صحافت کی سربراہی کی ہے۔ وہ کل ہند مسلم مجلس مشاورت ﴿قیام ۱۹۶۴؁ء﴾ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ ﴿قیام ۱۹۷۲؁ء﴾ کے روح رواں تھے۔ اسی طرح مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کی بحالی کے لیے جاری تحریک میں بھی انہیں نمایاں مقام حاصل تھا۔ سادگی، منکسر المزاجی، خوش خلقی اور خدمت خلق ان کی شخصیت کی نمایاں خوبیاں تھیں۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے انہیں سماج کے تمام طبقات میں عزت وعظمت کا مقام حاصل تھا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ زیر مجلہ جماعت اسلامی ہند حلقہ آندھرا پردیش واڑیسہ کی تصنیفی اکیڈمی نے ان کی یاد میں شائع کیا ہے۔

اس مجلہ میں چار ابواب کے تحت ، نجی زندگی، تاثرات واحساسات، خدمات اور خراج تحسین کے ذیل میں مختلف اصحاب قلم کے مضامین شائع کئے گئے ہیں اور پانچویں باب ﴿عکس وخیال﴾ میں مرحوم کی دو اہم تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ مرحوم کے فرزند جناب اسلم عبداللہ کے مضمون سے اندرونِ خانہ حالات پر روشنی پڑتی ہے۔ جناب سید شکیل احمد انور صاحب نے ملک کے موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی حکمت عملی کے ارتقاء میں مرحوم کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ ڈاکٹر سید عبدالباری نے صحافت اور جناب انتظار نعیم نے خدمت خلق کے پہلوؤں کو اُجاگر کیا ہے۔ دیگر نمایاں اصحاب قلم میں سید حامد، پروفیسر محسن عثمانی ندوی، سید شہاب الدین، ڈاکٹر احمد سجاد، جناب پرواز رحمانی، کلدیپ نیّر، آئی کے گجرال قابل ذکر ہیں۔ ان مضامین سے مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور ان کی عظمت کا گہرا نقش دل پر قائم ہوتا ہے۔ تحریک اسلامی ہند کے فروغ واستحکام میں جن شخصیات نے صلہ وستائش سے بے پروا ہوکر خدمات انجام دی ہیں اور اسے اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے، ضرورت ہے کہ ان کے تذکرے جمع کیے جائیں ، تاکہ نئی نسل کو ان سے واقفیت ہو اور ان کے اندر بھی قربانی کا جذبہ پیدا ہو۔ زیر نظر مجموعہ اس سلسلے کی ایک عمدہ کاوش ہے۔ امید ہے، دیگر اکابر تحریک پربھی اسی طرح کے یاد گار مجلّے شائع کئے جائیں گے۔

 نام کتاب:    اعتراف وتحسین

﴿ڈاکٹر رشاد عثمانی کے فن اور شخصیت پر مجموعۂ مضامین﴾

مرتب      :               ڈاکٹر محمد حنیف شباب

تقسیم کار  :               الہلال بک ایجنسی ، مین روڈ بھٹکل ﴿کرناٹک﴾

سنہ اشاعت:            ۲۰۱۳؁ء ،صفحات ۱۸۴، قیمت ۲۰۰ روپئے

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ﴿پ:۱۹۵۹؁ء﴾علمی حلقوں میں ادیب، محقق ، نقاد اور صحافی کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ اپنے والد محترم مولانا طیب عثمانی ندوی کی طرح وہ بھی ادب اسلامی کے علم برداروں میں سے ہیں۔ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ’اُردو شاعری میں نعت گوئی‘ عرصہ ہوا، شائع ہوکر مقبول ہوچکاہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد چند ایام انہوں نے سہ روزہ دعوت نئی دہلی میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ ۱۹۸۵ سے ۱۹۹۲ تک ورکرس کالج جمشید پور اور اس کے بعد سے اب تک انجمن ڈگری کالج بھٹکل میں لیکچرر شعبہ اُردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی تصانیف میں نظریاتی ادب، نظریہ ، ادب اور ادیب، ادب کا اسلامی تناظر، شعرائے بھٹکل اور اُردو نعت، تعبیر وتشکیل، افکار واقدار، روشن تہذیب، روشن حیات اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سے ادب اسلامی سے ان کی گہری وابستگی کااظہار ہوتا ہے۔ ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کے پچیس سال مکمل ہونے پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یہ مجموعہ شائع کیا گیاہے۔ اس مجموعہ میں جو مضامین شامل کیے گئے ہیں، وہ عموماً ان کی کتابوں پر بہ طور مقدمہ لکھے گئے تھے۔ کچھ تحریریں اخبارات میں ان کتابوں پر شائع ہونے والے تبصرے ہیں۔ ان کے علاوہ چند تازہ مضامین بھی ہیں۔ اصحاب قلم میں علمی دنیا کی بہت سی نام ور شخصیات ہیں، مثلاً مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، پروفیسر عبدالمغنی، ڈاکٹر ابن فرید، پروفیسر وہاب اشرفی، ڈاکٹر سید عبدالباری شبنم سبحانی، پروفیسر محسن عثمانی ندوی، پروفیسر احمد سجاد، پروفیسر عنوان چشتی وغیرہ۔ ان مضامین سے ادب اسلامی کے میدان میں شاہ رشاد عثمانی کی قدر وقیمت متعین ہوتی ہے۔ یہ ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔ امید ہے کہ ان کا علمی سفر جاری رہے گا اور ان کی کاوشوں سے تحریک ادب اسلامی کو فروغ واستحکام حاصل ہوگا۔

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau