نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

 نام كتاب           :             محسن انسانیت ﷺ

مصنف               :            مولانا واضح رشید حسنی ندوی ؒ

ناشر                        :            دار الرشید، 164/106 خاتون منزل، حیدر مرزا روڈ، گولاگنج، لکھنؤ

کل صفحات       :            ۱۲۶ ، قیمت: ۶۰ روپے

سیرت نبوی ایسا موضوع ہے، جس پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، لکھی جارہی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔ لکھنے والوں نے اپنے ذوق اور ذات نبوی سے تعلق کی بناپر سیرت کے مختلف پہلؤوں پر لکھا ہے۔ ان میں محقق بھی ہیں، مؤرخ بھی، سیرت نگار بھی،  ادیب بھی، مخالف ومعاند بھی اور مفکر ومدبر بھی۔ حق تو یہ ہے کہ آپ کی شخصیت پر جتنا بھی لکھا جائے، کم ہے، اس لیے کہ آپؐہی ایک کامل اور مکمل انسان کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ محسن انسانیت ﷺ کی سیرت طیبہ پر کوئی تحقیقی کتاب نہیں ہے، بلکہ مختلف موقعوں، خاص طور سے ماہ ربیع الاول کے موقعے پر لکھے گئے چند متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، جو بعض رسالوں میں شائع ہوئے۔اس میں مولانا سید سلیمان ندویؒ اور مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کے بعض اقتباسات اور کچھ نعت گو شعرا کے نمونے بھی   شامل کیے گئے ہیں، جو علمی اور ادبی حیثیت سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔

کتاب کا پہلا مضمون’ کتب سیرت کا ادبی جائزہ‘ کے عنوان سے ہے، اس میں مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانیؒ، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ؒاور مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے متعدد اقتباسات مختلف واقعات کے متعلق پیش کیے گئے ہیں۔

دوسرا مضمون’ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم‘ کے عنوان سے ہے۔ اس  میں مختلف واقعات کے حوالے سے آں حضرت ؐ کے عفو وکرم اور حسن سلوک کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مغربی مؤرخین اور مستشرقین کا مقصد سیرت نبوی کی تالیف میں کیا رہا ہے، اور یہ لوگ اس سے کس خطرناک سازش کو انجام دینا چاہتے ہیں؟۔مصنف لکھتے ہیں: ’’زہریلے مواد پر مشتمل ان کتابوں کو اسلام سے موروثی عداوت اور صلیبی جنگوں کے اثر سے عوام میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس جانب دارانہ، حاقدانہ تصور کو تاریخ، قصہ اور ناول کے ذریعے عام کیا گیا، اس کے مطابق فلمیں بنائی گئیں اور عالم اسلام کے سماجی، سیاسی واقعات کو اسلام کی تعلیم اور خود ذات رسول کریم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور نصاب تعلیم میں داخل کی گئیں۔‘‘ (صفحہ: ۵۲)

تیسرا مضمون ’تعلیمات رسول ﷺ کی اہمیت وضرورت‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں مصنف نے واضح کیا ہے کہ مغربی قلم کاروں نے سیرتِ رسولﷺ کو کس کذب بیانی، افترا پردازی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’یہ اہل قلم رسولِ رحمت کو رسول سیف کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں اور قرآن کریم کو تشدد سکھانے والی کتاب قرار دیتے ہیں۔ اس بات کو یورپ کے اہل قلم اس قوت سے دہراتے رہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا خاصہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جب اس سے متأثر ہونے والے سیرت پاک اور قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ کذب بیانی، افترا پردازی اور شر انگیزی کھل جاتی ہے اور وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ وہ اسلام اور رسول اللہﷺ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے، وہ صرف پروپیگنڈہ تھا۔ وہ اسلام قبول کرنے میں کسی طرح کا تردد محسوس نہیں کرتے۔اس کی متعدد مثالیں اس عہد میں سامنے آرہی ہیں۔‘‘ (صفحہ: ۶۹، ۶۰)

چوتھا مضمون’ محمدﷺ نوعِ انسانی کے لیے دائمی وکامل نمونہ‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں مصنف نے بیان کیا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی پوری زندگی شفقت و محبت، نرمی، دل داری و دل نوازی اور عفو درگزر کا حسین مرقع تھی۔ دوست تو دوست، جانی دشمنوں کے ساتھ بھی آپ ؐ نرمی ومحبت کا معاملہ فرماتے۔ آپؐنے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔

پانچواں مضمون’ محمد رسول اللہ ﷺ پیمبر علم وہدایت‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں مصنف نے بیان کیا ہے کہ آپؐ  معلم علم وحکمت ہیں۔ یہ آپ ؐ کا ہی فیض اور احسان ہے کہ پوری دنیا علم ومعرفت اور حکمت ودانائی کے نور سے منور ہے۔ آپ ؐ ہی  دنیا کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ ساتھ ہی اس سلسلے میں مغربی مؤرخین کے اعترافات کا ذکر ہے۔

چھٹا اور آخری مضمون’ نعت گوئی‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں نعت گوئی کی ابتدا، خلفائے راشدین کے عہد اور بعد کے مختلف ادوار میں اس کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد عربی میں نعتیہ کلام کے چند نمونے پیش کیے ہیں۔ پھر اندلس کے کچھ مشہور نعت گو شعرا کا کلام پیش کیا ہے۔ عہد جدید کے نعت گو شعرا میں امیرالشعرا احمد شوقی کا ایک قصیدہ ہمزیہ بھی پیش کیا ہے۔ ہندستان میں نعت گوئی اور یہاں کے عربی نعت گو شعرا کی ایک فہرست دی ہے۔ شعرائے اردو بھی نعت گوئی میں پیش پیش رہے ہیں، اس کو بھی بیان کیا ہے۔ اخیر میں اردو نعت گو شعرا کے نعتیہ کلام کے چند نمونے پیش کیے ہیں۔ اِن میں امیر مینائی، حفیظ جالندھری، خواجہ الطاف حسین حالیؔ، محسن کاکوری، اصغر گونڈوی، اکبر الٰہ آ بادی، مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی، ماہر القادری ، مولانامحمد ثانی حسنی، قاری صدیق احمد باندوی جیسی شخصیات کے کچھ نمونے پیش کیے ہیں۔

مضامین کے اعتبار سے یہ کتاب بڑی قیمتی ہے۔ زبان بھی حسین و دل چسپ ہے، کیا اچھا ہوتا کہ جدید املا کی رعایت کی جاتی۔ اور مغربی مصنفین کے اقتباسات اُن کی اصل کتابوں کے حوالوں کے ساتھ درج کیے جاتے۔  اس کے باوجود یہ کتاب قیمتی مواد پر مشتمل ہے۔ امید ہے کہ اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

(وسیم اکرم ندوی)

ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی

نام كتاب           :            بینک انٹرسٹ کے مصارف

مصنف               :            منور سلطان ندوی

ناشر                       :            القرآن انسٹی ٹیوٹ ، برلنگٹن چوراہا، ودھان سبھا مارگ، لکھنؤ

سنہ اشاعت     :            ۲۰۱۸ء، صفحات: ۳۲، قیمت:۔؍۱۰ روپے

بینک میں رقم رکھنا آج کے دورمیں ہر انسان کی ضرورت اور مجبوری بن گئی ہے ۔ اگر کرنٹ اکاؤنٹ ہوتب تو اس پر انٹرسٹ نہیں ملتا، لیکن اگررقم سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہوتو اس پر انٹرسٹ ملتا ہے ، جو جمع شدہ رقم میں شامل ہوتا رہتا ہے ۔ علماء نے بینک انٹرسٹ کا اطلاق اس ’ربا‘ (سود) پر کیا ہے جسے قرآن وحدیث میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ اس بنا پر اس سے بچنے کی خواہش رکھنے والے آئے دن سوال کرتے ہیں کہ اس سودی رقم کا کیا کیا جائے؟ ز یر نظر کتابچہ میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔

مولانا منور سلطان ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں فقہ کے استاد ہیں ۔ فقہ وفتاویٰ سے مناسبت رکھتے ہیں اور ندو ہ کے دارالافتاء سے بھی وابستہ ہیں۔ انہوں نے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی کی ہدایت اوررہ نمائی میں یہ کتابچہ تیار کیا ہے ۔ ابتدا میں اس کی حرمت پر قرآن وحدیث کے دلائل دیے ہیں۔ پھر مختلف کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ سودی رقم کوکہاں کہاں خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ اس کا خلاصہ یہ ہےکہ سودی رقم کوبینکوں میں نہ چھوڑا جائے ، بلکہ اسے نکال کر غرباء ، مساکین اورضرورت مند افراد کودے دیا جائے۔ غریب رشتہ داروں کی بھی مدد کی جاسکتی ہے ۔  غیر مسلموں کا تعاون کیا جائے ، قرض میں جکڑے ہوئے شخص کودیا جائے ۔ جیلوںمیں بند بے قصور نوجوانوں کی رہائی پر خرچ کیا جائے ، قدرتی آفات سے متاثر افراد کی مدد کی جائے۔

کتاب میں درج بعض فتاویٰ میں کہا گیا ہے کہ سود کی رقم سے مسجد کا بیت الخلا اورپیشاب خانہ بنوایا جاسکتا ہے، قبرستان کی چہار دیواری کی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ رفاہی وفلاحی کام (مثلاً سڑک کی تعمیر، رفاہی اسپتالوں کا قیام، سڑکوں پر روشنی کا انتظام ، نالوں کی صفائی ، عوامی بیت الخلاء کی تعمیر وغیرہ ) کرایے جاسکتے ہیں اورانکم ٹیکس، سیل ٹیکس، ویٹ ٹکس، کسٹم ڈیوٹی ادا کی جاسکتی ہے ۔ تبصرہ نگار کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ سودی رقم کوایسے کاموںمیں لگانا درست نہیں جن سے امیر وغریب دونوں فائدہ اُٹھاتے ہیں، یا جن کا فائدہ آدمی کی اپنی ذات کوپہنچے۔ کتابچہ کے آخر میں القرآن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بینک انٹرسٹ کے مصارف سے متعلق پوچھے گئے  سوالات اورمولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے جوابا ت شامل کیے گئے ہیں۔

مختصر سے کتابچے میں فاضل مصنف کے پیش لفظ کے علاوہ چار اہم شخصیات کے تاثرات و تقریظا ت کوشامل کیا گیا ہے۔ یہ بلا ضرورت محسوس ہوتا ہے۔

(محمدرضی الاسلام ندوی)

نام كتاب           :             جنت کے پھول (بچوں کا رسالہ)

مدیر                       :            عنایت اللہ خاں 8108451050

ناشر                       :            اسلامک سینٹر، شریفہ روڈ، امرت نگر، ممبر ا، ضلع تھانہ (مہاراشٹر)

سنۂ  اشاعت     :            ۲۰۱۸ء، صفحات: ۹۲، قیمت:۔؍۶۰ روپے (خصوصی شمارہ)

’جنت کے پھول‘کا یہ تیسرا خصوصی شمارہ ہے ، جوپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی واقعات پر مشتمل ہے ۔ اس سے قبل ’والدین ۔ میری جنت‘ اور’بڑوں کا بچپن‘ کے عنوان سے دو معیاری خصوصی شمارے شائع ہوچکے ہیں ۔ ہرسال ایک خصوصی شمارہ شائع ہوتا ہے ۔ جنت کے پھول ہر دو ماہ میں شائع ہوتا ہے ، جس میں بچوں کے معیار کو سامنے رکھ اور ان کے ذوق وجذبات کا خیال رکھتے ہوئے مختلف طرح کے لوازمات سے آراستہ ایک حسین گلدستہ پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، تاکہ بچوں کا ذہن اسلامی سانچے میں ڈھلے ۔ غیر معیاری چیزوں سے بچا کر خوب صورت اورپاکیزہ چیزیں ان کےمطالعہ کے لیے فراہم کرنا موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اگرہم بچوں کو یہ سب نہیں دے سکتے تو ان کا تجسس مطالعہ انہیں کسی اورراہ پر بھٹکا دے گا اوربعد میں ہمیں نئی نسل پر افسوس کرنا پڑے گا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کے بچپن کا خیال رکھیں اور انہیں دین کی وہ بنیادی  معلومات دے دیں جوان کی آئندہ زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

زیرِ نظر خصوصی شمارہ ’میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ میں بہت ہی آسان اور دل چسپ انداز میں  نبی ﷺ کے پیارے اخلاق کو متعدد پہلوؤں سے پیش کیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد بچوں کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا جذبہ پیدا کرنا اور انہیں آپؐ کی اتباع اوراطاعت کے لیے تیار کرنا ہے ۔

اس خصوصی شمارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق بائیس (۲۲)مضامین  اور تیرہ (۱۳) منظومات کے علاوہ ماہرین تعلیم کےتین پیغامات اورمتعدد بچوں کی مختلف طرح کی تحریریں شامل ہیں۔ جن معروف ادیبوں اورقلم کاروں کے مضامین شامل ہیں ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: ڈاکٹر سلیم خاں، مبارک کاپٹری ، مولانا عبدالبراثری فلاحی، ضیاء الرحمٰن انصاری، ڈاکٹر محی الدین غازی ، ڈاکٹر محمدرضی الاسلام ندوی، ڈاکٹر محمداسد اللہ، ڈاکٹر عادل حیات، خان حسنین عاقب، متین اچل پوری، سید حسن کمال ندوی، محمداسماعیل کرخی ۔ جن کے منظوم کلام شامل ہیں ا ن میں حیدر بیابانی ، حافظ کرناٹکی، سرفراز بزمی ، اعجاز ہندی اورڈاکٹر ارشاد خاں خاص طور سےقابل ذکر ہیں۔ محترم مدیر نے اس شمارے میں بیت بازی کا بھی اہتمام کیا ہے ۔ اس میں پیش کیےگئے تمام اشعار نعتیہ کلام ہیں ۔ اسی طرح ایک خاص گوشہ میں مختلف اسکولوں کے بچوں کی تحریرمیں شامل کی ہیں، تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو، ان کی تخلیقی صلاحیتوں میںارتقا ہوا اورنئے قلم کاربھی تیار ہوسکیں۔

بحیثیت مجموعی یہ شمارہ خوب سے خوب ترقی کی طرف گام زن ہے ۔ مدیر محترم جناب عنایت اللہ خاں قابل مبارک باد ہیں کہ وہ پابندی سے یہ رسالہ ترتیب دے رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ان کے والدین اور اسکول کے ذمے داروں سے درخواست ہے کہ اس رسالہ کے لیے اپنا دستِ تعاون بڑھائیں، اپنے بچوں کو پڑھائیں  اوردوسروں کوبھی اس کی طرف متوجہ کریں ، تاکہ چراغ سے چراغ جلے اورعلم کی روشنی پھیلے۔

(عبدالحیـّ اثری )

;ڈی ۳۰۷، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر ، نئی دہلی ۲۵

نام كتاب           :             شبلی خود نوشتوں میں

مصنف               :            ڈاکٹر محمدالیاس الاعظمی

ناشر                       :            ادبی دائرہ، اعظم گڑھ۔ موبائل : 9898573645

سنۂ  اشاعت     :            ۲۰۱۸ء،  صفحات:۳۱۲، قیمت: ۴۰۰؍روپے

علامہ شبلی نعمانی ؒ کی وفات کو سو برس سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے، اس کے باوجود ان کی حیات کے روشن پہلو اورکارنامے زندہ ہیں اوران کی شخصیت کے نئے نئے گوشے واہورہے ہیں ۔ ’شبلی خود نوشتوں میں ‘ زیرِ نظر کتاب علامہ کے فراموش شدہ گوشے کواجاگر کرنے کی مستحسن سعی ہے۔ ادبا اورشعرا کا یہ گوشہ اکثر محققین کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہل علم ودانش نے شبلی کواپنی خود نوشتوں میں کس طرح یاد کیا ہے؟ ان کی ذاتی زندگی ، شخصیت اور علمی تفوق کے وہ کس حد تک قائل تھے؟ اور انہیں کن القاب وآداب اورخراج تحسین سے نوازا ہے ؟ دوسری اہم بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہم عصری چشمک اور اختلافات کے باوجود انہیں کس نظر سے دیکھا گیا ہے؟

اس کتاب میں کل چوبیس (۲۴) خودنوشتوں اورآپ بیتوں کا مطالعہ کیا گیا ہے علامہ شبلی سے متعلق ان کے اقتباسات نقل کرنے سے قبل مختصر تمہید پیش کی گئی ہے ۔ اس کے بعد ان کا تعارف، تسامحات کی نشان دہی ، مستند حوالوں سے ان کی تصحیح وتوضیح اوردیگر پہلوؤں کا معروضی انداز میں تجزیہ کیا گیا ہے۔ اگر سوانح شبلی میں کسی واقعہ کا اضافہ ہے تو اس کی توضیح کردی گئی ہے ۔ جن کتابوں کا مطالعہ کیا گیا ہے ان کے مصنفین علامہ شبلی ؒ کے احباب بھی ہیں اورمعاصرین بھی ، ان کے تلامذہ بھی ہیں اورمنتسبین بھی اور بعض بعد کے متاثرین بھی ۔ چوں کہ ان شخصیات کا تعلق علم وادب، دین ومذہب اورتاریخ وسیاست سے رہا ہے اور ان کی کتابیں اپنے عہد کی نمائندہ ہیں، اس لیے ان سے ان کے عہد کے اسلوب اورطرز تحریر کا بھی پتہ چلتا ہے۔ خودنوشتوں اورآپ بیتیوں کے مصنفین کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں : نواب سلطان جہاں بیگم، میرولایت حسین، عبدالرزاق کان پوری ، نواب سید محمدعلی حسن خاں، سیدہما یوں مرزا، شیخ محمد عبداللہ ، خواجہ حسن نظامی ، مولانا محمدعلی جوہر، سررضا علی،  مولانا ابوالکلام آزاد، ملا واحدی، مولانا عبدالباری ندوی ، مولانا ضیاء الحسن علوی،  مولانا عبدالماجد دریا بادی، رشید احمد صدیقی، مرزا احسان احمد، ظفر حسن ایبک ، مولانا سعید احمد اکبر آ بادی ، مولانا سیدابوالحسن علی ندوی ، مولانا مجیب اللہ ندوی ، حافظ نذیر احمد، پروفیسر ریاض الرحمٰن خاں شروانی ، مولانا اعجاز احمد اعظمی اور مولانا عمران خاں ندوی۔اس کتاب میں جن خودنوشتوں کوحوالہ بنا کر شبلی کویاد کیا گیا ہے ان میں سےچند خود نوشتوں کے اقتباسات پیش کرنا مناسب ہوگا،  تا کہ بات مدلل طور پر سامنے آسکے۔ بیگم سلطان جہاں فرماں روائے بھوپال نے اپنی خود نوشت ’اختر اقبال‘ میں ’سیرت نبویؐ کے تعلق سے لکھا ہے :

’’چوں کہ اردو میں اس وقت تک آ ں حضرت ؐ کی کوئی مفصل اور مستند سوانح عمری نہیں ہے ، اس لیے جب مجھے معلوم ہوا کہ شمس العلماء مولانا شبلی ، جوتاریخ اسلام کے ایک باکمال اورمستند عالم ہیں،سیرۃ نبویؐ مرتب کرنا چاہتے ہیں، لیکن مالی امداد سےمجبور ہیں اورانہوں نے ایک اپیل امداد کے لیےشائع کی ہے ،میں نے اس اپیل کو دیکھا اور افسوس ہوا کہ ایک ایسی ضروری اورمذہبی تصنیف کے لیے پبلک  سے اپیل کرنے کی نوبت پہنچی ہے ۔ میں نے ان کو مطلع کیا کہ وہ فوراً کام شروع کردیں اورجس قدر روپیہ کے لیے اپیل کی گئی ہے ، وہ میں دوںگی‘‘۔

اس سے بیگم سلطان جہاں کے دینی جذبہ ، حمیت، شعور اور ہوش مندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مولانا شبلی جب ان سے ملے تو بے حد متاثر ہوئے ۔ انہوں نے ملاقات کا حال الندوہ میں لکھا تو اپناتاثر ان الفاظ میں بیان کیا:’’ میں نے اس وقت تک کسی رئیس کواس قدر وسیع المعلومات ، خوش تقریر ، فصیح اللسان ،نکتہ سنج اور دقیقہ رس نہیں دیکھا‘‘۔

شیخ عبداللہ ماہر تعلیم نسواں ، جو شبلی کے شاگرد بھی تھے، اپنی خود نوشت ’ مشاہدات و تاثرات ‘ میں لکھتے ہیں:’’ الفاروق ان کی بہت  مستند ہے ۔ مولانا شبلی مرحوم کی تصنیفات دیکھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ علی گڑھ نے سرسید ؒ کے بعد ایک ایسا مصنف پیدا کیا تھا جس کاشمار مصنفین کے گروہ میں صف اوّل میں رکھنے کے قابل ہے ‘‘۔

مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہرؒ اپنی خود نوشت ’ میری زندگی ‘ میں لکھتےہیں : ’’ تاہم میں اتنا خوش نصیب ضرور تھا کہ باوجود اس کے کہ میں اسکول کوطالب علم تھا، مجھے ان کے قرآن پروہ لکچر سننے کا موقع ملا جو وہ کالج کی بڑی جماعتوں کے طلبہ کودیا کرتے تھے ۔ مولانا شبلی کے ان دل چسپ اورمختصر اسبا ق کوسننے کا استحقاق نہ رکھتا تھا ، لیکن خوش نصیبی سے مجھے ان کے شاگرد بننے کا موقع مل گیا ‘‘۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے کون واقف نہیں ۔ وہ علامہ شبلی کے بڑے عقیدت مند تھے ۔ اسی طرح شبلی بھی ان کوبہت چاہتے تھے ۔ آزاد نے ’ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ‘ میں ایک جگہ لکھا ہے : ’’ جی چاہتا ہے کہ مولانا شبلی کی اس سعی ومحنت کا شکریہ ادا کریں جووہ تین چار سالوں سے وقف علی الاولاد کے لیے فرمارہے ہیں ۔ لیکن جوذات یکسر وقف خدمتِ ملت ہو،اس کے کس کس احسان کا شکریہ ادا کیا جائے؟‘‘

مولانا عبدالماجد دریا بادی مستند صاحب قلم ، بڑے ادیب ، صاحب طرز ادیب وانشا پرداز، فلسفی ، مفسر اورعالم دین تھے۔  انہوںنے اپنی آپ بیتی میں علامہ شبلی کے تعلق سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:     ’’۶ء یا ۷ء کہ زیارت پہلے ماہ نامہ الندوہ کی ہوئی اور پھر اس کے بعد صاحب الندوہ مولانا شبلی کی ۔ اور الندوہ نے دل ودماغ کواتنا متاثر کیا کہ اورسارے  رسالے جریدے نظرسے گرگئے اوردل وجان سے شبلی کا کلمہ پڑھنے لگا ۔ مولانا شبلی کا علم وفضل ، اسلوب زبان و طرز بیان سب دماغ پر چھا گئے اورکہنا چاہیے کہ علمی وقلمی زندگی کا ایک نیا دور اسی وقت شروع ہوگیا ۔ عملاً اب بھی میدان وہی ’ اودھ اخبار‘وغیرہ کا قائم رہا، لیکن نظر کا معیاراب اس سے کہیں بلند ہوگیا تھا‘‘۔

یہ چند مثالیں ہیں ۔ اس طرح دیگر خود نوشتوں کے مصنفین نے بھی شبلی کو بہترین خراج تحسین پیش کیا ہے۔ڈاکٹر الیاس الاعظمی نے شبلی شناسی کی سند حاصل کرلی ہے ، انہوںنے اب تک علامہ شبلی پردرجن بھرمستند کتابیں تصنیف کی ہیں۔ یہ کتاب شبلی کے حوالے سے ایک نئی جہت پیش کرتی ہے۔ اس اہم کا م پر میں فاضل مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اورمزید کام کے لیے دعا گو ہوں۔

(خان محمد رضوان)

Mob:9810862283

Email:[email protected]

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau