ابتدائی دور میں جدید الحاد کا زیادہ زور وجودِ خدا کے انکار، معجزات کے انکار، عیسائیت میں موجود مسئلہ شر (جس کی عمومی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام کے ذریعے کیے گئے گناہ کا بار خدا یعنی عیسی علیہ السلام نے خود اٹھایا) کی نامناسب توجیہ، جہاد، شدت پسندی، عورتوں کی حقوق تلفی اور ڈاروینی ارتقا کے اثبات پر تھا؛ لیکن سیم ہیرس نے، جو کہ ایک نیورو سائنٹسٹ ہے اور جدید الحادی فکر کے بڑے شہ سواروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے، یہ سوال اٹھایا کہ کیا انسان واقعی آزاد ہے؟ کیا وہ واقعی با اختیار ہے؟ کیا اس کے فیصلے اس کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں؟ ان سوالات کا تذکرہ اس کی معروف کتاب Free Will میں ہے۔[1]
واقعہ یہ ہے کہ جدید الحاد آزاد ارادے اور اختیار کے پہلو سے معرکة الآرا پوزیشن اختیار کرتا ہے۔
سیم ہیرس کی قبیل کے جدید ملحدین کہتے ہیں کہ آزاد ارادہ اور اختیار کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ انسان مکمل طور پر اپنی عصبیاتی لچک، جینیاتی بناوٹ، ماں کے پیٹ سے لے کر شعور کی عمر کو پہنچنے تک سینکڑوں عوامل کے ذریعے ہونے والی عصبیاتی کنڈیشنگ کے تحت مجبور ہے اور اس کا اپنا کوئی اختیار و ارادہ نہیں ہے۔
وہ یہ مانتے ہیں کہ اختیار اور آزادی یہ ایک واہمہ ہے اور انسان درحقیقت مجبور مطلق نہ صحیح لیکن مجبور ضرور ہے۔ جو کچھ اختیار اور آزادی ہمیں نظر آتی ہے وہ دراصل ہمارا وہم ہے۔
سیم ہیرس یہ سوال کرتا ہے کہ کیا واقعتاً آزادی اور اختیار موجود ہیں؟[2]
یہاں ہم ایک قاتل کی مثال سے سیم ہیرس کا موقف عام فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
فرض کیجیے ایک شخص قتل کرتا ہے۔ کیا یہ قتل اس نے اپنے آزاد ارادے اور اختیار سے نہیں کیا؟ سیم ہیرس کا موقف یہاں مختلف شکل میں سامنے آتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ قاتل کے ارادے یا نیت (intention)کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ قاتل کا ارادہ اپنے آپ میں کسی سبب سے جنم لینے والا ایک واقعہ (caused event)ہے؛ یعنی ارادہ اس شخص نے آزادانہ طور پر ’’پیدا‘‘ نہیں کیا بلکہ اس کے جینز، دماغ، تربیت، سابقہ تجربات، ماحول، حالات اور اس لمحے کی ذہنی کیفیت نے اسے اس مقام تک پہنچایا۔ سیم ہیرس نے اپنی تحریروں میں اور اپنی تقریروں میں جا بجا اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کے شعوری خیالات، نیت (intentions)اور جدوجہد (efforts) بھی ان اسباب کے نتیجے میں آتے ہیں جن سے وہ خود بے خبر ہوتا ہے۔
اوپر دی گئی قتل کی مثال کو لیجیے۔ عام اخلاقی تصور کے مطابق اس شخص نے قتل کرنے کا ارادہ کیا، اس نے سوچا، فیصلہ کیا اور پھر قتل کیا؛ اس لیے وہ ذمہ دار ہے۔
سیم ہیریس اس ترتیب سے اختلاف نہیں کرتا کہ قتل سے پہلے خیال (thought)، نیت (intention) اور فیصلہ (decision) موجود تھے۔ اس کا سوال ان سب باتوں سے بھی پہلے کی کیفیت کے تعلق سے ہے:
یہ نیت (intention)آئی کہاں سے؟
اس شخص نے خود یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اس کے اندر قاتلانہ غصہ پیدا ہو۔ اس نے اپنے جینز کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنا بچپن اور ابتدائی تربیت منتخب نہیں کی تھی۔ اس نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ اس کے دماغ کی ساخت کیا ہوگی، اسے کون سے تجربات پیش آئیں گے، کون سی محرومیاں اس کی شخصیت کو تشکیل دیں گی اور قتل کے عین وقت اس کے دماغ میں کون سی کیفیت ہوگی۔
لہٰذا ہیرس کے نزدیک: جینیاتی اور دیگر اسباب ← ذہنی کیفیت ← خواہش → نیت ← فیصلہ ← قتل
یہ اسباب کی زنجیر (causal chain)ہے۔ ہیرس دلیل دیتا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ قتل میں ’’قاتل کے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا‘‘ بلکہ زیادہ درست تعبیر یہ ہے:
’’قاتل کا ارادہ قتل کا ایک اہم سبب تھا، لیکن وہ اس ارادے کا حتمی اور خود ساختہ منبع (ultimate, self-created source) نہیں تھا۔‘‘
اس کے نزدیک یہ فرق بہت اہم ہے۔
مثلاً اگر قاتل نے دو ہفتے تک منصوبہ بنایا، اپنے شکار کا تعاقب کیا، ہتھیار خریدا، مناسب موقع کا انتظار کیا اور پھر شعوری طور پر قتل کیا، تو ہیرس اس تمام تگ و دو کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اس کے نزدیک یہ تمام تگ و دو بھی اس شخص کے دماغ اور سابقہ حالات سے پیدا ہوئی تھی۔ یعنی شعوری نیت (conscious intention) خود سببی زنجیر (causal chain) کا حصہ ہے، سببی زنجیر سے آزاد کوئی نتیجہ نہیں۔
اسی لیے ہیرس کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو عملی طور پر ذمہ دار ٹھہرانا ممکن ہے، لیکن بالآخر اخلاقی ذمہ داری (ultimate moral responsibility) کے معنی میں وہ ذمہ دار نہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر بہت گہرائی سے سوچا جائے تو کسی انسان کو اس کی بدعملی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، البتہ عملی سطح پر اسے ذمہ دار ٹھہرانا ضروری ہوسکتا ہے۔
پھر قاتل کو سزا کیوں؟
یہاں ہیرس کا جواب قابلِ غور ہے۔
وہ مکافات (retribution) اور تدارک (deterrence/rehabilitation) میں فرق کرتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ کہنا:
’’اس قاتل نے برائی کی، اس لیے وہ سزا کا مستحق ہے‘‘ آزاد ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے درست بیان نہیں ہے۔ بلکہ درست بیان یہ ہے کہ ’’اس شخص کو قید کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مزید لوگوں کو نقصان نہ پہنچائے، یا دوسرے لوگ جرم سے باز رہیں، یا خود اس کی اصلاح ہو جائے۔‘‘
یعنی سزا عمل (act) کی بنیاد پر نہیں بلکہ افادیت (utility کی بنیاد پر ہوگی۔ ہیرس کا خود یہ کہنا ہے کہ اگر سزا لوگوں کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مطالبات، قوانین اور سزائیں خود انسانی رویے کو متاثر کرنے والی سببی زنجیر کا حصہ بن جاتی ہیں۔
یہاں ہیرس کا ایک دل چسپ جملہ سامنے آتا ہے جو جدید الحاد کے ماننے والے بہت دہراتے ہیں:
Holding people responsible for their past actions makes no sense apart from the effects that doing so will have on them and the rest of society in the future (e.g. deterrence, rehabilitation, keeping dangerous people off our streets.)
’’لوگوں کو ان کے ماضی کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرانا ان اثرات کے علاوہ کوئی معنی نہیں رکھتا جو ایسا کرنے سے مستقبل میں ان پر اور بقیہ معاشرے پر مرتب ہوں گے (مثلاً عبرت، بحالی، اور خطرناک افراد کو ہماری سڑکوں سے دور رکھنا)۔‘‘
لیکن ہیرس کے مطابق یہ سب کچھ بھی آزاد ارادہ کے تصور کے بغیر ہوسکتا ہے۔ یعنی سزا بھی ایک نیا سبب بن کر آئندہ رویے کو تبدیل کرسکتی ہے۔
لیکن یہیں سے ایک بنیادی مباحثہ شروع ہوجاتا ہے۔ مثلًا جیسے کہ کہا گیا، ہیرس کا استدلال دراصل یہ نہیں کہ ’’قاتل نے سوچا نہیں، ارادہ نہیں کیا، فیصلہ نہیں کیا‘‘ بلکہ ’’اس نے سوچا، ارادہ کیا اور فیصلہ کیا، مگر یہ سب اس کے اپنے خود مختار خلق کرنے سے نہیں ہوا۔‘‘
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا ارادہ کسی سابقہ سبب سے پیدا ہوا ہو تو کیا وہ اس کا ارادہ نہیں رہ جاتا؟
ہیرس کا جواب ہاں میں ہے۔ لیکن تمام تر کوشش کے باوجود اسے ثابت کرنا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
اگر قاتل نے اپنے عقائد، خواہشات، اخلاقی تصورات، مستقبل کے نتائج کے اندازے اور شعور کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا، تو یہ کہنا کہ اس کا فیصلہ کسی سابقہ سبب کا حاصل تھا، یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ اس کا اپنا فیصلہ نہیں تھا۔
خلاصہ یہ کہ سیم ہیرس قاتل کے ارادے کا انکار نہیں کرتا؛ وہ ارادے کے خود مختار خلق ہونے کا انکار کرتا ہے۔ اس کے نزدیک قاتل کا ارادہ خود ایک اثرِ معلول (effect) ہے، اگرچہ وہ اسی وقت قتل کا ایک قریبی سبب (proximate cause)بھی ہے۔
یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ سوال محض فلسفہ، نفسیات یا اعصابی سائنس کا نہیں ہے بلکہ اس سوال کے جواب پر پوری انسانی تہذیب کے لیے ایک خاص قسم کا ورلڈ ویو بنتا ہے۔
جدید الحاد بڑی چالاکی سے اس سوال کو اٹھاتا ہے کیوں کہ دنیا کے تمام مذاہب میں اختیار اور آزادی عمل اور امتحان کی بنیاد ہے۔ اگر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کو ثواب ملے گا کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کو گناہ ملے گا۔ اختیار اور آزادی عمل کی بنیاد پر انسانوں کا امتحان ہے اور اسی بنیاد پر انسانوں کا حساب کتاب ہوگا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جبریہ نامی فرقہ اسی کا داعی تھا۔ اس کے مطابق خالق نے تقدیر لکھ دی ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان کیا عمل اختیار کرتا ہے۔ اس کا کافی و شافی جواب اسلامی لٹریچر میں موجود ہے۔ تاہم جبریہ فرقے اور جدید الحاد میں اختیار اور آزادی کے تصور کے تئیں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جبریہ کا موقف خالق کے ذریعے لکھی گئی تقدیر کے حوالے سے ہے، جب کہ الحادِ جدید میں خالق کےانکار کے ساتھ یہ دعوی ہے کہ آزاد ارادہ اور اختیار کوئی چیز نہیں ہے۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ اختیار اور آزادی کوئی چیز نہیں ہے تو لازمی طور پر ہم کسی بھی اچھے یا برے عمل کے مکلف نہیں ٹھہرتے۔ اگر انسان اپنے افعال کا مختار نہیں ہے تو پوری اخلاقی ذمہ داری بے بنیاد ہوجاتی ہے۔ قانون محض سماجی نظم چلانے کا ایک آلہ ہے۔ انصاف اس لیے ہونا چاہیے کہ وہ سماج کے لیے اچھا ہے۔ اس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔ جزا و سزا، توبہ و گناہ، ثواب اور حساب کے تصورات سب اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔ اسی طریقے سے، اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر ہمارے تمام عقائد یا ہمارے عقائد کا نظام محض کسی متعین حیاتی یا عصبیاتی عمل کا نتیجہ ہیں تو خود عقیدے اور عمل کے درمیان جو فرق ہے وہ مٹنے لگتا ہے۔ اس حوالے سے سیم ہیرس کے ذریعے اٹھایا گیا سوال دور رس اثرات کا حامل ہوجاتا ہے۔ اس نے اپنی کتاب کے ذریعےعام لوگوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا اعصابی سائنس اور بطور خاص جدید نفسیاتی اعصابی سائنس نے آزاد ارادے کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر دیا ہے!
لیکن کیا واقعتاً ایسا ہے؟ آزاد ارادے سے متعلق سیم ہیرس کا دعویٰ ایک سادہ مگر بہت حیران کن سوال سے شروع ہوتا ہے۔[3]کیا آپ اپنے اگلے خیال کا انتخاب کرسکتے ہیں؟ اگر آپ چند لمحے خاموش بیٹھ جائیں اور اپنے ذہن کو کھلا چھوڑدیں تو معلوم ہوگا کہ خیالات خود بخود آنے لگتے ہیں آپ نے یہ انتخاب نہیں کیا کہ کون سا خیال پہلے آئے گا کون سا بعد میں۔ چناں چہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے اپنے خیالات آپ کے اپنے اختیار میں نہیں ہیں!
آپ نہ اپنی خواہشات کے خالق ہیں، نہ اپنے رجحانات کے، نہ اپنے جذبات کے، نہ ہی اپنے ارادوں کے اور نہ ہی اپنے خیالات کے۔
سیم ہیرس کہتا ہے کہ اگر ہمارے ابتدائی خیالات ہمارے اختیار میں نہیں ہیں تو یہ خیالات سے پیدا ہونے والے فیصلے بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہیں اور اگر فیصلے ہمارے اختیار میں نہیں ہیں تو آزاد ارادہ محض ایک واہمہ ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بظاہر یہ استدلال مضبوط نظر آتا ہے لیکن گہرا تجزیہ اس کی کم زوری کو واضح کردیتا ہے۔
سیم ہیرس کا یہ استدلال دو مقدموں اور ایک نتیجے پر قائم ہے۔
پہلا مقدمہ یہ کہ انسان اپنے خیالات اور خواہشات کا خالق نہیں ہے۔ دوسرا مقدمہ یہ کہ انسانی فیصلے خیالات اور خواہشات سے پیدا ہوتے اور انھی خیالات اور خواہشات کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں۔ ان دونوں مقدموں کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی فیصلے انسان کے حقیقی اختیار میں نہیں ہیں۔
اس پورے استدلال میں حسبِ ذیل کم زوریاں ہیں:
سیم ہیرس خیال کے پیدا ہونے اور اس پر غور و فیصلہ کرنے میں فرق نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی ابتدائی خیال کا خالق نہ بھی ہو، تب بھی وہ اس خیال کو قبول یا رد کرنے، اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
ہیرس خواہشات اور فیصلوں کو ایک ہی چیز قرار دیتا ہے، حالاں کہ انسان اپنی خواہشات کا ناقد بھی بن سکتا ہے اور دلیل کی بنیاد پر ان کے خلاف فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔
ہیرس کا یہ مفروضہ بھی بے بنیاد ہے کہ حقیقی اختیار صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے وجود، اپنی عقل اور اپنی تمام خواہشات کا بھی خالق ہو۔
اس استدلال میں سائنس کہاں ختم ہوتی ہے اور فلسفہ کہاں داخل ہوجاتا ہے، واضح نہیں ہوپاتا۔ مثلًا اعصابی سائنس مختلف تجربات کے ذریعے سے ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کسی فیصلے کے وقت دماغ کے کون سے حصے زیادہ متحرک ہوتے ہیں؟ کون سے نیورل نیٹ ورک فعال ہو جاتے ہیں؟ کون سے کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں؟ کن کیمیائی مادّوں کا کون سا تناسب کس قسم کی برقی رو کو جنم دیتا ہے؟ لیکن اعصابی سائنس ابھی تک حتمی طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ طبعی اعتبار سے موجود دماغ ہی شعور ہے۔ یا شعور دماغ سے ماورا بھی کوئی اپنی حقیقت رکھتا ہے، جو اپنے آپ میں موجود ہے؟ اعصابی سائنس یہاں آکر خاموش ہو جاتی ہے کیوں کہ یہیں سے ما بعد الطبیعیات کا دائرہ شروع ہوتا ہے، جس کا انکار جدید ملحدین بڑے شد و مد سے کرتے ہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا دعویٰ سیم ہیرس نے ایک بہت ہی سادہ قسم کے سائنسی تجربے پر رکھا ہے وہ تجربہ بنجامن لیبٹ کے اعصابی تجربات کا حصہ ہے۔
ان میں سے ایک جو سب سے مشہور تجربہ ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے حاضرین سے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی لمحے انگلی کو حرکت دیں اور ساتھ ہی یہ بتائیں کہ انھیں شعوری طور پر حرکت کا ارادہ کب محسوس ہوا۔ دماغی برقی سرگرمی کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ حرکت سے متعلق ایک ابتدائی سگنل شعوری ارادے کے احساس سے چند سو ملی سیکنڈ پہلے ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس ابتدائی مشاہدے سے اس نے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ دماغ پہلے فیصلہ کرتا ہے اور شعور بعد میں اس فیصلے سے آگاہ ہوتا ہے۔[5]
بنجامن لیبٹ کے اس تجربے سے سیم ہیرس نے یہ دعویٰ کیا کہ خیالات پہلے آتے ہیں اور شعور اور ارادہ بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ حالاں کہ بنجامن لیبٹ نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ آزاد ارادہ اور اختیار کوئی وہم ہے بلکہ اس نے یہ امکان پیش کیا کہ کسی بھی اعصابی تحریک کے وجود میں آنے کے بعد آخری لمحے تک اس اعصابی تحریک کے ذریعے ابھرنے والے عمل کو انسان روکنے پر قادر ہوتا ہے اس نے اسے ’’فری وانٹ‘‘ (free want) کا نام دیا۔[6]
یعنی دوسرے لفظوں میں کسی اعصابی تحریک کے نتیجے میں جب شعور آگاہ ہو جاتا ہے تو آپ اسے عمل میں لانے کے لیے آزاد ہوتے ہیں آپ آخری وقت تک اس ارادے پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے ذہن کو حکم دے سکتے ہیں۔ اب یہاں پر آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ سیم ہیرس نے لیبٹ کے تجربے کے ایک امکان پر تو اپنے دلیل کی بنیاد رکھی لیکن دوسرے امکان کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اصل میں یہی تو سائنٹزم کہلاتا ہے جب انسان سائنس سے اپنے مطلب کی چیز لے لے اور اس کے برابر کے وزن کی دوسری چیز چھوڑ دے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سیم ہیرس کے نظریے کی گہرائی میں ایک فلسفیانہ بحران بھی ہے۔ ان کی دلیل کا خلاصہ جیسے کہ بیان کیا گیا وہ یہ ہے کہ انسان اپنے خیالات، خواہشات اور فیصلوں کا حقیقی خالق نہیں ہے بلکہ یہ تمام دماغ میں جاری کیمیائی اسباب کا لازمی نتیجہ ہے۔ انسان صرف ان اعمال کا مشاہدہ کرتا ہے ان کا مصنف نہیں ہے، وہ خود ان کا خالق نہیں ہے، اس بنیاد پر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آزاد ارادہ ایک وہم ہے لیکن اس کو مان لینے کے اثرات بہت زیادہ گہرے ہیں۔ فرض کریں کہ اگر یہ دلیل صحیح ہے تو اس کی زد صرف مذہب، عقیدے اور فیصلے پر نہیں پڑتی بلکہ عقل، علم اور سچائی کی بنیاد بھی متزلزل ہو جاتی ہے۔
اسے مشہور زمانہ فلسفی ایلون پلیٹنگا (Alvin Plantinga) نے نیچریت کے خلاف ’ارتقائی استدلال‘ (the evolutionary argument against naturalism) کے نام سے بیان کیا ہے۔[7]
وہ کہتے ہیں کہ سیم ہیرس جس ڈاروینی ارتقا کے علم بردار ہیں اس میں بقا اور سچائی میں بنیادی فرق ہے۔ ارتقا کا اصول یہ نہیں ہے کہ وہ سچے عقائد پیدا کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسے ذہنی رجحانات پیدا کرے جو بقا اور تولید میں مدد دیں۔ چناں چہ اگر ارتقا کا مقصد صرف بقا ہے تو پھر ہمیں یہ یقین کیوں ہو کہ ارتقا نے ایسی عقل پیدا کی ہے جو حقیقت تک پہنچنے کے لیے یا ’آخری سچائی‘ تک ہماری رسائی کے لیے قابل اعتماد ہے؟ یہ سوال بظاہر سادہ ہے لیکن اس کے جواب کے نتیجے ہمیں بہت دور تک لے جاتے ہیں۔ مثلا فرض کیجیے کہ دو انسان ہیں۔ ایک دنیا کو حقیقت کے مطابق دیکھتا ہے، جب کہ دوسرا دنیا کے بارے میں کئی غلط عقائد رکھتا ہے، مگر انھی غلط عقائد کی وجہ سے اس کی بقا کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب ارتقا کے نزدیک کام یاب کون ہوگا؟ وہ جو غلط عقائد رکھتا ہے، کیوں کہ اس سے بقا کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچائی اور ارتقائی افادیت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ ایلون پلیٹنگا نے اس مسئلے کو ایک بہت خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تین باتیں درست ہیں، ایک، نیچریت درست ہے؛ دو، ارتقا درست ہے؛ تین، انسانی عقل ارتقا کی پیداوار ہے؛ تو ہمارے پاس اپنے عقل کے قابل اعتماد ہونے کی کوئی مضبوط دلیل اور کوئی مضبوط بنیاد نہیں رہتی۔ کیوں کہ ارتقا نے عقل کو سچ جاننے کے لیے نہیں، بلکہ زندہ رہنے کے لیے تشکیل دیا ہے۔ اگر عقل پر اعتماد نہیں تو پھر وہ عقل جس کے ذریعے ہم نیچریت کو درست مانتے ہیں اس پر بھی اعتماد باقی نہیں رہتا، اور اس طرح سے یہ خود کو شکست دینے والا یقین بن جاتا ہے۔ [8] یعنی نیچریت اپنی صداقت ثابت کرنے سے پہلے ہی اپنی علمی بنیاد کے خلاف چلا جاتا ہے۔
ایلون پلیٹنگا کی اس دلیل کو آپ سیم ہیرس پر لوٹا دیجیے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کا ہر عقیدہ اصل میں ایک مخصوص دماغی عمل کا نتیجہ ہے، تو کیا ان کا اپنا یہ عقیدہ بھی دماغی عمل کا نتیجہ ہے؟ اگر ہاں تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیسے معلوم کہ سیم ہیرس کا عقیدہ سچا ہے، اور وہ بھی صرف جینی حیاتی اعمال اور اعصابی کنڈیشننگ کا نتیجہ نہیں ہے! سیم ہیرس یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سائنس پر مبنی ہے، لیکن سائنس تک پہنچنے کا ذریعہ بھی انسانی عقل ہے۔ لیکن انسانی عقل و شعور تو نا اعتبار ٹھہرے، اور شعور کی قابلِ اعتماد حیثیت خود مشکوک ہو جائے، تو سائنس کی بنیاد بھی اسی کے ساتھ ساتھ کم زور ہوجائے گی۔
اب ایک دوسری صورت کو لیجیے۔ سیم ہیرس علت اور دلیل میں فرق نہیں کرتے، اور ان کے اسی فرق نہ کرنے کو لے کر سی ایس لیوس نے اپنی معروف کتاب Miracles: Preliminary Study میں علت اور دلیل کے حوالے سے ایک گہرا فرق بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کسی عقیدے کی دو مختلف توجیہات ہوسکتی ہیں، سببی توجیہ اور عقلی توجیہ۔ مثلاً جب ایک شخص یہ کہتا ہے کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں تو اس کے دماغ میں اس لمحے لاکھوں نیوران متحرک ہوتے ہیں۔ اعصابی سائنس اس کی پوری تفصیل بیان کرسکتی ہے۔ یہ علت ہوئی۔ لیکن وہ اس سوال کا جواب نہیں دے رہی ہے کہ دو جمع دو چار ہی کیوں ہیں۔ یہ دلیل ہوئی۔دونوں میں بہت فرق ہے۔اسی پر عقیدے کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ انسانی دماغ میں اعصابی سرگرمی عقیدے کے واقع ہونے کی وضاحت کر سکتی ہے لیکن اس کے معقول ہونے کی وضاحت نہیں کرسکتی۔[9]
جدید جبریت (modern determinism) اس انتہائی اہم پہلو کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر انسان کے تمام خیالات، احساسات اور عقائد صرف نیورو کیمیکل کی وجہ سے ہیں تو پھر یہ کہنا بے معنی ہوجاتا ہے کہ کوئی ایک خیال یا عقیدہ دوسرے خیال یا عقیدے سے زیادہ بہتر یا مقدم ہے۔ چناں چہ سائنسی مزاج اور توہم پرستی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ مذہب پسند اور ملحد میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ قدامت پسند اور جدت پسند میں کوئی امتیاز نہیں رہتا۔ غرض یہ کہ اس دلیل کو مان لینے سے سب کچھ ایک اضافیت کے بلبلے میں قید ہو جاتا ہے، کیوں کہ بنیادی استدلال ہی اس مفروضے پر قائم ہے کہ انسان مختلف دلائل کی بنیاد پر اپنی رائے بدل سکتا ہے، نہ کہ صرف اسباب کے زیرِ اثر۔ یہاں ہم ایک بڑی دل چسپ گواہی پیش کرنا چاہیں گے، جو تھامس نیگل (Thomas Nagel)کی ہے۔ واضح رہے کہ تھامس نیگل خود ایک ملحد ہیں اور وہ کسی بھی قسم کے مذہبی بیانیے کے قائل نہیں ہیں، لیکن انھوں نے اپنی مشہور زمانہ کتاب Mind and Cosmos میں اعتراف کیا ہے کہ موجودہ ڈارونزم اور اس کے بعد وجود میں آنے والے نیو ڈارونزم اور جارحانہ مادیت پسندی کے تمام فلسفے انسانی عقل، شعور، معروضی سچائی، اعلی ادراکی صلاحیتیں، شعور کی مختلف منازل اور شعوری فیصلوں کی مکمل وضاحت کرنے میں ناکام ہیں۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اگر ذہن صرف طبعی عمل کا نتیجہ ہوتا تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ ایسی صلاحیت کیسے حاصل کرلیتا ہے جن کے ذریعے وہ کائنات کے معروضی حقائق کو دریافت کرسکے۔ ریاضی منطق اور فلسفے کی وہ صداقتیں جو زمان و مکان سے ماورا دکھائی دیتی ہیں، وہ صرف بقا کی حکمتِ عملی کے ذریعے سے وجود میں آجائیں، یہ بہت دور از کار بات محسوس ہوتی ہے۔
وہ آگے لکھتے ہیں: ایک طرح کی عالمگیریت (universality) ان تمام اجزا میں پائی جاتی ہے جس کی توجیہ وتشریح صرف حیاتیاتی افادیت (biological utility) سے نہیں کی جا سکتی۔ [10]
یہ اعتراف اس لیے اہم ہے کہ یہ کسی مذہبی مفکر کا نہیں بلکہ ایک ملحد فلسفی کا اعتراف ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ذاتی خیال ہے، لیکن تھامس نیگل کی قد آور شخصیت کو صرف یہ کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتاکہ یہ محض ان کا ایک ذاتی خیال ہے۔
ایک پہلو جس پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ عقل کی خود مختاری یا اعصابی جبر کے حوالے سے ہے کیوں کہ یہ پوری بحث آخر کار ایک اہم سوال پر آکر ایک طرح سے رک جاتی ہے۔ وہ یہ کہ کیا ہم دلائل کی وجہ سے کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں یا صرف اس لیے کہ ہمارے نیوران ہمیں وہاں پہنچا دیتے ہیں؟ اگر ہم دلائل کی وجہ سے کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں تو عقل صرف طبعی اسباب کا مجموعہ نہیں! لیکن اگر دوسرا جواب درست ہے کہ عصبیےہمیں وہاں پہنچا دیتے ہیں تو پھر سیم ہیرس کی کتاب، اس کے دلائل اور اس پر ہمارا غور و فکر یہ صرف ایک نیورو کیمیکل واقعہ ہے جس کی صداقت کے بارے میں کچھ بھی کہنا بے معنی ہو جاتا ہے!
یہی وہ داخلی تضاد ہے جس سے موجودہ دور کی نیچریت پوری طرح سے نکل نہیں سکی۔ آزاد ارادہ الہیاتی مذاہب کے ذریعے دیے گئے نظریہ انسان میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا انکار صرف ان مذاہب ہی کو چیلنج نہیں کرتا بلکہ خود علم، عقل، استدلال اور عقل پر اعتماد کی بنیادوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید فلسفہ ذہن (philosophy of mind) ارادے اور اختیار کی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ متنوع اور گہری ہو چکی ہے۔
اب ہم اس آخری مفروضے پر آتے ہیں جس میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نیورو سائنس نے-جس کے ایک معروف سائنس داں ہیرس خود ہیں- واقعی آزاد ارادے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ کیوں کہ جدید الحاد کی مقبول کتابوں میں، سوشل میڈیا کے مباحث میں، جدید ملحدین کے پوڈ کاسٹوں میں، یہ جملہ اس قدر اعتماد کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ عام لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ نیورو سائنس نے آزاد ارادے کو غلط ثابت کر دیا ہے، اور گویا اس ضمن میں سائنس دانوں میں ایک طرح سے سائنسی اتفاق رائے ہوچکا ہے، لیکن جب اس مفروضے کے پیچھے استعمال ہونے والے مقالات کا طریقہ کار، ان کا تحقیقی ڈیزائن، ان میں دیے گئے نتیجے اور بنیادی مراجع کو جب پڑھا جاتا ہے، تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
دیکھیے یہ بات سمجھنا چاہیے کہ تجرباتی نتائج اور ان کی تعبیر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جدید الحاد نے یہ کیا ہے کہ اس نے تجرباتی نتائج، جو لیب میں ہوتے ہیں اور ان نتائج کی بنیاد پر وجود میں آنے والی فلسفیانہ تعبیر، ان دونوں الگ الگ سطحوں کو بڑی چالاکی سے ملا دیا ہے، اور انھیں ایک دوسرے میں اس طرح سے مدغم کر دیا ہے کہ سائنسی حقیقت بالکلیہ غائب ہو گئی۔
مثلًا لیبٹ کے تجربے کو لیجیے۔ اصل تجربہ 1983 میں ہوا تھا اور جیسا کہ اوپر تذکرہ آ چکا کہ اس تجربےمیں شرکا سے کہا گیا وہ کسی بھی وقت اپنی انگلی کو حرکت دیں اور ایک گھڑی کی مدد سے یہ بتائیں کہ شعوری طور پر حرکت کا ارادہ کب محسوس کیا؟ اسی دوران ایک خاص مشین کے ذریعے سے دماغ کی سرگرمی ریکارڈ کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حرکت سے متعلق یہ سرگرمی شعوری ارادے یا احساس سے تقریباً 300 سے 500 ملی سیکنڈ پہلے شروع ہو چکی تھی۔ یہ بہت ہی اہم اور دل چسپ مشاہدہ تھا۔ اس کی کئی طریقوں سے توجیہ ہو سکتی تھی۔ بنیادی طور پر اس تجربے کی توجیہ کے لیے دو بڑے دھارے وجود میں آئے۔ ایک دھارا وہ تھا جسے خود لیبٹ نے اختیار کیا، وہ یہ کہ شعور شاید ہر عمل کا آغاز نہ کرے لیکن اس کے پاس آخری مرحلے میں اس عمل کو روکنے یا قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ دوسرا دھارا وہ تھا جسے بعد میں سیم ہیرس اور دیگر جدید الحاد کے علم بردار مصنفین نے اختیار کیا۔ ان کے نزدیک اس تجربے نے ثابت کر دیا کہ شعور صرف ایک تماشائی ہے جب کہ اصل فیصلہ دماغ پہلے ہی کرچکا ہوتا ہے۔
لیبٹ کے تجربے میں ایک نہایت ہی ابتدائی قسم کے معمولی عمل کا مطالعہ کیا گیا تھا۔ انگلیاں یا کلائی کو حرکت دینا ایسا عمل ہے جس میں نہ اخلاقی کشمکش ہے، نہ منطقی استدلال ہے، نہ مستقبل کی منصوبہ بندی ہے، نہ جذبات کا ہیجان ہے اور نہ ہی متبادل امکانات کا سنجیدہ جائزہ ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ایک غیر اہم عمل کے نتائج کو انسانی زندگی کے تمام فیصلوں مثلاً مذہب، عقیدہ، جنسیت، شادی، طلاق، انصاف، قربانی، عبادت، اخلاق، قدروں کا انتخاب، محبت، وفا، جذبۂ شہادت، وغیرہ، پر لاگو کیا جا سکتا ہے؟
جدید اعصابی سائنس نے اب تک اس سوال کا جواب متفقہ طور پر اثبات میں نہیں دیا ہے۔ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ریڈی نس پوٹینشیل (readiness potential) جس کے بارے میں بہت بات کی جاتی ہے (آسان لفظوں میں ریڈی نس پوٹینشیل وہی فرق ہے جسے اوپر بیان کیا گیا ہے) وہ اصل میں کیا ہے؟ لیبٹ کے تجربے کے شائع ہونے کے بعد سے دو تین دہائی تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ ریڈینس پوٹینشیل دراصل’فیصلے‘ کا اعصابی نشان ہے۔ لیکن بعد میں اس تشریح پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ جیسے 2012 میں آرون شروگر (Aaron Schruger) اور ان کی ٹیم نے ایک متبادل ماڈل پیش کیا۔ ان کے مطابق ریڈی نس پوٹینشیل لازمًا کسی شعوری فیصلے کا آغاز نہیں ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ یہ دماغ میں پہلے سے جاری بے ترتیب اعصابی اتار چڑھاؤ کا مجموعہ ہو، جو کسی حد تک پہنچنے پر حرکت کا باعث بنتا ہو! اگر یہ تعبیر درست ہے، تو لیبٹ کا تجربوں سے آزاد ارادے کے خلاف اخذ کیے جانے والا نتیجہ بالکل ختم ہو جائے گا، یعنی جس اعصابی سرگرمی کو سیم ہیرس فیصلے سے تعبیر کر رہے ہیں، وہ ممکن فیصلہ نہ ہو بلکہ صرف دماغی تیاری کا ایک عمومی نمونہ ہو۔
اسی طریقے سے 2014 میں ا لفریڈ آر میلی نے Free: Why Science Hasn‘t Disproved Free Will نامی ایک بہت ہی سنجیدہ اور اعلیٰ پائے کی تحقیقی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں آزاد اختیار کے حوالے سے بہت تفصیلی گفتگو موجود ہے اور اس میں جدید ملحدین کی جانب سے آزاد ارادے اور اختیار کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بڑا تشفی بخش جواب دیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف اس مقبول دعوے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ جدید نیورو سائنس نے آزاد ارادے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ وہ خاص طور پر ان تجربات کا جائزہ لیتے ہیں جنھیں آزاد ارادے کے منکرین اپنے حق میں فیصلہ کن ثبوت سمجھتے ہیں۔ میلی کے مطابق یہ تجربات، جن میں دماغی سرگرمی اور شعوری فیصلے کے درمیان زمانی تعلق کا مطالعہ کیا گیا ہے، اس بات کو ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے فیصلوں سے پہلے دماغ میں بعض غیر شعوری سرگرمیاں شروع ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ شعوری ارادہ بے اثر ہے یا انسان اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں۔ ان تجربات میں بہت سی طریقہ کار کی اور تشریحی کم زوریاں موجود ہیں۔ اس لیے ان کے نتائج کو آزاد ارادے کے خلاف قطعی ثبوت سمجھنا درست نہیں۔ میلی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شعوری غور و فکر اور فیصلہ انسانی زندگی میں حقیقی اور اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کتاب میں میلی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر آزاد ارادے سے مراد کیا ہے؟ اور اس کا اخلاقی ذمہ داری سے کیا تعلق ہے؟ ان کے نزدیک آزاد ارادے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے تمام خیالات، خواہشات اور حالات کا مکمل خالق ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا انسان اپنے افعال کے بارے میں غور کر سکتا ہے کہ نہیں؟ مختلف امکانات کو دیکھ سکتا ہے کہ نہیں؟ اور اپنے عمل کی سمت متعین کرسکتا ہے کہ نہیں؟ وہ یہ بھی توجہ دلاتے ہیں کہ آزاد ارادے کے انکار کے عملی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر انسان یہ سمجھنے لگے کہ وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار نہیں کیوں کہ اس کے تمام فیصلے پہلے سے طے شدہ ہیں، تو اس کے رویے میں منفی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس لیے میلی کا بنیادی موقف یہ ہے کہ موجودہ سائنسی شواہد آزاد ارادے کو مسترد کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ہمیں آزاد ارادے کو ایک سنجیدہ، فلسفیانہ اور عملی امکان کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے سائنسی شواہد کی محتاط تعبیر کرنی چاہیے۔
اسی طرز پر ایک اور مشہور کتاب ڈینیل ٹوپن نے لکھی ہے جس کا نام The Free Will Solution ہے۔[11]
ٹوپِن کا دعویٰ ہے کہ آزاد ارادے کی بحث صدیوں سے اس لیے الجھی ہوئی ہے کہ ہم آزادی کی تعریف ہی غلط انداز میں کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان اپنے اسباب سے بالکل آزاد ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان وجوہ اور دلائل کے مطابق عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان کا بنیادی موقف یہ ہے کہ انسان بیک وقت معلول (caused) بھی ہوسکتا ہے اور خود مختار (free) بھی، دونوں باتیں لازماً ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں۔
یہ نقطۂ نظر براہِ راست سیم ہیرس کی سخت جبریت (hard determinism) کو چیلنج کرتا ہے۔ سیم ہیرس کے استدلال میں یہ تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر ہمارے فیصلے ان اسباب سے پیدا ہوتے ہیں جنھیں ہم نے خود منتخب نہیں کیا (جیسے جینیاتی تشکیل، اعصابی کنڈیشننگ، حالات، ہمارا خاندان اور سماج)، تو ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں۔
ٹوپِن کے نزدیک یہاں آزادی کی تعریف ہی ضرورت سے زیادہ سخت کردی گئی ہے۔ اگر آزادی کا مطلب یہ لیا جائے کہ کسی شخص کے فیصلے کی کوئی وجہ، سابقہ حالت یا علت نہ ہو، تو ایسی آزادی دراصل ایک بے سبب انتخاب بن جائے گی۔ لیکن اگر آزادی کا مطلب یہ ہو کہ انسان اپنے فہم، غوروفکر، ترجیحات اور وجوہ کے مطابق عمل کر سکتا ہے، تو پھر کسی عمل کا علتی طور پر پیوست (causally embedded) ہونا اس کے آزاد ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ اسی بنا پر ٹوپِن مطابقت پسندی (compatibilism)کو محض ایک سمجھوتا نہیں بلکہ منطقی اور تجرباتی دونوں اعتبار سےقابلِ دفاع موقف سمجھتے ہیں۔
آزاد ارادے کے حوالے سے ٹوپن کے مطابقت پسندی کو آسان لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ آزاد ارادے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب و علل کے نظام سے ماورا ہو کر فیصلہ کرتا ہے، بلکہ آزادی سے مراد انسان کی وہ حقیقی اور قابلِ مشاہدہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ غوروفکر، دلائل اور اسباب کے مطابق اپنے رویے کو تشکیل اور تبدیل کر سکتا ہے۔ اس معنی میں انسان بیک وقت اسباب و علل کے نظام کا حصہ بھی ہے اور آزاد فاعل بھی۔
(ٹوپِن کی یہ کتاب حال ہی میں منظرِ عام پر آئی ہے، اور زبردست توجہ کی مستحق بنی ہے) اب ہم آزاد اختیار اور ارادے پر مختصرًا اسلامی موقف پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق انسان کی آزادی مطلق نہیں بلکہ محدود مگر حقیقی ہے۔ وہ اپنی پیدائش، جینیات، زمانے اور ماحول کا انتخاب نہیں کرتا، لیکن اللہ کے ذریعے عطا کردہ مواقع اورحالات کے اندر غور و فکر کرتا ہے، دلائل کا جائزہ لیتا ہے، اپنے نفس سے کشمکش کرتا ہے اور اپنے فیصلوں کی اخلاقی سمت متعین کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ مکلف اور جواب دہ ہے۔
قرآن مجید انسان کو مسلسل تعقل، تفکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے، اور اسے ایک ایسا وجود قرار دیتا ہے جو دلائل کو سمجھ سکتا ہے، ان پر غور کر سکتا ہے اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ یہ وہ بنیادی تصورات ہیں جن کی وجہ سے انسان اخلاق، قانون، جزا و سزا اور دینی ذمہ داری کے حوالے سے با اختیار ہے۔
جب ہم مارک ٹوپن اور اسلامی نقطہ نظر کا مقابلہ سیم ہیرس کے نسبتًا کھوکھلے مقدمات سے کرتے ہیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہیرس کا نظریہ صرف آزاد ارادے پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ اگر اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو وہ عقل، علم، دلیل اور سچائی کی بنیادوں کو بھی کم زور کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تصورِ اختیار انسان کی محدود مگر حقیقی آزادی، اس کی اخلاقی ذمہ داری اور اللہ کی مطلق حاکمیت کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کرتا ہے۔ اس تصور میں انسان نہ مطلق خود مختار ہے اور نہ بے اختیار مشین، بلکہ ایک ایسا اخلاقی فاعل ہے جسے اللہ نے محدود دائرۂ اختیار عطا کیا ہے اور اسی بنیاد پر اسے جواب دہ بنایا ہے۔ یہی تصور آزاد ارادے، اخلاق، علم، قانون اور مذہبی ذمہ داری کو ایک مربوط اور معقول بنیاد فراہم کرتا ہے۔
- Harris, S. (2012). Free will. Free Press
- Harris, S. p.5 (2012). Free will. Free Press
- Harris, S. p.13 (2012). Free will. Free Press
- Libet, B., Gleason, C. A., Wright, E. W., & Pearl, D. K. (1983). Time of conscious intention to act in relation to onset of cerebral activity (readiness-potential): The unconscious initiation of a freely voluntary act. Brain, 106(3), 623–642. https://doi.org/10.1093/brain/106.3.623
- Ibid
- Plantinga, A. (2012). The Evolutionary Argument against Naturalism. In The Blackwell Companion to Science and Christianity (eds J.B. Stump and A.G. Padgett). https://doi.org/10.1002/9781118241455.ch10
- Ibid
- Lewis, C. S. (1960). Miracles: A preliminary study (Rev. ed.). Geoffrey Bles
- Nagel, T. (2012). Mind and cosmos: Why the materialist neo-Darwinian conception of nature is almost certainly false. p .17-39 Oxford University Press.
- Mele, A. R. (2014). Free: Why science hasn‘t disproved free will p.8-39. Oxford University Press
- Toupin ,D. (2025). The Free Will Solution . Physics Project Press Cardinal, Ontario, Canada, First Edition, 2025







