صبر اور شکر مومن کے امتیازی اوصاف

محب اللہ قاسمی

جب سے دنیا کا وجودہے اس وقت سے آج تک جتنے بھی انسان پیداہوئے ۔ان کو رات اوردن ،دھوپ اورچھاؤں کی طرح رنج والم ، فرحت ومسرت ،غم و خوشی کا بھی سامنا رہاہے ۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی مصیبت اور پریشانیوںسے گھبراجاتے ہیں اور بہت سے فرحت وشادمانی کی لہروںمیں ایسا غوطہ زن ہوتے ہیں کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے قبل وہ کیاتھے اسلام زندگی کے تمام معاملات میں انسانوں کی ہرطرح رہ نمائی کرتا ہے ۔

اسلام نے خوشی اور غم دونوںمواقع پر صبراورشکرکی تاکید فرمائی ہے۔ صبر اورشکر کا رویہ دونوںطرح کے مواقع پر انسان کومعتدل اندازمیں زندگی گزارنے کی تعلیم دیتاہے۔جس کے لیے خدانے مصیبت سے چھٹکارااوراجرعظیم کا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیشتر مقامات پر ابتلاء وآزمائش کے واقعات کے ساتھ صبراورانسانوںپر اپنے انعامات واحسانات کا تذکرہ کرکے شکرکا حکم بھی دیاہے۔

صبرکی تعریف

صبرکے اصل معنیٰ رکنے کے ہیں۔یعنی نفس کو گھبراہٹ ،مایوسی اوردل براشتگی سے بچاکر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔قرآن میں عموماً اس کا مفہوم یہ ہوتاہے کہ بندہ پوری طمانینیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہدپر قائم رہے اوراس کے وعدوںپریقین رکھے۔عام طور پر لوگ صبر سے عجز و مسکنت ، بے بسی اورلاچاری مراد لیتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔

صبرانسان کے اس قابل تعریف عمل کانام ہے، جس کا اظہار مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے ہوتا ہے ۔ اس کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

۱۔کسی مصیبت کے وقت اپنے نفس پرقابو رکھنا ۲۔میدان جنگ میں ڈٹے رہنا ۳۔گفتگومیں رازداری کا خیال رکھنا ۴۔نفس کوعیش کوشی سے محفوظ رکھنا۵۔ناجائز طریقے سے شہوانی خواہشات کی تکمیل سے بچنا ۶۔شرافت نفس کا خیال رکھنا ۷۔غصے کی حالت میں نفس کو قابو میں رکھنا— صبرکی اہمیت کے پیش نظر یہ کہنا کافی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں تقریباً نوے مقامات پر ’’صبر‘‘کا تذکرہ فرمایاہے اور مشکلات میں صبرکی تلقین کی ہے ۔ ساتھ ہی خودکو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہونے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان میں سے چند آیات کا ذکر کیا جارہا ہے :

’’صبراورنماز سے مددلو،بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے، مگران لوگوںکے لیے مشکل نہیں ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۔ ﴿البقرۃ:۴۵﴾

’’اے ایمان والو!صبراورنماز سے مددلو،یقینا اللہ تبارک و تعالی صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔﴿البقرۃ:۱۵۳﴾

جو لوگ اللہ پرایمان رکھتے ہیں اوراس سے ڈرتے ہیں انھیں کسی طرح کا خوف نہیں ہوتا ہے۔ وہ اپنے حال پرصبرکے ساتھ جمے رہتے ہیں۔ اس لیے اس آیت میں اللہ نے انھیں صبر اور نماز کے ساتھ اپنی پریشانیوںمیں ڈٹے رہنے کا حکم دیا۔صبرکا تعلق چوںکہ انسان کے اخلاق وکردار سے ہے اور نماز کا تعلق عبادات سے ہے، اس لیے اگریہ دونوں چیزیں شامل رہیں تو ہر انسان ہرپریشانی کو بہ آسانی برادشت کرسکتاہے۔یہ محاورہ بہت مشہورہے کہ صبرکا پھل میٹھا ہوتا ہے۔یعنی انسان اپنا عمل جاری رکھے اور اس میں کسی طرح کی کوئی دشواری پیش آئے توصبرکے ساتھ اسے انجام دیتا چلا جائے ۔ اللہ ایسے بندوں کو نوازتا ہے۔ صبرانبیاء  کرام کی سنت رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صبرکو امامت کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:

’’اورجب انھوں نے صبرکیا اورہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندرہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے‘‘۔﴿السجدہ:۲۴﴾

خودنبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آپﷺ  نے اپنی زندگی میں کتنے مصائب وآلام سہے، مکّے والوںنے آپ ﷺ کا اور آپ کے ساتھیوں کا بائیکاٹ کردیا ،نتیجۃًآپ نے پورے قبیلے کے ساتھ شعب ابی طالب میں پناہ لی۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین سال تک اس میں صعوبتیں برداشت کیں، جب وہاں سے نکلے تو چند روزبعدآپ کے ہمدردوغمخوارچچا ابوطالب اوراس کے تین یاپانچ روز بعد آپ کی ہمدردشریک حیات ام المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ  کا بھی انتقال ہوگیا، اسی وجہ سے اس سال کو عام الحزن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان تمام مصیبتوں کے باوجودآپ ﷺ  اپنے خداکے وعدے کے مطابق صبرکرتے ہوئے اپنے مشن پر قائم رہے ۔ آپﷺ  کا ارشادہے:

’’جان لو کہ صبرکے ساتھ کامیابی ہے اور مصیبت کے ساتھ کشادگی ہے اورتنگی کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔ ﴿ترمذی﴾

اللہ تعالی نے صبرپر فراوانی اورکشادگی کا وعدہ کیا ہے۔اس وعدے کا انتظار توکل کے ذریعے ہوتاہے۔ اس لیے اس انتظار کو عبادت شمار کیا جاتا ہے۔ انسان کے لیے اس وقت صبرکرنا آسان ہوجاتاہے جب اسے یقین ہوکہ اللہ اسے اس پریشانی سے نجات دے گا۔

شکرکی تعریف:

شکرکی تعریف کرتے ہوئے علامہ ابن قیم ؒ  فرماتے ہیں:

’’شکرکہتے ہیں:اللہ کے بندوںپر اس کی نعمت کااثر ظاہرہونا۔خواہ وہ بذریعہ زبان ہو جیسے اللہ کی تعریف کی جائے یا اعتراف نعمت کیا جائے،یا پھر بذریعہ دل ہو، محبت اورلگاؤ کے سبب۔ یا پھر اعضاء وجوارح کے ذریعہ مثلاً خودکواس کے سامنے جھکا دیا جائے ، یا اس کی اطاعت کی جائے‘‘۔

جذبہ شکرانسان کے اندرعبدیت کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔جو بندہ کو اللہ سے قریب کرتا ہے۔اس لیے جب انسان کی پریشانی دورہوجائے اوراسے خداکی طرف سے نعمت و راحت میسرہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے رب کو نہ بھولے بلکہ اس کا شکر ادا کرے۔ جس کا اظہار قول و عمل دونوںسے ہونا چاہیے ۔شاکر بندہ اپنے رب کے بہت سے انعامات و اکرامات سے فیض یاب بھی ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اللہ نے تم کو تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالااس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔اس نے تمھیں کان دیے، آنکھیں دیںاورسوچنے والے دل دیے۔ اس لیے کہ تم شکرگزار بنو‘‘ ۔﴿النحل: ۷۸﴾

مزیداللہ تعالی کا فرمان ہے:

’’اوریاد رکھو، تمھارے رب نے خبردارکردیاتھا کہ اگر شکرگزاربنوگے تو میں تم کو زیادہ نوازوںگا اوراگرکفران نعمت کروگے تو میری سزابہت ہے‘‘۔﴿ابراہیم:۷﴾

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے شکر گزار بندوں کو بہت زیادہ نوازنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ دراصل شکرکا بدلہ ہے ۔اس کے برعکس ناشکری اور نعمت کی ناقدری کرنے والے پر سخت سزاکی وعیدبھی سنائی ہے جوناشکری کی سزا ہے۔

’’وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا،اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اوراپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں۔ اے آل داؤد، عمل کروشکرکے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں‘‘۔  ﴿سبا:۱۳﴾

شکرکا طریقہ تو یہ ہے کہ جس پر انعام کیا گیاہو وہ اپنے محسن کوفراموش نہ کرے اوراس کی باتوں کی پیروی کرے،وہ بھلے کام کا حکم دیتا ہے تو اسے انجام دے اوراس کی منع کردہ باتوں سے بالکلیہ اجتناب کرے۔قرآن کریم کی دیگر آیات سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر بے شمار انعامات واکرامات کیے ہیں۔

’’اگرتم اللہ کی نعمتوں کوشمارکرناچاہوتو تم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔‘‘ ﴿قرآن﴾

اس لیے اس کی فرماں برداری ہی اس کا شکرہے۔ نبی کریمﷺ اللہ تعالی کا بہت زیادہ شکرکرنے والے تھے ۔صحابہ نے آپ کی کثرت عبادت کو دیکھ کر سوال کیاکہ آپ اتنی زحمت کیوں برداشت کرتے ہیں۔ جس کے جواب میں آپ ﷺ  نے فرمایا:

’’کیا میں شکرگزاربندہ نہ بنو؟‘‘ ﴿مسلم﴾

یہ شکرکیسے پیداہو اس کا طریقہ نبی کریم ﷺ  نے بتایاکہ بندہ تھوڑی سی چیزپر بھی شکرکرے ، لوگوں کے احسان پر اس کا شکراداکرے یہی جذبہ اسے بہت زیادہ پر اور اللہ کے شکرپر بھی اسے آمادہ کرے گا۔نبی کریمﷺ کا ارشادہے:

’’جوتھوڑے پر شکرنہیں کرتاوہ زیادہ پر بھی شکرگزارنہیں ہوگا۔ جو لوگوںکا شکرادانہیں کرتا ووہ اللہ کابھی شکرگزار نہیں ہو گا۔ اللہ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکرہے، اوراس کا چھوڑدینا کفرہے۔ جماعت میں مل کررہنا رحمت ہے اورالگ الگ رہنا عذاب ہے۔ ﴿مسند احمد﴾

اس امت کی سب سے بڑی خوبی اورفضیلت کی بات ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے ہر حال میں خیر ہی خیررکھا ہے۔ جب کہ یہ کیفیت کسی اورقوم،مذہب یا ملت میں نہیں ہے۔کیوں کہ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اگرانھیں خوشی ملتی ہے تو وہ بے خود ہوجاتے ہیں۔جس کے نتیجے میں الٹی سیدھی حرکت کربیٹھتے ہیں۔جو ان کی مصیبت کا سبب بن جاتاہے ۔اسی طرح اگران کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواس میں اتنا بے چین اوربے قرار ہوجائے کہ پھر چاروںطرف آہ وبکا کرتے پھرتے ہیں۔جب کہ مؤمن ایسا نہیں کرتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کا ارشادہے:

’’مؤمن کا معاملہ عجیب وغریب ہے۔اس کے تمام حالات بہترہیں، یہ کیفیت اس کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں۔ اگراسے خوشی ملتی ہے تواس پر شکرکرتا ہے، جو اس کے بہترہوتاہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواس پر صبرکرتا ہے، یہ اس کے لیے بہترہوتاہے۔‘‘﴿مسلم ﴾

شکر ایمان کا تقاضا ہے

اللہ تعالی نے بندے کو اختیاردیاہے کہ وہ کون سی راہ اپنائے اگروہ شکرکی راہ اپنائے گا تویہ اس کے حق میں بہترہوگا ۔اس کے برعکس اگراس نے کفرکی راہ اپنائی تو یہ اس کے لیے باعث ہلاکت ہوگا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

’’ہم نے اسے راستہ دکھادیا، خواہ شکرکرنے والا بنے یاکفرکرنے والا‘‘۔ ﴿الدہر:۳﴾

شکرانسان کے جذبۂ اطاعت کو بڑھا تا ہے جواس کے ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے۔ جب انسان اپنے پروردگارکا شکراداکرے گا تولازماً اس کے ایمان کو قوت ملے گی۔قرآن پاک میں ہے:

’’آخراللہ کوکیاپڑی ہے کہ تمھیں خواہ مخواہ سزادے، اگرتم شکرگزاربندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑے قدردان ہے اورسب کے حال سے واقف ہے‘‘۔ ﴿نساء:۱۴۷﴾

صبراورشکرکا تعلق

صبراورشکردونوںلازم وملزوم ہے ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک مفقودہوگا تو دوسرا بھی لازما موجودنہیں ہوگا۔صبروشکرکی اہمیت وافادیت کے پیش نظرسلف صالحین نے اس کا خاص اہتمام کیا ۔ امام غزالی ؒ  فرماتے ہیں:

’’ایمان کا درومدارصبرپر ہے۔ اس لیے کہ افضل ترین نیکی تقویٰ ہے اورتقویٰ کا حصول صبر کے ذریعے ہوتا ہے جب کہ صبر دین کا ایک مقام ہے اور ایمان کے دوحصے ہیں ایک صبر دوسرا شکر ‘‘۔

ابن عیینۃ فرماتے ہیں:

’’ جس نے پنچگانہ نماز ادا کی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔‘‘

حسن بصریؒ  کا خیال ہے کہ ’’ وہ خیرجس میں کسی طرح کا کوئی شر نہ ہو۔اس عافیت میں ہے جوشکرکے ساتھ ہو، کتنے احسان مند ناشکرے ہیں۔‘‘

فضیل بن عیاض کہتے ہیں:

’’نعمتوں پر مسلسل شکراداکرتے رہو، اس لیے کہ بہت کم ایسا ہوتاہے کہ کوئی نعمت کسی شخص سے چھن جانے کے بعد دوبارہ اسے ملی ہو۔‘‘

جہاں تک صبر اور شکرکے جزا کی بات ہے توآیات واحادیث میں اس کی وضاحت آئی ہے۔ صبرکا سب سے بڑا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہوتاہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے

’’اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجرعطاکرتاہے‘‘ ﴿قرآن﴾

شکر پراللہ کی جانب سے مزید کا وعدہ یہ سب بدلہ ہے، صابر و شاکر بندوںکا۔اس کے علاوہ یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ وہ ہرحال میں صبر و شکر کا دامن تھامے رہتی ہے۔

جنوری 2013

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau