نقدو تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

نام كتاب           :            پیامِ اعلیٰ

مصنف               :            مولانا محمد فاروق خاں، مرتب: وسیم یوسف مکائی

ناشر                       :            القلم پبلی کیشنز ، بارہ مولہ ، کشمیر

سنۂ اشاعت     :            ۲۰۱۶، صفحات : ۲۴، قیمت :۲۰؍روپے

ادارہ فلاح دارین بارہ مولہ (کشمیر) کے طلبہ اورنوجوان کی ایک سرگرم تنظیم ہے ۔ یہ ادارہ بڑے پیمانے پر دینی، دعوتی اورتربیتی اجتماعات منعقد کرتا ہے۔ سماجی اوررفاہی کاموں میں بھی پیش پیش رہتا ہے، اپنی سالانہ کانفرنسوں میں علماء وفضلاء اوردانش وروں کومدعو کرتا ہے۔ ۲۰۱۱ء کی سالانہ کانفرنس میں معروف مترجم قرآن اوراسلامی دانش ور مولانا محمد فاروق خاں نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر مختلف پروگراموں کے علاوہ مولا نا نے سورۂ الاعلیٰ کا درس دیا تھا۔ اسے مناسب تدوین کے بعد زیر نظر کتابچہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ تدوین کی یہ خدمت جناب وسیم یوسف مکائی نے انجام دی ہے۔

سورۂ الاعلیٰ میں اہم مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ مولانا فاروق خاں نے اس کا تعارف کراتے ہوئے اپنے مقدمہ میںلکھا ہے :’’ یہ سورہ یہ سمجھنے کے لیےکافی ہے کہ قرآن اور اسلام کا پیش کردہ فلسفۂ حیات کیا ہے؟ انسانی زندگی کے اعلیٰ مقصداور خوش تر انجام کا ذکر اس سورہ ٔ میں مؤثر انداز میں کیا گیا ہے ۔ پھر قرآن کے عام طرز بیان کے مطابق اپنے پیغام کوواضح کرنے کے لیےعالم ظاہر سے بھی مثال پیش کی گئی ہے ۔ جس طرح سبزہ کی تکمیل ا س کا سرسبز وشاداب ہونا ہے، ٹھیک اسی طرح انسان کی تکمیل شخصیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کمال کے حصول میں ناکام نہ رہے ۔ سبزے کی شادابی کے لیے آب پاشی ـضروری ہے اسی طرح انسان کی شخصیت کی تکمیل کے لیے خدا سے ہم کلامی لازمی ہے ۔ کلامِ اِلٰہی کے بغیر یہ پودا ہر ا نہیں ہوسکتا ۔(ص ۳)

اس سو رہ کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے مولانا محترم نے اہم نکات بیان کیے ہیں ۔ امید ہے ، اس سے قرآن مجید میں غوروخوض کرنے کے لیے رہ نمائی ملے گی۔

(محمد رضی الاسلام ندوی)

 نام كتاب    :    تبلیغی جماعت ۔ تاریخ کے موڑ پر

مصنف               :            پروفیسر محسن عثمانی ندوی

ناشر                       :            گائیڈنس پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس ، D-105،  شاپ نمبر ۲،

 ابوالفضل انکلیو I-، جامعہ نگر ، نئی دہلی ۔۲۵

سنۂ اشاعت     :            ۲۰۱۸، صفحات : ۲۴، قیمت :۱۵؍روپے

پروفیسرمحسن عثمانی اپنی علمی وجاہت  اورتحقیقی مزاج کے ساتھ درد مندانہ تحریروں کی وجہ سے علمی و دینی حلقوں میں معروف ہیں۔ عالمی اورملکی دونوں حالات پر ان کی گہری نظر ہے۔ ان کے تجزیے پر مبنی مضامین برابر ان کے قلم سے نکلتے ہیں اورقارئین کے درمیان بہت مقبول ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں کیا سازشیں کررہی ہیں؟ اوران کے تدارک کے لیے اسلام پسندوں کوکیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟ ان موضـوعات پر بھی وہ برابر لکھتے رہتے ہیں۔

زیر نظر کتابچہ کے ذریعے پروفیسر عثمانی نے تبلیغی جماعت کے اکابر کی خدمت میںچند معروضات پیش کی ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالا ت میں تبلیغی جماعت کی ترجیحات میں اضافہ کی ، خواص کے  مطالعہ میں وسعت کی اورمتوازن فکر کی تشکیل کی ضرورت ہے ۔ آخر میںانہوںنے اپنی معروضات کا خلاصہ درج نکات کی صورت میں بیان کیا ہے:

۱۔ قرآن وحدیث اورسیرت کی کتابوں سے استفادہ پر زور دیا جائے۔

۲۔ خواص کو مولانا ابوالحسن علی ندوی اورمولانا منظور نعمانی وغیرہ اہل علم کی تصانیف کے مطالعہ کا مشورہ دیا جائے۔

۳۔  چھ اصولوںکے ساتھ خدمتِ خلق اور خدمتِ انسانیت کے اصول کا اضافہ کیا جائے۔

۴۔ شوریٰ کے نظام کے ساتھ امیر کا بھی انتخاب کیا جائے۔

اس کتابچہ سے فاضل مصنف کی درد مندی نمایاں ہے ۔ان  مشوروںپر سنجیدگی سےغورکیا جانا چا ہیے ۔

(محمدرضی الاسلام ندوی)

نام كتاب           :            دورِ حاضر کی چند اہم مفسراتِ قرآن

مصنفہ                  :            ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین

سنہ اشاعت     :            ۲۰۱۸،  صفحات: ۸۰، قیمت: ؍۹۰ روپے

ناشر                       :            دارالاشاعت مصطفائی ،3191گلی وکیل، کوچہ پنڈت ، لال کنواں ، دہلی ۶

خواتین نے صدرِ اسلام سے اب تک ہر دور میں علوم وفنون کی ترویج و اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور ان کی خدمات زرّیں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ بعض وجوہ سے (جن کا ذکر زیر تبصرہ کتاب کے پیش لفظ میں مصنفہ نے کیا ہے ) انہیں تاریخ میںوہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھیں۔ اسلامی علوم میں خواتین کی خدمات مختلف میدانوں ، خاص طور سے تفسیر وعلوم قرآن ، تجوید وقراءت ، حدیث وفقہ ، سیرت وتاریخ اور شاعری میں خاص مقام رکھتی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب میں دور حاضر کی چار اہم مفسرات قرآن کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے ، ان کی قرآنی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے اوران کا تقابلی مطالعہ پیش کرنے کی ایک کا م یاب کوشش کی گئی ہے ۔

پہلی مفسرہ ڈاکٹر عائشہ عبدالرحمٰن بنت الشاطی (۱۹۱۳۔ ۱۹۹۸ء ) ہیں۔ انہوںنے چالیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور عالم اسلام کی بہت سے جامعات میں تدریسی فرائض انجام دیے ہیں۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سےبھی نوازا گیا۔قرآنیات میں ان کا کام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ، خاص طور سے التفسیر البیانی للقرآن الکریم اورالاعجاز البیانی للقرآن الکریم کوعالمی شہرت حاصل ہے ۔ التفسیر البیانی للقرآن الکریم دو جلد وں پر مشتمل ہے اور ہر جلدمیں تیسویں پارے کی سات سورتوں کی تفسیر ہے ۔ قرآن مجید کی یہ جزوی تفسیر ہے اور مفسرہ نے تفسیر القرآن بالقرآن کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ الاعجاز البیانی للقرآن الکریم میں بنت الشاطی نے قرآن مجید کے اعجا ز کو انتہائی مدلل اورمؤثر انداز میں بیان کہا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ اردو زبان میں ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے ’قرآن کریم کا اعجاز بیان ‘ کے نام سے کردیا ہے۔ اورمشہور اشاعتی ادارے ’مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع ہورہی ہے۔

دوسری مفسرہ محترمہ زینب غزالی( ۱۹۱۷۔ ۲۰۰۵) ہیں۔ جو سرزمین مصر کی عظیم داعیہ، مربیہ اور مجاہدہ ہیں۔ اخوان المسلمون کے رہ نما ؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے تفسیر وحدیث میں مشائخ  ازہر سے اکتساب فیض کیا اور خود بھی مسجد ابن طولون میں ہر ہفتہ خواتین کے درمیان قرآن کا درس دیتی تھیں، جس میں شرکاء کی تعداد تین ہزار سے پانچ ہزار تک ہوتی تھی۔ ان کی متعدد کتابیں اورمقالات کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ ان کی تصانیف میں ابنتی (دوجلدیں )، مشکلات الشباب والفتیات(۲ جلدیں )، ایام من حیاتی اورنظرات فی کتاب اللہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔زینب غزالی کا سب سے اہم علمی کام ان کی تفسیر’ نظرات فی کتاب اللہ ‘ ہے ۔ یہ تفسیر دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔ پہلی جلد میں سورۂ فاتحہ سے سورۂ ابراہیم تک اوردوسری جلد میں سورۂ الحجر سے سورۂ الناس تک کی تفسیر ہے ۔ دعوتی وتربیتی نقطۂ نظر سے یہ تفسیر بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ اس تفسیر پر جامعہ ازہر کے استاد تفسیر شیخ عبدالمحسن فرماوی نے نظر ثانی کی ہے۔ اس کا اردو زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔امید ہے کہ جلدہی اردو داں حضرات بھی اس اہم تفسیر سے استفادہ کرسکیں گے۔

تیسری مفسرہ محترمہ حنان لحام ہیں ۔ ان کا تعلق شام  سے ہے ۔ وہ پیشۂ تدریس سے وابستہ ہیں اور تحقیق وتصنیف سے بھی دل چسپی رکھتی ہیں۔ انہوںنے قرآنی موـضوعات پر بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں ، جن میں مقاصد القرآن الکریم خاص طور سے قابل ذ کر ہے۔من ہدی القرآن حنان لحام کی تفسیر ہے ۔ یہ کوئی مستقل تفسیر نہیں ہے، بلکہ الگ الگ سورتوں کی تفسیر ہے ۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عصر ی اور معاشرتی مسائل سے تعرض کیا گیا ہے اوران کا حل قرآن کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔

چوتھی مفسرہ محترمہ نائلہ ہاشم صبری (پ : ۱۹۴۴) ہیں، جومفتی فلسطین ڈاکٹر عکرمہ سعید صبر ی کی زوجہ ہیں ۔ انہوں نے بچپن میںہی قرآن حفظ کرلیا تھا ۔ وہ مسجد اقصیٰ میں عورتوں اور بچوں کو قرآن کا درس دیتی تھیں ۔ ا ب تک ان کی متعدد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں قرآن کریم کی مکمل تفسیر ’ تفسیر المبصرلنور القرآ ن‘ اور کواکب النساء قابل ذکر ہیں ۔ کواکب النساء میں مختلف میدانوں سے دل چسپی رکھنے والی اور اس میں اپنی خدمات پیش کرنے والی پانچ سو خواتین کا تذکرہ ہے۔

المبصر لنور اللہ سولہ (۱۶) جلدوں پرمشتمل ہے ۔ اس تفسیر پر چھ مشہور علمی شخصیات نے مراجعہ اور نظر ثانی کا کام کیا ہے ۔ فاضل مفسرہ نے اس تفسیر کی تالیف کا محرک اس طرح بیان کیا ہے: ’’کتاب اللہ کی تفسیر لکھنے کا محرک اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول حضرت محمدﷺ سے میری شدید محبت ہے ۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں قرآنی آیات کی ایسی تشریح کروں جوموجودہ زمانے سے ہم آہنگ ہو، قرآن میں بیان کردہ قدروں کو اس طرح نمایاں کروں کہ شریعت کے منشا کے مطابق ہمارے روز مرہ کے معاملات اورزندگی کی مشکلات ومسائل حل ہوں‘‘ ۔( ص : ۴۹)

ان تفسیروںمیں سےدوجزوی ہیں اوردو مکمل ۔ مصنفہ نے ہر تفسیرکی خصوصیات اورامتیازات کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے اورآخرمیں ان کا تقابلی مطالعہ کیا ہے ۔ یہ تقابلی مطالعہ پوری کتاب کا ماحصل ہے ۔ اس سے مصنفہ کی وسعتِ مطالعہ اوراپنے موضوع پر مکمل دست رس کا اندازہ ہوتا ہے اوران کی محنت شاقہ کا بھی ۔

یہ بات ـواضح رہے کہ خواتین کے ذریعہ صرف یہی چار تفسیر یں نہیں لکھی گئی ہیں، بلکہ مختلف ادوار میں اور متعدد زبانوں میں خواتین نے تفسیر لکھنے کی خدمات انجام دی ہیں ۔ ان میں سے کچھ تفسیر یں مکمل ہیں تو بعض الگ الگ سورتوں کی ۔ خواتین کے ذریعے جوتفسیریں لکھی گئی ہیں ان کی خاص بات یہ ہے کہ انہوںنے ان موضـوعات پر زیادہ بہتر اور عمدہ لکھا ہے جوخواتین سے متعلق ہیں اوروہ جوکچھ لکھتی ہیں دوٹوک انداز میں لکھتی ہیں۔

یہ کتاب اپنے مشتملات اور پیش کش کے لحاظ سے بہت عمدہ اور دل چسپ ہے ۔ میں اس کے لیے مصنفہ کو مبارک باد دیتا ہوں اورامید کرتا ہوں کہ وہ علوم اسلامیہ کے میدان میں خواتین کی خدمات کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی اور تحقیق وتصنیف کا ان کا سفر یوں ہی آب وتاب کے ساتھ جاری رہے گا۔

عبدالحیّ اثری

(ڈی ،۳۰۷ ؍ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۔ ۲۵ )

نام كتاب           :            ڈاکٹر ابنِ فرید : شخصیت اورادبی خدمات

مصنفہ                  :            ڈاکٹرفریدہ بانو

ناشر                       :            جی ایل انٹرنیشنل ، نئی دہلی

سنہ اشاعت     :            ۲۰۱۸،  صفحات: ۳۲۸، قیمت: ؍۳۰۰ روپے

جناب محمود مصطفیٰ صدیقی ، جنہیں اہل علم ابن فرید کے نام سے جانتے ہیں، بڑے باکمال اور صاحب فنِ تخلیق کار تھے۔ انہوںنے ادب کے مختلف میدانوں میں طبع آزمائی کی ، مثلاً فکشن ، صحافت ، طنزو مزاح، ترجمہ نگاری اور تبصرہ نگاری، مگر بحیثیت فکشن رائٹر انہیں شہرت ملی۔ وہ عالمی ادب پر گہری نظر رکھنے کے باوجود ادب کی بدلتی دنیا ، منظر، پس منظر اورمنظر نامے میں نہیں الجھے، اپنے نظریے اورفکر پر قائم رہے اورپوری عمر مثبت فکر کی حمایت میں سرگرم رہے ۔ انہوںنے کبھی کسی نظریے کی تقلید نہیں کی اورنہ اس سے متاثر ہوئے،جب کہ اس عہد میں فرائڈ ، ایڈلر، ڈراون، مارکس اور ولیم جیمس کے نظریات ہر شخص کی زبان پر رہتے تھے۔

ابن فرید کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو تحریکی ہے ۔ وہ جماعت اسلامی ہند کے رکن تھے اور ان کا گھرانا بھی تحریکی تھا۔ اسی اعتبار سے ان کی تربیت ہوئی تھی اور دانش گاہ علی گڑھ نے ان کی تربیت میں مزید نکھار پیدا کیاتھا ۔ وہ نفسیات کے طالب علم تھے ۔ انہوںنے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ عمرانیات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابن فرید کی وابستگی اگر تحریک اسلامی سے نہ ہوتی تو فکشن کے میدان میں ان کا نام ہوتااور ادبی دنیا میں ان کا نام بڑے احترام کے ساتھ لیا جاتا۔ مگر تحریک سے وابستگی اورتحریکی فکر نے انہیں عوامی نہیں بننے دیا۔ ساتھ ہی تحریکی حلقے میں بھی ان کا اتنا تعارف نہیںہوسکا جس کے وہ مستحق تھے۔

ابن فرید اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ اردومیں ان کی تقریباً دو درجن اورانگریزی میں نصف درجن کتابیں شائع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں۔زیر نظر کتاب ڈاکٹر فریدہ بانو کا تحقیقی کام ہے ۔ شاید یہ ابن فرید پر پہلی تحقیق ہے ۔ یہ کام ڈاکٹر محمد نعیم فلاحی کی نگرانی میںانجام دیا گیا ہے ۔ یہ کتاب سات ابواب میں منقسم ہے ۔ باب اوّل : ’شخصیت اورسوانحی کوائف ‘ کے عنوان سے ہے ۔ اس میں مصنفہ نے ابن فرید کے حالات زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔لیکن معلوم نہیں کیوں ، انہوںنے موصوف کی تحریکی ز ندگی کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔

باب دوم :’ ابنِ فرید کا ادبی پس منظر ‘ کے عنوان سے ہے ۔ یہ اس کتاب کا سب سے اہم باب ہے ۔ اس میں مصنفہ نے موصوف کے ادبی نظریات پر اچھی گفتگو کی ہے۔لیکن ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ادبی پہلو کے ساتھ اس عہد کے سیاسی اور سماجی پہلوؤں پر بھی مبسوط روشنی ڈالنی چاہئے تھی، تاکہ اس عہد کا مکمل منظر نامہ سامنے آتا ۔تیسرے باب کا عنوان ہے ’ابن فرید بہ حیثیت افسانہ نگار‘ ۔ اس میں مصنفہ نے موصوف کی افسانہ نگاری کا مختصر تعارف کراتے ہوئے اس میدان میں ا ن کے سفر کودو ادوار میں تقسیم کیا ہے ۔ ساتھ ہی ان کے افسانوں کے موـضوعات : حقیقت نگاری،فرقہ وارانہ فسادات کی عکاسی ، فنی جائزہ، پلاٹ ، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری ، اوراسلوب کا خوب صورت جائزہ پیش کیا ہے۔

باب چہارم’ابن فریدبحیثیت نقاد‘ کے عنوان سے ہے۔ چوں کہ ابن فرید کی شخصیت  ہمہ جہت تھی، لہٰذا انہوں نے نہ صرف افسانوی ادب تخلیق کیا، بلکہ تنقید پر بھی اپنی روشن خیالی کے نقوش ثبت کیے ہیں ۔ اس باب میں ان کے تنقیدی شعور کا محاکمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ تنقیدی مضامین پرمشتمل ان کی نصف درجن کتابوں کا تعارف کرایا گیا ہے اور ان کے تنقیدی نظریات اورموضوعات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

باب پنجم میں ابن فرید کی صحافتی خدمات پرروشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں موصوف کی صحافت پرروشنی ڈالنے سے پیش تر اردوصحافت کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے ، اس کے بعد ان کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہ ناموں کا مختصر تعارف کرایا گیا ہے ، پھر ان کی کالم نگاری  اورتبصروں پرروشنی ڈالی گئی ہے اوران کے صحافتی اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔

باب ششم کا عنوان’ ابنِ فرید اورمتفرق اصنافِ نثر‘ہے ۔ اس میں موصوف کے ناول ’چھوٹی بہو‘ اور ’گم گشتہ ‘ کے حوالے سے ان کی ناول نگاری پر اختصار سے گفتگو کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں مصنفہ نے ان کے دیگر نثری سرمایے کا بھی جائزہ لیا ہے ، جیسے تبصرہ نگاری ، طنزو مزاح ، ادب اطفال ، اور ترجمہ نگاری۔

باب ہفتم میں تمام ا بواب کاجامع خلاصہ پیش کیا گیا ہے ۔ ابن فرید پر کام بڑی محنت سے کیا گیا ہے۔اس کے ذریعہ ایک کمی پوری کی گئی ہے ، جس پر مصنفہ تحسین وتبریک کی مستحق ہیں۔مصنفہ نے صحافت نگاری کے باب میں صحافت کی مختصر تاریخ لکھی ہے اس کی ضرورت نہیںتھی ۔ اس لیے کہ جب دیگر ابواب میں راست گفتگو مصنف سے شروع کی گئی ہے تو اس باب میں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تھا ۔ ویسے کتاب عمدہ اورجامع ہے۔ اس پر مصنفہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔

خان محمد رضوان

(شعبۂ اردو، یونیورسٹی آف دہلی)

[email protected]

Mob:9810862283

نام كتاب           :            ایران میںکچھ دن(سفر نامہ)

مصنف               :            محمد علم اللہ

ناشر                       :            فاروس میڈیا اینڈ ، پبلشنگ پرائیویٹ لمیٹڈ،

  D-84، ابوالفضل انکلیو I-، جامعہ نگر ، نئی دہلی ۔۲۵

سنۂ اشاعت     :            ۲۰۱۸، صفحات : ۱۲۸، قیمت :۱۲۰؍روپے

اس کتاب کے مصنف جناب محمد علم اللہ نے مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر،اعظم گڑھ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے تاریخ وثقافت میں گریجویشن اورماس کمیونکیشن اینڈ جرنلزم میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے ۔ فی الحال و ہ جامعہ میں ہی سے میڈیا کنسلٹٹ کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ متعدد اخبارات سے وابستہ رہ کرانہوںنے نامہ نگاری، کالم نگاری اورفیچر رائٹنگ کا کام کیا ہے۔ جس زمانے میں ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر تھے، علم اللہ صاحب نے ان کی سرپرستی اورنگرانی میں مشاورت کی تاریخ لکھی ، جو خان صاحب کے ادارے’فاروس‘ سے شائع ہوئی ہے۔

مصنف کو ۲۰۱۶ء کے اواخر میں ایران کی معروف یونی ورسٹی جامعۃ المصطفیٰ کے ادارہ ’مؤسسہ فرہنگی نسیم حیات معنوی‘ کی دعوت پر میڈیا اورتعلیم سے جڑے ہوئے لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ ایران کا سفر کرنے اوروہاں کے تعلیمی ادارو ں اور ثقافتی مراکز کودیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے وہاں جوکچھ دیکھا اسے اپنے سفر نامے میںبے کم وکاست بیان کردیا ہے ۔ اس سفر نامے میںقاری کوموجودہ ایران کے تاریخی ومذہبی ، تہذیبی وثقافتی اور علمی وادبی پہلوؤں کی جھلک کے ساتھ بین الاقوامی سیاست، ایران کے کردار، شیعہ سنّی مسئلہ کی حقیقت اوربدلتے زمانے کے ساتھ وہاں ہونے والی تبدیلیوںکا ذکر ملے گا۔ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں؟ کیا کھاتے پیتے ہیں؟ کیا پڑھاتے ہیں؟ کیسے زندگی گزارتے ہیں؟ ان کا رہن سہن کیسا ہے؟ مختلف پابندیوں کے باوجود ایران نے کیسے اپنی حیثیت منوائی ہے ؟ اس سفر نامے میں انہوں نے ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

مصنف کا انداز بیان مؤثر اور دل چسپ ہے۔ ان کی زبان صاف ستھری اور ادبی چاشنی رکھتی ہے ۔ امید ہے، علمی وادبی حلقوں میں اس کتاب کومقبولیت حاصل ہوگی۔

(محمدرضی الاسلام ندوی)

ستمبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau