مقاصد شریعت نصوص کی روشنی میں

قاضی فرزانہ تبسم

انسان کی پیدایش کامقصد بندگی رب ہے۔ انسان بندگی کاحق کس طرح ادا کرسکتاہے، اس کے لیے اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے مختلف زمانوں میں شریعتیں بھیجیں۔آخری اور کامل شریعت حضرت محمدمصطفی ﷺ کے ذریعے سے نازل فرمائی۔ اب قیامت تک آنے والا ہر انسان رضاے الٰہی حاصل کرکے اصل اور حقیقی ﴿اُخروی﴾ خسران سے صرف اور صرف دین و شریعت محمدیﷺ کو اختیار کرکے ہی بچ سکتاہے۔

غرض کہ دین و شریعت محمدیﷺ کے نزول کا واحد مقصد یہ ہے کہ انسان اُخروی خسران سے بچے اور رضاے الٰہی و فلاح آخرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ چنانچہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نہ صرف اپنے طرزفکر وعمل سے دین و شریعت کاتحفظ کرے، بل کہ بغیر کسی کتربیونت کے پورے اخلاص اور تن دہی کے ساتھ اس کی اقامت کی جدوجہد کرے۔ نہ کہ باطل اور غیر اسلامی نظریات اور قوتوں کے غلبے سے متاثر اور مرعوب ہوکر اجتہاد و مقاصد شریعت کے حصول کے نام پر دین و شریعت میں کاٹ چھانٹ کرکے ان نظریات اور قوتوں کے لیے موافق یا غیرمزاحم بنانے کی کوشش کرے۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف جس دورانحطاط سے ملت اسلامیہ گزررہی ہے، اس کی مثال تاریخ اسلام میں نہیں ملتی تو دوسری طرف غیراسلامی اور باطل افکار اور قوتوں کی مادی ترقی اور غلبے اوراسلام اور عالم اسلام کے خلاف پیہم چوطرفہ یلغار کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ عام مسلمان ہی نہیں، بل کہ علما اوردانشوروں کا ایک طبقہ بھی بُری طرح مرعوب ومتاثر اور معذرت خواہ نظرآتاہے۔ اس طبقے کے بعض علما اوردانشوروں کی طرف سے ’’اجتہاد‘‘ اور ’’حصول مقاصدِ شریعت‘‘ کے نام پر ایسی تحریریں اور تصانیف منظرعام پر آرہی ہیں، جن سے دین و شریعت میں تحریف کا دروازہ وا ہوتاہے۔ حال ہی میں ’’مقاصد شریعت‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے، جس کے مصنف ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی ہیں۔ کتاب میں بہت سی مفید باتیں بھی ہیں لیکن ایسے مباحث اور تجاویز بھی ہیں جو قابل ردہیں۔ موصوف عورت کے سر ڈھانکنے کو بھی عرب ماحول کے سیاق میں پایاجانے والا ایک رواج قراردیتے ہیں، جس کی پابندی کم از کم مغرب میں رہنے والی مسلمان عورت کے لیے ضروری نہیں۔ ﴿مقاصدشریعت‘‘ص:۱۹۵﴾

چند فقہائ و علمائ کے نزدیک مسلم عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے۔ خاص طورپر جب کہ فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ لیکن کچھ عرصے سے بعض مسلم دانشوروں کے نزدیک پردہ ہی ناقابل قبول ہونے لگاہے۔ اسے انھوں نے ازواج مطہرات کے لیے مخصوص کردیااور اب تو عورت کے سر سے دوپٹا بھی اتارپھینکاجارہاہے۔

ڈاکٹر صاحب عورت کے حجاب اورپردے کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا وہ آیت جس میں تمام عورتوں بشمول ازواج مطہرات کو اوپر سے چادر ڈالنے کا حکم ہے ’’اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلّو لٹکالیا کریں۔‘‘ ﴿الاحزاب:۵۹﴾ اس آیت کا تذکرہ کرتے وقت بھی صریح طورسے ’’مسلمانوں کی عورتوں‘‘ یہ الفاظ ہی حذف کردیے۔ملاحظہ فرمائیں:

’’دوسری آیت جس میں ازواج مطہرات کو گھر سے باہر نکلنے کے لیے جلباب نیچے کو لینے کی ہدایت ہے۔‘‘﴿ص:۱۹۴﴾

عورت کے حجاب اور پردے سے متعلق موصوف مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ’’مسلم عورت کے حجاب کامسئلہ مغربی ممالک سے ٹکرائو ومحاذ آرائی کا سبب بن رہاہے۔ لہٰذا ’’اس فروعی اور اختلافی مسئلے پر محاذ آرائی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے۔‘‘﴿ص:۵۹۱﴾ ان کا کہناہے کہ مسلم عورت کے سر ڈھانپنے کے سلسلے میں قرآن میں حکم نہیں ہے۔ فرماتے ہیں:

’’چنانچہ جس آیت قرآنی میں عورت کے لباس کاذکر ہے اس میں خمار کو سینے پر ڈالنے کا کہاگیاہے۔‘‘ ﴿ص:۱۹۴﴾

اس سلسلے میں اولاً تویہ کہ قرآن میں عورت کے لباس کا کہیں ذکر ہی نہیں ہے کہ کیا پہنو اور کیا نہ پہنو۔ ثانیاً یہ کہ قرآن میں عبادات وغیرہ کے اور دیگر کچھ احکام ومسائل بھی ایسے ہیں جو اجمالاً بیان کیے گئے ہیں، جن کی تفصیل ہمیں حدیثوں کے ذریعے ملتی ہے۔ جیسے قرآن میں نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، نماز کے اوقات بتائے گئے ہیں، لیکن طریقہ نہیں بتایاگیا۔ نماز کاطریقہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایاہے اور جو بتواتر آج تک چلاآرہاہے۔ سورۂ النور میں محرم مردوں کی فہرست میں جن کے سامنے ایک عورت پوری زیب وزینت کے ساتھ آسکتی ہے، چچا اور ماموں کاذکر نہیں کیاگیا۔ تو کیا قرآن کی رو سے حقیقی چچا اور ماموں ایک عورت کے لیے غیرمحرم ہوگئے، جن سے ایک مسلم عورت کو غیرمحرموں کا سا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اسی طرح قرآن میںدوپٹے کے بارے میں بھی اجمالاً اشارہ ہے کہ دوپٹا سینے پر بھی ڈالاجائے کہ پہلے عورتیں سر کو کسا وے سے باندھتی تھیں اور سینہ وغیرہ سب کھلا رہتاتھا۔ سواے قمیص کے، اس کے اوپر کچھ نہ ہوتاتھا۔ لہٰذا قرآن میں یہی کہاگیاکہ سر کے ساتھ ساتھ سینے وغیرہ کو بھی چھپایا جائے اور پھر حدیث کے ذریعے ہمیں اس حکم کی مزید تفصیل بھی مل گئی۔ آپﷺ نے فرمایا:

لایحل الامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الاٰخر ان تخرج یدیھا الا الیٰ ہٰہُنا وقبض نصف الذراع‘‘                                        ﴿ابن جریر﴾

’’کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے ، یہ کہہ کر آپﷺ نے اپنی کلائی کے نصف حصّے پر ہاتھ رکھا۔‘‘

مزید ارشاد ہے:

الجاریۃ اذا حاضت لم یصلح ان یرٰی منہا الا وجہہا ویدھا الے المفصل﴿ابوداؤد﴾

’’جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے جسم کاکوئی حصّہ نظر نہ آناچاہیے، سواے چہرے اور کلائی کے جوڑ تک ہاتھ کے۔‘‘

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :

’’ میں اپنے بھتیجے کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو نبیﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ تو میرا بھتیجا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سواے چہرے کے اور سواے اس کے۔ یہ کہہ کر آپﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھاکہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔‘‘

اس مضمون کی احادیث ،حدیث کی بہت سی کتابوں میں بہ کثرت ملتی ہیں۔اب جب کہ عورت کو ہتھیلی اور چہرہ چھوڑکر جسم کے کسی حصے کو گھر میں بھی کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی تو کیا سرعورت کے جسم کاحصہ نہیں ہے، جسم کے باہر کاکوئی عضو ہے؟ اور کیا ان حدیثوں کا اطلاق سرپر نہیں ہوتاہے۔ اگر شریعت میں سرکو کھلا رکھنے کی اجازت ہوتی تو رسول اکرمﷺ اس کی بھی وضاحت فرمادیتے کہ ’’سر، چہرہ اور ہتھیلی کو چھوڑکر پورا جسم چھپائو۔‘‘ آگے فرماتے ہیں: ’’جہاں عرف و عادت مختلف ہوں، وہاں کے لیے اصل دین اور مقاصد شریعت کو سامنے رکھ کر سوچاجائے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ مختلف مقامات کے مختلف عرف اور عادات کا لحاظ کرکے کن احکام کے مقاصد کو سامنے رکھ کر آپ سوچیںگے اور ان کے کیا مقاصد تجویز کریںگے ؟ اور تحریم و تحلیل کے قانون بنائیںگے؟ اور قرآ ن و سنت کے حرام کردہ کن کن امور کو آپ اسی طرح اپنے طورسے مقاصد شریعت تجویز کرکے یا انھیں عرب کا عرف و عادت قرار دے کر حلال کرلیںگے؟

افسوس کہ محترم موصوف نہ صرف مسلم عورت کے پردے اورحجاب کی نفی کرتے ہیں ، بل کہ آگے بڑھ کر مسلم عورتوں کے غیرمسلم مردوں سے ربط و اختلاط کے نہ صرف یہ کہ زبردست موئد ہیں، بل کہ ان کے نزدیک مسلم عورت کے غیرمسلم مردوں سے روابط نہ ہونے کے سبب اپنے فریضے ﴿اقامت دین﴾ کے تقاضے پورے کرنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ فرماتے ہیں:

’’عورت کا مقام گھر کے اندر ہے، جیسے کلیہ کا لازمی نتیجہ یہ ہواکہ غیرمسلم انسانیت بشمول ان کی عورتوں کے ﴿ خصوصاً مردوں اور عموماً عورتوں سے۔ ﴿راقم﴾ مسلمان عورت کاکوئی ربط باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان عورت اپنے آپ کو درج ذیل آیات کی مخاطب سمجھے اور ان کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرے۔‘‘   ﴿ص۵۷-۵۸﴾

ڈاکٹرصاحب نے‘‘زندگی نو‘‘ اکتوبر ۲۰۰۹؁ء میں شائع شدہ اپنے مضمون ’’جماعت اسلامی ہند کو درپیش چیلنجز‘‘ میں بھی یہی بات فرمائی ہے : ’’البتہ یہ کہنا ضروری ہے کہ جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں ہندستان میں مسلمان عورت غیرمسلم انسانیت سے کٹ گئی۔‘‘ ﴿غور کریں یہاں بھی غیرمسلم عورتیں نہیں کہا۔ بل کہ انسانیت کہاکہ اس میں مردوں کو شامل کرنا جو تھا۔بل کہ مردوں کے لیے بطور خاص یہ بات کہی گئی﴾ ﴿راقم﴾ ملک کے مسلمان غیرمسلم انسانیت سے تعامل میں اپنی آدھی طاقت سے محروم ہوگئے۔ اب انسانیت عامہ تک اللہ کا پیغام اپنے قول و عمل سے پہچاننے میں مسلمان عورت عضوِ معطل ہوکر رہ گئی۔ کیا یہ آدھی گواہی اللہ کو قبول ہوگئی۔‘‘ ﴿ص:۳۰-۳۱﴾

یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ اسلام نے بہت سارے معاملات میں عورت کومرد کے برابر حقوق عطا کیے ہیں۔ لیکن گھر کے نظام کو بہترین طریقے سے چلانے اور برقرار رکھنے کی خاطر مرد کو عورت پر قوام بنایا۔گھر کے سربراہ کی حیثیت عطا کی۔ ساتھ ہی اس پر ذمے داریوں کا بھی کافی بوجھ ڈال دیا۔ جس طرح کسی ملک یاعلاقے یا کسی قبیلے کا کوئی سربراہ نہ ہوتواس کا نظام قائم ہی نہیں ہوسکتا، اسی طرح گھر کا شعبہ بھی کسی نہ کسی سربراہی کا محتاج ہے۔ سو وہ سربراہی مرد کی فطری و جسمانی ساخت اور دیگر صلاحیتوں کے لحاظ سے اسے ہی عطا ہوئی۔ اسی میں حکمت خداوندی ہے۔ وہ بھی محتاج بیان نہیں ہے اور پھر یہ کہ قرآن نے خاندان کی قوامیت و سربراہی مرد کو عطا کرکے اس پر تمام عائلی قوانین و احکام کی بنیاد رکھی ہے اور مغرب کا نظریہ مساوات ﴿مرد وعورت سے متعلق﴾ اسلام کے عائلی قوانین کی اس بنیادکو ڈھاکر ہی قائم کیاجاسکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں دین کی بنیاد ہی متزلزل ہوجائے گی۔ ارشاد خداوندی ہے:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَائ بِمَا فَضَّلَ اللّہُ بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَیْْبِ بِمَا حَفِظَ اللّہُ ﴿النسائ:۳۴﴾

مزید ارشادہے:

’’عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔‘‘  ﴿البقرہ:۲۲۸﴾

اس ضابطۂ خداوندی پر موصوف کا طنز ملاحظہ فرمائیں:

’’اس نمونے کے ڈھانچے میں مسلمان گھرانے میں مرد حاکم ہوتاہے اور عورت تابع مطلق۔ گویا یہ کائنات مردوں کی آماجگاہ ہے اورعورتیں مردوں کے لیے بنائی گئی۔‘‘   ﴿مقاصد شریعت، ص:۵۹﴾

قرآن کریم کی روسے بھی مرد صاحبِ امر اور عورت مرد کی مطیع قرار دی گئی ہے اور احادیث کے ذریعے بھی عورت پر شوہر کی اطاعت واجب کردی گئی۔ یہ جو قاعدہ ہے کہ مرد سربراہ اور عورت اس کی مطیع ہے، قرآن وسنت کا مقرر کردہ ہے۔ فقہاء کا بنایاہوا نہیں ہے۔ موصوف اسے ایک طرف تو جزئی وفقہی قرار دے رہے ہیں جو ابتدائی زمانے کے عربوں کے عرف وعادت کالحاظ کرکے رکھاگیاتھا اور دوسری طرف یہ بھی فرمارہے ہیں کہ قرآن کی طرف سے انھیں دوام کی سند حاصل نہیں ہے۔ ساتھ ہی نیا ضابطۂ آداب مرتب کرنے کا مشورہ بھی دیاجارہا ہے۔ موصوف اس بات کے بھی قائل ہیں کہ یہ قاعدہ قرآن کریم کے ذریعے بنایاگیاہے۔ لیکن ان کے نزدیک قرآن کریم نے مذکور اس قاعدے کو دائمی نہیں عارضی حیثیث دی ہے۔ اب رہا وہ قاعدہ جسے قرآن کریم میں کتنے عرصے کے لیے مقرر کیاگیاتھا، صحیح مدت اور اسے عارضی حیثیت جس آیت نے دی اس کی نشاندہی تو موصوف ہی کرسکیں گے۔

اس بات پر کہ غیرمسلم مرد مسلم عورتوں کے لیے حرام ہے۔ خلفاے راشدین و صحابہ کرام سے اجماع وتواتر کے ساتھ چلاآرہاہے۔ لیکن محترم نہ صرف غیرمسلم زوجین میں سے کسی ایک کے ایمان لانے پر نکاح قائم رکھنے کے قائل ہیں بل کہ تجدد پسند دانشور ڈاکٹر حسن ترابی کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’ماضی کے سارے فتاویٰ جن میں مسلمان عورت کی غیرمسلم مرد سے شادی ممنوع قرار دی گئی تھی، ایسے زمانے میں جاری کیے گئے تھے، جب مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان سیاسی جھگڑے چل رہے تھے۔ دوسری طرف مجھے قرآن یا سنت میں ایک لفظ بھی نہ ملا جو ایسی شادیوں کو ممنوع قرار دیتا ہو۔‘‘ ’’ہمیں ان مسلمان اقلیتوں کو جو مغرب میں اہل کتاب کے درمیان رہتے ہیں اختیار دینا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کاجائزہ لے کر فیصلے کریں کہ کیا طریقہ مناسب ہوگا کیوں کہ وہی اس سے اولین مرحلہ میں متاثر ہوتے ہیں۔ وہ اس نتیجے تک پہنچیںگے کہ اپنی بیٹیوں کو عیسائی اور یہودی مردوں کے ساتھ شادیاں کرنے دیں کیوں کہ غالباً یہ شادیاں ان کے شوہروں کو اسلام کی طرف لے آئیںگی، بصورت دیگر عورت خود اسلام پر قائم رہ سکے گی۔‘‘ ﴿ص:۱۷۸﴾

اس طرح مزید دو ایک رائے نقل کرنے کے بعد مصنف تائیداً فرماتے ہیں:

’’آپ نے دیکھاکہ ایک نیا موقف اختیار کرنے والوں نے کس طرح نئے حالات میں اسلام کے اس مقصد کو کہ اللہ کے بندے راضی وخوشی کے ساتھ اللہ کے دین میں داخل ہوسکیں اور ان کو اس پر قائم رہنے میں ناقابل برداشت مشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑے، فیصلہ کن اہمیت دی۔‘‘ ﴿ص:۱۷۹-۱۸۰﴾

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک قرآن و سنت یعنی احکام شریعت پر غوروفکر کرکے کسی فیصلے پر پہنچنا عام لوگوں کا بھی کام ہے۔ صرف علما ءوفقہاء کا نہیں۔ اور عام لوگوں کو بھی اس کی ٓزادی ملنی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے حالات کے مطابق احکام شریعت کے فیصلے کرسکیں۔ جس کی تلقین پوری کتاب میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہے۔ چند نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

’’کچھ لوگ سوچ سکتے ہیں کہ وہ صورت حال اس سے بہتر ہے جو صدیوں سے قائم چلی آرہی ہے۔ یعنی نئے پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کی کوشش کو امت کے علمائ اور فقہائ کا کام قرار دیاجائے اور باقی لوگوں کو اس بات پر قانع رکھاجائے کہ ان کاکام سمع و طاعت ہے۔ یہ سوچ درست نہیں، اس کی پہلی غلطی یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو ایک ایسے عمل میں شرکت سے محروم کرنا چاہتی ہے، جس میں حصہ لینا ان کا صرف حق نہیں، بل کہ ان کی ذمے داری ہے۔ اس طرزفکر کا تیسرانقصان یہ ہے کہ اس سے متاثرہوکر محتاط افراد تو پیچھے ہٹ جائیں گے مگر ان لوگوں کی اجتہادی کوششوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا جو موجودہ زمانے کے علما اور فقہا کے کام سے مطمئن نہیں اور زمانے کے دبائو کے تحت نئی سوچ کے عمل میں کافی آگے جاچکے ہیں۔‘‘ ﴿ص:۱۶۴-۱۶۵﴾

قرآن پر غوروفکر الگ بات ہے اور اجتہاد کے ذریعے کوئی فیصلہ کرلینا اور اس کا پوری امت بشمول علما و فقہا تک کے لیے قابل قبول ہوجانا بالکل دوسری بات ہے۔ زمانۂ سلف سے ہی یعنی عہد خلفاے راشدین کے بعد سے ہی یہ طریقہ چلاآرہا ہے کہ قرآن وسنت پر غوروفکر توامت کا ایک بڑا طبقہ کرتارہاہے، لیکن جن کے اجتہاد کو قبول عام حاصل ہوا، ان کی تعداد شاذ رہی۔ جنھوںنے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث اور فقہ و شریعت اسلامی کے مطالعے اور تحقیق میں گزاردی اور برسوںکی اس تحقیق اور مطالعہ وممارست نے ان کے اندر وہ گہری بصیرت وملکہ پیداکردیاکہ وہ رسول اللہ کے مزاج شناس ہوگئے۔ جن کے خلوص اور دینی بصیرت پر دیگر تمام خاص وعام کو اعتماد رہا اوراخلاق و کردار اور پابندی شریعت کے لحاظ سے بھی ان کا نہایت اعلیٰ مقام رہا۔ ایسے ہی حضرات نت نئے مسائل یعنی ایسے مسائل جن سے ماقبل سابقہ پیش نہ آیاہو اور دیگر مسائل سے متعلق بھی ﴿واضح رہے اجماع ہی ہے﴾ قرآن وسنت اور تاریخ وسیرت و صحابہ اور علماے سلف و خلف کے مطالعۂ تحقیق و اجتہاد کے ذریعے نیز کن حالات میں رسول کریم ،صحابہ کرام و علماے سلف و خلف کے کس قسم کے خیالات اور رویے رہے ہیں۔ ان پر تحقیق کرکے بھی اپنے فیصلوںسے عوام الناس کو مستفید کرسکتے ہیں۔ خداوند کریم کا بھی ارشاد ہے: ’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ ﴿النحل:۳۴﴾ ان کے مقابلے میں موصوف عام لوگوں، عصری علوم کے طلبا اور مادی توانائی و وسائل رکھنے والے افراد کو ﴿اندازہ لگائیں کہ موصوف کے نزدیک مادی توانائی و وسائل کی کتنی زیادہ اہمیت ہے﴾ اختیار دیے جارہے ہیں کہ دینی احکام وو شریعت میں غورو فکر کرکے فیصلے کریں۔ کتاب مذکور میں بھی اور ان کی دیگر تحریروں میں بھی اس کی تلقین کی جارہی ہے۔ اب وہ لوگ جنھیں نہ دین کی کچھ شُد بُد ہے، حتیٰ کہ احکام شریعت کے مقاصد تو درکنار دینی احکام تک سے وہ ناواقف و انجان ہوں وہ دینی احکام میں کیا غوروفکر اور اجتہاد وفیصلہ کریں گے۔

مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں:

’’اجتہاد کرنا ان لوگوں کا کام نہیں ہے جو ترجموں کی مدد سے قرآن پڑھتے ہوں۔ حدیث کے پورے ذخیرے سے نہ صرف یہ کہ ناواقف ہوں، بلکہ  اس کو دفتر بے معنی سمجھ کر نظراندازکردیتے ہوں۔ پچھلی تیرہ صدیوں میں فقہاے اسلام نے اسلامی قانون پر جتنا کام کیا اس سے سرسری واقفیت بھی نہ رکھتے ہوں اور اس کو بھی فضول سمجھ کر پھینک دیں، پھر اس پر مزید یہ کہ مغربی نظریات و اقدار کو لے کر ان کی روشنی میں قرآن کی تاویلیں کرنا شروع کردیں۔ اس طرح کے لوگ اگر اجتہاد کریں گے تو اسلام کو مسخ کرکے رکھ دیں گے اور مسلمان، جب تک اسلامی شعور کی رمق بھی ان کے اندر موجود ہے، ایسے لوگوں کے اجتہاد کو ہرگز ضمیر کے اطمینان کے ساتھ قبول نہ کریں گے۔ قوم کاضمیر اس کو اس طرح اگل کرپھینک دے گا، جس طرح انسان کا معدہ نگلی ہوئی مکھی کو اُگل کرپھینک دیتا ہے۔ مسلمان اگر اطمینان کے ساتھ کسی اجتہاد کو قبول کرسکتے ہیں تو وہ صرف ایسے لوگوں کا اجتہاد ہے، جن کے علم دین اور خدا ترسی اور احتیاط پر ان کو اطمینان اور بھروسا ہو اور جن کے متعلق وہ یہ جانتے ہوں کہ یہ لوگ غیراسلامی نظریات و تصورات کو اسلام میں نہیں ٹھونسیں گے۔‘‘ ﴿تفہیمات، حصہ سوم، ص:۳۰﴾

اصول اجتہاد کے سلسلے میں مولانا فرماتے ہیں:

ان میں پہلا اصول یہ تھا کہ آدمی اس زبان کو اور اس کے قواعد اور محاوروں اور ادبی نزاکتوں کو اچھی طرح سمجھتاہوجس میں قرآن نازل ہواہے۔ انگریزی زبان میں قانون کی جو کتابیں لکھی گئی ہیں کیا ان کی تعبیر کا حق کسی ایسے شخص کو دیاجاسکتاہے جو انگریزی زبان کی ایسی ہی واقفیت نہ رکھتا ہو؟وہاں تو ایک کاما کے اِدھر سے اُدھر ہوجانے سے معنی میں عظیم فرق پیدا ہوجاتاہے۔ حتی کہ بسااوقات ایک کاما کی تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کو ایک قانون پاس کرنا پڑتا ہے، مگر یہاں یہ مطالبہ ہے کہ قرآن کی وہ لوگ تعبیرکریںگے جو ترجموں کی مدد سے قرآن سمجھتے ہوں اور ترجمے بھی وہ جو انگریزی زبان میں ہیں۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ آدمی نے قرآن مجید کا اور ان حالات کا جن میں قرآن مجید نازل ہوا ہے گہرا اور وسیع مطالعہ کیا ہو۔ کیا موجودہ قوانین کی تعبیر کاحق کسی ایسے شخص کو دیاجاسکتا ہے جس نے قانون کی کسی کتاب کا محض ترجمہ پڑھ لیا ہو؟ تیسرا اصول یہ ہے کہ آدمی عمل درآمد سے اچھی طرح واقف ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی قوانین پر ہواہے۔ ظاہربات ہے کہ قرآن خلا میں سفر کرتاہوا براہ راست ہمارے پاس نہیں پہنچ گیا۔ اس کو خدا کی طرف سے ایک نبی لایاتھا۔ اس نبی نے اس کی بنیاد پر افراد تیار کیے تھے، معاشرہ بنایاتھا، ایک ریاست قائم کی تھی، ہزارہا آدمیوں کو اس کی تعلیم دی تھی اور اس کے مطابق کام کرنے کی تربیت دی تھی۔ ان ساری چیزوںکو آخر کیسے از کیاجاسکتاہے۔ ان کا جو ریکارڈ موجود ہے اس کی طرف سے آنکھیں بندکرکے صرف قرآن سے احکام کے الفاظ لینا کس طرح صحیح ہوسکتاہے؟ چوتھا اصول یہ ہے کہآدمی اسلامی قانون کی پچھلی تاریخ سے واقف ہو۔ وہ یہ جانے کہ یہ قانون کس طرح ارتقائ کرتاہوا آج ہم تک پہنچاہے۔ پچھلی تیرہ صدیوں میں صدی بہ صدی اس پر کیاکام ہواہے۔ پانچواں اصول یہ ہے کہ آدمی ایمانداری کے ساتھ اسلامی اقدار اور طرزفکر اور خدا اور رسول کے احکام کی صحت کا معتقد ہو اور رہنمائی کے لیے اسلام سے باہرنہ دیکھے۔ بل کہ اسلام کے اندر ہی رہنمائی حاصل کرے۔ یہ شرط ایسی ہے جو دنیا کاہر قانون اپنے اندر اجتہاد کرنے کے لیے لازمی طورپر لگائے گا۔‘‘ ﴿تفہیمات سوم، ص:۳۱-۳۲﴾

ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی بینک کے سود سے متعلق بھی ملائشیا کی کسی اسلامی امور سے متعلق کمیٹی کے فتویٰ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’امت کی تجارت و صنعت کی ترقی کی خاطر بینکوں کے قرضوں پر سود﴿دینا﴾ ضرورت کی بنیاد پر جائز ہے۔ یہی اجازت بینکوں میں جمع رقوم پر سود لینے کے بارے میں بھی دی گئی ہے۔ اسلامی ادارے یا تجارتی کمپنیاں جن کے ممبران مسلمان ہوں ان کے بینکوں میں جمع سرمایوں پر جو سود ملے، اسے لینا اس حرج کی بنا پر جائز ہے جس میں آج کل مسلمانوں کی اقتصادیات مبتلا ہے۔ یہی معاملہ افراد کی جمع کردہ رقوم کابھی ہے۔‘‘

آگے کسی دوسرے فتویٰ کا حوالہ دے کر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:

’’جیساکہ ہم نے پہلے ذکر کیاہے، ہمیں اس سے بحث نہیں کہ کون سی رائے درست ہے اور کون سی نادرست، دیکھنا یہ ہے کہ بولتے ہوئے حالات سے نبٹنے میں معاصر فقہاء اور مفکرین مقاصد شریعت کی طرف کس طرح رجوع کرتے ہیں۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں جن سے کچھ لوگوں کو اتفاق ہو اور کچھ کو اختلاف ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ملک کے متفق علیہ فیصلوں سے دوسرے ملکوں میں اختلاف کیاجائے۔‘‘ ﴿مقاصد شریعت، ص:۱۹۹-۲۰۰﴾

ایک فتویٰ کے ذریعے امت مسلمہ کے اقتصادیات کے مسئلے کے سبب مسلمانوں کے لیے بینکوں کا سود ﴿لینا اور دینا دونوں بھی﴾ جائز کردینا اور دوسرے فتویٰ کے ذریعے ناجائز قرار دینا موصوف کے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ یعنی نص قرآنی کے ذریعے حرام کردہ کسی امر کو کسی علاقے میں حرام ہی رہنے دیاجائے تو وہ بھی صحیح اور کسی علاقے میں حلال قرار دے دیاجائے تو وہ بھی صحیح۔ پھریہ کہ اضطرار کی صورت میں کسی فرد کو اپنی کسی بنیادی ضرورت کی خاطر کسی وقت کچھ سود لینے کی گنجائش نکالنے کا تو کسی کے بھی نزدیک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس طرح کہ زنا کو کسی صورت میں حلال نہیں کیاجاسکتا۔ اضطرار کی حالت میں بھی نہیں، اسی طرح سود لینے کا بھی مسئلہ ہے۔ کجاکہ ابتلائ اقتصادیات کے نام سے سود کو مطلقاً ﴿لین دین سب﴾ سب کے لیے حلال قرار دے دیاجائے۔

سود کا مسئلہ کیا فقہی مسئلہ ہے؟ فقہاے کرام کاحرام کردہ ہے یا خدائے تعالیٰ کا؟ مفادات و مصالح کے نام سے قرآن کے احکام کو الٹ دیناحرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے دینا موصوف کے نزدیک مقاصد شریعت کا تقاضا ہے۔ یعنی اسلام کو بھی نام نہاد مقاصد شریعت کے عنوان کے تحت اسے ’’لچکداراور آسان‘‘ بنانے کے بہانے یہودیت و عیسائیت جیسا بنادیاجائے۔

مولاناابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایک مجلس میں فرمایاتھا:

’’اسلام میں اس امر کی گنجائش اور صلاحیت تو پوری طرح موجود ہے کہ ہر دور میں نت نئے پیش آمدہ مسائل کو اسلامی اصولوں کے مطابق حل کیاجائے اور اس غرض کے لیے اسلام میں اجتہاد کا دروازہ کھلاہے۔ لیکن اگر مقصد یہ ہو کہ ہر دور میں جنم لینے والے نظریات کو اسلامی ثابت کیاجائے اور کھینچ تان کرکے اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالاجائے تو یہی چیز کھلی ہوئی تحریف ہے۔ اسے اجتہاد یا تعبیر کانام کیوں کر دیاجاسکتاہے۔‘‘ ﴿۵اے، ذیلدار پارک، حصہ سوم: ص:۱۵۱‘‘

مارچ 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau