نقد و تبصرہ

مجتبی فاروق

نام كتاب    : تحریک اسلامی کے ستّر سال : درپیش چیلنجز اور لائحہ عمل

(ہفت روزہ ’مومن‘ سری نگر کا خصوصی شمارہ)

ایڈیٹر       :       پیر عبد الشکور،  ایگزیکیٹیو ایڈیٹر  : ایس احمد پیر زادہ

 سنہ ٔ اشاعت     :    جنوری۲۰۱۸ء،صفحات: ۲۳۲؍، قیمت:  ۱۰۰؍روپے

گزشتہ تین صدیوں میں استعماری قوتیں پوری شدت کے ساتھ مسلم دنیا پر قابض ہونے لگیں، جس کی وجہ سے مسلمانوں نے نہ صرف اپنی غیرت اور اعتماد کو کھو دیا، بلکہ غلامانہ زندگی گزارنے پر رضا مند  ہوگئے۔لیکن اس سب کے باوجود عالم اسلام کے ہر کونے سے غیرت مند نفوس اور تحریکوںنے جنم لیا، جنہوں نے استعماری قوتوں اور طاغوتی نظام کے ناپاک منصوبوں پر پانی پھیر دیا ۔ان میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی برپا کردہ تحریک جماعت اسلامی برصغیر بھی ہے ۔تقسیم ہند کے بعد جماعت اسلامی نے ہندوستان ، پاکستان اور جموں و کشمیر میں الگ الگ نظم قائم کیا ۔اس وقت سے جماعت نے ریاست جموں و کشمیر میں بے شمار اور متنوع خدمات انجام دی ہیں ۔ ان کا جائزہ جماعت کے ترجمان ہفت روزہ’مومن‘ کے زیر نظر خصوصی شمارہ کی صورت میں لیا گیا ہے،جس کا عنوان ہے:’تحریک اسلامی کے ستّر سال : درپیش چیلنجز اور لائحہ عمل ۔

یہ شمارہ ۴۷؍ مضامین اور پانچ انٹرویوز (۲۳۲؍ صفحات )پر مشتمل ہے ۔اس شمارے کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے جناب ایس احمدپیر زادہ لکھتے ہیں:’’ اس بات پر اتفاق ہوا کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ اقامت ِدین کے سفر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کون سی کوتاہیاںسرزد ہوئی ہیں،جن کی وجہ سے اقامت ِدین کے مشن میں اٹھائے جانے والے بعض اقدامات اور کوششوں کی خاطر خواہ نتائج برآمدنہیںہوئے اور جائزہ لے کر دیکھا جائے کہ کہاں اصلاح کی ضرورت ہے؟‘‘۔

زیر نظر شمارے میںجماعت اسلامی کے امراء و زعما ء کے علاوہ مختلف اداروں سے وابستہ ذمہ داروںنے جماعت کی خدمات اور کارناموں پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ مختلف اہل علم و فکر اور دانش وروں نے جماعت کی سیاسی ، سماجی ، تعلیمی ، فکری اور ادبی خدمات کا بے لاگ جائزہ لیا ہے ۔ پہلا مضمون بہ عنوان ’جماعت اسلامی زمانہ ساز تحریک ‘پیر عبدالرشید  صاحب کا ہے، جس میں انھوں نے پر فتن دور میںجماعت کے تاریخ ساز کردار پر گفتگو کی ہے اور جماعت کو درپیش تین چیلنجز کا تذکرہ کیا ہے۔ ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے اپنے مضمون ’ ریاست کی ہمہ جہت تعمیر میں جماعت کا کردار‘ میں جماعت اسلامی کی ہمہ گیر خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ ندوی کا مضمون ’جماعت اسلامی ہمہ جہت انقلاب کی نقیب ‘ کے عنوان سے ہے، جس میں انھوں نے دعوت وتربیت ،تعلیم ، خدمتِ خلق ،علم و ادب اور مقامی و ریاستی مسائل کے حل میں جماعت کے رول پر گفتگو کی ہے ۔’ جماعت اسلامی۔ تب اور اب ‘ کے عنوان سے جناب عبدالاحد مسرور صاحب کا مضمون ہے، جس میں انھوں نے جماعت اسلامی کے ابتدائی احوال کی سیر کرائی ہے۔ ’ریاست کی سیاسی بیداری میں جماعت اسلامی کا رول ‘ کے عنوان سے  جناب غلام قادر لون کا مضمون ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ جماعت نے ہر محاذپر تنقید کے حق کو تسلیم کیا ہے، جس سے سیاسی بیداری کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں بہت مدد ملی ۔موصوف نے ان اسمبلی انتخابات کو بھی موضوع بنایا ہے جن میں جماعت نے شرکت کی تھی۔ڈاکٹر یوسف العمرنے جماعت کی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جماعت اسلامی نے جہاں ا قامت دین کی فکری بنیادوں کوعوام وخواص میں بہت پختہ کردیا، وہیںتعلیمی میدان میں بھی اس نے کار ہائے نمایاں انجام دیے اور انتہائی محدودمالی ذرائع کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں اسکول اور درس گاہیں قائم کیں ۔ (ص۲۷)مولانا نذیر احمد رعنا نے جماعت اسلامی کی خدمات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ جماعت نے اول روز ہی سے تمام حلقہ جات میںشعبہ رفاہ عامہ قائم کر کے عامۃ الناس کی را حت رسانی کی طرف خصوصی توجہ مرکوز کی ۔(ص۳۰) جناب ظہور احمد ٹاک نے اپنے مضمون میںلکھا ہے کہ جماعت کا کارنامہ یہ ہے اس نے سماج کے ہر طبقے کو اپنی طرف کھینچا  ،جو اِدھر آیا وہ اِدھر ہی کا ہوکر رہ گیا، جو کہیں اور چلاگیا وہ جہاں بھی رہا،یہی فکر ساتھ لے کر گیا ۔ (ص۳۳) جناب غلام نبی صدیقی نے جماعت کے ابتدائی دور کے احوال و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح وسائل نہ ہونے کے باجود جماعت نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا ۔امیر جماعت خواجہ غلام محمد بٹ نے اپنے انٹریو میں جماعت کے مختلف ادوار پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ان کی باتیں غور و فکر کی متقاضی ہیں ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’’عہدوں اور مناصب کا لالچ کبھی جماعت کے کارکنوں کو نہ تھا ، آج بھی نہیں ہونا چائیے ،ایک بے لوث خادم دین کی حیثیت سے کام کرنے میں جو لطف ہے وہ کسی منصب پر فائز رہنے یا اس پر قائم رہ کر کام کرنے میں نہیں ہے ۔‘‘(ص:۴۹) ایک اور انٹریو سابق امیر جماعت شیخ محمد حسن کا ہے جو کافی اہمیت کا حامل ہے ۔

اس میںشیخ صاحب نے اپنی ذاتی زندگی ،جماعت سے وابستگی ،انتخابات میں جماعت کا حصہ لینا ، مسئلہ کشمیر اور تعلیم تربیت پر گفتگو فرمائی ہے ۔ ایک اور انٹریوسابق امیر جماعت جناب محمد عبداللہ وانی کا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے ’’کہ ا بتدائی دورمیں جماعت کے ارکان کو معاشرے میں اخلاقی برتری حاصل تھی، لیکن آج مادہ پرستی کی وبا نے ہمارے ارکان جماعت کو بھی متاثر کیا ہے ۔‘‘(ص ۷۵) جناب فہیم محمدرمضان اور ڈاکٹر جوہرقدوسی نے جماعت کی علمی و ادبی خدمات کا تعارف کرایا ہے ۔(ص:۸۴،۱۱۷)ضعیف اعتقادات اور توہمات کوختم کرنے میں جماعت اسلامی نے کیا رول ادا کیا؟ اس پر غازی معین الاسلام نے روشنی ڈالی ہے ۔جماعت کی دعوتی و علمی خدمات کا تعارف مولانا طارق مکی نے کرایا ہے ۔صوبہ جموں میں تحریک اسلامی کی کیا خدمات ہیں ؟اس پرجناب میر محمد شمسی نے گفتگو کی ہے۔ جموں کے حالات جاننے کے لیے یہ ایک اہم مضمون ہے ۔مسئلہ کشمیر کے بارے میں جماعت اسلامی نے کیا رول ادا کیا ہے؟اس پر معروف کالم نویس جناب حسن زینہ گیری نے گفتگو کی ہے ۔ انھوںنے لکھا ہے کہ جماعت نے ہر نازک موڑ پر تحریک کشمیر کو زندہ رکھنے اور مضبوط بنانے کی کوششوں میں اپنا کلیدی رول ادا کیا ہے ۔ (ص۱۳۸)اسی نوعیت کا ایک مضمون معروف ماہرِ سیاسیات ڈاکٹر شیخ شوکت کا ہے، جس میں موصوف نے سیاسی بیداری اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں جماعت کے رول پر فاضلانہ گفتگو کی ہے ۔(ص۱۴۰)جماعت کے ذیلی ادارہ ’انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر اسٹڈیز‘کی خدمات پر ایڈوکیٹ میر اسداللہ نے اورجماعت کی دعوتی خدمات پر جناب خاکی محمد فاروق نے مفصل روشنی ڈالی ہے ۔ جماعت کے اقامتی ادارہ جات کا تعارف میر عرفان نے (ص۲۰۱)اور جماعت کے رسالہ جات کا تعارف غازی سہیل نے کرا یا ہے۔دیگر مضامین میں بھی جماعت کی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

زیر نظر شمارہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔مضامین کا یہ حسین گلدستہ جماعت کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین دستاویز کی حیثیت رکھتاہے ۔البتہ کچھ باتوں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے ۔پہلی بات یہ کہ اگر مضامین کو پانچ یا چھ ابواب کے تحت رکھا جاتا تو ترتیب کا حسن پیدا ہو جاتا۔دوسری بات یہ کہ مضامین میں تکرار حد سے زیادہ ہے۔ مثلاً دعوت و تبلیغ یا علمی و ادبی خدمات پر کئی مضامین ہیں ۔ ایک اور بات یہ کہ اس میں زیادہ تر مضمون نگاروںنے صرف خدمات سے بحث کی ہے ، درپیش چیلنجز کا بس سرسری طور سے تذکرہ کیا ہے، نیز لائحہ عمل پر کوئی مدلل گفتگو نہیں کی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ۲۳۲صفحات میں خواتین کی خدمات پر صرف پونے دو صفحات کا ایک مضمون ہے۔ اس میں بھی پون صفحہ تمہیدی گفتگو کی نذر ہوگیا ہے۔جموں و کشمیر میں خواتین کی تعلیمی ، معاشرتی اور د عوتی خدمات کا تذکرہ تفصیل سے ہونا چاہیے تھا۔، کیوں کہ جماعت نے نصف آبادی یعنی خواتین کو نظر انداز نہیں کیا ہے ، بلکہ ان کی ہمہ جہت تربیت کے لیے جداگانہ نظم قائم کیا ہے۔جماعت کی ابتدائی تاریخ جاننے کے لیے جناب سید علی شاہ گیلانی اورجناب محمد اشرف صحرائی سے بھی استفادہ کرنا چاہیے تھا، لیکن پتہ نہیں کس وجہ سے ان دونوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔

ریاست جموں و کشمیر میں جماعت اسلامی کی دینی ، سیاسی، سماجی ،تعلیمی اور معاشرتی خدمات جاننے کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔ مضامین کا یہ مجموعہ اس لائق ہے کہ تحریک سے وابستہ ہر فرد اس کا مطالعہ ضرور کرے اور تحریکات ِاسلامی پر کام کرنے والے محققین اور ریسرچ اسکالرس کے لیے بھی اس میں کافی مواد ہے ۔ امید ہے کہ اس سے بھر پور استفادہ کیا جائے گا ۔

(مجتبیٰ فاروق)

ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ

نام كتاب           :            کھوئے ہوؤں کی جستجو

مصنف               :            ڈاکٹر حسن رضا، مرتب: خان یاسر

ناشر                       :            منشورات(انڈیا)

سنہ اشاعت     :            ۲۰۱۷،صفحات:۳۰۳،قیمت۲۵۰؍روپے

سیرت بیانی اور خاکہ نگاری کے فرق کا سراغ ڈاکٹر حسن رضا کی جستجو میں پنہاں ہے۔ انسان جن لوگوں سے ملنا چاہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگوں سے مل پاتا ہے اور جو لوگ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ہوں ان سے ملاقات کی حسرت اپنے سینے میں دبائے خود بھی داعیٔ اجل کو لبیک کہہ دیتا ہے۔کسی اجنبی سے شناسائی کاایک ذریعہ اس کے بارے میں سننا اور دوسراذریعہ اسے پڑھنا ہے،لیکن یہ دونوں  وسائل ملاقات کا نعم البدل نہیں ہوسکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایک روحانی وجود ہے اور الفاظ بے روح نقوش یا آواز سے زیادہ کچھ نہیں ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ فیس بک پر چہرے کی تصویر تو دکھائی پڑتی ہے، مگر چہرہ نظر نہیں آتا ۔ خاکہ نگار یہ کرتا ہے کہ الفاظ کے جسم میں یادوں کی روحانیت القاکرکے اپنے اسلوبِ بیان سے منفرد پیراہن عطا کردیتا ہے۔ اس طرح بے جان خاک زندہ و تابندہ ہو کر چلنے پھرنے لگتی ہے۔

تخلیقِ مجازی کا یہ نرالا کھیل سب کے بس کی بات نہیں ۔ خالق کائنات اپنے مخصوص بندوں کو اس   ذمہ داری پر مامور کرتا ہے۔ان کوپسِ پردہ دیکھنے والی بصیرت سے نوازاجاتا ہے ۔جن کی خاکہ نگاری مطلوب ہو ان سےملوانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ وہ زور قلم عطا کیا جاتا ہے جو مشاہدے کوالفاظ کےزنداں میں قید کرلے ۔ رب کائنات عالمِ غیب میں جو کچھ کرتا ہے اس میں سے کچھ اپنے مخصوص بندوں سے بھی کرواتا ہے۔ خلافت ارضی کے منصب کا حق ادا کرنے والے بندوں پرخالق کائنات اپنے اذنِ خاص سے صفتِ خلّاقیت کا چھڑکامینہ برساتاہے۔ مشیت الٰہی کی اس کارفرمائی کے بغیر ویسے خاکے ضبط تحریر میں نہیں آسکتے جیسے ’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘ کا حاصل ہے۔غالب پھولوں کو رنگ وبو سے پرے دیکھتا ہے۔ اس کو گل و لالہ میں دائمی خاک نشینوں کے چہرے نظر آتے ہیں اور وہ  پکار اٹھتا ہے؎

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

خاک میں پنہاں صورتوں کی جستجو نے ڈاکٹر حسن رضا سے یہ خاکے لکھوائے۔ ہر خطۂ ارضی کو وہ ہستیاں نصیب نہیں ہوتیں جنہیں جہاں بینی اور جہاں سازی کی سعادت عنایت کی گئی ہو۔ اسی لیے غالب کو قلق ہے کہ معدودے چند نمایاں ہوئیں، ورنہ سب اپنی اپنی پرنور لحد میں صورِ اسرافیل کی منتظر ہیں۔ اپنے اعزّہ و اقارب کو سپردِخاک کرتے وقت ہم اس فرمانِ خداوندی کو یاد کرتے ہیں کہ ’’ (زمین کی) اسی (مٹی)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے‘‘۔ لیکن اس درمیانی وقفہ میں ربِّ کائنات اپنے کچھ بندوں کو نابغۂ روزگار شخصیات کی جستجو میں لگادیتا ہے۔ یہ حضرات خاکوں کے ذریعہ اپنےقارئین کو اللہ کے مقرب بندوں سے ملوا نے کا کام کرتے ہیں ۔ مبالغہ آرائی سے پاک ان خاکوں کو پڑھتے ہوئے بار بار علامہ اقبال کا یہ مصرع یاد آتا ہے’’یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے‘‘۔

پروفیسرمحمد اقبال گیاوی سے مجھے بنفسِ نفیس ملنے کا موقع ملا ،لیکن ’ کھوئے ہوؤں‘ کے درمیان ان سے ملاقات کی کیفیت یکسر مختلف تھی۔ اس خاکے کو پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ میں ان سے ملا ہی نہیں تھا۔مولانا شفیع مونس  سے میرے خوب مراسم تھے ۔ ان سے ملنے کا اشتیاق مجھے ’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘ میں لے جاتا ہے اور میں اپنی تشنگی کو بڑی حد تک سیراب کرکے لوٹتا ہوں ۔ اس کتاب  میں مجھے میرا مونس چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ میں اسے ہنستا  بولتا دیکھتا تو ہوں، لیکن میری سماعت ان کی آواز نہیں سن پاتی اور ایک ایسی شخصیت سے کوئی سوال نہیں کرتی جو ہمیشہ اپنےجواب سے لاجواب کردیا کرتا تھا ۔ یہ میری کم نصیبی ہے کہ میں ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں کرسکا ،لیکن ان کے خاکے کی بدولت گمان غالب ہے کہ اگر میدانِ محشر کی نفسا نفسی کے عالم میں بھی  موصوف کاسامنا ہوجائے تو میں انہیں پہچان لوں گا ۔

یہ کتاب شخصیات کےساتھ ساتھ ان حالات کی بھی ترجمان ہے جن سے وہ نبرد آزماتھے۔ اپنے زمانے کی یہ تاریخی دستاویز افراد کے حوالے سے بیان ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں اس دورِ پرفتن میں کیے جانے والے انفرادی و اجتماعی فیصلوں کا بڑی صاف گوئی سےاحاطہ کیا ہے ۔ تحریک سے تعلقِ خاطر اور بزرگوں کی بے پناہ عقیدت کے سبب اس معاملے میں حق گوئی ان کے لیے پل صراط کا مرحلہ رہا ہوگا، لیکن بڑی سلیقہ مندی کے ساتھ وہ اس آگ کے دریا سے گزر گئے۔ صاف گوئی کے باوجود دل آزاری سے گریز  ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔اس فن کی چابک دستی کا بہترین مظہر مولانا ابواللیث ندویؒ  پر لکھا ہوا خاکہ ’’ دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ ‘‘ہے۔

یہ کتاب ان عظیم ہستیوں سے متعارف کراتی ہے جن کی انفرادی زندگی اپنے آپ میں مینارۂ نور ہے۔ ان لوگوں نے باطل کی تاریکی میں حق کی شمع روشن کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا اور تاریخ کا دھارا موڑنے والی اسلامی تحریک برپا کرکے اس میں اپنا سب کچھ کھپا دیا۔ اس لحاظ سے نئی نسلوں کے لیے اس میں ترغیب و ترہیب کا بڑا سامان ہے۔ ان خاکوں کو پڑھتے ہوئے علامہ اقبال کی نظم مسجدِ قرطبہ  بارہا یاد آئی ؎

آنی  و  فانی   تمام   معجزہ    ہائے   ہنر

کار جہاں  بے ثبات    کار جہاں     بے ثبات

اول  و  آخر  فنا    باطن  و   ظاہر   فنا

نقش   کہن   ہو کہ     نو   منزل     آخر    فنا

ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوام

جس   کو کیا   ہو کسی    مرد  خدا    نے    تمام

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ

عشق ہے اصلِ حیات موت ہے اس پر حرام

سچ تو یہ ہے کہ شاعرِ مشرق کے ان اشعار کا اطلاق مردِ خدا  کی اس تحریر  ’ کھوئے ہوؤں کی جستجو‘پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے دعا ہے کہ مولائے کریم اس کو ثبات و دوام کا رنگ عطا فرمائے۔ ان تاثرات کو پڑھنے کے بعد اگر آپ کے دل میں کتاب پڑھنے کی خواہش پیدا ہورہی ہو تو میں دوائی کی شیشی پر لکھے انتباہ کی مانند ایک خطرے سے آگاہ کرتا چلوں۔ اگر آپ کو کوئی ایساضروری کام درپیش ہو جس کا التوا بہت بڑےخسارےکا موجب بن سکتا ہو تو اس کتاب کے قریب جانے کی غلطی نہ کریں ۔ یہ کتاب قاری کے دامن سے ایسے لپٹ جاتی ہے کہ دامن چھڑانا ممکن نہیں ہوتا۔ قاری حرف سے لفظ اور الفاظ سے جملوں کے سحر میں گرفتار ہوکرسودو زیاں سے غافل ہوجاتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ’ کھوئے ہوؤں کی جستجو‘میں قاری نہ جانے کب اور کہاں کھوجاتا ہے اور پھردنیا و مافیہا سے بے خبر گھنٹوں مارا مارا پھرتا ہے۔ ان لوگوں سے ملاقات کرتا ہے جن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہےاور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے متعلقین اور غیرمعروف لوگوں کا  دل  چسپ تعارف حاصل کرلیتا ہے۔ میری دانست میں   یہ ان معدودے چند کتابوں میں سے ایک ہے جو  اپنے آپ کو بار بار پڑھوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ میں تو کہتا ہوں، یہ  ڈاکٹر حسن رضا  صاحب کا  دوسروں کے لیے دھڑکنے والا دل ہے۔ اس  لیےسعید راہی کا یہ شعر کتاب پر صادق آتا ہے  ؎

گاہے گاہے اسے پڑھا کیجے

دل سے بہتر کوئی کتاب نہیں

(ڈاکٹر سلیم خان)

Mob:9867327357

نام كتاب  : نوادراتِ شبلی

مصنف  و ناشر :   ڈاکٹر محمدالیاس الاعظمی

ملنےکا پتہ  :    ادبی دائرہ ، اعظم گڑھ،دارالمصنفین ، شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ

سنہ ٔاشاعت     :   ۲۰۱۷،صفحات، ۲۵۶،قیمت :۴۰۰ روپئے

علامہ شبلی نعمانیؒ  کی شخصیت جس قدر معجزبیان تھی اسی قدرمعجز رقم بھی۔ان کا شمار سرسیدؒ کے معدود ے  چند اہل علم، اہلِ قلم اوراہلِ دانش وبینش رفقا میںہوتا ہے ۔ آپ کا شمار نابغہ ٔ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے ۔ آپ کی وقیع کتابیں اس کا منہ بولتا ثبو ت پیش کرتی ہیں۔ کچھ شخصیتیں ایسی ہوئی ہیںجن پرخامہ فرسائی بہ ظا ہر آسان معلوم ہوتی ہے،مگر جب ان کےعلمی، ادبی، دینی ،صحافتی، تحقیقی ، تنقیدی اورشعری گہر پاروں کا مطالعہ کیا جائے تب انداز اہوتا ہے کہ ان کے علمی خزانوں کی پرتیں کھولنا کس قدر دشوار کام ہے ۔ علامہ شبلی کی شخصیت بھی ایسی ہی تھی۔

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی دھن کے پکے اورلگن والے انسان ہیں ۔و ہ تحقیقی کام کرنےکے عادی ہیں اوراپنی تحقیق میںروحِ تحقیق کوبرتتےہیں ۔انہوںنے ایک دہائی میںمستقل مزاجی کے ساتھ شخصیات پر جتناکچھ کام کیا ہے ، شاید ہی کسی ادیب یا محقق نے کیاہو۔ مطالعۂ شبلی کے باب میں ان کواعتبار حاصل ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک درجن سے زائدکتابیں تصنیف کی ہیں ۔ ان میںایسے گوشوں کو واشگا ف کیاہے جس کی جانب شبلی پرکام کرنےوالوں کی نگاہیں نہیںگئی ہیں۔’نوادراتِ شبلی ‘بھی ان کی ایسی ہی تصنیف ہے ، جوحال میں منظر عا  م پرآئی ہے۔ اس کتاب میں فاضل مرتب نے نوادرات کی شکل میں علامہ شبلی ؒ کا جوبھی علمی سرمایہ یکجا کرنےکی کوشش کی ہے وہ تاریخی اور دستاویزی اہمیت رکھتا ہے ۔

یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اوّل میں چار ایسے مضامین ہیںجو’مقالاتِ شبلی‘ میں شامل نہیں تھے۔ یہ نودریافت مضامین بے حد اہم ہیں ۔ باب دوم ’ خطبات ‘کےعنوان سے ہے۔ ا س میں کل سات خطبات  ہیں ۔ ان میں شبلی کی وہ تقریر بھی شامل ہے جو انہوںنے سر سید کےصاحب زادے  سید محمود کے الہ آباد ہائی کورٹ کا جج بننے کے موقع پر اعظم گڑھ کے ایک جلسے میں کی تھی۔ اس تقریر  سے ان کے جوش وجذبےاورملّت کے بارے میں فکرمند ی اورہمدردی کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ باب سوم میں شبلی کے دیباچے وتقریظا ت شامل کی گئی ہیں ۔ یہ باب کئی اعتبار سے اہمیت کاحامل ہے : اوّل تویہ کہ یہ وہ تقریضات اور دیباچے ہیں جوعلامہ شبلی نے متعدداہلِ قلم کی کتابوںپر تحریر کیے تھے۔ ثانیاًان کے ذریعہ عہدشبلی میں دیباچہ نگاری کےاوصاف کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے ۔ ان میں ایک فارسی دیباچہ ہے، جوانہوںنے سرسید کے سفر نامۂ پنجاب پران کی زندگی ہی میں لکھا تھا۔ اسی طرح اس میںوہ منظوم دیباچہ بھی شامل ہے جوشبلی نے عبدالرحمن حسرت  جھنجھانوی کی مثنوی ’شمامۂ مشام افروز‘ پرلکھا تھا ۔ باب چہارم میں  ’مکتوبات‘ کے زیر عنوان علامہ شبلی کے چوبیس (۲۴) نئےدریافت شدہ خطوط کوشاملِ کتاب کیاگیا ہے۔ ان خطوط پر مرتب نے توضیحی نوٹ لکھے ہیں اورکسی قدر مکتوب الیہ کا تعارف کرایا ہے۔ جن لوگوں کے نام یہ خطوط لکھےگئے ہیں وہ یہ ہیں : منشی نجم الدین ، میر صدر الدین حسین خاں رئیس بڑودہ ، آنریری سکریٹری ایجوکیشنل کانفرنس ، مولانا اشرف علی ایم اے، ایڈیٹر وکیل امرت سر، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، میر اصغر علی، مولوی محبوب عالم ، سید عبدالسلام ، خواجہ کمال الدین ۔ یہ خطوط سوانح شبلی کےباب میں اہم اضافہ ہیں ۔ ان سے شبلی کے فکرو خیال کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ باب پنجم کاعنوان ’ مراسلات‘ ہے۔فاضل مرتب اس کے قبل ’مراسلاتِ شبلی‘ کے نام سے ایک مستقبل کتاب شائع کرچکے ہیں ، بعد میںانہیں دو مراسلےمزیدملے۔ جنہیںانہوںنے افادۂ عام کے لیےشاملِ کتاب کیا ہے۔

علامہ شبلی کی خاص  بات یہ تھی کہ وہ ہندوستانی اخبارات کےعلاوہ مصر اور بیروت کے رسائل کے مدیران کوبھی مراسلے لکھا کرتے تھے ۔ ان مراسلات میںندوہ کےتکلیف دہ حالات اورمخالفینِ شبلی کے بعض الزامات کا ذ کرہے ۔ایک مراسلہ میںمدینہ یونیورسٹی کے نصاب ونظام پر بحث کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مراسلات حیاتِ شبلی کے نودریافت  باب کا اہم حوالہ ہیں۔ باب ششم میں ’منظومات ‘ کے زیرِ عنوان علامہ شبلی کا کلام جمع کیا گیا ہے ۔علامہ شبلی فارسی شاعری پرقدرت رکھتے تھے۔ ان  کے بہت سے فارسی قصائد ان کی کلیات فارسی میں شامل نہیںہیں۔ اس باب میں ان کوجمع کردیا گیا ہے۔قصائد کے علاوہ متفرق نودریافت منظومات کوبھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ شبلی کے متفرق اشعار، غزلیں اورچند اردو غزلیںبہ طور نمونہ شامل ہیں۔ باب ہفتم میںعلامہ شبلی کی ان متفرق اورمنتشرتحریروںکوجمع کیاگیا ہے جن کا تعلق علم وادب اورتاریخ وتنقید سےہے ، لیکن جواب تک کسی مجموعے میںشامل نہیں ہوسکی ہیں۔ ان میںسے کچھ تحریر یں بلا عنوان تھیں۔ ان پر مرتب نے کوئی عنوان لگادیا ہے۔

’نوادرات شبلی‘ علامہ شبلی پرتحقیقی نوعیت کی اہم کتاب ہے ۔ یہ شبلی کی مکمل بازیافت کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ کتاب کے ہر باب میں مرتب نےنودریافت تحریروں پرتوضیحی نوٹ تحریر کیا ہے، جس سے اس کے سابقہ و لاحقہ کا بہ خوبی اندازہ ہوجاتاہے ۔ ساتھ ہی یہ حوالہ بھی دیا ہے کہ تحریر کہاں دریافت ہوئی۔  یہ کتاب شبلیات کے باب میںایک خوب صورت اورمعلوماتی اضافہ ہے ۔ تو قع ہے کہ اہل علم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

(خان محمد رضوان)

دہلی یونیورسٹی، دہلی،9810862283

[email protected]

نام كتاب: گم راہ نام نہاد مسلم خواتین کی عالمی تحریک  ’مفتنات‘

مصنف      :   ابوالعزم

ناشر       :      سلامہ سینٹر، 490۔22-8پرانی حویلی ، حیدرآباد ،تلنگانہ

سنۂ اشاعت     :            2016، صفحات:80، قیمت،70/-روپئے

اسلام کی  مخالفت کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہی سے  شروع ہوگیا تھا۔ ایک طرف کفار ومشرکین تھے تو دوسری طرف خدا کوماننے والے عیسائی اور یہودی تھے۔ اسلام پر تنقید اور اعتراضا ت اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر زہ سرائی کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ پہلے کعبہ کوصنم خانے سے پاسبان ملے تھے، آج کفر کوکعبہ سے اپنے پاسباں مل گئے ہیں اور اسلام پر تنقید اوربہتان طرازی میں خود مسلمان کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ زیر ِتبصرہ کتاب میں جناب ابوالعزم صاحب نے مسلمان پاسبانِ کفر کی سرگرمیوں کی نقاب کشائی کی ہے ،تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نت نئے فتنوں سے  نوجوان نسل اوراہلِ دانش آگاہ ہوسکیں۔ انہوںنے اس کتابچہ میں آمنہ ودود، اسریٰ نعمانی ، نول التصادری، نجمہ، ارشاد منجی، ایان حارثی علی، ز ہرہ حیدر، نشاء ایوب، ذکیہ سمن، سعدیہ دہلوی اور طارق فتح کی اسلام مخالف سرگرمیوں اوران کی تصانیف پر ایک نظر ڈالی ہے۔

عربی میں مفتنہ ایسی عورت کوکہتے ہیں جوبے حیا، عریاںوبے شرم ہو۔ اسی لیے اس کتابچہ کے عنوا ن میں ’مفتنات‘ کا لفظ شامل ہے۔ چوں کہ فحاشی وبےحیائی اورعریانیت کی روح رواں گم راہ مسلم خواتین کے افکار ونظریات ہی اس کتابچہ کا موضوع ہے۔

اسلام دشمن طاقتوں کی ایما پر ان نام نہاد مسلم خواتین نے ’آزادیِ نسواں ‘ اور’خواب گاہوںسے مسجدوں تک آزادی‘ جیسے نعرے اور جدیدیت وترقی کے نام پر فحاشی وعریانیت کوپھیلانے کی دس سال پہلے جن منظم کوششوں کا آغاز کیا تھا آج اس کے اثرات مسلم سوسائٹی میں واضح طورپرنظر آرہے ہیں۔

مفتنات کے خیالات مختصر طور پر بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ، تاکہ ان کی سرگرمیوں کا اندازہ کیا جاسکے۔ پروفیسر آمنہ ودود  نے مسجد میں مردوں اورعورتوں کی مشترکہ جماعت کی امامت کا آغاز کیا۔ نول الصادری کا مطالبہ ہے کہ عائلی قانون ختم کیا جائے۔ اسریٰ نعمانی کا کہنا ہے کہ اسلام ہندو مذہب سے کیوںکر بہتر ہوسکتا ہے؟ وہ اسلامی عبادات ، برقعہ، زکوٰۃ، نکاح اورولیمہ وغیر ہ پر تنقید کرتی ہے ، واقعہ ٔ معراج کوخدائی مذاق قرار دیتی ہے اورشادی سے قبل حاملہ ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ نجمہ نے خواب گاہوںسے مسجد تک عورتوں کی آزادی کا نعرہ دیا۔ ارشاد منجی مسلمان عورتوں کو جنسی آزادی دلانا چاہتی ہے ۔ ایان حارثی علی کے نزدیک اسلام کی تمام تعلیمات قتال، جہاد اور تباہی وبربادی پر مشتمل ہیں۔ عورتوں کی عصمت وعفت کا مذاق اڑانا اس کا وطیرہ ہے ۔ نشاء ایوب ہم جنسیت کوپروان چڑھانا چاہتی ہے۔زہرہ حیدر بھی بے قید جنسی آزادی کی علم بردار ہے اورذکیہ سمن عورتوں کوشریعت سے بدظن اور دور کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔

فاضل مصنف نے ان باطل و گم راہ کن خیالات اورمسلم سوسائٹی کوبچانے کے لیے کتابچہ کے آخر میں دعوت واصلاح کی ضرورت پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے ۔ ضرورت ہے کہ ہر فرد خود بھی ان سے بچے اور اپنی نوجوان نسل کوبھی ان سے محفوظ رکھے۔ امید ہے کہ جناب ابوالعزم کی اس کوشش کی حوصلہ افزائی  کی جائے گی۔

کتاب کا گیٹ اپ اورطباعت معیاری ہے ، البتہ پرشصوف ریڈنگ کا کوئی اہتمام نہیں ہے، اس لیے بہت سی غلطیاں موجود ہیں ۔ امید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں اس کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

(عبدالحیّ اثری)

ڈی ۳۰۷، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۔25

مارچ 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau