رسول اللہ ﷺ کی خانگی زندگی

بعض اعتراضات کا جائزہ

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

سوال: (ایک انجینئر اور مسلمان تارک وطن کی جانب سے جو کئی برسوں سے امریکہ میں رہ رہا ہے اور جو اُن بہت سے مسلم تارکین وطن میں سے ایک ہے جنھوں نے مجھ سے اسلام کے بارے میں سوالات کیے ہیں۔ نائن الیون کے بعد سے پیغمبر اسلام ﷺ کے اخلاق و کردار پر بدزبانیوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھا ہے۔ عام طور پر ان اعتراضات کی بنیاد مستشرقین کے اٹھائے گئے پرانے سوالات پر ہوتی ہے۔ مجھ سے اکثر رسول اللہ ﷺ کی ازدواجی زندگی پر سوال پوچھے جاتے ہیں۔)

میں شام میں پیدا ہوا ۔ بائیس سال کی عمر میں ترک وطن کرکے امریکہ آگیا تھا۔ جب میں نوجوان تھا تب ایک دین دار مسلمان تھا، لیکن اب اٹھاون سال کی عمر میں، خاصا متشکک ہوتا جارہا ہوں۔ قرآن کی بعض آیات ایسی ہیں جن کے خدائی کلام ہونے پر مجھے شبہ ہے۔ ان میں سے سب سے اہم سوره تحریم کی ابتدائی آیات ہیں جن میں رسول اللہ ﷺاور ان کی ازواج کے درمیان ایک معمولی سے جھگڑے کا تصفیہ کیا گیا ہے ۔ اسی قبیل کی سورہ احزاب کی وہ آیات بھی ہیں جن میں رسول اللہ ؐکو ان کے منھ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مجھے یہ کہنے کے لیے معاف کیجیے  کہ خدا کو اپنی آخری وحی میں ان باتوں کے تصفیے کی ضرورت کیوں آن پڑی تھی؟ کیا یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ وہ [نعوذباللہ] ان معمولی خانگی جھگڑوں میں آنحضرت ؐکی مدد کے لیے دوڑ پڑتا ہے؟

قرآن کی یہ دو نوںعبارتیں قدیم دور ہی سے مستشرقین کی نکتہ چینی کا ہدف رہی ہیں اور ان پر وہ عمومی تاثر عام ہے جس کا اظہار مذکورہ بالا سوال میں کیا گیا ہے۔ ہرچند کہ بہت سے معاصر علما نے ان اعتراضات  کا شافی و کافی جواب دیا ہے، تاہم یہاں میرا  ارادہ اس کا مختصر جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات پیش کرنے کا ہے۔ سوال کے پہلے حصے میں سورہ تحریم کی ابتدائی سات آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کا ترجمہ اس طرح ہے:

  1. اے نبی، آپ کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہیں؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
  2. اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تمھارا مولیٰ ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے۔
  3. (اور یہ معاملہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبی کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی تو نبی نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا، پھر جب نبی نے اُسے (افشائے راز کی ) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا ’’مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔‘‘
  4. اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے) کیوں کہ تمھارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے جتھّے بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔
  5. بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمھارے بدلے میں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، سچی مسلمان باایمان اطاعت گزار توبہ گزار عبادت گزار اور روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ۔[1]
  6. اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔
  7. (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تمھیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔

ان آیات میں جس واقعے کی طرف اشارہ ہے اس کے حوالے سے مفسر و مترجم قرآن محمد اسد لکھتے ہیں:

’’بہت سی بنیادی طور پر متضاد، اور مجموعی طور پر ایسی روایات جو زیادہ قابل اعتماد نہیں ہیں اس واقعے کی صحیح وجوہ کی سمت میں اشارہ کرتی ہیں کہ کیوں مدنی دور میں کسی موقع پر، نبی ﷺنے قسم کھائی تھی کہ ایک مہینے تک اپنی ازواج میں سے کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔ ‘‘[2]

بہت سے مفسرین کا خیال ہے کہ پہلی اور تیسری آیت میں الگ الگ واقعات کا ذکر ہے لیکن اس سورت میں ایسا کوئی قرینہ نہیں پایا جاتا۔ اس کے برعکس، روایتی تفسیروں سے قطع نظر، قرأت سے آسانی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پہلی تین آیات، چوتھی اور پانچویں کے ساتھ مل کر، ایک ہی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس زاویے سے ہمیں مندرجہ ذیل نکات معلوم ہوتے ہیں:

رسالت مآب ﷺنے اپنی کسی زوجہ کو کوئی راز کی بات بتائی—روایات میں ان کا نام ام المومنین حضرت حفصہؓ آتا ہے ،جو حضرت عمر ؓ بن الخطاب کی بیٹی ہیں۔ حضرت حفصہؓ نے اس راز کو ایک دوسری ام المومنین کے پاس افشا کردیا—روایات میں ان کا نام حضرت عائشہ صدیقہؓ آتا ہے۔ دونوں ازواج نے اس خفیہ بات کو کس طرح استعمال کیا، اس سلسلے میں کوئی معتبر روایت نہیں ملتی، البتہ قرآنی عبارت کے سیاق سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے عمداً رسول اللہ ؐکے اس راز کو افشا کرکے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اس کے چند ہی دن بعد رسول اللہﷺنے اپنی ازواج سے ایک ماہ کی علیحدگی کی قسم کھالی۔

قدیم سیرت نگاروں نے اس کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی تمام ازواج سے علیحدگی کیوں اختیار کی تھی، جب کہ قرآن میں صرف دو کی جانب اشارہ ہے۔ بیشتر سیرت نگار اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب ازواجِ مطہرات میں بعض امور پر باہمی چپقلش پیدا ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں بالآخر رسول اللہ ﷺ نے خود کو ان کے جھگڑوں سے دور کرلیا۔ پہلی آیت کے الفاظ سے اس وضاحت کو تقویت ملتی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ علیحدگی اپنی بیویوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے خود پر عائد کی تھی۔

عبارت کے لہجے اور رسول اللہ ﷺ کے ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ اس اعتماد شکنی کے ممکنہ طور پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ لیکن جیسا کہ محمد اسد نے لکھا ہے، اس تذکرے کا مقصد کچھ اور بھی ہے:

’’اس واقعے کے بارے میں مندرجہ بالا قرآنی اشارے کا مقصد سوانحی نہیں بلکہ اس کا مقصد تمام انسانی حالات پر لاگو ہونے والا ایک اخلاقی سبق دینا ہے، وہ یہ کہ کسی بھی ایسی شے کو خود پر حرام کرلینا جسے خدا نے حلال کیا ہے، خواہ یہ رویہ دوسرے افراد کو خوش کرنے کی خواہش ہی کی بنا پر کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ اور نامقبول ہے۔ علاوہ بریں یہ اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے، جس پر قرآن میں بارہا زور دیا گیا ہے، کہ نبی بہرحال ایک بشر تھے، چناں چہ ان سے کبھی بشری چوک صادر ہوجانے کا مکان تھا۔‘‘[3]

اس واقعے کے ذریعے سورت کے مرکزی موضوع کو بھی متعارف کرایا گیا ہے کہ ہر فرد اپنے اپنے عمل کا آخرت میں واحد ذمہ دار ہے، اور اگر کسی نے اپنی عاقبت خراب کرلی تو کسی نیک ترین شخص کے ساتھ اس کا انتہائی قریبی رشتہ بھی—خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو—اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ چناں چہ اس سورت کا اختتام سابق دو انبیا ئے کرام کی ازواج (حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی) کی مثالوں پر ہوتا ہے جن کا نبی سے قریبی تعلق بھی انھیں عذاب سے  نہیں بچا سکا۔ اس کے برعکس حضرت آسیہ علیہا السلام (فرعون کی بیوی) کی مثال ہے جو معرفت الٰہی کا نمونہ ہیں، جب کہ ان کا شوہر شر کی علامت ہے۔ آخری مثال حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کی ہے جنھیں خدا کی معزز ترین بندیوں میں سے ایک اور مرد نادیدہ ماں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مندرجہ بالا سوال میں یہ بات بجا کہی گئی ہے کہ لوگوں میں عام طور پر ہونے والی باہمی غلط فہمیاں اور تنازعات —جیسی نبی کریم ﷺ اور ان کی ازواج مطہرات کے بیچ ہوئے—قابلِ اعتنا نہیں ہیں، لیکن یہی بات اس مثال کو مناسب حال (relevant)بناتی ہے۔ قرآن میں کافروں اور دیگر لوگوں کی بہت سی واضح مثالیں موجود ہیں جو خدا کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور جو شرک کو نجات کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ اس سورت میں دکھایا گیا ہے کہ انتہائی متقی لوگوں کو بھی ایسی غلطیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ یعنی ہمیں ہمیشہ اس بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے کہ خدا کی جائز کردہ چیزوں یا کاموں کو اس کے نام پر ممنوع نہ ٹھہرالیں، یا کسی گروہ سے اپنی وابستگی کی بنا پر خود کو خدا کی خاص عنایت و رعایت کے دعوے دار نہ سمجھ بیٹھیں۔

بادی النظر میں اس تصور کو حمایت ملتی ہے کہ اس وحی کا نزول عجلت میں ہوا ہے، یا نعوذ باللہ، محمدﷺنے اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل کے لیے قرآنی آیات گھڑ لی تھیں۔ لیکن ان آیات میں تدبر سے اس سوچ کے برعکس نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

پہلی بات—عبارت نبی کریم ﷺ پر تنقید سے شروع ہوتی ہے۔ اگر بفرض محال رسالت مآبؐ گھڑ کر آیات لاتے تو ان کی ابتدا اس آیت سے کیوں کرتے جس میں خدا نے انھیں سرزنش کی ہو؟ (یہاں اس بات کا تذکرہ دل چسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ قرآن کی بہت سی آیات میں نبی کریم ﷺ سے خصوصی مخاطبت یا تو ان کے کسی عمل میں اصلاح کے لیے کی گئی ہے یا پھر ان کے تحفظات کی نشان دہی کے لیے)۔ اگر وہ پہلی آیت حذف کرکے دوسری آیت سے سورت کا آغاز کرتے تب بھی ان کا خانگی مسئلہ بآسانی حل ہوجاتا۔ دوسری بات—زیادہ تر لوگ اور خاص طور پر عرب اپنے خانگی تنازعات کو عوامی سطح پر لانے سے گریز برتتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں ٹیلی ویژن ٹاک شوز کی بدولت کسی حد تک گھریلو جھگڑوں کی تشہیر کرنا اب قابل قبول ہوتا جارہا ہے، تاہم یہ ایک نئی صورت حال ہے۔ عرب یا مسلم دنیا اس عیب سے اب بھی کوسوں دور ہے۔ کسی جلیل القدر عرب قائد سے، چہ جائے کہ وہ نبی کی ذات ہو، یہ بات بعید تر ہے کہ وہ اپنے ذاتی مسائل کی تشہیر کرتا پھرے۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ اس بات کا تذکرہ نبی کریم ﷺ نے اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے بھی نہیں کیا تھا، اگرچہ وہ ان دونوں ازواج کے والد تھے۔ آخری بات—اس سورت کے نزول کو عجلت قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ تاریخی مصادر اس بات پر متفق ہیں کہ یہ وحی اس وقت اتری تھی جب نبی کریم ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے ایک ماہ کی علیحدگی کی مدت مکمل کر چکے تھے۔ اگر نبی وحی گھڑنے والے ہوتے تو وہ اس مسئلے کو بہت پہلے حل کر سکتے تھے اور اپنی کچھ یا تمام بیویوں سے رجوع کرسکتے تھے۔

سوال کرنے والے نے سورہ احزاب کی آیت 37 کا بھی ذکر کیا ہے جس کی تفسیر پر بیسویں صدی کے اوائل سے مستشرقین اور مسلم علما کے درمیان بڑا اختلاف رہا ہے۔ تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت میں حضرت زیدؓ بن حارثہ (نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور منھ بولے بیٹے) اور حضرت زینبؓ بنت جحش (نبیﷺ کی پھوپھی زاد اور ایک معزز قریشی خاتون) کی کشیدہ ازدواجی زندگی کا حوالہ ہے۔ آیت کا ترجمہ اس طرح ہے:

اے نبی ﷺ ! یاد کرو وہ موقع جب تم اُس شخص (حضرت زیدؓ) سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ’’اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر!‘‘ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے، جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالاں کہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔پھر جب زیدؓ نے اس سے (کوئی)حاجت (متعلق)نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی)، تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون زینبؓ’ )کا تم سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پُوری کر چکے ہوں۔اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا۔

اکثر مستشرقین اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ (نعوذباللہ) نبی کریم ﷺ اپنی نفسانی خواہشات کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے تھے۔ اس کی تائید کے لیے وہ طبقات ابن سعد میں مذکور ایک کم زور روایت کا سہارا لیتے ہیں۔

روایت ہے کہ آنحضرت ؐکسی موقع پر حضرت زیدؓ کی تلاش میں ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔ اس وقت اتفاق سے زید بن حارثہؓ اپنے گھر پر نہیں تھے۔ حضور ﷺ کی آواز پر حضرت زینبؓ گھبرا کر ایسی حالت میں اٹھ کھڑی ہوئیں کہ ان کے بدن پر اوڑھنی نہیں تھی اور مکان کادروازہ کھلا تھا۔ آنحضرت ﷺکی نظر اُن پر پڑ گئی اور آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ مُصَرِّفِ الْقُلْوبِ’’پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دل ہیں جدھر چاہتا ہے انھیں پھیر دیتا ہے‘‘کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔ جب زید بن حارثہؓ گھر آئے تو زینبؓ نے ان سے رسول اللہ ﷺکے تشریف لانے کا قصہ بیان کیا۔ یہ سن کر حضرت زیدؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یارسولؐ اللہ! اگر آپؐ پسند فرمائیں تو میں زینب ؓکو طلاق دے دیتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا زید! خدا سے ڈرو اور زینبؓ کو طلاق نہ دو۔ اس کے باوجود زیدﷺ نے حضرت زینبﷺ سے ازدواجی تعلق قطع کرلیا، یہاں تک کہ کچھ عرصہ تک ان سے علیحدگی بھی اختیار کیے رکھی۔ بالآخر نبی کریم ﷺ کے روکنے کے باوجود انھوں نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے دی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد نبی کریم ﷺ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کرلیا۔

اس روایت اور مذکورہ بالا آیت سے مستشرقین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زینبؓ کو پسند کرلینے کے بعد ان کے منھ بولے بیٹے کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تاکہ وہ حضورﷺ کے عقد میں آسکیں۔ اور نبیﷺ نے اس کارروائی پر ممکنہ اعتراضات کا دروازہ بند کرنے کے لیے (نعوذباللہ) وحی کا سہارا لے لیا۔

یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس پر مسلمانوں کا جواب روایات کا ایک بہت مختلف ورژن پیش کرتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سیدہ زینب ؓکو بے پردہ دیکھنے کی روایت مستند نہیں ہے اور نہ ہی قابل اعتبار ذرائع سے پہنچی ہے۔ قدیم سیرت نگاروں کے بارے میں یہ بات مسلمہ ہے کہ انھوں نے بہت سی ایسی روایات کو بھی قبول کرلیا تھا جو محدثین کے سخت معیارات پر کھری نہیں اترتی تھیں۔ اس کے علاوہ طبقات ابن سعد کی مذکورہ روایت تاریخی حیثیت سے بھی مجروح ہے اور ان معتبر روایات و دلائل سے متعارض ہے جو زید اور زینب کی طلاق سے متعلق ہیں۔ مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زیدؓاور زینب ؓکا نکاح کروانے کا مقصد اس قدیم عرب روایت کو توڑنا تھا جو ایک غلام (خواہ وہ سابق غلام ہی کیوں نہ ہو) اور ’’آزاد‘‘ کے بیچ عقد نکاح میں رکاوٹ تھی۔ (میرا مشاہدہ ہے کہ جدید عرب میں جب کہ غلامی کی روایت کو ختم ہوئے چالیس برس ہوچکے ہیں، سابق غلاموں سے نکاح کرنا اب بھی سماجی طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے۔) روایات میں آتا ہے کہ حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی پہلے پہل اس نکاح کے خلاف تھے۔ حضرت زینبؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں آنا چاہتی تھیں، لیکن نبی کا احترام کرتے ہوئے اور بڑے تحفظات کے ساتھ بالآخر اس عقد پر راضی ہوگئیں۔ خود حضرت زیدؓ بھی اس اتحاد میں دل چسپی نہیں رکھتے تھے، کیوں کہ وہ پہلے ہی سے ایک اور آزاد کردہ لونڈی حضرت ام ایمنؓ سے رشتہ ازدواج میں بندھے تھے اور اس رشتے سے خوش و خرم نباہ کر رہے تھے۔ ہر چند کہ رسول اللہﷺ زید و زینب کی شادی سے ایک طبقاتی امتیاز کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے، تاہم زوجین اس سماجی تبدیلی کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ زید ؓکے لیے یہ شادی شرمندگی کا باعث بھی تھی اور زینبؓ زید ؓسے اپنی ناپسندیدگی کا برملا اظہار کرتی تھیں۔ اس جوڑے کے طلاق لینے کی نوبت کئی بار آئی، لیکن ہر بار رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو ثابت قدم رہنے اور علیحدہ نہ ہونے پر آمادہ کیا کیوں کہ ’’انھیں ڈر تھا کہ لوگوں کو جب یہ معلوم ہوگا کہ ان کا طے کردہ رشتہ ناخوش گوار ثابت ہوا ہے تو وہ کیسی باتیں بنائیں گے۔‘‘ [وَتَخْشَى النَّاسَ–تم لوگوں سے ڈر رہے تھے]۔ بالآخر کئی برسوں کی ازدواجی کشیدگی کے بعد زیدؓ نے زینبؓ کو طلاق دے دی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا۔ قرآن کا اشارہ یہ ہے کہ ام المومنین سیدہ زینبؓ سے رسول اللہ ﷺکے نکاح کا مقصد جہاں مشرکین عرب کے خیال کے برعکس یہ دکھانا تھا کہ منھ بولا رشتہ مرد و عورت کے نکاح میں اس قبیل کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا جو حقیقی، حیاتیاتی والدین کے رشتے سے پیدا ہوتی ہیں، اور نہ ہی یہ رشتہ اس طرح کے شرعی مضمرات پر منتج ہوتا ہے جو حقیقی رشتے سے ہوتے ہیں۔ یہ وضاحت اس سورت کی پہلی آیت سے ہم آہنگ ہے جو انسان کے اپنے بنائے ہوئے سماجی رشتوں کے متعلق ہے۔دوسری جانب، حضرت زینبؓ کی دل جوئی بھی مقصود تھی جو ان کی ماضی کی ناخوش گوار یادوں کو مٹادے۔

محمد اسد رقم طراز ہیں:

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت زینبؓ کی ناکام شادی کے بعد ان سے کسی اور شخص کا نکاح ہونا مشکل ہوگیا تھا۔ زید سے شادی سے قبل وہ کنواری تھیں، اوائل شباب میں تھیں اور عرب کے معزز ترین قبیلے سے ان کا تعلق تھا، نیز روایات کی رو سے حسن و جمال میں بھی یکتا تھیں۔ لیکن جب یہ شادی ناکام ثابت ہوئی تو اس وقت وہ قریب پینتیس برس کی تھیں—اور اُس زمانے کے لحاظ سے یہ عمر شادی کے لیے بہت بڑی تصور کی جاتی تھی—ایک سابق غلام کی مطلقہ تھیں اور کنواری نہیں تھیں۔ رسول کریم ﷺ سے نکاح کرکے انھیں نہ صرف اپنی پسند کا رشتہ ملا بلکہ سماج میں ان کے عزو وقار میں بھی اضافہ ہوا۔[4]

مستشرقی اور مسلم تشریح دونوں کا انحصار روایات کے انتخاب اور ان سے بین السطور نتائج اخذ کرنے پر ہے۔ مستشرقین کا تکیہ سیرت کی ایک ایسی روایت پر ہے جو اسی ماخذ کی بہت سی دیگر روایات سے متصادم ہے۔ دوسری طرف، علمائے اسلام سیرت کے مآخذ سے پہلو تہی نہیں کرسکتے کہ وہ خود اپنے دفاع کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر حضرت زینبؓ پر رسول اللہ ﷺ کی نظر پڑنے والا قصہ درست بھی ہو تب بھی اس سے مستشرقین کا یہ الزام کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ نبی کریم ﷺ نے زید ؓکے لیے زینبؓ کو طلاق دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں چھوڑا تھا۔ جب کہ اس کے برعکس دونوں طرف کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زید ؓکو طلاق دینے سے باز رہنے کی بارہا تاکید کی تھی۔ حضرت زینبؓ کو دیکھنے کے بعد حضور ﷺنے جو فقرہ کہا وہ بھی بہت مبہم ہے اور اس میں زینبؓ سے شادی کی خواہش کا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ سیدہ زینبؓ اور حضرت زیدؓ کی شادی کروانے کا مقصد طبقاتی تفاوت کا خاتمہ تھا، تو مجھے کلاسیکی ذرائع میں اس حوالے سے کوئی روایت نہیں مل سکی۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ سورة احزاب کی مذکورہ آیت کی دو بہت مختلف قرأتیں جزوی طور پر دونوں طرف کے علما کے اعتقادات و تعصبات سے مشروط ہیں۔ اگرچہ مجھے کسی غیر جانب داری کا دعویٰ نہیں ہے، تاہم میں یہ ضرور محسوس کرتا ہوں کہ مسلم علما کی تشریح زیادہ قوی ہے۔ یہ خیال کہ ایک ناگہاں نظر سے نبی ؐمیں زینبؓ کے لیے شوق پیدا ہوگیا مستشرقین کے ذریعے قبول کی جانے والی دیگر روایات سے کسی طرح لگّا نہیں کھاتا۔ جب یہ بات مسلمہ ہے کہ زینبؓ نبی ﷺ کی حقیقی پھوپھی کی بیٹی تھیں اور اس طرح ان کے مابین قریبی رشتہ تھا تو لامحالہ وہ بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، زینب کی کم سنی ہی سے ان کے خاندان سے رسول اللہ ﷺکا قریبی ربط و تعلق تھا۔ ظاہر ہے یہ تعلق قرآن کی پردے کی آیات سے بہت پہلے سے تھا۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ جب حضرت زینب ؓکنواری تھیں تو رسول اللہ ﷺ کو ان سے شادی کرنے میں کوئی چیز مانع نہ تھی۔ کسی خاتون کو اس کی ساری عمر قریب سے دیکھنے والے کے لیے یہ بات کسی طرح قرین قیاس نہیں ہے کہ وہ اس کے حسن کی ایک جھلک پر مر مٹے وہ بھی اس عمر میں جب کہ وہ اپنی جوانی کے بہترین دور سے گزر کر ادھیڑ عمری کو پہنچ جائے۔ یہ بات انسانی فطرت کے عین خلاف ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اس خاتون میں کوئی کشش نہیں پائی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت زینبؓ کے تمام اقربا ان کے حسن و جمال کے قائل تھے۔ میرا کہنا تو بس یہ ہے کہ یہ بات بالکل لغو ہے کہ وہ ان کے حسن و جمال سے صرف اسی دن آشنا ہوئے جس دن وہ حضرت زیدؓ کی تلاش میں ان کے مکان پر تشریف لے گئے تھے۔ مستشرقین کا پورا زور صرف اسی ایک نکتے پر ہے۔ اگر ان کی خوب صورتی سے رسول اللہ ﷺ متاثر نہیں ہوئے تو مستشرقین کے دلائل کی عمارت ویسے ہی زمیں بوس ہوجاتی ہے، اور اگر وہ ہمیشہ زینب ؓکے حسن کے قائل رہے تب بھی مستشرقین کی دلیل میں کوئی دم نہیں کیوں کہ نبی کریم ﷺ کو زینب کو اپنانے کا اس وقت بھی موقع حاصل تھا جب انھوں نے ان کا نکاح حضرت زیدؓ سے کروایا تھا۔

مسلم علما کا یہ موقف کہ نبی اکرم ؐنے طبقاتی تفاوت کو مسمار کرنے کے ارادے سے اس جوڑے کی شادی کروائی تھی بعید از قیاس نہیں ہے۔ اگرچہ کتب سیرت میں اس حوالے سے کوئی واضح روایت موجود نہیں ہے۔رسول اللہﷺ یقیناً عربوں میں موجود طبقاتی امتیاز سے بخوبی واقف تھے۔ یہ امتیاز آج بھی باقی ہے۔ اس کا اثر اتنا مضبوط تھا کہ اکثر مسلم فقہا نے دعوی ٰکیا ہے کہ قرآن و حدیث میں تمام مومنین کی مساوات پر اصرار کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت کا اپنے کفو سے کم تر سے شادی کرنا جائز نہیں ہے۔[5] مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ سیدہ زینب ؓکی نجابت اور جناب زید ؓکی نچلی سماجی حیثیت اُن کے درمیان مستقل کشیدگی کا باعث تھی۔ اس نکاح نے ،جو عربوں کی جڑوں میں پیوست کہنہ روایت کے ساتھ متعارض ہے، اس وقت کے اہل عرب کو حیران کر دیا ہوگا، اور غالباً ان میں سے بہت سے لوگوںنے ،خاص طور پر دشمنان ِرسول نے ، اس شادی کے ٹوٹنے کی پیش گوئی کردی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ اس شادی کی علامتیت سے بے خبر نہیں تھے، کہ یہ اس نئے مساوات پسند نظام کی عظیم علامات میں سے ایک تھی جس کی تبلیغ وہ کر رہے تھے۔ ممکنہ طور پر یہی وہ وجہ تھی جس کی بنا پر رسالت مآب ﷺبار بار جناب زید ؓکو تاکید فرما رہے تھے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دیں اور اس معاملے میں تقوی اختیار کریں۔ لیکن مقاصد خواہ کتنے ہی نیک ہوں، افراد اور خدا کے عطا کردہ حقوق کو استعمال کرنے کی آزادی کے بیچ کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔

اس وقت تک حضرت زیدؓ اور سیدہ زینب ؓدونوں ایک دوسرے سے زچ ہوچکے تھے۔ چناں چہ یہ ربانی تنبیہ اتری:

’’تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالاں کہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔‘‘  (سورہ احزاب: 37)

اس آیت کریمہ کی اس سے قبل کی عبارت کے ساتھ، جس کا ہم نے اوپر جائزہ لیا ہے، کئی خصوصیات مشترک ہیں۔ دونوں کا تعلق رسول اللہ ﷺکی خانگی زندگی کے روزمرہ کے واقعات کے حوالے سے متعدد اصولوں کو وضع کرنے سے ہے۔ دونوں نبی کی بشریت پر دلالت کرتی ہیں، اور دونوں میں نبی کو متنبہ کیا گیا ہے۔ ثانی الذکر آیت کے بارے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’اگر رسول اللہ ﷺ کلام الہی میں سے کسی آیت کو چھپانے کا اختیار و میلان رکھتے تو یقیناً وہ یہ آیت ہوتی۔‘‘[6]

آخر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ آیت سورة التحریم کی ابتدائی سات آیات کی طرح اس اہم واقعے کے صدور کے بعد نازل ہوئی تھی جس کا اس میں ذکر ہے (یعنی حضرت زیدؓ حضرت زینبؓ کو طلاق دے چکے تھے)۔ چناں چہ یہ کہنا درست نہیں کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی مدد کے لیے بہ عجلت اتاری گئی۔

حوالہ جات و حواشی

[1] نبی کریمﷺ کے نکاح میں آنے کے وقت ایک ام المومنین (حضرت عائشہ صدیقہؓ) باکرہ تھیں، ایک ام المومنین (حضرت زینبؓ بنت جحش) مطلقہ اور دیگر تمام امہات المومنینؓ بیوائیں تھیں۔ مفسرین قرآن نے اس آیت کی تنبیہی نوعیت کی سمت اشارہ کیا  ہے اور یہ حقیقت آشکارا کی ہے کہ درحقیقت رسول اللہﷺنے اپنی کسی بھی زوجہ کو طلاق نہیں دی تھی، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تمام امہات المومنینؓ اس آیت کریمہ میں بیان کردہ خوبیوں سے متصف تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض بشری کم زوریاں اُن میں موجود تھیں۔ (بحوالہ: محمد اسد، The Message of the Quran، دارالاندلس، جبرالٹر، 1980، ص 875، حاشیہ 1)

[2] محمد اسد، The Message of the Quran، دار الاندلس، جبرالٹر، 1980، ص 875، حاشیہ 1

[3]  ایضاً

[4]  ایضاً

[5] محمد علی، The Religion of Islam، لاہور، 1990، ص 470-471۔

[6] بخاری و مسلم

اگست 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau