نقدوتبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

نام کتاب   :       آئینے کاگھر

مصنّف      :      ڈاکٹر زینت اللہ جاوید

صفحات     :    ۱۰۰         ٭ قیمت   :    ۱۵۰ روپے

ناشر          :    کارواں، مالیر کوٹلہ، پنجاب

 

ڈاکٹر زینت اللہ جاوید کا نام ہندستان کے اُردو حلقے کے لیے ایک جاناپہچانا نام ہے۔ وہ   بہ یک وقت ایک صاحب بصیرت ناقد بھی ہیں اور دقیقہ رس محقق بھی، ایک خوش فکر وصاحب طرز سخن ور بھی اور ایک ذہین و فرض شناس معلّم بھی۔ وہ اپنی ان تمام حیثیتوں میں منفرد اور نمایاں ہیں۔ علم وادب کے اِن تمام شعبوں میں ان کی کتابوں: نئی اردو شاعری: ایک تجزیاتی مطالعہ، شعری رویّے، اُردو میں انشائیے کا مقام، نظیری کا تخلیقی شعور اور تلوک چند محروم: شخضیت اور فن کو ادبی حلقوں میں خاصی پزیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس سے ان کا علمی وادبی قد خاصا بلند ہوا ہے۔

‘‘آئینے کا گھر’’ ڈاکٹر زینت اللہ جاوید  کا شعری مجموعہ ہے۔ گرچہ وہ شاعری کی کئی اصناف پر قدرت رکھتے ہیں، لیکن یہ ان کی غزلیہ شاعری پر مشتمل ہے۔ کتاب کے مطالعے سے اس نتیجے تک پہنچنا دشوار نہیں رہتا کہ زینت اللہ جاوید  کے اشعار وارداتِ قلبی سے عبارت ہیں۔ ان کے ہاں فکر و فن کی بلندی بھی ہے اور زبان وبیان کا کامل رکھ رکھائو،بھی اور محاورات و روزمرّہ کی پابندی اور فنّی قدروں کی پاس داری بھی۔ ان کے شعروں سے ان کے عہد سے ان کی گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے فکر کی جڑیں فکرِ اقبال  سے الگ نہیں ہیں۔ اگر فرق ہے تو صرف اسلوب اور شعریات کا۔ اقبال  کے اسلوب اور ان کی شعریات کا تعلق ان کے اپنے عہدسے ہے اور اسی کو سامنے رکھ کر انھوں نے سخن وری کی ہے۔ جب کہ زینت اللہ جاوید  کے سامنے ان کااپنا عہدے اور اس کا مزاج ہے۔اُنھوں نے اپنے عہد کی لسانی وشعریاتی تقاضوںکو سامنے رکھ کر وہی بات کہی ہے، جو اقبال اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس قسم کے اشعار سے میرے دعوے کی تصویب ہوتی ہے:

کیا لوگ ہیں، جینے کا سلیقہ نہیں آیا

شکوہ تو کیا کرتے ہیں، کوشش نہیں کرتے

دینے والے ہی بن گئے سائل

مانگنے والا شہریار ہوا

مجھ پہ دشمن کی آنکھ کیا پڑتی

سبز پتوں کا رنگ مجھ میں تھا

دل کی گہرائی میں اترکر دیکھ

آسماں تک یہیں سے رستا ہے

کس لیے بار بار آتے ہیں

زلزلوں کو زبان بھی دے دے

وہ نصابوں سے ہوگئیں خارج

جن کتابوں کا اِک سبق میں ہوں

اور تہذیب نو سے رشتہ کیا

میں تماشا ہوں وہ مداری ہے

یہ چند اشعار میں نے دعوے کی دلیل کے طورپر نقل کردیے۔ حقیقت یہ ہے کہ زینت جاوید  کی پوری شاعری اسی قسم کے اشعار سے مزّین ہے۔

کتاب میں پروفیسر منشاء الرحمن خاں منشاء، پروفیسر مظفرحنفی،پروفیسرعراق رضا زیدی اور پروفیسر عتیق اللہ کی آرائ بھی شامل ہیں۔ ان میں زینت اللہ جاوید  کی شاعری اور فن کا بڑا عالمانہ جائزہ لیاگیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’آئینے کاگھر‘‘ جہاں سے بھی پڑھیے:

زفرق تابہ قدم ہرکجاکہ می نگرم

تماشا دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست

کی کیفیت دامن کش ہوتی ہے۔ امید ہے کہ زینت اللہ جاوید کایہ شعری سفرخوب سے خوب تر کی جستجومیں آیندہ بھی اِسی طرح جاری رہے گا۔

 

نام کتاب  :    شعرائے بھٹکل اور اردو نعت

مصنّف      :    ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی

صفحات     :    ۱۶۰  قیمت :      Rs.150/-

ملنے کا پتا   :     الہلال بُک ایجنسی، مین روڈ، بھٹکل،۳۲۰۵۸۱کرناٹک

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ہمارے حلقے کے جواں سال و جواں فکر اہل قلم ہیں۔ تنقید و تحقیق سے اُنھیں خصوصی شغف ہے۔ اُنھیں یہ ذوق ورثے میں مِلا ہے۔ ان کے والدِ ماجد مولانا طیّب عثمانی ندوی پورے تحریکی حلقے میں ایک معتبر مصنّف و اہل قلم کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اقبالیات اور بعض دوسرے علمی ، ادبی، مذہبی اور تربیتی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ ہندوستان میں ادب اسلامی کے معماروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ شاہ رشاد عثمانی نہ صرف یہ کہ ادب اسلامی اور ادارۂ ادب اسلامی سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، اس کی صفِ اوّل کے ذمّے داروں میں شامل ہیں۔ میقاتِ رواں میں انھیں ادارے کے قومی نائب صدر کی حیثیت سے منتخب کیاگیا ہے۔

ہندستان کے موجودہ علمی، مذہبی اور تہذیبی منظرنامے پر کرناٹک اسٹیٹ کا ساحلی مقام بھٹکل کا نام بڑا روشن اور تاب ناک ہے۔ ہمارے عہدکے بڑے بڑے علمائ اور دانش وروں نے اس کی اس حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ اِس خصوص میں حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیّبؒ  مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ  ناظم ندوۃ العلمائ لکھنؤ اور مجاہد قلم مولانا عامرعثمانی ایڈیٹر ماہ نامہ تجلّی دیوبند کے اسمائے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ انھوں نے اپنے سفر ناموں میں اس کا ذکر بڑے وقیع انداز میں کیاہے۔ زیر نظر کتاب ’’شعراے بھٹکل اور اُردو نعت‘‘ بھی بھٹکل کی علمی و ادبی حیثیت کے اعتراف کی ایک کام یاب کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی نے اس میں بھٹکل کے اٹھائیس ﴿۲۸﴾ شعرائ کی نعتیہ شاعری کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا ہے اور نعت گوئی کے ایک ناقد ومحقق کی حیثیت سے ان کی تعیینِ قدر کی ہے۔

مصنّف نے کتاب میں سب سے پہلے شعرائ کا مختصر تعارف کرایا ہے۔ اس ذیل میں ان کی تعلیم، ان کے خاندانی پس منظر،اساتذہ اوران کی علمی ادبی سرگرمیوںپر خصوصیت سے گفتگو کی ہے۔ اس کے بعد ان کے نعتیہ اشعار کے نمونے پیش کیے ہیں۔ اِن میں بعض اشعار بہت اچھّے ہیں، ان میں فکر و فن کی بلندی بھی ہے اور عقیدے کی طہارت و پاکیزگی بھی۔ جہاں اس طرح کے شعر ملے لطف آگیا:

تحفۂ معراج ہے، قرب ومحبت کی دلیل

بالیقیں محبوبِ یزداں ہیں محمد مصطفیؐ

ہاتھوں میں تلوار اٹھائے، قافلۂ جاں باز سنبھالے

جنگ کا میداں پیٹ پہ پتھر، صلی اللہ علیہ وسلّم

تم تھے امّی مگر اللہ کی رحمت یہ ہے

تم پہ نازل ہوا قرآن رسولِ عربیؐ

بعض اشعار فنّی اعتبار سے بھی کم زور ملے اور عقیدہ و فکر کے اعتبار سے بھی۔ لیکن جس انداز سے وہاں علم وادب کی سرگرمیاں جاری ہیں ،نئی نسل بھیتیزی کے ساتھ علم کی طرف بڑھ رہی ہے اور اپنی فکری و فنّی تربیت کی طرف بھی متوجہ ہے، اسے دیکھتے ہوئے بہ ہرحال یہ امید کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد اِن کم زورویوں پر قابو پالیاجائے گا۔

بلاشبہ ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی یہ کتاب بھٹکل کے ادبی و تہذیبی ارتقا میں ممدو معاون ثابت ہوگی اور مستقبل کا تذکرہ نگار اس سے بہت کچھ حاصل کرسکے گا۔

فروری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau