نقدو تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

تاریخ دعوت وتبلیغ (جموں وکشمیر کے تناظر میں)

مصنف:    خاکی محمد فاروق

ناشر:        صدیق پبلی کیشنز، چاڈور،بڈگام

سنہ اشاعت:             ۲۰۱۵ء صفحات: ۴۷۵، قیمت-/۳۰۰روپے ، لائبریری ایڈیشن :-/۶۰۰ روپے

داعیانِ اسلام نے دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچایا ۔ اس کے نتیجے میں بے شمار انسانوں کوقبول ِ حق کی سعادت حاصل ہوئی اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ۔ ایسا ہی ایک خطۂ جنت نظیر کشمیر ہے ، جہاں دعوت و تبلیغ کی کوششوں سے آج وہاں کی غالب اکثریت مشرّف بہ اسلام ہے ۔ کشمیر کی تاریخ پریوں تو بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن ان پر مورخین کے مخصوص رجحانات صاف دکھائی دیتے ہیں ۔ دعوت وتبلیغ اوراشاعت اسلام کے پہلو سے وہاں کی تاریخ پر کوئی قابل ذکر کام غالباً ا ب تک نہیں ہوسکا تھا ۔ زیر نظر کتاب کے مورخ  جناب خاکی محمد فاروق دعوت وتبلیغ کے ساتھ تحریر و تصنیف کا خاص ذوق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس پہلو کو نمایاں کرنے کا بیڑا اٹھایا اوراس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ مثلاً داعئ اسلام امیر کبیر (ہمدانی ؒ) ، مبلغ اسلام شیخ نور الدین ولیؒ، صبر واستقامت کے پیکر ، تاریخ اسلامی جموں وکشمیر کی مختصر تاریخ وغیرہ۔ پھر انہوں نے جموں وکشمیر میں تاریخ دعوت وتبلیغ کی تاریخ مرتب کرنے کا ایک بڑا منصوبہ بنایا ۔ اس کے تحت کئی سال قبل اس کی جلد اوّل شائع کی تھی (اس پر زندگی نومیں تبصرہ کیا جاچکا ہے ) اب انہیں جلد دوم شائع کرنے کی توفیق ہوئی ہے ۔

جلد اول میں مغلیہ دور تک کی تاریخ کا احاطہ کیا گیا تھا ۔ جلد دوم میں اس کے بعد سے موجودہ دو ر تک کی اشاعتِ اسلام کی تاریخ کوبیان کیا گیا ہے ۔ اس جدو جہد میں جن اہم شخصیات ، اداروں اور تنظیموں نے حصہ لیا اورخدمات انجام دیں، ان کا تعارف کرایا گیا ہے ۔ راجوری ، پونچھ ، کشتواڑ، ڈوڈہ اورجموں میں اسلام کب ،کیسے اورکن کے ذریعے پہنچا ؟ افغان اورسکھ ادوارمیں علماء نے کیسے تبلیغی و اصلاحی کو ششیں کیں؟ ڈوگرہ دور میں دینی انجمنوں اورتعلیمی اداروں کے قیام ، علماء کی دینی خدمات اور تحریک آزادی کشمیر کا بھی مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ۔ کشمیر میں عیسائی مشزیوں کی یلغار اورقادیانیت کی آمد کا بھی تفصیلی بیا ن ہے ۔ معاصر تنظیموں اور جماعتوں : جمعیت اہل حدیث ، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت ، انجمن تبلیغ اسلام وغیرہ کی دعوت ، تاریخ اورخدمات کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

یہ کتاب اپنے موضوع پر عمدہ اضافہ ہے ۔ مؤلف نے نہ صرف تمام دستیاب مراجع پیش نظر رکھے ہیں، بلکہ ان پر تنقیدی نظر ڈالی ہے اورتحقیق وتمحیص کے بعد معلومات پیش کی ہیں۔

(محمد رضی الاسلام ندوی)

گوشت خوری سے گلابی انقلاب تک

مصنف:    ڈاکٹر عبد السمیع صوفی

ناشر:        اپلائڈ بکس،1739/10(Basement)،نیو کوہ نور ہوٹل،پٹودی ہاوس،

دریا گنج،نیو دہلی۔۱۱۰۰۰۲

سنۂ اشاعت:             ۲۰۱۵ء،صفحات:۲۰۸، قیمت:۔؍۱۵۰ روپے صرف

ہندوستان ایک کثیر لسانی و کثیر ثقافتی ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت گوشت خور ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے خالص سبزی خور ملک کی آبادی کا صرف نو(۹)فیصد ہیں۔ اس کے باوجود یہاں ’گائے کشی ‘اور اس کے بعد ’جیو ہتّیا‘ کے نام پر شدت پسند افراد فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ملک کی بیش ترریاستوں میں گائے کے گوشت کے کاروبار پر پابندی عائد کر د ی گئی ہے ۔ تاہم بھینس، بیل وغیرہ کے ذبیحہ اور تجارت کی اجازت ہے۔ یہ بات بے حد دل چسپ ہے کہ ’گائے کشی‘ پر پابندی عائد کرنے کے بعد بھی یہاں گوشت کے بڑے ایکسپوٹرز غیر مسلم ہیں، جن میں ’آل انڈیا میٹ ایکسپوٹرز ایسوسی ایشن‘ کے جنرل سکریٹری ڈی بی سبھروال، انل سبھروال (الکبیر ایکسپوٹرز)، اجے سود (النور ایکسپورٹ) اور مہیش جگدالے اینڈ کمپنی بھی شامل ہیں۔سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں سب سے زیادہ گائے کا گوشت( 13 لاکھ ٹن) غیر ممالک بھیجا گیا۔ اور بی جے پی سرکار نے اپنے  چار سالہ دور حکومت میں گائے کے گوشت کے ایکسپورٹ پر پابندی لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

جدید ہندوستان میں سیاسی مصلحت کے تحت انتہا پسندوں نے جو طریقۂ کار اختیار کیا ہے، اس سے انسانی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ صرف ایک خالق کائنات کو سجدہ کرنا چاہیے۔ اس کی حاکمیت اور ربوبیت میں کوئی شریک نہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے ہر خطے میں مشرکین کے اعمال پر مسلمان مشتعل نہیں ہوتے ،بلکہ انسانی آزادی سمجھتے ہوئے ہمیشہ رواداری کا ثبوت دیتے ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور ثقافتی ملک میں مسلمانوں نے ہمیشہ رواداری اور یک جہتی کو مقدم رکھا ہے۔ ایسے ملک میں ’گوشت خوری‘ پر پابندی کا رجحان شدت پسندی کی آگ میں گھی ڈالنے کے مترادف ہے۔ سبزی خوری کی تشہیر معیوب نہیں ہے۔ شاید ہی کوئی انسان ہوگا جو سبزی خور نہیں ہوگا۔ لیکن کبھی کبھی ڈاکٹر مریض کی صحت کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے بعض سبزیوں پر پابندی عائد کردیتا ہے۔ اسی طرح مریض کی صحت کے مطابق بعض جانور وںکے گوشت کے استعمال پر بھی پا بندی لگا دی جاتی ہے۔ لیکن عمومی طور پر ہندوستان میں ’گوشت خوری پر پابندی‘ عائد کرنے کا رجحان ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ گوشت خوری اور گوشت کی تجارت کا ایک بڑا پہلو یہ ہے کہ اس سے ملک کو سالانہ اربوں کھربوں ڈالر کا منافع ہوتا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے۔ ایسی صورت میں ملک کو سماجی اور اقتصادی لحاظ سے دیوالیہ پن کی طرف جانا ٹھیک نہیں۔ اس کے برعکس ملک میں جس چیز پر پابندی عائدکرنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ ہے خطرناک نشہ آور اشیا اور شراب۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے استعمال سے گھر اور خاندان تباہ ہو رہے ہیں، نئی نسل پر مایوسی طاری ہو رہی ہے، خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کا انسانی سرمایہ بالخصوص نوجوان نسل کے تعمیری رول سے ملک نہ صرف محروم ہو رہا ہے، بلکہ بتدریج تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نشہ آور اشیا اور شراب نوشی نے ملک کے ہر طبقے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ ذہانت اور ٹیلنٹ نشہ آور اشیا اور شراب نوشی کی دلدل میں ہچکیاں لے رہے ہیں۔

زیرنظر کتاب ’گوشت خوری سے گلابی انقلاب تک‘ڈاکٹر عبدالسمیع صوفی (پ: 25 اکتوبر 1935) کی اپنے موضوع پر ایک اہم معلوماتی اور وقیع کتاب ہے۔ موصوف سرکاری کمپنی ’گوا میٹ کامپلیکس لمیٹڈ‘ میں منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز رہے اور 1993 میں ریٹائرڈ ہوئے۔ یہ کتاب انہوں نے بڑےتحقیقی انداز میں لکھی ہے۔ اردو میں اس موضوع پر شاید یہ پہلی کتاب ہے جس میں گو شت خوری کی تاریخ ہی نہیں ،بلکہ ہندوستان میں گوشت کی تجارت اور اس سے یہاں کے اقتصادی فوائد کا گہر ا ئی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس میں صحت مند اور سستے گوشت کے حصول کے لیے جانوروں کی افزائشِ نسل، مختلف اقسام کے گوشت کی خصوصیات اور فوائد، گوشت کی تیاری کے لیے جدید خطوط پرذبح خانوں کے قیام، اسٹوریج، تقسیم اور برآمدات کا تاریخی، مذہبی، طبّی، اقتصادی اورجدید سائنسی اور تکنیکی علوم کی روشنی میں مفصل جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے اس پہلو سے تاریخی حوالوں سے بھی بحث کی ہے۔ اور واضـح کیا ہے کہ ہندوستان یا بیرون ملک میں چند گروپوں کا گوشت خوری سے اجتناب تاریخی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور طبّی لحاظ سے غلط ہے۔ کتاب کے آخر میں فاضل مصنف نے ضمیمہ کے طور پر نیشنل میٹ اور پولٹری پروڈکٹس بورڈ کا تعارف اور اس کے مقاصد پر بڑی اہم معلومات فراہم کردی ہیں۔    (محمد عارف اقبال)

 ندائے تربیت

مصنف:                    عبد الحمید جاسم البلالی ،مترجم :مفتی محمد ارشد فاروقی

ناشر:                        المنار پبلشنگ ہائوس N-27، ابو الفضل انکلیو ، جامعہ نگر ، نئی دہلی 110025

تاریخ اشاعت:                          اپریل ۲۰۱۵؁ء

صفحات:                    ۳۲۰قیمت:۲۰۰ روپیہ

موجودہ دور میں جہاں ایک طرف مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بہتر سے بہتر( اور آج کی اصطلاح میں کہا جائے تو اسٹینڈرڈ) اسکولوں میں داخل کرانے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں وہیں دوسری طرف انہیں اپنی اولاد کی تربیت کے لیے وقت ہی میسر نہیں ہے ۔ چنانچہ تربیت میں کوتاہی کی وجہ سے نئی نسل اپنا اسلامی اقدار اور ثقافت کھوتی جا رہی ہے ۔انسان کی زندگی میں اخلاق و تربیت کی بہت اہمیت ہے ۔ آپ ﷺ نے اس کی پرزور تائید ہی نہیں کی بلکہ اس کو عملی جامہ پہنا کر لوگوںکے سامنے پیش کیا ۔کہا جاتا ہے کہ یہ تربیت ہی کا اثر ہے جو کسی کو ڈاکو اور چور بنا دیتا ہے اور وہیں کسی دوسرے کو سیرت و کردار کا پیکر بنا کر وقت کا امام بنا دیتا ہے ۔اگر بچپن ہی سے عادات و اطوار کو صحیح سمت میں ڈھالا جائے تو اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔

زیر نظر کتاب ’ندائے تربیت‘ دراصل شیخ عبد الحمید جاسم البلالی کی عربی کتاب ’وقفات تربویۃ‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ یہ کتاب باضابطہ کوئی تصنیف نہیں ہے بلکہ، ان مضامین کا مجموعہ ہے جو کویت سے نکلنے والے  ہفت روزہ میگزین المجتمع میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔اندازِ بیان بہت سادہ ،دلچسپ اور پر کشش ہے ۔ مصنف نے تربیتی نقطۂ نظر سے قرآنی آیات ، احادیث نبوی ، صحابہ کرام اور اقوال علماء کو بھی بطور عبرت و نصیحت درج کیا ہے ،ہر مضمون تقریبا ڈیڑھ سے دو صفحات میں محیط ہے اورمصنف نے اپنے ما فی الضمیر نہایت مؤ ثر اسلوب میں پیش کیا گیاہے۔شیخ البلالی عالم اسلام میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ موصوف ،خطیب و امام ہونے کے ساتھ ایک مربی کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں ۔ امید ہے کہ ’ تربیتی مجموعہ‘عوام و خواص کے لیے بہترین تحفہ اور دینی تربیت کا ایک آسان اور بہتر ذریعہ ثابت ہوگا  اور بڑے پیمانے پر اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ و ہ مصنف ،مترجم اور اس میں مددگار ،تمام ہی افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آمین !                      (محمد اسعد فلاحی)

سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات (مقالات سمینار)

مرتب:                     اشہد رفیق ندوی

ناشر:                        ادارۂ علوم القرآن ،پوسٹ بکس نمبر ۹۹، شبلی باغ علی گڑھ -۲۰۲۰۰۲

تاریخ اشاعت :                          ۲۰۱۵؁ء

صفحات:                    ۴۴۰قیمت:۳۶۰ روپے

ادارۂ علوم القرآن علی گڑھ کا قیام ،کتاب اللہ کی عظمت اور اس کی اساسی حیثیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے مختلف انداز اور پہلؤوں سے، اس سے ربط و تعلق کو استوار رکھنے ،قرآنی علوم و معارف کی توسیع و اشاعت کی کوششوں کو جاری رکھنے کے با وقار عزائم کے مقاصد کے تحت ۱۹۸۴ء میں عمل میں آیا تھا۔یہ ادارہ گدشتہ تیس(۳۰) برسوں سے قرآن مجید سے متعلق مختلف موضوعات کے تحت قرآن مجید سے رہ نمائی حاصل کرنے کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے کوشش کر رہا ہے ۔ چناں چہ گزشتہ کئی برسوں سے ہر سال قرآن مجید سے متعلق کسی اہم موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں عصری مسائل کا حل قرآن مجید کی روشنی میں اجتماعی گفتگو اور بحث و مباحثہ کے زریعہ دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔بعد میں سمینار میں پیش کردہ مقالات کو کتابی صورت میں شائع کر دیا جاتا ہے ۔ادارۂ علوم القرآن علی گڑھ کی طرف سے۲۷ ۔۲۸ ستمبر  ۲۰۱۵؁ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں’ سماجی برائیوں کاا نسداد اور قرآنی تعلیمات ‘موضوع کے تحت ایک سمینار کا انعقاد ہوا ۔زیرِ نظر کتاب اس سمینار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقالہ نگاران نے مرکزی موضوع کے تحت اپنے مقالہ کو بھر پور تیاری کے ساتھ قرآن کی روشنی میں اپنا مقا لہ پیش کیا ہے ۔مقالات میں قرآن کی روشنی میں سماجی برائیوں سے تعرض کیا گیا ہے اور شرک و بدعات ، ظلم و فساد ،فحاشی و عریانیت ،استکبار و سماجی اونچ نیچ ، دروغ گوئی ،شراب نوشی ، عیاشی و اباحت پسندی ،رسم ورواج ،سود ،جنسی تشددجیسی مختلف برائیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب میں موجود تیئیس (۲۳) مقالات کے ساتھ مولانا محمد فاروق خان کے کلیدی خطبہ کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ تمام مقالات اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہیں ۔ ان میں سے چند اہم مقالات کے عناوین درج کیے جارہے ہیں :

فساد فی الارض کی تعریف اور جہات ،سماجی برائیوں کے انسداد کی قرآنی اپروچ اور حکمت عملی، سماجی معاشرتی برائیوں کا انسداد قرآن کی روشنی میں ،ظلم و جبر کا قرآنی تصور، مادہ پرستی قرآن کی نظر میں، سماجی تفاخر کا انسداد قرآنی – اسلامی تناظر میں ،جنسی استحصال اور قرآنی تعلیمات ،اخلاقی بحران -فتنہ و فساد کی بنیاد، گدا گری اور اسلام میں اس کا علاج، شراب اور نشے کی ممانعت قرآن و حدیث کی روشنی میںان متنوع موضوعات سے کتاب کی اہمیت کا ندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔مقالات زبان و بیان  ، مواد و استدلال ہر اعتبار سے لائق تحسین اور قابل مطالعہ ہیں ۔ امید ہے کہ کتاب کوعوام و خواص میں قبولیت حاصل ہوگی اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔               (محمد اسعد فلاحی)

 شبلی اورجہاں شبلی

مصنف:                    ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی

ناشر:                        ادبی دائرہ، غلامی کا پورہ، عقب آواس وکاس، اعظم گڑھ ( یوپی)

سنہ اشاعت:                             ۲۰۱۵ء ، صفحات:  ۲۰۸  ، قیمت:  -/۲۵۰روپے

سرسید کے قریبی دوستوں میں ایک اہم نام علامہ شبلی نعمانی کاہے ۔ وہ ۱۸۵۷، میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۴ء میں ستاون (۵۷) سال کی عمر میں وفات پائی ان کی کثیر الجہات اورمتنوع شخصیت پر اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ اس کے باوجود نئی نئی جہات روز بروز سامنے آرہی ہیں ۔ جوتحقیق بھی منظر عام پر آتی ہے وہ نئی تازگی کا احساس دلاتی ہے ۔ اسی کی ایک لڑی زیر نظر کتاب ہے ، اس میں مولانا کے وسیع علم فکر وفن کے مختلف زوائے اور اسلوب کی نبرنگی کے الگ الگ پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ نے علامہ شبلی کوایک ایسے دور میں پیدا فرمایا تھا جب اسلام پر چہار طرف سے حملے ہورہے تھے ۔ کہیں اسلام کے خلاف مذموم کوششیں کی جارہی تھیں توکہیں اسلامی علوم وفنون اوراشعار اسلام کومٹانے کی ناکام کوشش ہورہی تھی ، ایک طرف عیسائی لابی پیش پیش تھی تودوسری طرف آریہ ، پادری، ہندو اہل قلم اورمستشرقین خم ٹھونک کر اسلام کی مخالفت میں آگے آرہے تھے ۔ ایسے دور میں مولانا مرحوم ابطال باطل کے لیے میدان کا ر میں سرگرم عمل تھے۔ آپ کی دات والا صفات سراپا خیر وفلاح تھی۔ وہ بیک وقت بلند پایہ منصف ، مقرر ، محقق ، تاریخ نویس اورصاحب طرز ادیب اورصاحب دیوان شاعر بھی تھے ۔ انہوں نے جنگ طرابلس کے زمانے میں ’شہر آشو ب اسلام‘کے نام سے ایک نظم کہی تھی :

مراکش جاچکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے

کہ جیتا ہے یہ  ٹرکی کا مریضِ خستہ جاں کب تک؟

یہ سیلابِ بلد بلقان سے جوبڑھتا آتا ہے

اسے روکے گا مظلوموں کی آہوں کا دہواں کب تک؟

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی کل تصانیف کی تعدادیوں توتین درجن کے قریب ہے ، لیکن زیر نظر بالخصوص کی نویں پیش کش ہے اس میں کل دس مضامین شامل ہیں ، جومختلف سمیناروں میں پیش کیے گئے ہیں ، ان کے ذریعے علامہ کی پوری شخصیت کا احاطہ ہوجاتا ہے ، اس کتاب کے تمام ہی مضامین معلوماتی ہیں بالخصوص ’ علامہ شبلی اوراسلامی اقدار کا تحفظ، علامہ شبلی کی ملّی درد ہندی (اردوشاعری کے حوالے سے)‘مراسلات شبلی: ایک مطالعہ اور علامہ شبلی اورزمیندار کافی اہم اور معلوماتی ہیں۔ یہ کتاب’ شبلیات  ‘ کے باب میں ایک اضافہ ہے ۔ امید کہ اہلِ علم اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے ۔

(محمد رضوان)

 سامانِ سفر تازہ کریں

مصنف:                    فیاض قریشی

ناشر:                        پرنٹیک پبلیشنگ ہاؤس

سنہ اشاعت:                             ۲۰۰۴ء ، صفحات:  ۲۲۴  ، قیمت:  -/۲۰۰روپے

زیر نظر کتاب جناب فیاض قریشی کی دوسری تصنیف ہے اس سے قبل ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’پیاسا شہر پیاسے لوگ ‘ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔ قریشی صاحب یوں توافسانہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ، لیکن ان کی صلاحتیں سماجی اورتعلیمی میدان میں بھی نمایاں ہیں ۔ یہ کتاب اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کی پس ماندگی ‘ بدحالی اور تعلیم سے دوری کی بنا پر کس درجہ فکر مند رہتے ہیں ۔ ان کا دل ان کا در د ہے اس کتاب کی صورت میں صفحۂ قرطاس پر نمایاں ہوگیا ہے ۔یہ کتاب چالیس مضامین پر مشتمل ہے ۔ مضامین اصلاحی نوعیت کے ہیں ۔ ان میں سماجی، سیاسی، تعلیمی اورمعاشرتی موضوعا ت پر اظہار خیال کیا گیا ہے ۔ ان مظامین کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیاہے : (۱) مسلم معاشرے کے تعلیمی مسائل ، (۲) مسلمانوں کے سیاسی مسائل (۳) اردو کے مسائل، (۴) مسلم معاشرہ اورحالاتِ حاضرہ(۵) مذہبی مسائل ۔ اس کتاب کا پیش لفظ معروف ملّی، سیاسی اورسماجی رہ نما جناب سید حامد مرحوم نے لکھا ہے ، جو نہا یت ہی پر مغز اور مفید ہے ، مرحوم نے اپنے تجربات کی روشنی میں ملّت کی تعلیمی ، سماجی اورسیاسی حالات پر تبصرہ کیا ہے ۔ جس سے ان کے علم کی گہرائی اور گیرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔

یہ کتاب جہاں اپنے مواد کے اعتبار سے اہم ہے وہیں اس کا اسلوب بھی مؤثر ہے اور مواد بھی فکر انگیز ہے ۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم نے اس کتاب کے فلیپ پر لکھا ہے ۔’فیاض قریشی کے خطبے میں مولانا ابوالکلام آزادکا قلم ‘ مولانا حسن احمدمدنی کی تقریر کا انداز اورڈاکٹر ذاکر حسین کے فکر انگیز  خیالات اورملّت کا ددد سمایا ہوا ہے ۔مجموعی اعتبار سے یہ کتاب عمدہ، دلکش اور معلوماتی ہے ، امید کہ اہلِ علم اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔

(محمد رضوان خان)

تلاشِ حق-ہر انسان کا بنیادی فریضہ

مصنف:    جناب محمد اقبال ملا (مرکزی سکریٹری شعبۂ دعوت ، جماعت اسلامی ہند)

ناشر:                        مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر  ز،نئی دہلی

سنہ اشاعت:             ۲۰۱۵ء ، صفحات:  ۸۰  ، قیمت:  -/۴۸روپے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’یقینا زمین و آسمان کی تخلیق اور رات ودن کے باری باری آنے میں اہل خرد کے لئے بڑی نشانیاں ہیں، یعنی ان لوگوں کے لئے جو کھڑے،بیٹھے، اور سوتے جاگتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیںاور زمین وآسمان کی خلقت پر غور و فکر کرتے ہیں۔ (وہ پکار اٹھتے ہیں)پروردگار!تو نے یہ کارخانہ یونہی نہیں بنایا ۔تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے ،پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے‘‘۔(آل عمران:۹۱-۱۹۰)

حق کوئی ایسی مخفی شئی نہیں ہے کہ انسان اس کی تلاش میں سرگرداں ہو اور اسے پا نہ سکے ۔حق ہر جگہ موجود ہے ، بس اس کا ادراک کرنے والی آنکھوں اور قبول کرنے والے دلوں کی ضرورت ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ حق ایک ہوتا ہے انیک (کئی) نہیں ہوتے۔وہ ایک کیا ہے ؟کہاں ہے؟اسے کیسے پایا جاسکتا ہے؟،یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن پر غور کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔زیر تبصرہ کتاب اسی ایک حق کو پانے کی ایک کام یاب کوشش ہے ۔فاضل مصنف ایک طویل دعوتی تجربہ رکھتے ہیں ۔کتاب اور اس کے مشمولات ان کے تجربہ کے گواہ ہیں ۔کتاب کے سارے مباحث بنیادی ہونے کے ساتھ عملی اور منطقی بھی ہیں ۔آغاز میں مصنف نے ’چند باتیں‘ عنوان سے غلط فہمیوں کا تذکرہ کیا ہے جو عام طور سے ہندوستانی سماج میں پائی جاتی ہیں اور قارئین سے گزارش کی ہے کہ وہ ہر طرح کے تعصب سے بالا تر ہوکر حق کو تلاش کریں ،کیوں کہ خالقِ حقیقی کے نازل کردہ حق کی جستجو ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔پھر یہ بتایا ہے کہ ایک خدا کو مانے بغیر انسان کے لیے چارہ نہیں ہے ۔معرفت خداوندی کا حصول ہی انسان کی اصل ضرورت ہے اور اس کی تکمیل کا پورا سامان خود اللہ رب العزت نے فرمادیا ہے۔اس کے بعد اسلام کے تصور ِالٰہ پر نہایت معقول و مدلّل گفتگو کی ہے اور اس سلسلہ میں پائے جانے والے دیگر تصورات کا تجزیہ کرکے بتایا ہے کہ یہ تمام تصورات ناقص،نا معقول اور غیر فطری ہیں ۔جب کہ اسلام کا پیش کردہ تصور ہی صحیح،کامل،معقول اور فطری ہے۔

آخری ابواب میں شرک کی حقیقت،ایمان بالکتاب،اوتار واد یا رسالت،آواگمن اور اسلام کا تصور آخرت ،جنت اور دوزخ کے مناظر جیسے اہم موضوعات پر عالمانہ بحث کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اسلام کی اساس کلمۂ شہادت ہے،یہ آفاقی، فطری،اور انسانی مذہب ہے ،دنیا کا کوئی بھی انسان اسے قبول کرسکتا ہے۔ یہ کتاب دینی لٹریچر میں ایک قابل قدر اضافہ اور ہر اس فرد کے لیےایک قیمتی تحفہ ہے جو صدق دل سے حق کا متلاشی ہے۔تمام مشتملات علمی ہونے کے ساتھ عملی بھی ہیں ، اس کے لیے فاضل مصنف ہم سب کی طرف سے مبارک بار کے مستحق ہیں۔یہ کتاب اصلاً برادرانِ وطن کے لیے لکھی گئی ہے ۔ اردو میں اس کا شائع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ راہِ دعوت میں کام کرنے والے اپنے مخاطبین کے سامنے کس طرح اسلام کوپیش کریں۔ امید ہے ، اس کتاب کا ترجمہ ملک کی دیگر علاقائی زبانوں میں جلد شائع کیا جائے گا۔                                                                                                                                                       (ضمیر الحسن خان فلاحی)

دسمبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau