مسلکی عصبیت کے مضر ثمرات و نتائج

جلیل الرحمن ندوی

دسمبر ۲۰۱۸ء میں مرکزی بی جے پی حکومت نے لوک سبھا کے ذریعے متنازعہ طلاقِ ثلاثہ بل منظور کرالیا جس کے تحت تین طلاق یکبارگی دینے والے کو مجرم قرار دے دیا گیا اور ایسے مجرم شوہر کو تین سال قید کی سزا کے ساتھ نان ونفقے کا بھی ذمے دار قرار دیا گیا۔ اس بل کے پاس ہونے کے ساتھ ہی مرکزی موجودہ حکومت کی مسلم دشمنی اور بدنیتی کے ساتھ کانگریس جیسی سیکولرزم کا دم بھرنے والی پارٹی کی بھی دوغلی پالیسی اور مسلمانوں کے معاملے میں منافقت کھل کر سامنے آگئی۔ کانگریس نے پارلیمنٹ میں موجود رہ کر اِس بل کے خلاف ووٹ دینے کے بجائے ووٹنگ کے وقت ایوان سے چلے جانے یعنی واک آؤٹ کی پالیسی پر عمل کیا اور یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ کسی متنازعہ مسئلے پر ووٹنگ کے وقت واک آؤٹ یعنی غیر حاضری اس متنازعہ مسئلے کی خاموش تائید وحمایت شمار کی جاتی ہے۔

نامناسب بیان بازی:

مسلمانوں کی تمام دینی،سیاسی اور سماجی تنظیمیں پس منظرکو جانتی ہیں ۔ طلاقِ ثلاثہ کو پہلے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیاپھراس کے مرتکب ملزم کو فوجداری مجرم قرار دے کر تین سال کی سزا کا بل  موجودہ  حکومت نے منظور كیا۔اس کا اصلی مقصد ومنشا مسلم خواتین کی ہمدردی نہیں ہے،بلکہ اس کے ذریعے سے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا دروازہ کھولنا مطمحِ نظرہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فقہی مسالک کے علماء جو مسلم پرسنل لا بورڈ میں شامل ہیں، اس معاملے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی پالیسی کے مکمل طور پر مؤید اور ہم نوا ہیں۔پارلیمنٹ میں مذکورہ بل پر بحث کے دوران جناب اسد الدین اویسی -صدر مجلس اتحاد المسلمین-نے بڑے پرزور اور مدلل انداز میں حکومت کی بدنیتی پر تنقید کی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا موقف پیش کیا۔

ایسے نازک اور حساس موقع پر ایک معمولی مسلمان بھی اتنی سمجھ رکھتا ہے کہ حکومت کے سامنے ملی اتحاد واتفاق اور یک جہتی کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ مگر افسوس ہے كه مسلکی عصبیت  سے متاثرهوكر ایك صاحب نے اس سلسلے میں نامناسب  بیان دے دیا۔

موصوف کے  بیان کے منظرِ عام پر آتے ہی عامۃ المسلمین اور علمائے کرام کی جانب سے اس كی مذمت ہوئی ۔بیان دینے والے صاحب نے  معذرت کا اظہارکیا اور اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا  لیكن بهرحال ملت کو نقصان پہنچا۔

طرزِ تعلیم:

یه المیہ ہے کہ ہمارے ملک کے اکثر دینی تعلیمی اداروں میں اسلام کی تعلیم کم اور مسلک کی تعلیم زیادہ دی جارہی ہے۔ جہاں بھی اسلام کی تعلیم ہوگی اس کی واضح اور نمایاں علامت یہ ہوگی کہ وہاں قرآن وسنت کی تعلیم کو اولیت دی جائے گی،فقہ ومسلک کی تعلیم کی حیثیت ثانوی درجے کی ہوگی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ طالب علم کے اندر اسلام کی دعوت اور اسلامی حمیت وملی تحفظ کا جذبہ غالب ہوگا۔ لیكن جہاں مسلک کی تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی وہاں قرآن وسنت صرف رسماًپڑھائے جائیں گے ،بهت سے مدارس میں قرآن کی تفسیر کی صرف دو کتابیں تبرکاً پڑھائی جاتی ہیں اور کتبِ حدیث کی صرف عبارت خوانی ہوتی ہے، نتیجہ ہے کہ ان اداروں سے جو طلبہ فارغ ہوں گے ان کے اندر اسلامی غیرت وحمیت یا اسلام کی دعوت کا قوی جذبہ نہ ہوگا، صرف وہ فقہی مسلک کے داعی ومبلغ ہوں گے۔جہاں اسلامی عقائد وافکار پر حملہ ہوگا،وہاں خاموش تماشائی هوں گے۔  مسلک کے خلاف کوئی عمل ہورہا ہو تو ان کے جذبات بیدار ہوجائیں گے۔

مَسلك اعتدال:

بعض انتہاپسندوں کی متعصبانہ ذہنیت کا سبب ، بهت سے دینی مدارس میں پروان چڑھنے والی مسلکی عصبیت ہے اور یہ سب کچھ مناظرانہ تعلیم کے ثمرات ونتائج ہیں۔حالانکہ ہندوستان وبرِ صغیر کے تمام مکاتبِ فکر کے ذمے دارانِ مدارس حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک ومنہج کی اتباع کے مدعی ہیں۔ لیکن عملاً اس سے کوسوں دور ہیں۔ مسلکی بنیادوں پر قائم ان مدارس میں قرآن وسنت سے زیاده  مخصوص مسلک كوپڑھایا جاتا ہے، اسی طرح ہر مدرسہ علمِ منطق کے ذریعے حضرت شاہ ولی اللہ کے طرزِ فكر کو بھی اپنے مسلک کے تابع بناکر پیش کرتا ہے۔جب کہ عدل وانصاف کی بات یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب کےموقف کو انہی کی تصانیف کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ مختصر طور پر اگر حضرت شاہ صاحب کے مسلک کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے تو وہ مسلکِ اعتدال ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن وسنت کی تعلیم کو بنیادی حیثیت دی جائے اور ائمۂ مجتہدین کو شجرِ ممنوعہ قرار دینے کے بجائے طالب علم کے سامنے ہر مسلک کے دلائل پیش کیے جائیں اور تقلیدِ جامد کے بجائے مختلف ائمہ کے اجتہادات سے فائدہ اٹھانے کا جذبہ طالب علم کے اندر پیدا کیا جائے جو کہ خود ان ائمۂ مجتہدین کا بھی مقصد اور منشا تھا۔ اُن کے نزدیک ائمۂ کرام کے درمیان اختلافات میں حکمتِ الٰہی یہ تھی کہ امت کے لیے رحمت ووسعت اور سہولت پیدا ہوجائے۔ لیکن آج ہم نے اس حکمت کے برعکس ان ائمۂ فقہ کے نام پر امت کو زحمت اور گروہی عصبیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

اب سے تقریباً سوا سو سال قبل شہر کانپور میں ندوۃ العلماء کے قیام اور اس کے بعد لکھنئو میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے قیام کا اصل مقصد بھی ملت کو مسلکی اور جماعتی افتراق وانتشار سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس اچھے جذبے کے کچھ اثرات آج بھی ندوہ میں پائے جاتے ہیں۔ہندوستان کا ایک معروف تعلیمی ادارہ جامعۃ الفلاح -بلریاگنج، اعظم گڑھ- بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے دینی تعلیمی ادارے باہم مناظرے بازی کے بجائے غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت کے لیے عالم اور داعی تیار کریں۔اس کے لیے سب سے پہلے یونانی علمِ منطق سے توجه كم كرنی ہوگی۔ آج کے غیر مسلم حضرات تک ترسیلِ دعوت کے لیے علمِ منطق کی نہیں، جدید سائنس کے علم کی ضرورت ہے۔دوسرے یہ کہ تمام مسلکی وگروہی عصبیتوں سے بلند ہوکر قرآن وسنت کی تعلیم کو رائج کیا جائے۔ علمِ فقہ کی حیثیت ثانوی رکھی جائے اورشاہ ولی اللہ کے حقیقی مسلک سے استفاده كیا جائےیعنی ایک امام کے اکثر مسائل پر عمل کرتے ہوئے کسی مسئلے میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر دوسرے مسلک پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔اگر اس پر عمل ہو جائے تو انشاء اللہ یہ ملتِ اسلامیہ پر دنیا کے موجودہ حالات میں ایک احسانِ عظیم ہوگا اور امت کے علمائے کرام ملت کو مسلکی عصبیت کی دلدل سے باہر نکال سکیں گے۔

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau