قرآن سے ہمارا مطلوبہ تعامل

قرآن مجید کا نزول تاریخِ انسانی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جس نے انسان کے فکری سانچوں، اخلاقی معیارات، اجتماعی نظم اور الوہیت و عبدیت کے تعلق کو ایک ہمہ گیر معنویت عطا کی۔ یہ محض ایک مذہبی متن یا تہذیبی سرمایہ نہیں، بلکہ زندہ و فعال ہدایت ہے؛ ایسی ہدایت جو انسان کو اس کے خالق سے مربوط کرتی، اس کے باطن کو آلودگیوں سے پاک کرتی اور معاشرے کو عدل، رحمت اور ذمہ داری کے اصولوں پر قائم کرتی ہے۔ اسی لیے قرآن کے ساتھ تعلق محض تلاوت یا تعظیم کا نام نہیں، بلکہ فہم، تدبر اور اطلاق کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔

تاہم یہیں سے ایک نہایت نازک مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ فہم کی یہ جدوجہد اگر اپنے اصول و آداب سے منقطع ہو جائے تو روشنی کے بجائے دھند پیدا کرتی ہے۔ تاریخِ تفسیر ہمیں بتاتی ہے کہ الٰہی کلام سے نسبت جتنی عظیم ہے، اس کے باب میں لغزش کا امکان بھی اتنا ہی شدید ہے۔ جو شخص اس میدان میں قدم رکھتا ہے، وہ درحقیقت معنی کی تشکیل کے ایک ایسے عمل میں شریک ہوتا ہے جو براہِ راست دین کی صورت گری پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں آزادی سے زیادہ امانت، اور جرات سے زیادہ احتیاط مطلوب ہے۔

عصرِ حاضر میں قرآن کے ساتھ تعامل کی مختلف صورتیں سامنے آئی ہیں۔ ان میں جذبۂ خدمت اور دفاعِ دین کی نیک نیت اپنی جگہ قابلِ ستائش ہے، لیکن طریقِ کار میں ایک بنیادی خامی نمایاں ہے: کتاب کو اصل اتھارٹی اور حاکمِ بالا سمجھنے کے بجائے اسے خارجی نظریات، عارضی مفروضات اور ذاتی ترجیحات کے تابع کر دیا جاتا ہے۔ یوں قرآن فیصلہ سنانے والا، رہنما اور معیارِ حق ہونے کی بجائے گواہ بن جاتا ہے، جو پہلے سے طے شدہ نتائج کی تصدیق پر مامور ہو جاتا ہے۔

جس طرح بعض حلقے قرآن کو فلسفہ، کلام، تصوف یا روحانی علاج اور تعویذات کے تابع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح بعض جدید ذہنوں نے سائنس کی فتوحات سے متاثر ہو کر یہ خیال کر لیا کہ اگر قرآن حقیقی ہے تو اس میں ہر سائنسی دریافت کی پیشگی جھلک لازماً موجود ہونی چاہیے۔ نتیجتاً آیات کے الفاظ کو ان کے لغوی اور سیاقی دائرے سے باہر کھینچ کر ایسے معانی پہنائے جاتے ہیں جو اصل مفہوم سے بعید ہوتے ہیں۔

اسی طرح کچھ محققین عددی تناسبات اور ریاضیاتی ترتیبوں میں اس قدر انہماک پیدا کرتے ہیں کہ گویا ہدایت کا راز انہی پوشیدہ رمزوں میں مضمر ہے۔ کہیں سماجی علوم یا نفسیاتی نظریات کو قرآنی قالب میں ڈھالنے کی کوشش ہوتی ہے، اور کہیں سیاسی پیش گوئیاں یا تاریخی واقعات کو آیات سے استنباط کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

ان تمام مناہج میں اصل مسئلہ نیت کا نہیں، بلکہ مرکزیت کا ہے۔ قرآن کو مرکز قرار دینے کے بجائے انسان کے ذہن اور اس کے پہلے سے قائم شدہ تصورات مرکز بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً قرآن کے لفظ اور روح کی رہنمائی پیچھے ہٹ جاتی ہے، اور ہدایت کی اصل مراد انسان کی اپنی ترجیحات کے تابع ہو جاتی ہے۔

اس طرزِ فکر کا پہلا نقصان یہ ہے کہ قرآن کی معنوی خود مختاری مجروح ہوتی ہے۔ وہ کتاب جو معیارِ حق تھی، خود معیار کی محتاج دکھائی دینے لگتی ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ قرآن کو عارضی علوم کے ساتھ اس طرح باندھ دیا جاتا ہے کہ جب وہ علوم بدلتے ہیں تو فہمِ قرآن بھی مشکوک ہونے لگتا ہے۔ تیسرے اور سب سے گہرے درجے میں یہ رویہ قاری کو اصل دعوت سے ہٹا دیتا ہے۔ وہ تبدیلی جو قرآن انسان کے دل، ارادے اور عمل میں پیدا کرنا چاہتا ہے، پس منظر میں چلی جاتی ہے، اور اس کی جگہ ذہنی کرتب لے لیتے ہیں۔

منہجی طور پر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن براہِ راست کسی فرد کی ذاتی دریافت نہیں تھا۔ یہ وحی ہے، اور وحی کی اپنی تاریخ ہے، اپنا سیاق ہے، اپنا مخاطبِ اول ہے۔ یہ کتاب محمد ﷺ پر نازل ہوئی، اور آپ ہی اس کے اولین شارح، معلم اور مجسم نمونہ تھے۔ آپ کی سنت نے قرآن کے اجمال کو تفصیل دی، اس کے اطلاقات کو واضح کیا، اور اس کی عملی صورتیں متعین کیں۔ اس طرح قرآن کا فہم ایک زندہ روایت کے ذریعے منتقل ہوا، نہ کہ آزاد تخیل کے سپرد کیا گیا۔

یہ تصور کہ ہر شخص متن کے سامنے بالکل تنہا کھڑا ہے اور اسے معنی متعین کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، دراصل جدید انفرادیت کا پرتو ہے، دینی منہج کا نہیں۔ الٰہی ہدایت نے خود اپنے فہم کا ایک اجتماعی اور تاریخی راستہ مقرر کیا ہے۔ اس راستے سے ہٹ کر کی جانے والی تعبیرات خواہ کتنی ہی دلکش ہوں، وہ سند کے اعتبار سے کمزور رہتی ہیں۔

صحابۂ کرام رضي الله عنهم کا طرزِ عمل اس باب میں رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ ان کے لیے قرآن علم کا ایک تجریدی سرچشمہ نہیں تھا، بلکہ عمل کا لائحۂ کار تھا۔ وہ آیت سنتے، اسے سمجھتے، اور فوراً زندگی میں ڈھال دیتے۔ ان کی توجہ اس بات پر نہ تھی کہ اس سے کتنے نظریات کشید کیے جا سکتے ہیں، بلکہ اس پر تھی کہ اس سے اپنی اصلاح کس طرح ممکن ہے۔ اسی نسبت نے ان کے فہم کو وزن عطا کیا۔

یہاں ایک اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن سے رہنمائی لے کر نئے مسائل کا حل تلاش کرنا عین مطلوب ہے؛ مگر یہ عمل اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اصل معنی متعین اور محفوظ ہیں۔ ہم انہیں بدلنے نہیں آتے، بلکہ ان کی روشنی میں اپنے حالات کو سمجھتے ہیں۔ جب یہ ترتیب الٹ جاتی ہے تو انسان ہدایت لینے کے بجائے ہدایت دینے کے منصب پر فائز ہو بیٹھتا ہے۔

عبدیت کا مفہوم یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو ہدایت کے سامنے سپرد کر دے۔ قرآن بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اطاعت میں ہے، نہ کہ امتیاز میں؛ جھکنے میں ہے، نہ کہ ابھرنے میں۔ جو شخص اس کتاب سے تعلق کے بعد زیادہ منکسر، زیادہ محتاط، اور زیادہ جواب دہ ہو جاتا ہے، وہ اس کے پیغام کو پا لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو اپنے لیے کوئی نیا مرتبہ تلاش کرتا ہے، وہ بسا اوقات الفاظ پا لیتا ہے مگر روح کھو دیتا ہے۔

یہ کہنا درست ہے کہ قرآن انسان کو بلند کرتا ہے، مگر یہ بلندی بندگی کے راستے سے ملتی ہے۔ یہاں عظمت کا معیار دریافت نہیں، اطاعت ہے؛ برتری کا پیمانہ دعویٰ نہیں، تقویٰ ہے۔ یہی وہ تربیت ہے جو انبیاء نے دی اور یہی وہ وراثت ہے جو امت کو منتقل ہوئی۔

آخرکار قرآن کا حقیقی اعجاز انسان کے اندر رونما ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے رب کے حضور عاجزی اختیار کرتا، اپنے اخلاق کو سنوارتا، اور اپنے معاملات میں عدل و احسان کو جگہ دیتا ہے، تب وحی اپنا مقصد پورا کرتی ہے۔ اگر یہ تبدیلی واقع نہ ہو تو بڑے سے بڑا فکری کارنامہ بھی محض ذہنی مشق رہ جاتا ہے۔

پس قرآن کی طرف رجوع کا صحیح راستہ یہ ہے کہ ہم اسے اپنے اوپر حاکم بنائیں، نہ کہ اپنے تصورات کا تابع۔ ہم اس سے نبوت کا درجہ نہیں حاصل كرتے، بلکہ نبوت کی رہنمائی میں عبدیت سیکھتے ہیں۔ یہی نسبت قائم رہے تو قرآن ہر دور میں تازہ رہے گا، اور انسان ہر دور میں اس سے نئی زندگی پاتا رہے گا۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

قرآن سے ہمارا مطلوبہ تعامل

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223