سیاسی اصلاح ممکن بھی ہے اور مطلوب بھی

(خلافت و ملوکیت سے متعلق ایک حدیث کا از سر نو مطالعہ)

احمد الریسونی | ترجمہ : ذو القرنین حیدر

(ایک سوال امت کے مصلحین کو پریشان رکھتا ہے، وہ یہ کہ کیا اس امت کی تقدیر میں ظالم اور فاسق حکام لکھ دیے گئے ہیں؟ کیا قرب قیامت سے پہلے اس امت کی سیاسی اصلاح ممکن نہیں ہے؟ کیا جبر واستبداد سے باہر نکلنے کی تمام کوششوں کا ناکام ہوجانا تقدیر الہی کا حصہ ہے؟ زیر نظر مضمون میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ استاذ احمد ریسونی عالم اسلام کے ممتاز علما میں شمار ہوتے ہیں، علمائے اسلام کی عالمی تنظیم الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے صدر ہیں۔ اصول فقہ اور مقاصد شریعت کے میدان میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ادارہ)

اس مقالے میں خلافت وملوکیت سے متعلق حدیث نبوی ﷺ کی روایتی تشریح کا جائزہ لیتے ہوئے از سر نو غور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور یہ وہ مشہور حدیث ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے محدثین نے اپنی کتابوں میں روایت کی ہے۔

اور یہ حدیث دراصل مسلمانوں کے اپنے حکام کے ساتھ پیش آنے والے سیاسی ادوار اور اسٹیجوں کی نشان دہی کرتی ہے جس کی ابتدا عہد نبوت سے ہوتی ہے، جس کے بعد نبوی منہج پر خلافت راشدہ قائم ہوتی ہے اور پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت اور اس کے بعد جابر و مستبد حکومت کا قیام ہوتا ہے اور پھر خلافت علی منھاج النبوہ کو دوبارہ قائم ہونا ہے۔

قبل اس کے کہ ہم اس حدیث کے مضامین پر اور اس میں مذکور حکومت کے مراحل اور حالات پر گفتگو کریں اور اس کی تشریح سے متعلق تصوارت اور آرا پر نظر ڈالیں مکمل حدیث کو یہاں ذکر کرتے ہیں مسند احمد کے الفاظ کے مطابق:

قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: تكون النبوة فیكم ما شاء الله أن تكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، فتكون ما شاء الله أن تكون ثم یرفعها إذا شاء الله أن یرفعها. ثم تكون مُلكا عاضا، فیكون ما شاء الله أن یكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون ملكا جبریة، فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، ثم سكت.

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے درمیان اس وقت تک نبوت باقی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا اور پھر جب اللہ کی منشا ہوگی وہ نبوت کو اٹھالے گا۔ پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہوگی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے۔ پھر اللہ جب چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی جب تک اللہ چاہے پھر جب اللہ چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر جبر واستبداد کی بادشاہت ہوگی جب تک اللہ چاہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہوگی۔ پھر آپ خاموش ہوگئے۔

حبیب کہتے ہیں: جب عمر بن عبد العزیز کھڑے ہوئے یعنی خلیفہ بن گئے، اور یزید بن نعمان بن بشیر ان سے بہت قریب رہتے تھے تو میں نے ان کو یہ حدیث لکھ کر بھیجی اور ان کو یاد دلایا اور ان سے کہا: مجھے امید ہے کہ امیر المؤمنین یعنی عمر بن عبد العزیز ظالم اور جابر حکومتوں کے بعد ہیں۔ انھوں نے میرا خط عمر بن عبد العزیز کے سامنے پیش کیا چناں چہ وہ بہت خوش ہوئے اور پسند کیا۔

البتہ زمانہ قدیم سے آج تک غالب عقیدہ یہ رہا ہے کہ اس حدیث نے پوری اسلامی تاریخ پر فیصلہ چسپاں کردیا ہے کہ نبوت اور خلافت راشدہ کے زمانے کے استثناء کے ساتھ پوری اسلامی تاریخ ظالم و جابر حکومت کے تحت ہوگی تا آں کہ آخری زمانے میں نبوی منہج پر خلافت راشدہ کی واپسی ہو-

شیخ ملا علی قاری کہتے ہیں: اس سے مراد عیسی علیہ السلام اور مھدی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ ہے۔

عبد الحق بخاری دہلوی کہتے ہیں: ظاہر بات یہ ہے کہ آپﷺ کے قول (پھر نبوی منہج پر خلافت قائم ہوگی) سے مراد عیسی اور مہدی کا زمانہ ہے۔

معاصرین میں سعید حویؒ کہتے ہیں: حدیث میں آخری زمانے میں خلافت کے قیام کی طرف اشارہ ہے جو کہ جبر و استبداد پر مبنی حکومت کے بعد قائم ہوگی جیسا کہ نصوص میں واضح طور سے موجود ہے۔ امام احمد کی حضرت حذیفۃ سے مروی روایت ملاحظہ ہو۔

حدیث کے اس فہم پر کچھ نکات

پہلا نکتہ: یہ ایک ایسا فہم ہے جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ صرف ایک گمان اور اندازہ ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کو دوسری احادیث اور روایات سے جوڑ کر سمجھتے ہیں۔ ان احادیث میں کچھ تو صحیح ہیں اور کچھ غیر صحیح ہیں۔ جو روایات صحیح بھی ہیں ان میں ہمارے موضوع سے متعلق کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ درحقیقت یہ حدیث اپنی مختلف روایتوں کے ساتھ اپنے موضوع پر ایک مستقل حدیث ہے اور وہ حکومتوں کے مختلف ادوار اور اس کی اصناف کو بیان کرتی ہے۔ حدیث کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں: پھر نبوی منہج پر خلافت قائم ہوگی، پھر آپ نے خاموشی اختیار کرلی۔ یعنی آپ ﷺ نے خلافت علی منہاج النبوۃ کا ذکر کرکے خاموشی اختیار کرلی اور اس کے بعد یہ نہیں کہا: پھر قیامت کی گھڑی آپہنچے گی، یا پھر عیسی بن مریم کا نزول ہوگا یا اس طرح کی کوئی بھی چیز جو قیامت کی نشانی سے تعلق رکھتی ہو۔

دوسرا نکتہ: اس فہم نے مسلمانوں کے اندر راست رو حکومت اور راست رو حاکموں کے تعلق سے بہت گہری مایوسی اور بے عملی پیدا کردی ہے، یعنی یہ صرف آخری زمانے ہی میں ممکن ہے۔ یہاں تک کہ اہل علم اور اصلاح کے علم بردار تک نے سیاسی اصلاح سے متعلق اپنی مانگ، عزم اور امیدوں کی چھت پست کردی ہے اور اس تصور سے دور جاکھڑے ہوئے جو شرع حنیف نے عطا کیا اور جس کا عملی نمونہ سنت نبوی اور خلافت راشدہ کی سنت نے پیش کیا، اس بنا پر ہ اس نمونے کا پہلا دور تو گزر گیا اور دوسرے دور کا وقت ہنوز آیا نہیں۔ چناں چہ اس طرح کے مقولات عام ہونے لگے کہ ’’جیسے تم رہوگے ویسے ہی تمھاررے اوپر حاکم مسلط کیے جائیں گے‘‘، اور یہ کہ حکام اور امرا کا بگاڑ ابن تیمیہ کے بقول صرف ’’ان کی اپنی کمی کے باعث نہیں ہوتا بلکہ عوام اور حاکم دونوں کی کمی کے باعث ہوتا ہے۔‘‘

تیسرا نکتہ: حدیث کے الفاظ کے ساتھ اس کی ایک ایسی برزمانہ تفسیر بھی موجود ہے جو اقرب الی الصواب اور زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض تابعین علما نے اس حدیث سے یہ سمجھا کہ عہد اموی میں ہی کاٹ کھانے والی بادشاہت اور جابر بادشاہت وجود میں آگئی تھی اور پھر منہج نبوی پر خلافت کی واپسی بھی ہوگئی تھی۔ تاکہ اس کے بعد تاریخ کا دوسرا دورانیہ شروع ہو۔ اور یہ وہ فہم ہے جس پر عمر بن عبد العزیز نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ پسند کیا اور خوش ہوئے۔

علما کا اس بات پر اجماع یا نیم اجماع ہے کہ عمر بن عبد العزیز خلیفہ راشد تھے اور یہ کہ ان کو خلفائے راشدین میں پانچویں خلیفہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ابن رجب کہتے ہیں: ائمہ کی ایک بڑی تعداد نے صراحت کی ہے کہ عمر عبد العزیز بھی خلیفہ راشد تھے۔محمد بن سیرین سے کبھی بعض شرابوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو آپ کہتے: راستی والے امام عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے اس سے منع فرمایا ہے۔

ان تمام علما کی عمر بن عبد العزیز کے حق میں یہ گواہی کہ وہ نبوی منہج پر قائم خلیفہ راشد تھے دراصل اس بات کی ضمنی گواہی ہے کہ حذیفۃ والی حدیث میں مذکور مراحل کا سلسلہ سنہ ۹۹ ھجری میں ان کے خلافت کی ذمہ داری لینے کے ساتھ ہی مکمل ہوگیا تھا۔ اس نے نہ آخری زمانے کا انتظار کیا اور نہ ہی مہدی منتظر کا۔ بلکہ اتنا بھی انتظار نہیں کیا کہ دوسری صدی ھجری کا آغاز ہوجائے۔

خلفائے راشدین:  کیا یہ متعین اشخاص ہیں، یا خاص زمانوں والے ہیں یا خاص اوصاف والے ہیں؟

عن العرباض بن ساریة رضی الله عنه قال: صلى لنا رسول الله صلى الله علیه وسلم الفجر، ثم أقبل علینا فوعظنا موعظة بلیغة ذرفت لها الأعین ووجلت منها القلوب. قلنا–أو قالوا–یا رسول الله كأنَّ هذه موعظةُ مودِّع فأوصنا. قال: (أوصیكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن كان عبدا حبشیا؛ فإنه من یعش منكم یرى بعدی اختلافا كثیرا، فعلیكم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المهدیین، وعضوا علیها بالنواجذ. وإیاكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة، وإن كل بدعة ضلالة).

عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں بہت پراثر نصیحتیں فرمائیں جن سے ہماری آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل لرز گئے۔ ہم نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ الوداعی نصحیت ہے آپ ہم کو وصیت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے اور امیر کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں چاہے وہ امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ بلاشبہہ تم میں سے جو بھی زندہ رہا وہ میرے بعد بہت سے اختلافات کو دیکھے گا۔ چناں چہ تم پر واجب ہے کہ میری اور راست باز خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرو اور اس کو سختی سے گرہ میں باندھ لو۔ ہرگز بدعات میں نہ پڑنا۔ یاد رکھو ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گم راہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خلفا صرف اپنی صفات اور اپنے اعمال ہی سے راشدین (راست باز) مانے جاتے ہیں، نہ تو مخصوص اشخاص ہونے کی بنا پر اور نہ ہی مخصوص زمانے میں ہونے کی وجہ سے۔ اور ان صفات میں سب سے اہم اور بنیادی صفت راشد ہونا ہے۔ یعنی رشد پر قائم رہنا ہے اور پھر ہدایت یافتہ ہونا ہے۔

ابن رجب کہتے ہیں: خلفا کے لیے راشدین کی صفت صرف اس لیے آتی ہے کہ وہ حق کو پہچانتے ہیں اور حق کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ دراصل راشد غاوی کی ضد ہے اور غاوی وہ ہے جس نے حق کو پہچان لیا مگر اس کے برخلاف عمل کرتا رہا۔

اور ایک روایت میں مہدیین کی صفت ہے یعنی: اللہ ان کو حق کی رہ نمائی کرتا ہے اور ان کو راہ راست سے گم راہ نہیں کرتا۔

چناں چہ تین قسم کے لوگ ہوئے: راشد، غاوی اور ضال

راشد وہ ہے جس نے حق کو پہچانا اور اس کی پیروی کی

غاوی وہ ہے جس نے حق کو پہچانا لیکن اس کی پیروی نہیں کی

ضال وہ ہے جس کو سرے سے حق کی معرفت ہی نہیں ہوئی

چناں چہ ہر راشد ہدایت یاب ہے اور ہر ہدایت یاب جس کے پاس مکمل ہدایت ہو وہ راشد ہے۔ کیوں کہ ہدایت صرف اور صرف حق کی معرفت اور اس پر عمل کرنے سے مکمل ہوتی ہے

رشد و ہدایت اور راست روی کی صفات ہمیشہ ایک درجے کی نہیں ہوتیں، کہ ان صفات سے آراستہ تمام لوگ برابر کے شریک ہوتے ہوں۔ بلکہ یہ عمومی اور مستحکم رنگ ہوتا ہے۔ پھر تفصیلات اور مقدار میں اس سے آراستہ لوگوں میں فرق بھی پایا جاتا ہے۔ چناں چہ خلفائے اربعہ رشد و ہدایت کی صفات میں باہم ایک دوسرے سے مختلف درجے میں تھے۔ اسی طرح صحابہ کا معاملہ ہے، عموما تو صحبت کے شرف اور فضیلت میں سب کے سب شریک تھے، لیکن پھر اسی معاملے میں ان کے طبقات، مراتب اور درجے ہیں۔ امام مالک اور امام احمد سے منقول ہے کہ جس نے بھی رسول ﷺ کی صحبت پائی سال بھر یا ماہ بھر یا دن بھر یا بس ایمان کی حالت میں دیکھا وہ صحابہ میں سے ہے، البتہ اس کی صحابیت اسی کے بقدر ہے۔

معلوم ہوا کہ صحابہ میں سے کچھ صرف ایک نظر والے صحابہ ہیں، کچھ کی صحابیت ایک یا چند ایام والی ہے اور کچھ کی کم و بیش برسوں کی رفاقت ہے اور وہ سب کے سب صحابہ ہیں۔

یہاں تک کہ برگزیدہ رسولوں کے تعلق سے بھی اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ} [البقرة: 253] یہ رسول ہیں ان میں سے بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی ہے (البقرۃ: ۲۵۳)۔ ایک دوسری جگہ فرمایا: {وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیینَ عَلَى بَعْضٍ} [الإسراء: 55] اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (الاسراء: ۵۵)۔

اور جب چاروں خلفائےراشدین انبیا کے بعد سب سے اعلی اور افضل تھے تو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ عمر بن عبد العزیز کا مرتبہ ان چاروں کے مرتبے سے کمتر ہی ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ خلفائے راشدین میں شمار کیے جانے کے مستحق ہوئے۔

لہذا، اگر ہم کسی بھی مسلم حکمراں کو دیکھیں کہ وہ سیاست اور حکم رانی میں نبوی منہج پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور خلفائے راشدین کے راستے پر گامزن ہے اور اپنے عمومی رنگ و سیرت میں رشد و ہدایت اور راست روی کی صفات سے آراستہ ہے تو اس کے القاب سے قطع نظر اس کو خلیفہ راشد میں لازماً شمار کرنا چاہیے، اگرچہ وہ نبوی منہج کو عملی پیکر دینے اور خلفائے راشدین کے مرتبے تک پہنچنے میں کمتر درجہ ہی پر کیوں نہ ہو۔ بلکہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے مرتبے سے کم تر ہو تو بھی۔ اس سلسلے میں اصول یہ ہے کہ جو جس سے چیز سے قریب ہوتا ہے اسے اس کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ (ما قارب الشیءَ یعطَى حكمَه)

اگر ہم اس رائے کو قبول کرلیں اور اپنی طویل تاریخ کے طول وعرض کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ ہمارے خلفائے راشدین صرف چار یا پانچ میں محصور نہیں ہیں بلکہ ان کی تعداد چالیس اور پچاس کے قریب ہے۔ اور ہم دیکھیں گے کہ ہماری پوری تاریخ محض کاٹ کھانے والی بادشاہتوں اور جبر واستبداد والی حکومتوں کی تاریخ نہیں ہے بلکہ ہم دیکھیں گے کہ وہ اسی طرز (pattern) پر تبدیل ہوتی رہتی ہے جس کی طرف حدیث میں وضاحت آئی ہے۔ کبھی رشد وراستی والی تو کبھی کاٹ کھانے والی تو کبھی جبر و استبداد والی۔

میری گفتگو کا اصل مقصد یہ بات واضح کرنا ہے کہ راشد حکومت اور راشد حکم رانوں کا دروازہ مسلمانوں کے لیے بند نہیں ہوا ہے کہ وہ بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے آخری زمانے کا انتظار کریں بلکہ ان کے لیے ممکن بھی ہے اور ان پر واجب بھی ہے کہ ہمیشہ راست باز لوگوں کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے آگے لائیں اور فاسدوں کو دور کرنے اور اہل استبداد کو کنارہ لگانے کے لیے کمربستہ رہیں۔

اور یہ سب ممکن بھی ہے اور قابل عمل بھی ہے، ہر زمانے اور ہر علاقے میں، اپنے خاص اسباب اور خاص سنتوں کے تحت۔

جون 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau