نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

دعائے انبیاء قرآنی

ترجمہ وتشریح:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

ترتیب:  ابراہیم جمال بٹ، محمد افضل لون

ناشر: ملی پبلی کیشنز (رجسٹرڈ)  حیدر پورہ، سری نگر

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۱۳۶٭ ۱۰۰ روپے

دعاعین عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آگے ہاتھ پھیلانا، گڑگڑانا اور اپنی مرادیں مانگنا بندگی کا تقاضا ہے اور اس سے اعراض کرنا تکبر کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآن وحدیث میں اس پربہت زور دیاگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۔(مومن: ۶۰) (مجھے پکارو ، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا) ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’دعا مغز عبادت ہے‘‘۔ (ترمذی)

دعائوں کے چھوٹے بڑے بہت سے مجموعے بازار میں دستیاب ہیں۔ زیر نظر کتاب میں قرآن کریم میں مذکور دعائیں جمع کردی گئی ہیں اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تفسیر تفہیم القرآن سے ان کا ترجمہ اور تشریح بھی نقل کردی گئی ہے۔ ابتداء میں تفہیم القرآن ہی سے دعا کی اہمیت، حقیقت اور آداب سے متعلق اقتباسات درج کیے گئے ہیں۔ کتاب کے عنوان سے ایسا لگتا ہے کہ اس میں صرف انبیائے کرام کی دعائیں جمع کی گئی ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ انبیاء کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کی جو دعائیں قرآن میں مذکور ہیں، انہیں بھی کتاب میں شامل کیاگیا ہے۔

قرآنی دعائوں پر یہ ایک اچھا مجموعہ مرتب ہوگیا ہے۔ امید ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

 مسجد اقصیٰ (فضیلت، تاریخ اور موجودہ حالات کے تناظر میں)

مصنف:  محمد یوسف رام پوری قاسمی

ناشر:  مرکزی پبلی کیشنز، جوگابائی، جامعہ نگر، نئی دہلی۔۲۵

سنہ اشاعت: ۲۰۱۴ء٭ صفحات: ۹۶٭  قیمت:۔  / ۶۰روپے

مسجد اقصیٰ کوقبلۂ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کی فضیلت اور اہمیت پر قرآن کریم اور احادیث نبویؐ شاہد ہیں۔ اسی لیے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت تقدس اور محبت پائی جاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ موجودہ دور میں ظالم اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں اس کا تقدس پامال ہورہا ہے۔ وہ مختلف تدابیر اور سازشوں سے اس کو نقصان پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کے تعلق سے مسلمانوں میں بیداری پیدا کی جائے اور اس کی بازیابی کے لیے منصوبے تیار کیے جائیں۔ زیر نظر کتاب میں اس کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر موجودہ حالات میں کی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کیاگیا ہے۔

یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں مسجد اقصیٰ کی فضیلت و اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ باب دوم میں اس کی تاریخ کا بیان ہے۔ اس میں مسجد اقصیٰ کی عمارتوں، جائے وقوع اور مختلف ادوار میں اس کے حالات کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کیاگیا ہے اوراس کی بازیابی کے لیے مسلم سلاطین نے جو کوششیں کیں ان کا تذکرہ کیاگیا ہے۔ باب سوم میں موجودہ حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور اسرائیل کی صہیونی حکومت اردگرد بسنے والے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھا رہی ہے اور جس طرح مسجد کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے، اس کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

یہ کتاب ایک اہم موضوع پر قیمتی معلومات پیش کرتی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں؟

مصنف:   میر اشفاق علی

ناشر: ادارۂ اصلاح واتحاد، سعید آباد، حیدرآباد۔ ۵۹

ملنے کا پتہ:   ہدیٰ بک ڈپو، پرانی حویلی، حیدرآباد

سنہ اشاعت: ۲۰۱۴ء٭ صفحات: ۹۰٭قیمت: ۴۰ روپے

قادیانیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا مسئلہ زوروشور سے اٹھایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ ان کی آمد سے مراد ’مثیل مسیح‘ کی آمد ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ اس کتاب میں قادیانیوں کے اس عقیدے کا مدلل رد کیاگیا ہے۔

ابتداء میں قرآن کی روشنی میں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کا اور قادیانی لٹریچر کی روشنی میں مرزا غلام احمد کا تعارف کرایاگیا ہے۔ پھر مرزا کے دعویٔ ’ مثیل مسیح‘ کا تجزیہ کرکے احمدی مفروضات  کی قلعی کھولی گئی ہے۔آخر میں قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق عقیدۂ سلف صالحین کی تشریح کی گئی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں سب سے پہلے سرسید احمد خاں (م ۱۸۹۸ء) نے حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ اٹھائے جانے اور نازل کیے جانے کا انکار کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے وفات عیسیٰؑ کا مسئلہ سرسید سے مستعارلیا ہے۔(ص ۶)

مصنف کا تعلق احمدی خاندان سے تھا۔ وہ قادیانی مبلغ تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تائب ہوئے۔ اس لیے انہیں بہ خوبی علم ہے کہ اس موضوع پر قادیانی مفروضات کا رد کس انداز سے کرنا چاہیے۔ ردقادیانیت سے متعلق وسیع لٹریچر بھی ان کی دست رس میں ہے اور اس کا انھوں نے بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل اور مدلل بحث کی ہے اور متعلقہ مسئلے پر بہت سنجیدگی اور متانت کےساتھ قادیانیوں کو دعوتِ فکر دی ہے۔

شمع رسالت (مجموعۂ احادیث)

مرتب:    مفتی شمس الدین احمد

ناشر:   مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

سنہ اشاعت: ۲۰۱۴ء٭ صفحات: ۳۲۸٭ قیمت:   /- ۱۶۰ روپے

خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے میں دین کی بنیادی باتیں بیان کرنے کے بعد جب صحابہ کرامؓ سے دریافت فرمایا تھا کہ میرے بارے میں روز قیامت اللہ تعالیٰ تم سے پوچھے گا تو تم کیا کہوگے؟ تو وہاں موجود ایک لاکھ سے زائد افراد نے بہ یک زبان بلند آواز سے جواب دیا تھا: نَشْہَدُ اَنّکَ قَدْ بَلَّغْتُ و اَدیت ونصحت ۔ (ابودائود:۱۹۰۵، ابن ماجہ : ۳۰۷۴)(ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا ہے، اپنی ذمے داری ادا کردی ہے اور خیرخواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے) اس موقع پر آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا تھا: فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائبَ فَرُبَّ مُبَلِّغٍ اَوْعَیٰ مِنْ سَامِع۔(بخاری: ۱۷۴۱،مسلم:۱۶۷۹)(جو یہاں موجود ہے وہ ہر اس شخص تک یہ باتیں پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے۔ بسا اوقات جس شخص تک کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ اسے بہ راست سننے والے سے زیادہ اچھی طرح سمجھنے والا ہوتا ہے‘‘۔

صحابہ کرامؓ نے اللہ کے رسول ﷺ کی اس ہدایت کو حرزِ جاں بنایا۔ انھوں نے آپؐ کے ارشادات اور تعلیمات کو دور دور تک پہنچایا۔ ان کے زمانے میں اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی احادیث نبویؐ کی حفاظت و صیانت کی مختلف تدابیر اختیار کی گئیں۔ متعدد صحابہ کرامؓ  اور تابعین نے تحریری شکل میں انھیں مرتب کیا۔ عہد تدوین میں حدیث کی اُمہات الکتب وجود میں آئیں۔ بعد میں منتخبات کا دور چلا اور ترغیب وترہیب اور دیگر پہلوئوں سے بے شمار احادیث کے مجموعے مرتب کیے گئے۔ اصحاب علم نے اپنی سعادت سمجھ کر اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح مختلف زبانو ں میں احادیث نبویؐ کا بیش بہالٹریچر وجود میں آیا۔

مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی نے اردو زبان میں احادیث نبویؐکے متعدد مجموعے شائع کیے ہیں، جنہیں علمی، دینی اور تحریکی حلقوں میں قبولِ عام حاصل ہے اور بے شمار افراد ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان میں کلام نبوت (مولانا محمد فاروق خاں) انتخاب حدیث (مولانا عبدالغفار حسنؒ) زاد راہ اور سفینۂ نجات (مولاناجلیل احسن ندویؒ) اور ترجمان الحدیث (مولانا محمود الحسنؒ) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ زیر نظر کتاب کی صورت میں احادیث نبویؐ کا ایک نیا انتخاب اس نے ’شمع رسالت‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کے مرتب جناب مفتی شمس الدینؒ (۱۹۳۵۔۲۰۰۷ء) اپنی علمی ودینی خدمات کی بنا پر تحریکی حلقے میں معروف رہے ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم جماعت اسلامی ہند کی قائم کردہ ثانوی درس گاہ رام پور (یوپی) میں اورعصری تعلیم جمشید پور (بہار) میں حاصل کی اور وہیں TISCO میں پندرہ سال ملازمت کی، پھر تقریباً دس سال بہ سلسلۂ ملازمت سعودی عرب میں گزارا۔ وہ مختلف اوقات میں جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ رابطہ عامہ کے ڈائریکٹر ، اشاعت اسلام ٹرسٹ کے سکریٹری، مرکزی مکتبہ اسلامی کے منیجر اور بورڈآف اسلامک پبلی کیشنز کے ممبر رہے۔ یہ کتاب پانچ سو سے زائد احادیث پر مشتمل ہے۔ ان میں اسلام کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیاگیا ہے۔ مثلاً ایمانیات، عبادات، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، معاشرتی نظام،سیاسی نظام، سماجی تطہیر، احترام انسانیت، اجتماعی آداب، اخلاقی فاضلہ، عادات رذیلہ، تعلق باللہ، فکر آخرت وغیرہ۔ عموماً احادیث کے متن کے ساتھ ان کا ترجمہ دیاگیا ہے، کہیں کہیں حسب ضرورت مختصر تشریح کردی گئی ہے۔ ہر حدیث پر ایک جامع عنوان لگایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کافائدہ عام کرے اور مرحوم کے حق میں اسے صدقۂ جاریہ بنائے۔ انہ‘ سمیع مجیب۔

اخوان المسلمون اور فرعونیت کی کش مکش

مصنف:   میربابرمشتاق

ناشر:   منشورات،  E-61 ، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۔۲۵

سنہ اشاعت: ۲۰۱۴ء٭ صفحات: ۳۵۲٭ قیمت:  ۔؍۲۴۹روپے

مصر کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کے ارکان و وابستگان ان دنوں اپنی ابتلاء و آزمائش کی تاریخ کے سخت ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک سالہ اقتدار کے بعد جمہوری طریقے سے منتخب صدرمحمد مرسی کو فوجی طاقت کے ذریعے ہٹا دیاگیا، اس کے بعد پرامن طریقے سے احتجاج کرنے والے شہریوں میں سے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو بے دردی سے گولیوں سے بھون دیا گیا اور بہت سو ں کو جیلوں میں ٹھونس کر سخت اذیتیں دی جارہی ہیں۔ ابھی حال میں دوقسطوں میں ایک ہزار سے زائد افراد کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ دوسری طرف اخوان کا حال یہ ہے کہ وہ راہِ استقامت پر جمے ہوئے ہیں اور ان کے پیروں میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی ہے۔ اس صورت حال نے سوچنے سمجھنے والے ہرشخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ آخر یہ کس گوشت پوست کے انسان ہیں جن کا عقیدہ اتنا مضبوط اور فکر اتنی پختہ ہے کہ ہیبت ناک مظالم بھی انھیں راہِ حق سے نہیں ہٹا پار ہے ہیں۔

زیر نظر کتاب اخوان المسلمون کے بارے میں ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس میں اخوان کی تاریخ بھی ہے، مختلف میدانوں میں اس کی خدمات کا تذکرہ بھی ہے اور موجودہ ایام میں مصر میں جو کش مکش برپا ہے اس کا مفصل احوال بھی ۔

کتاب کا پیش لفظ جماعت اسلامی پاکستان کے شعبۂ امور خارجہ کے ناظم جناب عبدالغفار عزیز نے لکھا ہے۔ عالم عرب کے موجودہ حالات پر موصوف کی گہری نظر ہے۔ اخوان پر ان کی متعدد مؤثر تحریریں رسائل و جرائد میں شائع ہوئی ہیں۔ یہ تحریر بھی بہت مؤثر اور دل کو چھولینے والی ہے۔ اخوان رہ نما محمد البلتاجی کا وہ خط بھی شائع کیاگیا ہے جو انھوں نے میدان رابعہ میں شہید ہونے والی اپنی بیٹی اسماء کو لکھا تھا۔

یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں تحریک اخوان المسلمون کا مختصر تعارف کرایاگیا ہے ۔ باب دوم میں حسن البناء اور باب سوم میں دیگر مرشدین عام کا تذکرہ ہے۔ اسی باب میں ان رہ نمائوں کی بیویوں کا تعارف کرایاگیا ہے کہ کس طرح انھوں نے راہ حق میں شانہ بہ شانہ اپنے شوہروں کا ساتھ دیا۔ باب چہارم میں سید قطب شہید، عبدالقادر عودہ شہید اور زینب غزالی کا اور باب پنجم  میں اخوان کے تیرہ اہل قلم اور ان کی علمی خدمات کاتعارف کرایا گیا ہے۔ اگلے پانچ ابواب موجودہ حالات پر ہیں ۔ ان میں گزشتہ انتخابات میں اخوان کی شان دار کامیابی ، صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے ایک سالہ دور اقتدار کی حصول یابیوں، جنرل سیسی کی سازش اور اصلیت، اخوان کی مزاحمت و استقامت اور ان کو حاصل ہونے والی حمایت اور مخالفت پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ آخرمیں مصر کے اس جمہوری آئین کا ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے جسے ڈاکٹر محمد مرسی کے دور اقتدار میںآئین ساز کمیٹی نے تیار کیاتھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اخوان المسلمون اور فرعونیت کی موجودہ کش مکش کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتی ہے۔ جناب میر بابر مشتاق نے بہت مؤثر اسلوب میں یہ کتاب تحریر کی ہے۔ منشورات (لاہور) کے بعد اب منشورات (نئی دہلی) نے اسے شائع کرکے ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔

جولائی 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau