اسلام میں شخصی آزادی

سید عبد الباری

اسلام وہ تنہا مذہب ہے، جس نے فرد کی شخصی آزادی اور اس کے شخصی حقوق کی حفاظت و احترام کاواضح الفاظ میں اعلان کیاہے اور اللہ کی کتاب و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں بار بار اس کی تلقین کی گئی ہے کہ فرد کی عزت نفس اور اکرام مومن کا پورا پورا لحاظ اسلامی معاشرے اور حکومت میں لازمی طورپر کیاجانا چاہیے۔ فرد کی شخصی آزادی اور اس کے انفرادی حقوق کی سب سے بڑی ضمانت خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں دی ہے:

’تمھاری جانیں، تمھارے مال، تمھاری آبروئیں ویسی ہی حرمت رکھتی ہیںجیسی کہ حج کے اس دن کی حرمت ہے۔‘

عصر رواں میں شخصی آزادی کے بے شمار دعوؤں کے باوجود سب سے زیادہ جوشے پامال ہورہی ہے، وہ فرد کی شخصی آزادی ہے۔ اسلام ہر فرد کی شخصی آزادی کو ناقابل دست اندازی قرار دیتاہے اور کسی شخص کی آزادی معروف قانونی طریقے پر اس کاجرم ثابت کیے بغیر اور اسے صفائی کاموقع دیے بغیر سلب نہیں کی جاسکتی۔ امام خطابی اپنی کتاب معالم السنن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’اسلام میں حبس کی دو قسمیں ہیں: ایک حبس عقوبت یعنی عدالت سے سزا پاکر کوئی شخص قید کیاجائے، دوسرے استظہار یعنی ملزم کو بغرض تفتیش روک رکھنا۔ اس کے علاوہ حبس کی کوئی اور صورت اسلام میں نہیں۔ امام ابویوسف کتاب الخراج میں رقمطراز ہیں: ’کسی شخص کو محض تہمت کی بنا پر قید نہیں کیاجاسکتا۔ خود حضرت عمرؒ نے ایک مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایاتھا: ’لایوسررجل فی الاسلام بغیر العدل‘ ﴿اسلام میں کوئی شخص بغیر عدالتی کارروائی کے قید نہیں کیاجاسکتا﴾۔

اسلام نے شخصی آزادی کو جن اہم بنیادی حقوق کے ذریعے یقینی بنایاہے اور جن کی ضمانت فرد کو خدا اور رسول کی طرف سے ملی ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱- جان ومال کی حفاظت اور انفرادی ملکیت کاحق

۲- سکونت اور نقل و حرکت کی آزادی

۳- عقیدہ، فکر وخیال اور مذہب کی آزادی

۴- سعی وجہد اور پیشہ وکاروبار کی آزادی

۵-اجتماع بندی اور تنظیم بندی کی آزادی

۶- تنقید اورمحاسبے کا حق

حضرت علیؒ نے خوارج کو وارننگ دی تھی کہ جب تک تم فساد نہ برپاکروگے، تمھارے خلاف لڑائی کی ابتدا نہ کریں گے۔ یعنی کوئی گروہ جو خیالات چاہے رکھے اور پُرامن طریقے سے جس طرح چاہے اپنے خیالات کا اظہار کرے اسلامی مملکت اس کو نہیں روکے گی۔ البتہ وہ اپنے خیالات زبردستی کسی پر ٹھونسنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

فرد کی شخصی آزادی کو اس وقت تک یقینی نہیں بنایا جاسکتا جب تک کہ اسے مکمل مساوات کاحق حاصل نہ ہو۔ وہ مساوات جسے اسلامی تہذیب نے قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ دوراول میں شخصی آزادی کا یہ عالم تھا کہ ایک حبشی کو اپنے علم وفضل اور تقوے کی بناپر ایک قریشی پر فوقیت حاصل ہوتی تھی۔ تاریخ اسلام میں ان گنت حبشی علما بلند ترین مراتب پر فائز نظرآتے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسلمانوں ہی کو نہیں دنیا کے تمام انسانوں کو ایک دوسرے کابھائی قراردیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’ میں شہادت دیتاہوں کہ سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘ ﴿ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ﴾

چنانچہ اسلامی تاریخ میں خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار میںایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ غیرمسلم اور مسلم غلام و آقا، عام شہری اور حکمراں، غریب وامیر کے درمیان انصاف کے معاملے میں کوئی تفریق نہیں برتی گئی۔ تاریخ اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ روشن حروف میں آج بھی دنیاے انسانیت کے لیے رہنما ہیں جو آپ نے قریش کی ایک عورت کے چوری میں ماخوذ ہونے اور حضرت اسامہؒ کے اسے معاف کرنے کی سفارش پر ارشاد فرمائے تھے:

’تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، وہ اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہ کم درجے کے لوگوں کو قانون کے مطابق سزا دیتی تھیں اور اونچے درجے کے لوگوں کو چھوڑدیتی تھیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر محمدﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو اس کابھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘ ﴿بخاری و مسلم﴾

اسلام نے فرد کی شخصی آزادی کی خاطر انسانوں اور انسانوں کے درمیان کھڑی دیواروں کو منہدم کردیا۔ چنانچہ انسانوں کی غلامی کی مکروہ روایت جو صدیوں سے بڑی بڑی سلطنتوں اور تہذیبوں کی پشت پناہی سے پوری دنیا میں چھائی ہوئی تھی، اُسے دھیرے اس طرح ختم کیاگیاکہ زندگی کے ہر شعبے میں آقا و غلام برابر آکر کھڑے ہوگئے اور غلام کو آزاد کرنا اور اپنے برابر کا درجہ دینا ایک فضیلت، نیکی اور شرف کا اقدام تصور کیاجانے لگا۔ اسی کانتیجہ تھاکہ بے شمار غلام اسلامی مملکت کے بلند ترین مناصب تک پہنچ گئے۔ حضرت عمرؒ کو جب مکہ کے گورنر نافع بن الحارث نے بتایاکہ میں آزاد کردہ غلام ابن البری کو اپنا نائب مقرر کرکے آیا ہوں تو آپ نے ان کی صفات سنیں اور خوش ہوکر فرمایا: ’کیوں نہ ہو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماگئے ہیں کہ اللہ اس کتاب ﴿قرآن﴾ کے ذریعے بعض کو اوپر اٹھائے گا اور بعض کو نیچے گرائے گا۔‘ ﴿اسلامی مساوات: محمد حفیظ اللہ پھلواری ادارہ تحقیق کراچی:۱۹۷۱﴾

اسلام فرد کی شخصی آزادی کے بارے میں اس قدر حساس ہے کہ وہ فرد کی اہانت یا عقوبت کسی طرح گوارا نہیں کرتا اور بقول محمد صلاح الدین :اسلام کااندازۂ فکر اس معاملے میں یہ ہے کہ سزا سے حتی الامکان گریز کیاجائے اور اسباب و شواہد سزا کے لیے نہیں، بل کہ برأت کے لیے ڈھونڈے جائیں۔ ﴿بنیادی حقوق،ص:۲۵۲،مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی﴾

اسلام فرد کے شخصی وقار و احترام کے معاملے میں مسلم و غیرمسلم کی تفریق نہیں کرتا اور غیرمسلموں کو بھی مسلمانوں کی اسلامی ریاست میں شخصی آزادی کی ضمانت دی جاتی ہے۔ بقول ڈاکٹر عبدالکریم زیدان ’اس سلسلے میں فقہا نے اصول کو یوں بیان کیاہے: ’لھم مالنا ولیہم ماعلینا‘ یعنی ان کے حقوق وہی ہیں جو ہمارے حقوق ہیں اور ان کی ذمے داریاں اور ہماری ذمے داریاں بھی ایک جیسی ہیں ﴿اسلام میں ریاست اور فرق کا مقام :۱۰۰۰﴾

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی اس موقع پر فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’جس نے کسی ذمی کو ایذا دی تو میں اس کے خلاف کھڑا ہوںگا اور جس کے خلاف میں دنیا میں کھڑا ہوا قیامت کے روز بھی کھڑا ہوںگا۔‘ ﴿الجامع الصغیرللسیوطی:۲/۳۷۴﴾

اسی طرح اسلام ہر مسلک و مذہب کے افراد کے عقیدہ و عبادت کے سلسلے میں شخصی آزادی کاپورا احترام کرتاہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اسلام کسی شخص کو اپنا عقیدہ تبدیل کرنے اور اسلام کی شاہراہ اپنانے پر مجبور نہیں کرتا۔ قرآن حکیم کی واضح آیت اس معاملے میں رہنما ہے: ’لااکراہ فی الدین، قدتبین الرشد من الغی‘ ۔’دین میں کوئی جبرو اکراہ نہیں، بے شک ہدایت کو گمراہی سے الگ کرکے واضح کردیاگیاہے۔‘

اس سلسلے میں تاریخ اسلام سے بے شمار حوالے دیے جاسکتے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم وہ خط ہے جو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کے نام لکھاتھا: ’نجران اور اس کے ملحہ علاقوں کے لیے ان کے مالوں، مذہب، عبادت گاہوں اور ان کی تمام ملکیتوں کی حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ ہے اور محمدﷺ کی طرف سے ذمّے لیاجاتا ہے۔‘ ﴿بحوالہ کتاب الخراج، امام ابویوسف:۹۱﴾

اسلام فرد کی شخصی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی نجی زندگی میں کسی کو تاک جھانک کی اجازت نہیں دیتا اور اسلامی ریاست میں فرد کو تخلیے کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ اسلام میں یہ بات کسی فرد پر ظلم کے مترادف ہے کہ اس کے گھر میں دست درازی اور مداخلت کی جائے۔ انسان کا مکان دراصل اس کی ذاتی زندگی کامرکز ہوتاہے اور اس میں مداخلت بے جااس کی شخصی آزادی کو سلب کرنے کے ہم معنی ہے۔

عصرحاضر میں شخصی آزادی کے سلسلے میں آزادی اظہار رائے کابہت ذکر کیاجاتاہے۔ مغرب فرد کو اس معاملے میں آزادی مطلق عطا کرنے کا قائل ہے اور ہوائے نفس کے ہاتھوں میں زندگی کی لگام سونپ دینا، انسان کے شخصی حقوق کاتقاضا قراردیتا ہے۔ اسلام ہر اس شے کو جو فرد کے اخلاقی و روحانی وجود کے لیے مضر ہے، اس کو شخصی حقوق کے دائرے سے خارج قرار دیتا ہے، مثلاً شراب کہ انسان کے لیے زہر سے زیادہ مہلک ہے مگر نفس کو بے حد مرغوب ہے، لیکن شخصی آزادی کے نام پر شراب نوشی کی اجازت نہیں دیتا۔ یا یورپ کے بدمست معاشرے سے متاثر ہوکر اگر مطلق جنسی آزادی کامطالبہ فرد کی جانب سے ہوتو اسے بھی شخصی حقوق کے دائرے میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔ اسلام میں شخصی حقوق کے لیے فرد اور معاشرے کے اندر ایسی خوبیاں پروان چڑھائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ان کا حصول آسان ہوسکے۔

اسلام فرد کو شخصی آزادی کاسچا شعور بھی عطا کرتا ہے اور اس کی حفاظت اور اس کی فضیلت کااحساس بھی بیدارکرتا ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنے ایمان اور عقیدے کی روشنی میں اپنی آزادی و وقار کانگراں ہوتاہے، اسے کوئی بھی طاقت اس کے حقوق سے محروم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ حجاج بن یوسف جیسے سنگ دل حکمراں نے کسی شخص سے اپنے بھائی محمد بن یوسف کے بارے میں پوچھاکہ وہ کیساہے تو اس نے جواب دیاکہ وہ تو بڑا خراب آدمی ہے، اللہ اور اس کے احکام کی سرتابی میں یکتا ہے۔ حجاج نے کرخت آواز میں غضبناک ہوکر کہا: ’کم بخت تجھے معلوم نہیں کہ وہ میرا بھائی ہے۔‘ اس شخص نے نہایت اطمینان سے جواب دیا، ہاں! جانتاہوں مگر کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ میرا رب ہے اور وہ خدا کی قسم مجھے اس سے زیادہ محبوب و مطلوب ہے جتنا تجھے تیرا بھائی۔‘ ﴿اسلامی جمہوریت رئیس احمد جعفری لاہور﴾

شخصی آزادی کے سلسلے میں اسلام نے آزادی اظہار رائے کو جس قدر اہمیت دی ہے اور حکمرانوں کے احتساب کی جو روشن روایت قائم کی ہے وہ تاریخ کاایک روشن باب ہے۔ اگر کسی مسلم حکمراں نے اس آزادی پر روک ٹوک لگائی تو فرد اور معاشرے کی اخلاقی قوت ابھرکر سامنے آئی۔ خلفائے راشدین نے اس آزادی پر قدغن لگانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنادیا۔ حضرت عمرؒ نے مصر کے گورنر عمروبن العاص کے بیٹے کو ایک معاملے میں زیادتی پر طلب فرمایا اور تقاضائے عدل پورا کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’اے عمرو! تم لوگوں نے انسانوں کو کب سے اپنا غلام بنالیا؟ ان کی ماؤں  نے تو انھیں آزاد جنا تھا۔‘ ﴿عمر بن خطاب۔ طنطاوی:۱۸۷، مترجم: عبدالصمدصارم لاہور:۱۹۷۱﴾

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی شخصی آزادی کاخود اس قدر پاس ولحاظ فرمایاکہ لوگوں کے ناگوارِ خاطرطرزعمل پر ان کی کوئی گرفت نہیں کی۔ ایک بار آپﷺ مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے، کسی نے کہا: ’تقسیم غنیمت مرضی الٰہی کے خلاف ہوئی ہے۔‘ اگرچہ یہ بات سخت تھی، مگر آپﷺ نے معاف کردیا۔ کسی اور کی آواز آئی‘ ’آپﷺ نے عدل سے کام نہیں لیا۔‘ فرمایا: ’اگر میں عدل نہ کروںگاتو کون کرے گا۔‘ پھر کہنے والے سے کوئی بازپرس نہیں کی۔ حضرت زبیر اور ایک انصاری کاکوئی معاملہ آپﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپﷺ نے حضرت زبیر کے حق میں فیصلہ کردیا۔ انصاری نے غصے میں آکر کہا: ’اپنے پھوپھی زاد بھائی کے حق میں فیصلہ کردیا۔‘ آپﷺ نے اس گستاخی سے درگزر کیا اور کچھ نہ فرمایا۔ ﴿کتاب الخراج: امام ابویوسف:۵۳﴾

اسلام نے شخصی آزادی کی سرحدیںاس قدر وسیع کردیں کہ عہدہ خلافت میں اگر کسی نے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی حتی کہ اس کے پیچھے نماز پڑھناترک کردیا تو اس سے بھی کوئی تعارض نہیں کیاگیا۔ حضرت سعد بن عبادہ انصاری نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت نہ کی اور نہ حضرت عمرؒ کے۔ وہ نہ ان کی اقتدا میں نماز پڑھتے، نہ ان کی امامت میں جمعہ ادا کرتے، نہ حج کرتے۔ ابن قتیبہ نے ان کے متعلق لکھاہے: ’ان کو اگر کچھ لوگ مل جاتے تو وہ ارباب اقتدار پر ہلہ بول دیتے۔ وہ اپنے اس رویے پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکرؒ نے وفات پائی۔ حضرت عمرؒ خلیفہ ہوئے تو وہ شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔‘

﴿اسلامی ریاست،ص:۳۱﴾

ان اس روش کے باوجود حضرت ابوبکر نے ان پر کوئی پابندی عائد نہ کی اور نہ حضرت عمرؒ نے۔ اس لیے کہ انھوں نے عملاً کوئی باغیانہ اقدام نہیں کیا، جس سے ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہوتا۔ حضرت عمرؒ نے آزادی اظہار رائے کی شخصی آزادی کو اس قدر پروان چڑھایاکہ ایک شخص راہ چلتے یا بھری مجلس میں یا برسرمنبر جہاں چاہتا آپ کو ٹوک سکتاتھا اور آپؒ اس کی بات پر پوری توجہ دیتے۔ اپنے جسم کی دو چادروں کا حساب آپ نے بھرے مجمع میں دیا اور تحدید مہر کا فیصلہ کھلے اجلاس میں واپس لیا۔ حضرت عمرؒ کو لوگ سر راہ ٹوکتے تھے اور آپؒ اس کا برا نہ مانتے تھے اور کہتے تھے: ’انھیں مت روکو یہ لوگ اگر ہم سے ایسی بات کہنا چھوڑدیں تو پھر ان کا فائدہ ہی کیا۔‘

﴿کتاب الخراج:۵۲،بحوالہ:بنیادی حقوق-صلاح الدین﴾

آزادی رائے کی اجازت کے باوجود اسلام نے اس کی کچھ اخلاقی حدود بھی مقرر کی ہیں۔ اس حق کے استعمال میں نیت کی پاکیزگی اور خلوص کی شرط ہے۔ پھر اگر یہ آزادی انسان کی اپنی ذات کی نمائش اور تکبر کے اظہار کا ذریعہ بن جائے اور کوئی شخص دوسروں کے عیب گنانے اور ان کا پروپیگنڈا کرنے کو اپنا شعار بنالے تو دوسرے شخص کو بھی اپنی عزت و وقار کے تحفظ کا قانونی و اخلاقی حق حاصل ہے۔ اسلام فرد کی شخصی آزادی اگر اس کے لیے اور معاشرے کے لیے فتنہ بننے کا سبب ہوتو اسے پسند نہیں کرتا۔ بنیادی عقائد اور اقدار پر تیشہ زنی یا دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی اجازت نہیں دیتا۔ شخصی آزادی اس مرحلے میں آکر داخل ہوتو وہ معاشرے کے لیے اور عام انسانوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتاہے کہ معاشرے کو اس عذاب سے محفوظ رکھاجائے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اسلام نے فرد کی شخصی آزادی کے سلسلے میں اعلیٰ درجے کی انسان دوستی، رواداری اور فراخ دلی کاثبوت دیاہے اور اس معاملے میں مومن و کافر کی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ مسٹر ولزکے الفاظ میں ’اسلامی تعلیمات نے دنیا کے اندر منصفانہ اور شریفانہ طرزعمل کے لیے عظیم روایات چھوڑی ہیں اور وہ لوگوں میں شرافت اور رواداری کی روح پھونکتی ہیں۔ ان کے ذریعے ایسی سوسائٹی وجود میں آئی جس میں اس کے پیشتر کی ہرسوسائٹی کے مقابلے میںسنگ دلی اور اجتماعی ظلم کم سے کم رہاہے۔ اسلام نرمی، روداری، خوش اخلاقی اور بھائی چارے سے معمور ہوا ہے۔ ﴿بحوالہ: اسلامی تہذیب- ڈاکٹر مصطفی سباعی:۹۲﴾

اکتوبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau