فلسطینی باشندے، صیہونی ریاست اور مسئلہ فلسطین

بیانیوں کا ٹکراؤ اور دو ریاستی حل کا ابہام

صلاح الدین شبیر

مسئلۂ فلسطین کو حل کرنے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قراردادیں، انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی اعلامیے، انسانیت سوز جرائم (crimes against humanity) سے متعلق قوانین، اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان طے پانے والے معاہدے، حتی کہ سلامتی کانسل کی منظور کردہ قراردادیں یہ سب صیہونی اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی کے سامنے ویسے ہی بے بس نظر آتے ہیں جس طرح جرمن نازی فوجیوں کے سامنے یہودی مرد عورت بوڑھے بچے اجتماعی ہلاکت (Holocaust) کے موقع پر دکھائی دیتے رہےہوں گے۔ کوئی قوم اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر کو دوسری غیر متعلق قوم پراسی طرح دہرائے گی اس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن اپنے قیام سے پہلے برطانیہ کی سرپرستی میں اور قیام کے بعد امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینی آبادی کے خلاف ہولوکاسٹ کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اسرائیلی ہولوکاسٹ بروقت نشر بھی ہورہا ہے اور دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے یا پشت پناہی کر رہی ہے۔ رہے عرب اور مسلم ممالک تو وہ رسمی بیان سے آگے بڑھ کر کسی عملی اقدام کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ایسے حالات میں صیہونی توسیع پسندی اور انسانیت سوز جرائم کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تحریک (Palestinian Resistance movement) ہی انسانی آزادی و خود مختاری کی آخری امید ہے۔ اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف جاری فلسطینی مزاحمت اخلاقی، سیاسی اور قانونی ہر اعتبار سے نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے کیوں کہ اس مسئلہ کے منصفانہ حل کا واحد راستہ اب یہی رہ گیا ہے۔

تین بیانیے: دلیل اور قوت کی کشمکش

۱۹۴۸ء میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کے قیام سے پہلے اور قیام کے بعد عام طور پر تین طرح کے بیانیے پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ایک بیانیہ فلسطینی باشندوں، عرب حکومتوں اور عوام بلکہ امت مسلمہ اور عالمی سطح پر ہندوستان سمیت بیشتر ممالک کا رہا ہے کہ اس سرزمین سے فلسطینی باشندوں کو بے دخل کرنا اور دنیا کے مختلف خطوں سے یہودیت سے نسبت رکھنے والی دیگر قوموں کو لا کر آباد کرنا ناجائز ہے۔ فلسطین کے ایک خطے پراسرائیل کے نام سے الگ ملک قائم کرنا ایک غاصبانہ قبضہ (illegal occupation)، نو آبادیاتی تسلط (colonial expansion) اور نسل پرستانہ عمل (apartheid) ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، جس پر تمام قوموں نے اتفاق کیا ہے، وہ ایسے کسی عمل کی اجازت نہیں دیتا جو مقامی آبادی کو بے دخل کرکے زبردستی دوسرے خطوں سے لائے گئے لوگوں کو مسلط کرنے والا ہو۔ اسی طرح کسی انتدابی ملک (Mandate country) کو دوسرے ملک کی زیر انتداب سرزمین کے بارے میں ایسا وعدہ کرنے کا نہ تو اخلاقی نہ ہی قانونی حق تھا جس سے اس ملک کے اصل باشندے بے دخل ہو جائیں اور دوسرے ممالک کے لوگ اس کے مالک بن جائیں۔ اس لیے فی نفسہ ۱۹۱۷ کا بالفور اعلان (Balfour declaration) جو برطانوی سکریٹری خارجہ آرتھر بالفور نے صیہونی تحریک کے ایما پر کیا اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ناجائز تھا۔

دوسرا بیانیہ صیہونی شدت پسندوں کا ہے جس کی بنیاد نسل پرستانہ رجحان (apartheid) اور مذہبی نظریے پر رکھی گئی ہے۔ دائیں بازو کے شدت پسند یہودی اور صیہونیت پسند عیسائی اس نظریہ کے پرجوش علم بردار ہیں کہ پورا فلسطین یہودیوں کا ارض موعود (Promissed Land) ہے جس پر بنی اسرائیل کو تمکن عطا کیا گیا تھا، اس لیے اسرائیلی حکومت کا قیام، توسیع اور تحفظ لازم ہے۔ ان کے خیال میں مذہبی، تاریخی اور تہذیبی طور پر پورا فلسطین یہودیوں کا ہے جس میں مقامی باشندے دوسرے درجے کے شہری کے طور پر رہ تو سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ مقامی عرب فلسطینی باشندے، جو یہودیت سے تعلق نہیں رکھتے، نقل مکانی کر لیں یا زبردستی انھیں اس خطے سے باہر نکال دیا جائے۔ جہاں تک فلسطین کے بارے میں بنی اسرائیل کے لیے ارض موعود ہونے کا تصور ہے تو اس مذہبی تصور کے ساتھ دوسرا تصور بھی وابستہ ہے جسے مسیح موعود (Mashiach) کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ یہودی مذہبی بیانیے میں مسیح موعود کی آمد تک یہودی ریاست کا قیام ناجائز ہے۔ لہذا! یہ مذہبی استدلال بودا ہے کہ یہودی نظریہ کے ایک حصے کو تو اسرائیلی ریاست کے قیام کا جواز بنایا جائے اور اس سے وابستہ دوسرے حصہ کو نظر انداز کر دیا جائے۔ جہاں تک تاریخی حقائق کا تعلق ہے تو یہ حقیقت معلوم و معروف ہے کہ یہودی النسل باشندوں نے فلسطین میں تقریباً چار سو سال کی حکم رانی کے دوران اس ملک کو اپنا گہوارہ بنایا پھر آپس کی گروہی جنگوں اور بیرونی حملوں کے نتیجے میں پاس پڑوس کے خطوں میں بکھر گئے لیکن مقامی آبادی رعایا کے طور پر یہیں آباد رہی۔ بعد کے ادوار میں مسلم حکم رانوں نے ان یہودیوں کو اپنی مملکت کے مختلف حصوں بسنے اور ترقی کرنے کے مواقع فراہم کیے اور فلسطین میں انھیں سکونت اختیار کرنے کی آزادی فراہم کی۔ لہذا! اس سرزمین پر انھیں دوسرے مقامی باشندوں کے ساتھ رہنے اور خطے کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کا استحقاق تو ہے لیکن مقامی باشندوں کو اپنے چار سو سالہ اقتدار کی بنیاد پر بے دخل کرنے کا حق کس منطق سے دیا جا سکتا ہے۔ اگر اس منطق پر عمل کیا جائے تو موجودہ قومی ریاستوں کی از سر نو تشکیل کرنی پڑے گی۔

تیسرا بیانیہ ان بڑی طاقتوں کا ہے جنھوں نے مشرق وسطی میں اپنے معاشی اور علاقائی سیاسی مفادات (geopolitical interest) کی برقراری کے لیے بزور قوت فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیلی ریاست قائم کر دی اور اس کے تحفظ و بقا کے نام پر بے تحاشا مالی، فوجی اور سیاسی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ اس بیانیے کے مطابق فلسطین کے ایک حصے پر یہودی ریاست اور دوسرے حصے پر فلسطینی باشندوں کی قومی جمہوری ریاست کا قیام مسئلۂ فلسطین کا مناسب حل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطین کو دو لخت کرنے کا اخلاقی، قانونی اور سیاسی جواز کیا تھا؟ اولاً تو فلسطین کی تقسیم اگر ہو سکتی تھی تو اس میں وہاں کے باشندوں کی رائے شماری لازم تھی۔ دوم اگر وہاں کے یہودی باشندے اپنے لیے علیحدہ قومی ریاست کے حق میں رائے دیتے تو ان کی آبادی کے تناسب سے اس سرزمین کی تقسیم کی جانی چاہیے تھی۔ سوم یہودی قومی ریاست کی تشکیل اور اس کی سالمیت کا نظم تو پوری تندہی اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے کیا جاتا رہا لیکن غیر منصفانہ تقسیم کے باوجود مقامی عرب فلسطینی باشندوں کی باضابطہ ریاست کے قیام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اس بیانیہ کی معقولیت اور اس کے تئیں اخلاص کا بنیادی تقاضا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کی پشت پناہی کے لیے اخلاقی، قانونی، سیاسی اور عسکری تائید و حمایت بھی کی جاتی تھی جو فراہم نہیں کی گئی۔ چناں چہ اسرائیل نواز عالمی طاقتوں کی مکر و فریب پر مبنی ڈپلومیسی نے فلسطینی ریاست کے تصور کو ایک خیال پریشاں بنا دیا اور جسے سراب بنائے رکھنے کا عمل آج بھی جاری ہے۔

دو ریاستی حل کی تجویز:

ان تین بیانیوں کے حق میں جو بھی اخلاقی، تاریخی اور سیاسی دلائل پیش کیے جاتے رہے ہوں اور ان میں خواہ کتنا ہی وزن ہو، عملی طور پر اصل غلبہ دوسرے بیانیے کو حاصل ہے یعنی پورا فلسطین یہودیوں کا ہے جس پر صیہونی نسل پرستانہ قومی بالا دستی کی علامت اسرائیلی ریاست ہے۔ اس کی عسکری قوت اور عالمی سطح پر امریکی حمایت کے سامنے تمام اخلاقی، قانونی، تاریخی اور مذہبی دلائل بے وزن اور لا حاصل ہیں۔

فلسطینی عوام اور اسرائیلی ریاست کے درمیان جاری طویل کشمکش اور نہ ختم ہونے والی خونریزی کے پیش نظر، دو ریاستی حل کا بیانیہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مقبول اور زیر بحث رہا ہے۔ اس دو ریاستی حل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ۱۹۴۹ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ بندی کے وقت کی سرحدی لکیر جسے ۴ جون ۱۹۶۷ سے پہلے کی پوزیشن یا سبز لکیر بھی کہا جاتا ہے اسرائیلی ریاست کی حد ہوگی۔ اسرائیلی ریاست کو قانونی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام اور عرب ممالک پوری طرح تسلیم کر لیں۔ مجوزہ فلسطینی ریاست کیسی ہوگی اس کا تعین فلسطینی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے دوران کیا جائے گا۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ مجوزہ فلسطینی ریاست کی خود مختارانہ حیثیت کا تعین اسرائیلی ریاست کی بقا، تحفظ اور مفادات اور فلسطینی ریاست میں غاصبانہ طور پر قائم کی گئی یہودی بستیوں کی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی کیا جائے گا۔ گویا ایک بالادست اور طاقتور اسرائیلی ریاست اور ایک مجہول اور زیردست فلسطینی ریاست اس دو ریاستی حل کے بنیادی فریم ورک کا حصہ ہوں گے۔

دو ریاستی حل دراصل ابہام سے آلودہ غیر نتیجہ خیز تجویز ہے جس کے مطابق فلسطین کے ایک حصہ پر اسرائیلی ریاست قائم رہے گی اور دوسرے حصہ میں ایک ایسی فلسطینی ریاست قائم کی جائے جسے اپنے دفاع کے لیے کوئی قوت حاصل نہیں ہوگی۔ نہ اس کی اپنی فوج ہوگی، نہ اس کے مختلف حصے (مغربی کنارہ، بیت المقدس کا مشرقی حصہ اور غزہ کی پٹی) باہم دگر مربوط (contiguous) ہوں گے بلکہ وہ اسرائیلی راہداری کے محتاج ہوں گے۔

اس دو ریاستی حل کا ایک پہلو تو اصولی ہے جس کی بنیاد اقوام متحدہ کی ۲۹ نومبر ۱۹۴۷ء کی قرارداد نمبر 181(II) ہے جس کے ذریعے فلسطین کو دو حصے میں تقسیم کیا گیا تھا: ۵۶ فیصد حصہ ایک تہائی یہودی آبادی کے حوالے کیا گیا اور ۴۴ فیصد حصہ دو تہائی فلسطینی عرب کے لیے چھوڑا گیا۔ فلسطین پر برطانوی انتداب (British Mandate) کے خاتمہ کے بعد اقوام متحدہ کے Partition Plan کے مطابق اسرائیلی ریاست قائم ہو گئی لیکن عربوں نے اس تقسیم کو رد کرتے ہوئے جنگ کی باضابطہ ابتدا کردی جس کا خاتمہ ۱۹۴۹ کی جنگ بندی لائن کی شکل میں نکلا۔ ۱۹۶۷ کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی شکست اور اسرائیل کے ذریعے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر ۲۴۲ منظور کی جس میں تمام متعلقہ ریاستوں پر لازم کیا گیا کہ وہ اپنی سابقہ سرحدوں پر واپس چلے جائیں اور ایک دوسرے کی خود مختاری اور سالمیت کا احترام کریں۔ لیکن اس قرارداد کے باوجود اسرائیل نے اپنے مقبوضہ علاقوں سے انخلانہیں کیا۔ جب ۱۹۷۳ کی مصر اسرائیل جنگ میں بزور قوت اسرائیل کو صحرائے سینا میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر ۳۳۸ منظور کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا حکم دیا اور سابقہ قرارداد نمبر ۲۴۲ پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کی۔ قرارداد ۲۴۲ کے دو بنیادی نکتے تھے:

فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور اسرائیلی افواج کی ۴ جون ۱۹۶۷ کی سابقہ سرحد میں واپسی۔

اس خطے کی تمام ریاستوں کے درمیان ایک دوسرے کی زمین پر دعوی اور حالت دشمنی کا خاتمہ اور ایک دوسرے کی ریاستی حاکمیت، سالمیت اور سیاسی خود مختاری کا احترام اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن کے ساتھ جینے کا حق۔

لیکن اسرائیل آج تک اس قرارداد پر عمل درآمد سے گریز کی راہ اختیار کرتا رہا ہے۔ عرب ممالک نے بھی اسرائیل کے خلاف ۱۹۷۳ کی جنگ میں مصر کی کام یابی کے باوجود بتدریج اپنے آپ کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف محاذ آرائی سے الگ کر لیا۔ اس طرح فلسطینی مزاحمت کم زور ہوتی چلی گئی۔

فلسطینی عوامی مزاحمت:

عرب حکومتوں کی سرد مہری کے ماحول میں فلسطینی عوام نے اسرائیلی قبضے کے خلاف ۱۹۸۷ سے ۱۹۹۳ کے دوران عدم تشدد (Non-violence) پر مبنی احتجاجی تحریک چلائی جسے انتفاضہ اوّل کہا جاتا ہے۔ انتفاضہ کی اس تحریک نے مسئلۂ فلسطین کی سنگینی اور اسرائیل کی توسیع پسندی کو نمایاں کیا۔ چناں چہ خفیہ ربط و ملاقات کے بعد اسرائیل اور پی ایل او (Palestinian Liberation Organisation) کے درمیان امن مذاکرات کی بساط بچھائی گئی۔ جب ایک مرکزی مزاحمتی تحریک پی ایل او کے رہ نما یاسر عرفات نے فلسطینی ریاست کے حصول کے لیے مزاحمت ترک کرنے اور پر امن مذاکرات شروع کرنے کی راہ اختیار کرنے کی حامی بھر لی تو اسرائیل کی پشت پناہ مغربی طاقتوں نے مسئلۂ فلسطین کو ۱۹۹۳ کے اوسلو مفاہمتی عمل کے ذریعے ایک ایسے مکڑ جال میں الجھا دیا جس سے نکلنا فلسطینیوں کے لیے مشکل تھا۔ اس معاہدے کے مطابق پانچ سال کے اندر سرحدی تنازعات کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، ناجائز یہودی بستیوں کا مسئلہ، غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان راہداری کا نظم، مربوط زمینی تعلق کے لیے زمینوں کا تبادلہ، خود مختار جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی ریاست کے دارالحکومت، وغیرہ امور باہمی مذاکرات سے طے پانے تھے۔

لیکن ۱۹۹۳ء سے ۲۰۰۰ء تک اوسلو معاہدے کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا جس کے بارے میں ایڈورڈ سعید نے اسی وقت کہا تھا کہ یہ Palestinian Versailles ہے۔ ان کے الفاظ میں: So first of all let us call the agreement by its real name: an instrument of Palestinian surrender, a Palestinian Versailles. (سب سے پہلے تو ہمیں اس معاہدے کو اس کے اصل نام سے موسوم کرنا چاہیے: فلسطینی دستبرداری کی دستاویز، ایک فلسطینی ورسیلز)۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جس طرح جنگ عظیم اوّل کے اختتام پر ورسیلز کے معاہدے میں جرمنی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے تھے اور اس طرح دوسری جنگ عظیم کا بیج بو دیا گیا تھا، ویسے ہی اوسلو معاہدے میں پی ایل او کو پیچ در پیچ جال میں الجھا کر ترک مزاحمت کی راہ قبول کرنے اور فلسطینی عوام کو اسرائیلی رحم و کرم کے حوالے کر دینے کا پورا بندوبست کر دیا گیا ۔

اسی اسکیم کے تحت امریکہ دو ریاستی حل کو فلسطینیوں اور عرب مملکتوں سے منوانے کی پالیسی پر گامزن رہا۔ جب پی ایل او اور دیگر عرب ریاستیں اس حل پر راضی ہو گئیں تو امریکہ کی سر پرستی میں ایک ایسے دو ریاستی حل پر اسرائیل اور پی ایل او کو رضامند کیا گیا گیا جس میں حل شدہ باتیں کم اور متنازعہ مسائل کی فہرست کلیدی تھی۔ اور ان متنازعہ مسائل کا نتیجہ اسی کے حق میں جانا تھا جو مضبوط ہو خواہ اس کا حل نکلے یا متنازعہ ہی رہے۔

دو ریاستی حل کا ابہام:

اس دو ریاستی حل میں واضح کیا ہے اور مبہم کیا ہے اور اس ابہام کا فائدہ کس کو ہے؟ اب تک کے معاہدات اور امریکی سرپرستی میں کیے گئے مذاکرات سے دو ریاستی حل کی درج ذیل صورت سامنے آتی ہے:

۱۹۴۹ء کی عرب اسرائیل جنگ بندی والی سرحد جسے سبز لکیر بھی کہا جاتا ہے اسرائیل اور مجوزہ فلسطینی ریاست کے درمیان سرحد ہوگی لیکن مغربی کنارے میں اب تک بسائی گئی یہودی بستیاں اور ان کے لیے تعمیر کردہ سڑکیں، پل اور دیگر انفراسٹرکچر کے ارد گرد حصے اسرائیل کے تحت ہوں گے۔ اس کے بدلے نصف اجاڑ زمین اسرائیلی سرحد کے اندر سے تبادلہ کے طور پر فلسطینی ریاست کو دی جائے گی یعنی مغربی کنارے کی ۳۰ فیصد زمین کے بدلے اسرائیلی سرحد میں واقع اجاڑ زمین سے ۱۴ فیصد رقبہ فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے گا۔

مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل جمہوری فلسطینی ریاست قائم ہوگی جس کی اپنی فوج نہیں ہوگی۔ نئی فلسطینی ریاست کے غیر منسلک حصوں کے درمیان رسل و رسائل کے لیے اسرائیل اپنے علاقے کی سڑکوں کو استعمال کرنے اجازت دے گا اور راہداری فراہم کرے گا۔

یروشلم کا مشرقی حصہ نئی فلسطینی ریاست میں شامل ہوگا اور مغربی حصہ اسرائیل میں شامل ہوگا۔ یروشلم کے مذہبی علاقوں کی نگرانی عالمی ادارہ کے ذمہ ہوگی جو مسلم، عیسائی اور یہودی آبادی کو ان کے مقدس مقامات تک رسائی کی سہولت بہم پہنچائے گا۔

سرحدی تعین کے تنازعات اور زمین کا تبادلہ، غزہ اور مغربی کنارے کے مابین راہداری، مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی علاقے میں نئی یہودی بستیوں کا معاملہ، آبی وسائل کی تقسیم، اسرائیل سے ہجرت کرنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی بازآبادکاری، اسرائیل میں موجود مقامی فلسطینی عرب آبادی کی حیثیت کا تعین، اسرائیل کی سالمیت کے لیے مطلوبہ اقدامات جیسے معاملات و مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بعد ہی نئی فلسطینی ریاست باضابطہ طور پر قائم کی جا سکے گی۔

اس مجوزہ دو ریاستی حل کو با مراد ہونے کے لیے جن مرحلوں سے گزرنا ہے اور ہر مرحلے پر اسرائیل اور فلسطینی قیادت کی جیسی باہمی رضا مندی درکار ہے اسے دیکھتے ہوئے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو ریاستی حل فلسطینیوں کے خلاف اور اسرائیلی عزائم کی تکمیل کا زینہ تو ہے لیکن فلسطینیوں کے حقوق کا ضامن نہیں۔ اس سے کسی منصفانہ اور پائیدار حل کی امید نہیں کی جا سکتی۔

دو ریاستی حل کا مندرجہ بالا لائحۂ عمل اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندی کو حیلہ سازی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مجوزہ اسکیم فلسطینیوں کے لیے مزاحمت کے سوا کوئی راہ عمل نہیں چھوڑتی ہے سوائے اس کے کہ وہ بدرجۂ مجبوری ذلت و محکومی کے لیے راضی ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو سکتا ہے تو پھر دو ریاستی حل کے ڈرامہ کی بھی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی بلکہ صیہونی عزائم کے مطابق ایک نسل پرست یہودی ریاست کو تسلیم کر لینے سے ہی مسئلۂ فلسطین کا قصہ تمام ہو سکتا ہے۔ اسی لیے صیہونی بیانیے کی تکمیل کے لیے اسرائیل کے نزدیک وقتی حکمت عملی کے طور پر موجودہ صورتِ حال کی برقراری (status quo) پہلی ترجیح ہے۔

 دو ریاستی مذاکرات اور اسرائیلی حکمت عملی:

دو ریاستی حل کی جو تجاویز اب تک سامنے لائی جاتی رہی ہیں وہ کس طرح اسرائیل کی توسیع پسندی اور جارحیت کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتی رہی ہیں اس کا اندازہ اوسلو معاہدہ کے بعد کی تیس سالہ تاریخ کے سرسری جائزہ سے بخوبی ہو جاتاہے۔

اوسلو معاہدہ ۱۹۹۳ء میں اسرائیل اور پی ایل او (Palestinian Liberation Organisation) کے درمیان طے پایا کہ فلسطین میں فلسطینیوں کی آزاد قومی ریاست قائم ہوگی اور اسرائیل اور فلسطینی قومی اتھارٹی باہمی مذاکرات کے ذریعے مسئلۂ فلسطین کے حتمی حل تک پہنچیں گے۔ اس معاہدہ کے بعد کی تین دہائیوں میں اسرائیل کے ذریعے مسلسل اس کو روندنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرحدوں کا تنازع، مغربی کنارے (West Bank) پر یہودی بستیوں کی ناجائز تعمیر و توسیع، یروشلم اور فلسطینی مہاجرین کا غیر واضح مستقبل، سیکوریٹی کی مخدوش صورتِ حال اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور آزادی کو تسلیم کرنے جیسے معاملات و مسائل کو التوا میں ڈالے رکھنے کی اسرائیلی پالیسی نے مسئلۂ فلسطین کے حل کی تمام راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ صیہونی اسرائیل کی اصل ترجیح تو پورے فلسطین پر ایک نسل پرست یہودی ریاست کا قیام ہے جس میں مقامی فلسطینی باشندوں (سوائے مقامی یہودی آبادی) کا جبری انخلا یا دوسرے درجہ کے شہری کے طور پر رہنے کی اجازت شامل ہے۔ لیکن حکمت عملی کے تحت ایک مبہم دو ریاستی حل پر مذاکرات کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رکھنا اور موجودہ صورتِ حال (status quo)کو برقرار رکھنا اسرائیل کی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے جسے بھرپور امریکی تائید حاصل ہے۔ اسی لیے اوسلو معاہدہ کے بعد ہونے والے درجنوں مذاکرات نے مسئلۂ فلسطین کو حل کرنے کے بجائے اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندی کی راہ بتدریج ہم وار کی ہے۔ اوسلو معاہدہ کے بعد ہر آنے والے دن مجوزہ فلسطینی ریاست کے خد و خال مزید مبہم اور اسرائیلی توسیع پسندی کے خد و خال زیادہ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ اس توسیع پسندانہ اسکیم کی رفتار کم کرنے میں واحد کردار فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کا ہے ورنہ معاہدہ کے مطابق اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے اور اس کے لیے خطرہ نہ بننے کی جو شرائط درج کی گئی تھیں انھیں تو تقریباً تمام عرب ریاستوں نے بخوشی منظور کر ہی لیا ہے۔

متحدہ یا وفاقی ریاستی حل:

دو ریاستی حل کے علاوہ ’’فلسطین فلسطینی باشندوں کا ہے‘‘اور ’’فلسطین یہودیوں کا ہے‘‘کے دو باہم متصادم دعووں کے درمیان مفاہمت کے لیے دو راستے تجویز کیے جاتے رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ فلسطینیوں اور یہودیوں کی الگ الگ ریاستیں ہوں اور مرکزی طور پر ایک وفاقی حکومت قائم ہو جس کے اختیارات دونوں ریاستوں کی سالمیت اور مفادات کا تحفظ کرنے والے ہوں۔ یروشلم کا نظم، دفاع، معاشی ترقی وغیرہ جیسے امور وفاقی حکومت کے ذمہ ہو۔ دوسری تجویز کے مطابق ایک مشترک کثیر القومی جمہوری ریاست قائم کی جائے جس میں اقلیتوں کے حقوق اور تہذیبی تکثیریت (cultural plurality) کا تحفظ اور سب کے لیے نظم حکم رانی میں شرکت کا یکساں موقع فراہم ہو۔ ان دونوں تجاویز کو عالمی اداروں کے فورم پر عام طور سے زیر بحث نہیں لایا جاتا کیوں کہ یہ دونوں ہی تجاویز اسرائیلی نسل پرستی اور توسیع پسندی کے مناسب حال نہیں ہیں۔ لیکن دانش ور طبقوں میں ان تجاویز پر سنجیدہ غور کیا جاتا رہا ہے۔

اس تجویز کی عدم مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ فلسطین کی آبادی (demography)ہے۔ ۲۰۲۰ء میں اسرائیلی یہودیوں کی تعداد کل آبادی کا ۴۹ تا ۵۱ فیصد بتائی جاتی ہے جس کا تناسب موجودہ شرح اضافہ کے اعتبار سے آنے والے دنوں میں کم ہوتا جائے گا۔ دوسرا مسئلہ مغربی کنارے پر یہودی کالونیوں میں مسلسل اضافہ ہے جو ایک طرح سے مغربی کنارے کو بتدریج ہڑپ لینے کی حکمت عملی ہے۔ اوسلو معاہدہ کے بعد یروشلم سے باہر مغربی کنارے میں اس طرح کا یہودی قبضہ چار گنا سے زیادہ ہو گیا ہے اور اس وقت تقریباً پانچ لاکھ سے زائد یہودی اس علاقے میں آباد کر دیے گئے ہیں۔ خود مشرقی یروشلم میں یہودی آبادی دو لاکھ سے زائد لا بسائی گئی ہے۔ تیسرا مسئلہ اس فلسطینی آبادی کا ہے جو پناہ گزیں کیمپوں میں گذشتہ ۷۵ برسوں کے دوران پروان چڑھی ہے اور فلسطین میں واپسی کی منتظر ہے۔ ظاہر ہے ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل کا صیہونی طبقہ کبھی راضی نہیں ہو سکتا اور اگر یہ طبقہ راضی نہ ہو تو امریکی حکومت ایسی کسی تجویز کی حمایت کیوں کر کر سکتی ہے۔

فلسطینی مزاحمت کا احیا:

جب کبھی مسئلۂ فلسطین سرد خانے کی نذر ہونے لگتا ہے تو از خود فلسطینی جذبۂ مزاحمت بیدار ہو جاتا ہے۔ چناں چہ امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے جب عرب ممالک کو رام کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور مسئلۂ فلسطین کو سرد بستے میں ڈالنے کی کوشش کی تو فلسطینی عوام نے دوسرا انتفاضہ ستمبر ۲۰۰۰ء میں شروع کیا جو ۲۰۰۵ء تک جاری رہا۔ اس عوامی احتجاج نے علامتی تشدد کی راہ بھی اختیار کی جسے الاقصی انتفاضہ بھی کہا جاتا ہے۔ مسئلۂ فلسطین کو زندہ رکھنے میں وقفے وقفے سے اٹھنے والی ان مزاحمتی کوششوں کا اہم کردار ہے۔ اسرائیلی فوجی قوت کی طرف سے نہتے فلسطینیوں پر بے دریغ طاقت کے استعمال اور لبنان کی مسلح مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے ذریعے جنوبی لبنان کو بزور قوت اسرائیلی قبضے سے آزاد کروانے میں ملی کام یابی نے فلسطینی مزاحمتی تحریک کو قوت کے حصول کی طرف مائل کیا تاکہ وہ اسرائیلی غاصب فوج کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکیں۔

انتفاضہ اور فلسطینی مسلح مزاحمتی تحریکوں کی وجہ سے ہی مسئلۂ فلسطین ایک دہکتے انگارے کی طرح عالمی ضمیر کی ہتھیلی پر سلگتا رہتا ہے۔ اس سوزش سے نجات پانے کے لیے اقوام متحدہ اپنے پارٹیشن پلان کا اعادہ اور اس کی خلاف ورزی پر اسرائیل کی سرزنش کرتی رہتی ہے اور عالمی طاقتیں دوبارہ مسئلۂ فلسطین کے ایسے حل کی طرف متوجہ ہوتی رہتی ہیں جو اسرائیل کے تحفظ و بقا کا ضامن تو ہو لیکن فلسطینی اور عرب عوام بھی اس سے کچھ مطمئن ہو سکیں۔ یہی مزاحمت عرب حکم رانوں اور امت مسلمہ کو بیت المقدس کی بازیابی اور مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ حل کی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے اور صیہونی نسل پرستانہ جارحیت اور مغربی قوتوں کے دوہرے معیار کو عوام الناس کے سامنے برہنہ کرتی رہتی ہے۔ آزادی، انصاف اور امن کی علم بردار یہ فلسطینی عوامی مزاحمت، (Palestinian Popular Resistance) جو ایک بار پھر غزہ سے ابھری اور دنیا بھر میں عوامی حمایت کی لہر جگا گئی، اس چراغ کے مانند ہے جو گذشتہ ۷۵ برسوں سے تند و تیز آندھیوں کے درمیان روشن ہے اور ظالم و مظلوم کی کشمکش کا استعارہ بن چکی ہے۔ دنیا کے تمام انسانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مزاحمتی جدوجہد کی حمایت میں آواز بلند کرتے رہیں۔ اللہ تعالی ظالموں کی رسی جتنی دراز کرتا ہے اسی مناسبت سے ان کی سزا بھی سخت ہوتی ہے۔

دسمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau