نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

روزہ اور ہماری زندگی

مصنف:           ڈاکٹر انیس احمد

ناشر:                    منشورات: منصورہ، ملتان روڈ، لاہور (پاکستان)

سنۂ اشاعت:  ۲۰۱۴ء  l  صفحات:   ۳۳۶            l قیمت:    ۲۹۶روپے (پاکستانی)

یوں تو مارکیٹ میں روزہ کے احکام و مسائل بتانے والی بہت سی کتابیں دست یاب ہیں۔ مختصر بھی اور ضخیم بھی۔ لیکن ایسی کتابیں کم پائی جاتی ہیں، جن میں روزہ کا فلسفہ و حکمت، ماہ رمضان کی فضیلت، اس کی تاریخی اہمیت، سیرت و اخلاق پر پڑنے والے اثرات وغیرہ پر مؤثر اسلوب اور عام فہم انداز میں گفتگو کی گئی ہو۔ زیر نظر کتاب کا مطالعہ کرکے بڑی مسرت ہوئی کہ اس میں ان تمام موضوعات کا احاطہ کیاگیا ہے اور ان پر بہت عمدہ بحث کی گئی ہے۔

اسلامی عبادات میں روزہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یوں تو دیگر عبادات کی طرح روزۂ رمضان میں بھی اجتماعیت کا پہلو نمایاں ہے، لیکن اس کی ادائی بندہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کرتا ہے اور اس کا گواہ صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ اسی کو ایک حدیث قدسی میں ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے: فانّہ‘ لِی وَ انااَجزی بہ (روزہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔) اس پہلو سے روزۂ رمضان میں انسان کے تزکیہ و تربیت کا وافر سامان موجود ہوتا ہے۔ روزہ کو قرآن کریم سے بھی خاص تعلق ہے، اس لیے کہ اس کا نزول اسی ماہ مبارک میں شروع ہوا ہے۔

زیر نظر کتاب میں روزہ کے مختلف پہلوؤں پر تیس مضامین شامل ہیں۔ اس میں خاص طور پر نئی نسل کو مخاطب بنایا گیا ہے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں آسان زبان میں اظہار خیال کیاگیا ہے۔ کتاب پر مشہور محقق اور دانش ور پروفیسر خورشید احمد صاحب نے پیش لفظ تحریر کیا ہے۔ انھوں نے بجا طور پر لکھا ہے: ’’اس کتاب میں روزہ کے ہمہ جہتی کردار کا بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ احاطہ کیاگیا ہے۔ اس پہلو سے یہ کتاب مفید ہی نہیں، منفرد بھی ہے۔ رب سے تعلق، خوداپنی تربیت اور تزکیہ اور پھرانسانی زندگی کے ہر پہلو اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر دائرے میں روزہ کا جو کردار ہے، اسے نہایت سادہ زبان میں اور نہایت محکم دلائل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں اسلامی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے اور قرآن اور اسوۂ نبویؐ کی روشنی میں پوری زندگی کی صحیح خطوط پر تعمیر وتشکیل کی جاسکتی ہے۔ اس میں جس جامعیت کے ساتھ زندگی کے روحانی، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی ، غرض ہمہ پہلوئوں پر روزے کے اثرات کا احاطہ کیاگیا ہے وہ اسے ایک منفرد علمی اور دعوتی کاوش بنا دیتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں رمضان المبارک کے دوران جو اہم تاریخی واقعات رونما ہوئے ہیں انھیں بھی بڑے ایمان افروز انداز سے ایک خوب صورت یاد دہانی کے طور پر بیان کردیاگیا ہے‘‘۔ (صفحہ ۱۴۔۱۵)

امید ہے ، اس کتاب کو علمی ودینی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور اس سے خاطرخواہ فائدہ اٹھایا جائے گا۔                                              (محمد رضی الاسلام ندوی)

 نصرت اللہ خاں شیروانی کا سفر حجاز

مرتب:           ڈاکٹرمفتی محمد مشتاق تجاروی

ناشر:                     علی گڑھ ہیری ٹیج  پبلی کیشن، علی گڑھ

سنہ اشاعت:  ۲۰۱۴ء  l  صفحات:   ۱۸۴           l قیمت:    ۲۰۰روپے

یہ سفر نامہ آج سے تقریباً نوے (۹۰) سال قبل ۱۹۲۶ء میں تحریر کیاگیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سفر کے بے شمار مسائل  تھے۔ چوپایوں سے مسافت طے کی جاتی تھی۔ اور ریگستانوں میں لٹ جانے کا خطرہ بنا رہتا تھا۔ بیش تر قافلے صحرائی قزاقوں کی نذر ہوجایا کرتے تھے۔

یہ دراصل نصرت اللہ خاں شیروانی کے سفر حج کی یاد داشتیں ہیں جو جواں عمری میں دیار حرم کے سفر کے دوران تحریر کی گئی ہیں۔ اس میں مصنف نے بڑی تفصیل سے مکہ اور مدینہ کے راستوں اور بازاروں، سفر حج کے دوران یومیہ مصارف اور اخراجات، حتیٰ کہ اشیاء خوردنی کی قیمتوں اور اونٹوں اور مکان کے کرایہ وغیرہ کا ذکر دلچسپ انداز سے کیا ہے۔اس ضمن میں بہت معمولی اور جزئی چیزوں کا بھی احاطہ کیا ہے، جیسے حمال کی اجرت، شتربان کی اجرت، دودھ، دہی، لکڑی، چائے ، انڈا، گوشت، سبزی اور پھل وغیرہ۔

مصنف نے اس کتاب کو دلچسپ بنانے کی غرض سے حج پر جانے کی تفصیل بھی لکھی ہے، جو کسی قدرمعلوماتی ہے اور اسے پڑھنے میں لطف بھی آتا ہے۔ مثلاً حج پر جانے کے لیے ضروری سازوسامان کی تفصیلات کا بیان، سفر کی ضروری تیاری کا ذکر، جہاز پر سوار ہونے کے احوال، سفر کے دوران مختلف جگہ سے آئے لوگوں کا حال، ان کے مباحثے، سیاسی نوک جھوک، خوش گپیاں، سڑک ، لاری، سعودی عرب میں سرائے، شتربان اور مسجدوں کا حال بھی کتاب میں ملتا ہے۔ مصنف کا آبائی وطن حسن پور ہے، اس کی تفصیل اور مصنف کے احوال بھی درج ہیں۔ سفر نامے کو ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مرتب کیا ہے۔ ان کے قلم سے اس پر ایک مبسوط مقدمہ بھی ہے۔ امید ہے، سفر ناموں سے دلچسپی رکھنے والے اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور اس کی اہمیت محسوس کریں گے۔                (محمد رضوان خان)

شعرائے بھٹکل کی نعتیہ شاعری (مع ضمیمہ شبیہ انجمن)

مصنف:           ڈاکٹرشاہ رشاد عثمانی

ناشر:                     اپلائڈ بکس، نئی دہلی۔۲

اشاعت دوم: ۲۰۱۴ء(اضافہ ونظرثانی شدہ)l  صفحات:۱۹۲l ،قیمت:    ۲۰۰روپے

نعت کا فن نازک بھی ہے اور مشکل بھی، کیوں کہ اظہار عقیدت و محبت میں بے احتیاطی کے ساتھ کہا گیا  ایک جملہ بھی شرک سے ہم کنار کرکے اللہ تعالیٰ کے غضب سے دوچار کردیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نعت گوئی کا فن توفیقِ خداوندی کا رہین منت ہے                             ؎

کیا فکر کی جولانی کیا عرضِ ہنرمندی

توصیفِ پیمبر ہے توفیقِ خداوندی

شعرائے بھٹکل کی نعتیہ شاعری (مع ضمیمہ  شبیہ انجمن) ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی تصنیف ہے، جو ۲۰۰۹ء میں شائع ہوئی تھی۔ اشاعتِ دوم میں نعت کا فن (مطبوعہ ، ماہ نامہ سیارہ ، لاہور، سال نامہ ۱۹۹۲ء) نعت کی دینی حیثیت و اہمیت، مطبوعہ سہ ماہی زبان و ادب ، پٹنہ) اور بھٹکل کا ادبی وشعری ماحول  (مطبوعہ ساحل نیوز، بھٹکل ،۲۰۰۵ء) اورشعرائے بھٹکل اور اردو نعت جیسے مضامین کا اضافہ کیاگیا ہے، جس سے کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھٹکل دینی اور دنیوی علوم وفنون کا گہوارہ ہے۔اس کی تاریخی، دینی اور تہذیبی حیثیت دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بڑھی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر شاہ رشادعثمانی نے اس کتاب کے ذریعے اہالیان بھٹکل کا عمدہ تعارف کرا دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ادارۂ ادب اسلامی ہند کے مؤقر قلم کار اور نام ور ادیب کی حیثیت سے معروف ہیں۔ اس کتاب میں بھٹکل سے تعلق رکھنے والے ۲۸ نعت گو شعراء کا تذکرہ کیاگیا ہے۔ ان میں سے چند عالمی شہرت یافتہ ہیں اور کچھ نسبتاً کم معروف۔ ہر شاعر کے مختصر حالات زندگی اور مختصر نمونۂ کلام درج کیاگیا ہے، جس سے اس کا فنی، لسانی اور شعری جوہر آشکار ہوجاتا ہے۔ دو اشعار ملاحظہ کیجیے                             ؎

صدق میں اولیٰ میرے مولیٰ عرش نے دیکھا تیرا جلوہ

سب سے ارفع سب سے برتر، صلی اللہ علیہ وسلم

آپؐ کی ذات سے روشن ہوئے دونوں عالم

آپؐ ہیں نیرّ تاباں رسولِ عربیؐ

اس کتاب میں ان ہی نعت گو شعرا کو جگہ دی گئی ہے جن کے فکر وفن میں کسی قسم کا جھول یا نقص نہیں ہے اور جنھوںنے فنِ نعت کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر شاعری کی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک بیش قیمت مجموعہ ہے۔ کتاب میں کہیں کہیں پروف کی غلطیاں طبیعت پر گراں گزرتی ہیں۔ کتاب کی سیٹنگ کا بھی خاص خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ جگہ جگہ قدیم رسم الخط کو روا رکھاگیا ہے۔ ان معمولی خامیوں کے باوجود امید ہے کہ اہل علم وفن اور اصحاب ذوق کے درمیان اسے پذیرائی حاصل ہوگی۔                                                                      (محمد رضوان خان)

 کتابیات مجیب

مرتب:           ڈاکٹرمحمد الیاس الاعظمی

ناشر:                     اصیلہ پریس، دہلی

سنہ اشاعت:  ۲۰۱۴ء  l  صفحات:   ۱۹۲          l قیمت:    ۲۵۰روپے

کتابیات تیار کرنے کا فن تحقیق سے متعلق ہے۔ یہ ایک اہم اور کارآمد فن ہے، یہ کام کئی طریقے سے انجام دیاجاتا ہے۔ یاتو کسی شخصیت کے تمام علمی کاموںکا احاطہ کیاجاتا ہے، یا کسی موضوع کے تحت ہوئے تمام کاموں کو اس میں شامل کیاجاتا ہے۔ اب علمی رسائل کے بھی اشاریے اسی مقصد سے تیار کیے جانے لگے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی شخصیت کی تحریروں سے یا کسی خاص عنوان یا موضوع پر مواد حاصل کرناچاہتے ہیں، ان کو ساری تفصیلات  یکجا دستیاب ہوجاتی ہیں۔ بہ طور خاص علمی اور تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے کتابیات یا اشاریہ سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

’کتابیات مجیب‘دراصل مولانا مجیب اللہ ندوی، سابق رفیق دارالمصنفین  اعظم گڑھ و بانی جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کے علمی کاموں کی فہرست پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ پہلے حصے میں ان کی کتابوں کا اور دوسرے حصے میں ان کےمقالات کا ذکر ہے اور تیسرا حصہ رسائل میں شائع ہونے والے مقالات کے اندراج پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے فاضل مرتب نے لکھا ہے: ’’جو لوگ مولانا مرحوم کی تحریروں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں، ان کو ساری تفصیلات یکجا دستیاب ہوجائیں گی۔ خاص طور پر علمی کام کرنے والوں کے لیے کتابیات کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اسی اہم ضرورت کی تکمیل کے لیے یہ کتاب تیار کی گئی ہے‘‘۔

مولانا مجیب اللہ ندوی مرحوم کا تصنیفی کام بڑا وقیع ہے۔ انھوںنے تالیفات اور مقالات کا ایک قابل قدر ذخیرہ چھوڑا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ان کی معلومات اور ان تک رسائی آسانی ہوگئی ہے۔ امید کہ اس کتاب کے ذریعے اہل علم کی ایک ضرورت پوری ہوگی۔

ہم نے جماعت اسلامی کو کیسے پایا؟

ترتیب:           غازی امتیاز احمد

ناشر:            چنار پبلی کیشنز، مائسمہ، سری نگر

سنہ اشاعت: جنوری  ۲۰۱۵ء  l  صفحات:   ۲۱۶           l قیمت:    ۱۳۰روپے

جماعت اسلامی کی بنیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ۱۹۴۱ء میں ڈالی تھی۔ مولانا کی عالم گیر فکر اور تحریک اسلامی کے نصب العین (اقامت دین) کو ہر طبقے کے لوگوں نے اپنا وظیفۂ حیات بنایا۔ اس عظیم نصب العین کی خاطر تحریک اسلامی کے زعماء و کارکنان اور اراکین نے برصغیر کے کونے کونے میں اسلام کی اشاعت و اقامت کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’ہم نے جماعت اسلامی کو کیسے پایا؟ ان ہی قربانیوں کی بصیرت افروز داستان ہے۔ مصنف نے آغاز ہی میں لکھا ہے کہ ’’یہ کتاب ہجرت و شہادت ، سکون وطمانینت ، جہدِ مسلسل، قیدوبند، غم گساری و دل نوازی کے واقعات سے لب ریز ایک دل آویز مجموعہ ہے‘‘۔

کتاب میں ہرصاحب قلم نے اپنے تجربات منفرد انداز میں بیان کیے ہیں۔ مولانا قاری سیف الدین کو ایمان اور سکونِ قلب کی دولتِ لازوال سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں اور اجتماعِ عام (پٹھان کوٹ، ۱۹۴۵ء) میں شرکت کرکے حاصل ہوئی (ص ۲۲) مولانا امین نقشبندی تفہیم القرآن اور تجدید واحیائے دین جیسی کتابوں سے متاثر ہوئے۔ (ص ۴۹) عبدالسلام کمہار رسالۂ دینیات کا مطالعہ کرکے تحریک اسلامی کے کارواں میں شامل ہوئے۔ (ص ۵۶) ماہر دینیات عبدالاحد مسرور کے قلب وذہن پر ’شہادت حق‘ نامی کتاب نے انقلاب برپا کیا۔ (ص: ۶۵) عبدالاحد بٹ کو’پردہ‘ جیسی اہم کتاب نے تحریک اسلامی کا گرویدہ بنایا۔ (ص ۱۱۷) غلام محمد خرقہ کو ۱۹۶۴ء کے سالانہ اجتماع (سری نگر) کے ایمان افروز ماحول نے تحریک سے منسلک کیا۔ (ص ۱۳۱) معروف مصنف مولانا سید احمد عروج قادری کو کل ہند اجتماع کے نظم وضبط، نصب العین کا شعور اور مقصد زندگی کے لیے تڑپ اور لگن نے متاثر کیا۔ (ص ۱۸۵) زیر تبصرہ کتاب دو (۲) ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں سولہ  (۱۶) زعمائے جماعت کا تذکرہ ہے، جب کہ باب دوم نو (۹)علما کے ذکر پر مشتمل ہے، جن میں مولاناامین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، جناب مائل خیرآبادی، مولانا سید احمد عروج قادری، مولانا فاروق خاں کا بہ طور خاص تذکرہ کیاگیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب تحریک اسلامی کے شان دار ماضی اور دعوت و عزیمت سے بھرپور تاریخ جاننے کے لیے ایک مفید مجموعہ ہے، البتہ کتاب پر مصنف کے بجائے مرتب لکھنا  مناسب تھا۔  (مجتبیٰ فاروق)

جولائی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau