مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی شخصیت

ایک تحریک ایک دعوت

سید محی الدین علوی

مولانا مودودی ؒ جیسی عبقری شخصیت صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے ۔ مولانا مودودیؒ کوبجا طور پر عالم اسلام کے عظیم مفکر اور تحریک اسلامی کے معروف قائد کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ مولانا مودودیؒ کو قادیانی مسئلہ نامی کتاب لکھنے کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی ۔جب انہیں پھانسی کی کوٹھری میں لایا گیا اوران کے فرزند کوجماعت کے ذمہ داروں کے ہمراہ ملاقات کا موقع دیا گیا تومولانا ؒنے اپنے فرزند سے کہا : ’’ بیٹا ذرا نہ گھبرانا ۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہوتے ہیں ۔ اگر میرے پروردگار کا فیصلہ مجھے اپنے پاس بلالینے کا ہے توبندہ جانے کے لیے تیار ہے ۔ (مولانا مودویؒ شہادت کی موت کواپنے لیے سب سے بڑی خوش نصیبی سمجھتے تھے) لیکن اگرابھی میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے توچاہے یہ لوگ اُلٹے لٹک جائیں میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔ مولانا مودودیؒ نے پھانسی کی سزا میں معافی کے لیے حکومت سے اپیل بھی نہیں کی اور اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ عالم اسلام کے شدید احتجاج پر پھانسی کی سزا قید کی سزا میں تبدیل کردی گئی۔ پھانسی کی سزا ٹال دی گئی تو ملت اسلامیہ میں مسرت و انبساط کی لہردوڑ گئی ۔ خود مولاناؒ کے گھر والے بہت خوش ہوگئے اور جیسے ہی بیگم صاحبہ (اہلیہ مولانا مو د و د ی  ؒ) کو   جماعت کے ذمہ داروں نے یہ خوشخبری سنائی وہ کھڑے قد سے جہاں کھڑی تھیں وہیں بارِگاہ عالی میں سجدہ ریزہ ہوگئیں۔

مولانا مودودیؒ کی پروفیسر خورشید احمد (موجودہ ایڈیٹر ترجمان القرآن ) کے والد سے بہت دوستی تھی ۔ ان کا نام نذیر احمد قریشی تھا۔ جماعت اسلامی کی تاسیس سے قبل علامہ اقبالؒ کی دعوت پر مولانا مودودیؒ اپنا وطن مالوف حیدرآباد چھوڑ کر پنجاب تشریف لے گئے تھے ۔ پنجاب میں علامہ اقبالؒ اورچودھری نیاز علی خاںؒ کی دعوت اورایما پر مولانا ؒ نے جو ادارہ دارالسلام قائم کیا تھا اس کے پانچ بنیادی ارکان میں پروفیسر خورشید احمد کے والد بھی شامل تھے ۔ مولانا محترم ؒ کی لائبریری میں ان کے والد کی درجنوںکتابیں تھیں۔ ایک خط میں ان کے والد صاحب نے مولانا مودودیؒ کولکھا تھا کہ میری خواہش ہے کہ زندگی کا آخری حصہ آپ کے ساتھ گزاروں ، تو مولانا ؒ نے جواب میں لکھا تھا : ’’میرے لیے یہ خبر نہایت مسرت کی موجب ہے کہ آپ اپنی زندگی کاآخری حصہ میرے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں ، مگر اس میں دیر کیوں ہے؟ کیا آپ کو اپنی تاریخ وفات معلوم ہوچکی ہے ، جس کے لحاظ سے آپ نے تعین کرلیا ہے کہ آخری حصہ عمر کون سا ہے ۔ (خطو ط مودودیؒ دوم ص ۳۴۔۳۵)

پروفیسرخورشید احمد کے والد صاحب نے مولانا مودودیؒ سے کہا تھا : ’’اگرچہ میں جماعت میں نہ آسکا لیکن اپنا بیٹا جماعت کو دے دیا ہے ۔‘‘ پروفیسر خورشید احمد رقمطراز ہیں: ’’ جہاں تک یاد پڑتا ہے میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو ۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء میں پہلی مرتبہ دیکھا ۔ تب میری عمر ۶،۷ برس تھی ۔ ان دنوں مولانا دلی آئے تووالد صاحب سے ملنے ہمارے یہاں تشریف لائے۔  دلّی کے گھرانوں میں مردان خانہ اور زنان خانہ الگ الگ ہوتا تھا ۔ وہ مردانہ حصے میں مولانا مودودیؒ سے بات چیت کررہے تھے ۔ اس دوران  والد صاحب نے مولانا ؒ سے ملانے کے لیے مجھے بلایا ۔ میں نے آتےہی مولاناؒ کو سلام کیا ۔ اس زمانے میں نظم بڑے شوق سے پڑھا کرتا تھا ۔ والد صاحب نے کہا : ’’ مولانا کو نظم سناؤ ۔‘‘ اچھی طرح یاد ہے میں نے یہ قومی نظم سنائی ۔

زندہ ہیں اگر زندہ ہیں تودنیا کوہلادیں گے

مشرق کا سر اُٹھاکر مغرب سے ملادیں گے

دھارے میں زمانے کے بجلی کا خزانہ ہے

بہتے ہوئے پانی میں ہم آگ لگادیں گے

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبادیں گے

(سید مودودیؒ ۔ دورِ جدید کے امام ص ۹)

بڑے زور اورجذبے اوراس سے بھی زور دار اشاروں کے ساتھ یہ نظم میں نے سنائی اور مولانا نے بس ایک پُر وقار مسکراہٹ سے میری حوصلہ افزائی کی ۔(سید مودودیؒ ۔ دورِ جدید کے امام ص ۹۔۱۰)

پروفیسر خورشید احمد مولانا مودودیؒ کے ہوئے اورمجلس شوریٰ کے بھی رکن بنے۔ جب یہ مجمع میں رہتےتو مولاناؒ انہیں خورشید صاحب کہتے اورتنہا جب یہ ملتے تومولانا انہیں خورشید میاں کے نام سے پکارتے۔ لیکن ایک بار یہی خورشید میاں جوبڑے ہوکر پروفیسر خورشید احمد کہلائے ایک جلسہ میں دیر سے پہنچے تومولانا مودودیؒ سخت ناراض ہوئے ۔ پروفیسر صاحب نے کہا : ’’ مولانا راستےمیں ٹریفک جام ہوگئی تھی اس لیے تاخیر ہوگئی ۔ مولانا نے کہا :’’ ان باتوں کا آپ کو پہلے سے اندازہ ہونا چاہیے تھا اورٹریفک کے جام ہونے کا اندازہ کرتے ہوئے آپ کو اوّلین وقت میں نکلنا چاہیے تھا۔

مولانامودودیؒ وقت کے بہت پابند تھے ۔ ان کی تقریر ٹھیک وقت پر شروع ہوتی اور ٹھیک وقت پر ختم ہوتی۔ ان کی تقریر کے وقت کے لحاظ سے لوگ اپنی گھڑیوں کو ملا لیتے ہیں ۔ آج کل یہ دونوں باتیں عنقا ہیں۔ جلسہ میں دیر سے آنا قدر کی شان سمجھی جاتی ہے اور دیر تک تقریر کرنا مقرر اپنا حق سمجھتا ہے ۔ اگر ٹوک دیا جائے توخفا ہوجاتا ہے ۔ بالعموم ایسا ہوتا دیکھا گیا ہے ۔

جماعت اسلامی کے بیت المال سے ایک پیسہ بھی انہوں نے اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا بلکہ اپنی لکھی ہوئی کتابوں پررایلٹی قبول کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ شاہ فیصل ایوارڈ ملا تو اس کی پوری رقم انہوں نے اسلامی اکیڈمی پر لگادی ۔ وہ کسی الیکشن میں کھڑے نہیں ہوئے ۔ پاکستان اوربیرونِ پاکستان اچھی سے اچھی سہولیات اوربہتر سے بہتر ذرائع آمدنی کے باوجود انہوں نے ایسی کسی بھی پیشکش توقبول نہیں کیا اوراپنے مقصدِ حیات کواولیت دی ۔

یہ اکتوبر۱۹۶۳ء کی بات ہے جب جماعت اسلامی کا سالانہ اجتماع لاہور میں منعقد ہونے والا تھا ۔ اس اجتماع کوناکام کرنے کے لیے صدر پاکستان ایوب خان ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے ۔ حکومت نے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ جماعت کے انتظامیہ نے مکبرین کا انتظام کرلیا ۔ حکومت کے اشارے پر غنڈوں کوبھیجا گیا ۔ جنہوں نے اجتماع گا ہ کے قناتوں کی رسیوں کوکاٹ ڈالا اوربہت اودھم مچایا ۔ مولانا مودودیؒ کھڑے ہوکر اس اجتماع میں تقریر کررہے تھے ۔ مولانا مودودیؒ نے جواسٹیج پر موجود تھے مولاناؒ سے درخواست کی کہ وہ بیٹھ جائیں تومولانا نے تاریخی الفاظ کہے :’’ چودھری صاحب! اگر میں بیٹھ گیا تو پھر کون کھڑا ہوگا ۔‘‘جماعت کا ایک نوجوان اللہ بخش جوسیکورٹی پر متعین تھا، گولی لگ کر شہید ہوگیا ۔ جماعت کے ذمہ داران اوراللہ بخش شہیدؒ کے گھروالوں نے اس جانکا ہ حادثہ پر صبر کا دامن تھام لیا ۔ ایسے تھے وہ جیالے لوگ اور ایسے تھے مولانا مودودیؒ جماعت اسلامی کے درخشاں ستارے۔

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے ، زمانے سے ہم نہیں

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau