زندگی نو کے گذشتہ شماروں میں ہم نے اکیسویں صدی کی اہم صلاحیتوں پر ایک سلسلہ وار تحریر میں گفتگو کی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اور اہم کڑی یہ زیر نظر مضمون ہے جس میں ہم پروڈکٹیویٹی (productivity)پر گفتگو کریں گے۔
عام طور پر انگریزی لفظ productivity کا اردو ترجمہ ’’پیداواریت‘‘ کیا جاتا ہے، لیکن محض ’’پیداواریت‘‘ کا لفظ ان تمام معنوں اور مفاہیم کا احاطہ نہیں کرتا جو اس اصطلاح میں پنہاں ہیں۔
اسی لیے ہم یہاں درج ذیل تعریف کی روشنی میں پروڈکٹیویٹی کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
پروڈکٹیویٹی سے مراد ہے: کم وقت، کم وسائل اور کم محنت کے ساتھ زیادہ اور بہتر نتائج حاصل کرنا۔ یہ کسی فرد، ادارے یا نظام کی کارکردگی (efficiency) اور پیداواری صلاحیت (output capacity)کو ظاہر کرتی ہے۔
مثال کے طور پر:
ایک استاد جو کم وقت میں مؤثر انداز سے طلبہ کو زیادہ کچھ سکھا دیتا ہے، وہ پروڈکٹیو (productive)کہلائے گا۔
ایک کسان جو تھوڑی زمین پر زیادہ فصل اگا لیتا ہے، اس کی پروڈکٹیویٹی زیادہ مانی جائے گی۔
ایک ملازم جو دن بھر میں کئی اہم امور بخوبی انجام دیتا ہے، وہ زیادہ پروڈکٹیو تصور کیا جائے گا۔
سیدھے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے:
پروڈکٹیویٹی = کم وقت + کم وسائل → زیادہ فائدہ / زیادہ نتائج
پیداوار اور کارکردگی کے درمیان فرق
مندرجہ بالا وضاحت کے بعد ضروری ہے کہ ہم ’’پروڈکٹیویٹی‘‘ کے اردو ترجمہ کے سلسلے میں ایک نکتہ واضح کریں۔ ہم اس مضمون میں ’’پروڈکٹیویٹی‘‘ کا ترجمہ صرف ’’پیداواریت‘‘ کے طور پر نہیں لیں گے، بلکہ حسب موقع کہیں پیداواریت اور کہیں کارکردگی کا استعمال کریں گے۔
وجہ یہ ہے کہ:
پیداواریت کا اطلاق زیادہ تر مادی مصنوعات پر ہوتا ہے جیسے کھیتی، فیکٹری میں بننے والی اشیا یا کوئی مادی چیز۔
جب کہ ’’کارکردگی‘‘ کا دائرہ وسیع تر ہے اور اس میں وہ تمام غیر مادی نتائج شامل ہوتے ہیں جنھیں ناپنے کے پیمانے بھی مادی اشیا سے مختلف ہوتے ہیں۔
مثلاً:
اگر ایک استاد کلاس روم میں کسی سبق کو دیے گئے وقت سے پہلے مکمل کر لیتا ہے اور طلبہ کی سمجھ میں اضافہ بھی ہوتا ہے تو یہ بہتر پیداواریت کے بجائے بہتر کارکردگی کہلائے گا۔ کیوں کہ یہاں نتیجہ ایک غیر مادی پہلو رکھتا ہے، جیسے سیکھنے کا معیار بلند ہونا یا وقت کا بہتر استعمال ہونا۔
اسی لیے ہم اس مضمون میں اصطلاحات کا استعمال درج ذیل اصول پر کریں گے:
جہاں بات مادی نتائج کی ہو، وہاں پیداواریت کا لفظ مناسب ہوگا۔
اور جہاں غیر مادی نتائج کی بات ہو (جیسے فہم، سیکھنے کی سطح، نظم و ضبط، ٹائم مینجمنٹ)، وہاں کارکردگی کا لفظ موزوں ہوگا۔
پیداواریت /کارکردگی کیوں ضروری ہے
اس دنیا میں انسان کی کئی جہتیں اور حیثیتیں ہیں، جن میں سب سے پہلی اور بنیادی حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا عبد ہے۔ قرآن بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کو صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِیعْبُدُونِ (الذاریات: 56)
’’اور میں نے جن و انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
دوسری حیثیت میں، انسان اس کارگاہِ دنیا میں اللہ کی طرف سے خلیفہ اور امین مقرر کیا گیا ہے۔ انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زمین پر عدل و انصاف، امن و فلاح اور ترقی و تعمیر کا نظام قائم کرے۔
تاہم موجودہ دور میں، بالخصوص صنعتی اور کارپوریٹ دنیا میں، انسان کی ایک تیسری حیثیت بھی سامنے آئی ہے — اور وہ ہے ہیومن ریسورس (human resource) یعنی انسان ایک ایسا پیداواری عنصر (productive factor) بن چکا ہے جسے وسائل (resources) میں شمار کیا جاتا ہے۔ ادارے، کمپنیاں اور حکومتیں آج انسان کو اس کی کارکردگی، مہارت اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر تولتی ہیں۔
ان تینوں دائروں میں مشترکہ قدر بہتر کارکردگی ہے۔
انسان چاہے خود کو عبد سمجھے، خلیفہ سمجھے یا ہیومن ریسورس، بہرحال ان تینوں حیثیتوں میں اس کی بہتر کارکردگی ہی کام یابی کی کنجی ہے۔ آئیں، ان تینوں دائروں میں انسان کی بہتر کارکردگی کی ضرورت کو الگ الگ مگر مربوط انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں۔
عبد کی حیثیت سے بہتر کارکردگی
جب ہم کہتے ہیں کہ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی ہے تو اس کا مطلب صرف رسمی عبادات (نماز، روزہ وغیرہ) ہی نہیں بلکہ اللہ کے تمام احکامات کی بروقت، خلوص نیت اور مؤثر طریقے سے بجا آوری ہے۔
یہاں بہتر کارکردگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان:
کم وقت میں زیادہ نیکی کے کام کرے۔
اپنی زندگی کے ہر لمحے کو عبادت میں ڈھالے (یعنی زندگی کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہو)۔
دین کے احکام کو سمجھ کر، حکمت کے ساتھ، اپنے ماحول میں نافذ کرے۔
مثال کے طور پر:
ایک تاجر اگر دیانت داری، عدل، اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، تو وہ نہ صرف عبادت کر رہا ہے بلکہ اس کی کارکردگی دین کے مقاصد کو زمین پر ظاہر کر رہی ہے۔
اسی طرح، اگر کسی فرد کو دین کے کسی حکم کو معاشرے میں رائج کرنے کا موقع ملے، تو اس کا فرض بنتا ہے کہ اپنی بہترین صلاحیتوں اور حکمتِ عملی کے ساتھ اس حکم کو مثالی انداز میں نافذ کرے تاکہ:
وہ نتائج پیدا ہوں جو دوسروں کے لیے نمونہ بنیں۔
لوگ اللہ کے احکامات کو برکت، فلاح اور عدل کا ذریعہ سمجھ کر دل سے قبول کریں۔
خلیفہ کی حیثیت سے بہتر کارکردگی
قرآن بتاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے:
إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفًَ (البقرة: ۳۰)
’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘
خلیفہ ہونے کا تقاضا ہے کہ انسان زمین کو سنوارے، علم و عمل سے اسے ترقی دے اور عدل و اصلاح کو فروغ دے۔
اس حیثیت میں بہتر کارکردگی کا مطلب یہ ہے کہ:
انسان زمین کو مسخر کرے۔ سائنس، ٹکنالوجی، تحقیق، زراعت، صنعت، تعلیم— ہر میدان میں آگے بڑھے۔
اپنے علم، تجربے اور مہارت سے دنیا کو جنت نشان بنائے۔
ہر وقت یہ شعور رکھے کہ اس کی کاوشیں دراصل اللہ کی صفاتِ فعلیہ (قدرت، حکمت، رحمت، عدل) کو دنیا میں جاری کرنے کا ذریعہ ہیں۔
جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
كُلَّ یوْمٍ هُوَ فِی شَأْن (الرحمٰن: 29)
’’ہر روز وہ (اللہ) ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔‘‘
یہ آیت ہمیں متحرک رہنے، تخلیق کرنے اور نئی جہتوں میں کارکردگی دکھانے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ:
انسان کو بھی ہر لمحہ جدت (innovation)، تبدیلی (transformation) اور بہتری (improvement)کی راہ پر چلنا چاہیے۔
وہ نئی ایجادات، سائنسی ترقیات اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے زمین پر اللہ کی شان کو ظاہر کرے۔
ہیومن ریسورس کی حیثیت سے بہتر کارکردگی
موجودہ دور کی کارپوریٹ اور صنعتی دنیا میں انسان کی تیسری پہچان ہے ہیومن ریسورس — یعنی ایک ایسا ذریعہ جو کم وقت، کم وسائل اور کم توانائی میں زیادہ بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
یہ دنیا چاہتی ہے کہ:
انسان زیادہ کام کرے، لیکن کم وقت میں۔
اس کی پیداوار (output) زیادہ ہو اور معیار (quality) بہتر ہو۔
وہ نئی مہارتیں سیکھے، اپ ڈیٹ رہے اور مؤثر انداز میں کام کرے۔
یہاں بھی درحقیقت اسلامی تصورِ کارکردگی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک سچا مسلمان، خواہ وہ کسی بھی شعبے میں ہو، اگر اپنے عمل میں:
اخلاص،
امانت داری،
حکمت،
جدوجہد،
اور وقت کی پابندی جیسے اصولوں کا خیال رکھے، تو وہ دنیا کے بہترین ہیومن ریسورس میں شمار ہو سکتا ہے۔
یہ تینوں حیثیتیں۔ عبد، خلیفہ، اور ہیومن ریسورس گو کہ مختلف ہیں، لیکن ان سب کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہے:
انسان اپنی زندگی کے ہر دائرے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
بندگی میں بھی حسن کارکردگی۔
خلافت میں بھی حسن کارکردگی۔
اور دنیاوی کاموں میں بھی حسن کارکردگی۔
ایسا انسان ہی دنیا اور آخرت دونوں میں کام یاب ہو سکتا ہے۔
کارکردگی / پیداواریت کو بہتر بنانے کی تدابیر
وقت کا صحیح استعمال
کام یابی اور اعلیٰ کارکردگی کا سب سے بنیادی اور اہم راز وقت کی قدر و قیمت کو پہچاننا اور اس کا درست استعمال کرنا ہے۔ وقت ایک ایسی قیمتی دولت ہے جو دنیا کے ہر انسان کو یکساں طور پر عطا کی گئی ہے۔ اس معاملے میں نہ کوئی غریب محروم ہے اور نہ کوئی امیر زیادہ حصہ دار ہے۔ ہر فرد کو دن کے 24 گھنٹے برابر ملتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کوئی ان گھنٹوں کو بامقصد طریقے سے استعمال کرتا ہے اور کوئی ان کو ضائع کر دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورة العصر میں وقت کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے:
والعصر، اِنَّ الانسانَ لَفِی خُسر
اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھا کر یہ حقیقت واضح فرمائی کہ جو لوگ اپنے وقت کو ضائع کرتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھانے والے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان، نیک اعمال، حق کی تلقین اور صبر کی نصیحت میں مشغول رہتے ہیں۔
وقت دراصل زندگی کا سرمایہ ہے۔ جو شخص اس سرمایہ کو سنبھال کر اور سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہے، وہ اپنی کارکردگی اور پیداوار دونوں میں اضافہ کر لیتا ہے اور جو شخص اسے ضائع کرتا ہے، وہ اپنی ترقی کے مواقع کھو دیتا ہے۔
ٹائم مینیجمنٹ: ایک اہم مہارت
کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹائم مینیجمنٹ (وقت کی منصوبہ بندی اور انتظام) ایک بنیادی مہارت ہے۔ اس مہارت کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد اپنے وقت کو اس انداز میں تقسیم کرے کہ سب سے اہم اور ضروری کام پہلے انجام پائیں، پھر وہ کام کیے جائیں جنھیں مؤخر کیا جا سکتا ہے اور آخر میں ایسے کام ہوں جو صرف فارغ وقت میں کیے جائیں یا جنھیں ترک بھی کیا جا سکے۔
ایک کام یاب فرد اپنے اوقاتِ کار کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کرتا ہے:
اہم اور فوری کام : جیسے دفتر کی ڈیڈ لائن، امتحانات کی تیاری، یا کسی بیماری کا علاج۔
اہم مگر غیر فوری کام : جیسے نئی مہارت سیکھنا، جسمانی ورزش، تعلقات کی بہتری۔
غیر اہم مگر فوری کام: جیسے غیر ضروری فون کال یا میٹنگ، جنھیں محدود کرنا چاہیے۔
غیر اہم اور غیر فوری کام: جیسے لایعنی گپ شپ، سوشل میڈیا پر بے مقصد وقت گزارنا، جو اکثر وقت کا سب سے بڑا ضیاع ہے۔
کام یاب لوگ اس فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اپنی توانائی صرف اُن کاموں پر لگاتے ہیں جو اُن کی ترقی اور کام یابی میں حقیقی کردار ادا کریں۔
قیادت اور وقت کی تقسیم
کسی کمپنی کے سربراہ یا کسی ادارے کے امیر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے وقت کی منصوبہ بندی کرے بلکہ اپنے ماتحتوں میں کام کی مؤثر تقسیم بھی کرے۔ ایک اچھا لیڈر جانتا ہے کہ کون سا کام کس کو سونپنا ہے، کس کی صلاحیت کہاں بہتر استعمال ہو سکتی ہے، اور کس طرح ٹیم کو اس انداز میں منظم کرنا ہے کہ وقت کا ضیاع نہ ہو اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔
جو شخص ’’آرٹ آف ٹائم مینیجمنٹ‘‘ پر عبور حاصل کر لیتا ہے، وہ گویا اپنی کام یابی کو یقینی بنا لیتا ہے۔ وقت کو قید نہیں کیا جا سکتا، مگر بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہم اسے اپنے حق میں استعمال کرسکتے ہیں۔
وقت کے بہتر استعمال کے لیے کچھ تجاویز:
ہر دن کا آغاز اپنے سب سے اہم تین کاموں کی فہرست بنا کر کریں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں۔
غیر ضروری میٹنگوں یا فون کالوں سے گریز کریں۔
بڑے کاموں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے مکمل کریں۔
روزانہ اپنے دن کا جائزہ لیں کہ وقت کہاں بہتر استعمال ہوا اور کہاں ضائع ہوا۔
وقت کا احترام کرنے والے ہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کام یاب رہتے ہیں۔
لیاقت (skills)
کارکردگی کا گہرا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی فرد کے پاس دیے گئے کام کو انجام دینے کی لیاقت، مہارت اور صلاحیت کتنی ہے۔ ایک ہنر مند اور ماہر شخص نہ صرف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ کم وقت اور کم وسائل میں زیادہ نتائج بھی حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ فرد جس کی مہارت کم زور ہو یا جس کے پاس ضروری ہنر نہ ہو، اکثر وقت کی کمی کا بہانہ بناتا ہے یا ناکامی کو جواز فراہم کرنے کے لیے طرح طرح کے عذر تراشتا ہے۔
زندگی کے نبض شناس ادیب مختار مسعود کا ایک جملہ اس حقیقت کو نہایت خوب صورتی سے واضح کرتا ہے:
”جو لوگ وقت کی کمی کا رونا روتے ہیں، وہ دراصل وقت کی کمی کا نہیں بلکہ صلاحیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘
یہ بات واضح ہے کہ مہارت کی کمی کارکردگی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی فرد اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے شعبے یا پیشے کے لیے درکار مہارتوں اور صلاحیتوں کی فہرست تیار کرے، پھر ایک منظم منصوبے کے تحت ان صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے اور اس منصوبے پر مستقل مزاجی کے ساتھ عمل پیرا رہے۔
لیاقت بڑھانے کے لیے انفرادی حکمتِ عملی
اپنی مہارتوں کا تجزیہ کریں۔ معلوم کریں کہ آپ کے شعبے میں کام یابی کے لیے کون سی بنیادی اور ضمنی صلاحیتیں ضروری ہیں۔
سیکھنے کا مستقل عزم رکھیں۔ روزانہ یا ہفتہ وار بنیاد پر کچھ نیا سیکھنے کی عادت ڈالیں۔
عملی مشق کریں۔ ہنر صرف نظریاتی مطالعے سے نہیں آتا، بلکہ مسلسل مشق اور پریکٹس سے نکھرتا ہے۔
فیڈ بیک لیں۔ اپنے کام پر ماہرین یا ساتھیوں سے رائے حاصل کریں تاکہ بہتری کے مواقع معلوم ہو سکیں۔
پیشہ ورانہ کورسوں اور ورکشاپوں میں حصہ لیں۔ آن لائن یا آف لائن ٹریننگ پروگراموں سے فائدہ اٹھائیں۔
اجتماعی و ادارہ جاتی کردار
جہاں ٹیم ورک یا اجتماعی کام ہوتا ہے، وہاں مہارت بڑھانے کی ذمہ داری صرف فرد پر نہیں بلکہ لیڈر، امیر یا کمپنی/ادارہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ایک باصلاحیت لیڈر جانتا ہے کہ اس کی ٹیم کو کس قسم کی مہارتوں کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وہ ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں ہر رکن اپنی صلاحیت کو نکھار سکے۔
آج کے جدید کارپوریٹ شعبے میں اس مقصد کے لیے ایک منظم نظام رائج ہے، جسے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (continuous professional development – CPD) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں ملازمین کو وقتاً فوقتاً ٹریننگ، ورکشاپ، سیمینار اور پریکٹیکل ایکسرسائز کے ذریعے اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کا موقع دیا جاتا ہے۔
ان پروگراموں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ:
ایک فرد کم وقت میں زیادہ اور معیاری پیداوار دے سکے۔
ٹیم کے ہر رکن کے کام کا معیار یکساں اور بلند ہو۔
بدلتے حالات اور نئی ٹیکنالوجیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
لیاقت بڑھانے کے عملی فوائد
پیداواری صلاحیت میں اضافہ۔ بہتر مہارتوں کے ذریعے وقت اور وسائل کا بہتر استعمال۔
اعتماد میں اضافہ۔ مہارت آنے سے فرد اپنے فیصلوں اور کام پر زیادہ پراعتماد ہوتا ہے۔
مواقع میں وسعت۔ بہتر ہنر رکھنے والے کو ترقی اور نئے مواقع ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ٹیم ورک میں بہتری۔ مہارت یافتہ افراد کے ساتھ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔
وسائل
کسی فرد یا ٹیم کی کارکردگی براہِ راست ان وسائل پر منحصر ہوتی ہے جو انھیں دستیاب ہوں۔ اگر کسی فرد کے پاس وقت اور مہارت موجود ہو لیکن ضروری وسائل نہ ہوں تو پیداوار اور کارکردگی فطری طور پر متاثر ہوگی۔ وسائل کی کمی نہ صرف کام کی رفتار کو کم کرتی ہے بلکہ معیار پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کی مؤثر ادائیگی کے لیے درکار وسائل بروقت اور مناسب مقدار میں میسر آئیں۔
وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کا بہترین اور مؤثر استعمال بھی کارکردگی کا اہم پیمانہ ہے۔ صرف وسائل کا ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کو درست منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ کم سے کم وقت اور لاگت میں زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
اگر کسی اجتماعیت یا ادارے کو وسائل کی کمی کا سامنا ہو تو وہ اپنے مقاصد کی طرف پیش رفت میں طرح طرح کی رکاوٹوں اور چیلنجوں کا سامنا کرے گا۔ وسائل کی کمی بعض اوقات بہترین منصوبوں کو بھی عملی شکل دینے سے روک دیتی ہے اور ٹیم کا حوصلہ پست کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس وسائل کی وافر اور مناسب دستیابی ٹیم میں جوش، اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے۔
لہٰذا، کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے چاہے آپ ایک طالب علم ہوں، کسی پیشہ ور شعبے سے تعلق رکھتے ہوں، یا کسی اجتماعیت یا فلاحی ادارے کے رضاکار ہوں سب کو چاہیے کہ وسائل کے حصول اور ان کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ دیں۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
وسائل کی ضرورت کا درست تعین۔ سب سے پہلے یہ واضح کریں کہ کون سے وسائل درکار ہیں، کتنی مقدار میں، اور کس وقت پر۔
وسائل کے ذرائع تلاش کرنا۔ مختلف اداروں، تنظیموں، افراد یا حکومتی اسکیموں سے مدد لینے کے مواقع تلاش کریں۔
وسائل کا شفاف اور مؤثر انتظام۔ دستیاب وسائل کے ضیاع سے بچیں اور ان کا ریکارڈ باقاعدگی سے رکھیں۔
وسائل بڑھانے کی حکمت عملی۔ فنڈ ریزنگ، شراکت داری (Partnerships)، یا کمیونٹی سپورٹ کے ذریعے وسائل میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں۔
وسائل میں رکاوٹ بننے والے مسائل کا حل خواہ یہ مسائل مالی ہوں، انتظامی ہوں یا افرادی قوت سے متعلق، انھیں جلد دور کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔
اگر ہر فرد اپنی سطح پر وسائل کی فراہمی اور ان کے مؤثر استعمال کے لیے سنجیدہ کوشش کرے تو نہ صرف انفرادی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ پوری ٹیم یا اجتماعیت اپنی منزل کی طرف زیادہ تیزی اور مضبوطی سے بڑھ سکے گی۔
گروپ ڈائنامکس
کسی بھی ٹیم یا اجتماعیت کی کام یابی کا راز صرف انفرادی مہارت اور محنت میں نہیں بلکہ گروپ ڈائنامکس یعنی ٹیم کے اندر افراد کے باہمی تعلقات، ہم آہنگی، رابطہ کاری اور تعاون میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ گروپ ڈائنامکس کو سمجھنے کے لیے فٹبال ٹیم کی مثال نہایت موزوں ہے۔
ایک فٹبال ٹیم اسی وقت کام یابی سے ہم کنار ہو سکتی ہے جب اس کے تمام کھلاڑی اپنی متعین پوزیشن پر ڈٹے رہیں، اپنے دائرۂ کار میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں، اور مناسب وقت پر گیند (ball)کو دوسرے کھلاڑی کی جانب بڑھا دیں تاکہ ٹیم کا مجموعی ہدف حاصل ہو سکے۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی جگہ چھوڑ دے، حد سے زیادہ گیند اپنے پاس رکھے، یا دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ مؤثر رابطہ نہ رکھ سکے تو پوری ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح، کسی بھی تنظیم، ادارے یا اجتماعیت میں، ہر فرد کی انفرادی کارکردگی کے ساتھ ساتھ، اس کا دوسروں کے ساتھ موثر رابطہ، تعاون اور ہم آہنگی بھی بے حد ضروری ہے۔ ٹیم کی کارکردگی اس وقت بہترین رہتی ہے جب ہر رکن:
اپنے کردار اور ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھے۔
اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی مفاد میں بروئے کار لائے۔
دوسروں کی کام یابی میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے سہولت فراہم کرے۔
اگر کسی ٹیم یا اجتماعیت میں حسد، جلن، غیبت، انا، خود پسندی اور احساسِ برتری جیسے منفی جذبات پروان چڑھنے لگیں تو نہ صرف باہمی اعتماد ختم ہوتا ہے بلکہ ٹیم کا اتحاد اور کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں ٹیم کے اراکین ایک دوسرے کو سہارا دینے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں وقت ضائع کرتے ہیں، جس سے اجتماعی مقصد خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
ان منفی رویوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ٹیم میں باہمی اعتماد اور اخلاص کو فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے چند اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
تعلیم و تربیت۔ اراکین کو باقاعدہ تربیتی نشستوں میں ٹیم ورک، مواصلات (communication skills) اور مثبت رویوں کی اہمیت سمجھائی جائے۔
تزکیہ و تربیتِ نفس۔ حسد، جلن اور انا جیسے منفی جذبات سے بچنے کے لیے روحانی و اخلاقی تربیت (تزکیہ) پر زور دیا جائے۔
مراقبہ اور خود احتسابی۔ اراکین کو وقتاً فوقتاً اپنی نیتوں اور اعمال کا جائزہ لینے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ وہ اجتماعی مقصد کے لیے یکسو رہیں۔
تقدیر اور شکرگزاری کا رویہ۔ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ ہر کام یابی اللہ کی توفیق سے ہے اور ٹیم کا ہر فرد اپنی جگہ قیمتی ہے۔
گروپ ڈائنامکس کی مضبوطی کا مطلب صرف مل جل کر کام کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ہر فرد اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کر کے دوسروں کو کام یاب بنانے میں خوشی محسوس کرے۔ جب ٹیم کا ہر رکن اپنی جگہ دیانتداری سے کام کرے اور دوسرے اراکین کی کام یابی کو اپنی کام یابی سمجھے، تب ہی اجتماعیت اپنی منزل کی طرف تیزی اور مضبوطی سے بڑھ سکتی ہے۔
طلبہ میں کارکردگی کو فروغ دینے کے طریقے
یہ مضمون بنیادی طور پر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کارکردگی کو بڑھانے، ان کی تعلیمی اور عملی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور مستقبل میں انھیں زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔
تعلیم کا مقصد محض معلومات اکٹھی کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کی شخصیت میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو انھیں زندگی کے مختلف میدانوں میں کام یابی دلائیں۔ اس لیے تعلیمی عمل کو اس انداز میں ڈھالنا ضروری ہے کہ وہ تجزیاتی سوچ، تنقیدی نظر، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور وقت کے مؤثر استعمال جیسے اوصاف کو فروغ دے۔
تعلیمی طریقۂ کار میں بہتری
طلبہ بنیادی طور پر تعلیم کے حصول میں مصروف رہتے ہیں، لیکن تعلیم صرف یاد کرنے یا امتحان پاس کرنے کا نام نہیں ہے۔ ایک اچھا تعلیمی طریقہ وہ ہے جو طلبہ کے اندر سوال کرنے کی عادت پیدا کرے، انھیں سوچنے پر مجبور کرے اور تجسس کو بڑھائے۔
اس کے لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ محض رٹنے پر مبنی تدریس سے گریز کریں اور اس کی جگہ سرگرمیوں پر مبنی تعلیم (activity-based learning)، پروجیکٹ کے ذریعے سیکھنا (project-based learning) اور ساتھی طلبہ سے سیکھنا (peer-group learning) جیسے طریقے اپنائیں۔
ان طریقوں میں طلبہ صرف سننے والے نہیں رہتے بلکہ فعال طور پر سرگرمی میں حصہ لیتے، مختلف زاویوں سے سوچتے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیچیدہ مسائل کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا
طلبہ کی ذہنی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک معروف طریقہ چنکنگ میتھڈ (chunking method)ہے، جس میں بڑے اور پیچیدہ مسائل کو چھوٹے، آسان اور قابلِ فہم حصوں میں تقسیم کر کے حل کیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ریاضی کا ایک مشکل سوال یا سائنس کا پیچیدہ تجربہ اگر ایک ساتھ کرایا جائے تو طلبہ گھبرا سکتے ہیں، لیکن اگر اسے مرحلہ وار سمجھایا جائے تو وہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔
یہ طریقہ نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرتا ہے بلکہ طلبہ میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور ان کی کارکردگی کو مرحلہ وار بہتر بناتا ہے۔
مطالعہ کے دوران وقفہ لینا
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کارکردگی بڑھانے کے لیے طلبہ کو مسلسل کئی گھنٹے پڑھنے کے بجائے وقفے لینے چاہئیں۔
مثلاً ہر آدھے گھنٹے بعد پانچ منٹ کا وقفہ، جس میں ہلکی جسمانی ورزش یا سانس کی مشق کی جائے، دماغ کو تازہ کر دیتا ہے۔
اسی طرح تین گھنٹے کے بعد لمبا وقفہ لینے سے توجہ مرکوز رکھنے میں آسانی ہوتی ہے اور یادداشت بہتر ہوتی ہے۔
عملی پروجیکٹ اور تربیت
اعلیٰ درجے کی کلاسوں یا یونیورسٹی میں عملی تجربات اور پروجیکٹ کارکردگی کو بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
مثلاً زرعی یونیورسٹیوں میں طلبہ کو زمین کا ایک قطعہ دیا جاتا ہے، جس پر وہ گروپ کی شکل میں یا انفرادی طور پر کاشت کرتے ہیں، پھر اپنی پیداوار یونیورسٹی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
یہ طریقہ انھیں نہ صرف عملی علم دیتا ہے بلکہ پیداوار بڑھانے کی مہارت، وقت کے استعمال کا شعور اور منصوبہ بندی کی صلاحیت بھی سکھاتا ہے۔
پیداواریت کی تربیت
بعض ممالک میں ہائی اسکول اور کالجوں میں باضابطہ پروڈکٹیوٹی کلاسیں ہوتی ہیں، جہاں طلبہ مخصوص اوقات میں لیبارٹری یا پروڈکشن سینٹر میں کام کرتے ہیں اور حقیقی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔
اس سے نہ صرف ان کی عملی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ محنت کے نتیجے اور آمدنی کا براہِ راست تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
پیشہ ورانہ (vocational)تعلیم میں کارکردگی کا شعور
ووکیشنل کورسوں میں طلبہ کو محض نظریاتی علم نہیں دیا جاتا بلکہ انھیں عملی میدان میں ہنر آزمانے اور حقیقی مسائل حل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو مختلف سوفٹ ویئر ڈیزائن اور ڈیولپ کرنے کے منصوبے دیے جاتے ہیں۔ یہ منصوبے محض پروگرامنگ کی مشق نہیں ہوتے، بلکہ ان کے ذریعے طلبہ کو ٹیم ورک، مسئلہ حل کرنے کی مہارت، وقت کے مؤثر استعمال، پروجیکٹ مینیجمنٹ اور معیار کو برقرار رکھنے جیسی اہم صلاحیتیں بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اکثر اوقات یہ پروجیکٹ حقیقی طلب گاروں یا اداروں کے لیے بنائے جاتے ہیں، جس سے طلبہ کو حقیقی دنیا کی توقعات، چیلنجوں اور ڈیڈ لائنوں کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
یہی طرزِ تعلیم پرائمری اور مڈل اسکول کی سطح پر بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ منصوبے چھوٹے اور آسان ہوں گے، لیکن ان کا مقصد یہی ہوگا کہ طلبہ بچپن سے ہی کارکردگی اور پیداواریت کے تصورات سے واقف ہوں۔ مثال کے طور پر پرائمری اسکول میں سائنس میلے کے لیے چھوٹے ماڈل تیار کرانا، مڈل اسکول میں مقامی کمیونٹی کے مسائل پر ریسرچ پروجیکٹ کروانا یا سادہ ڈیجیٹل گیم ڈیزائن کروانا، اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں بلکہ ان میں خود اعتمادی، ذمہ داری اور وقت کی قدر کا شعور بھی پیدا کرتی ہیں۔
اسی تصور کو اعلیٰ تعلیم میں مزید عملی اور پیچیدہ انداز میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ (IIM)کے پوسٹ گریجویشن کورس میں طلبہ کو باضابطہ طور پر فیلڈ بیسڈ پروجیکٹ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ ان پروجیکٹ میں اکثر طلبہ کو بڑے کارپوریٹ اداروں یا صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا کام سونپا جاتا ہے۔
بعض اوقات انھیں ایسے تجارتی اداروں یا غیر منافع بخش تنظیموں (NGOs)کا تجزیہ کرنے کا موقع ملتا ہے جن کی کارکردگی کسی وجہ سے کم زور رہی ہو۔ طلبہ اپنی تحقیق اور مشاہدے کی بنیاد پر متعلق ادارے کے موجودہ نظام، وسائل کے استعمال، ٹیم اسٹرکچر اور پیداواریت کے معیار کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، پھر اپنی سفارشات پیش کرتے ہیں کہ کس طرح ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اس طرح کے پروجیکٹ میں طلبہ کو مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً:
ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے میٹنگیں اور انٹرویو کرنا
مارکیٹ اور مقابلہ جاتی ماحول کا تجزیہ کرنا
مالیاتی رپورٹوں اور پیداواری اعداد و شمار کا مطالعہ کرنا
اپنی سفارشات کو عملی اور قابلِ نفاذ شکل دینا
یہ تمام تر عمل نہ صرف طلبہ کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیت کو بڑھاتا ہے بلکہ انھیں حقیقی دنیا میں فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے کا عملی ہنر بھی سکھاتا ہے۔ یوں تعلیمی ادارہ ایک محفوظ مگر حقیقت سے قریب تر ماحول فراہم کرتا ہے جس میں طلبہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو آزما سکیں اور بہتر بنا سکیں۔
وقت کی تنظیم (time management)کی تربیت
کارکردگی بڑھانے کے لیے وقت کا صحیح استعمال سب سے بنیادی عنصر ہے۔
طلبہ کو چاہیے کہ وہ پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں کا ایک واضح شیڈول بنائیں، ترجیحات طے کریں اور وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
کئی کوچنگ سینٹر خاص طور پر وقت کے انتظام کی تربیت دیتے ہیں تاکہ طلبہ کم وقت میں زیادہ اور بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔
طلبہ میں کارکردگی کو فروغ دینا ایک مسلسل عمل ہے، جو بہتر تدریسی طریقوں، عملی تربیت، وقت کے نظم، وقفے لینے، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور پیداواریت کے شعور پر مبنی ہے۔
جب تعلیمی ادارے ان نکات کو اپنے نصاب اور تدریسی عمل میں شامل کریں تو نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کام یابی میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ زندگی کے ہر میدان میں زیادہ فعال، پُر اعتماد اور کام یاب ثابت ہوں گے۔
مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025