تعدد ازدواج — چند اہم پہلو

مولانا سید جلال الدین عمری

اس وقت ملکی بلکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے عائلی  قوانین یاپرسنل لا پرجو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اسلام نے مرد کوچار شادیوں کی اجازت دی ہے۔ یہ عورت پر سراسر ظلم ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔مسلمانوں اور انگریزوں کے دور حکومت میںمسلم پرسنل لا سے متعلق فیصلے اسلامی قوانین کے تحت کیے جاتے تھے ۔ عدالتیں کبھی اس کے خلاف نہیں جاتی تھیں۔ اگر کوئی فیصلہ اس کے خلاف آتا توعدالتوں کو اس کی طرف متوجہ کیاجاتا۔ عدالتیں احکام شریعت کا احترام کرتیں۔ لیکن اب جو نئی صورت حال پیدا ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ عدالتیں مسلم پرسنل لا کے خلاف فیصلے کررہی ہیں اور بار بار حکومت کو متوجہ کررہی ہیں کہ مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ ان میں چار شادیوں کا مسئلہ بھی ہے۔

بعض اصحاب جو موجودہ فضا سے متاثر ہیں ،کہتے ہیں کہ چار شادیوں کا ثبوت قرآن میں نہیں ہے، بلکہ یہ بعد کے مولویوں اورمذہب کے ٹھیکیداروں کی ایجاد ہے۔ اسی طبقہ میں وہ لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ چار شادیوں کا ذکر قرآن میں موجود تو ہے لیکن یہ ایک خاص ماحول میں تھا، اب وہ حالات نہیں رہے اس لیے اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دنیا کی دیگر قوموں کی طرح عرب میں بھی تعدد ازواج کا رواج تھا۔ ایک سے زیادہ شادیوں کو معیوب نہیں سمجھاجاتاتھا۔ جنگ احد میں ستر مسلمان شہید ہوگئے تو مدینہ کی چھوٹی سی آبادی کے لیے یہ ایک بڑا واقعہ تھا ۔ میدان جنگ میں عورتیں،بچے اور بوڑھے شریک نہیں ہوتے۔ مرنے والے عموماََ جوان ہی ہوتے ہیں۔ جنگ کے بعد جو عورتیں بیوہ اور جو بچے یتیم ہوگئے ان کا مسئلہ بڑا اہم تھا۔ اس پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی۔

قرآن مجید میں چار شادیوں کا ذکر حسب ذیل آیت میں ہے۔

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِیْ الْیَتَامَی فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاء  مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃً (النساء:۳) ’’اگر تمہیں ڈر ہے کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جودوسری عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرلو۔دودوتین تین اور چار چار تک۔ لیکن اگر تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ ان کے ساتھ انصاف نہ کروگے تو ایک ہی سے نکاح کرو۔۔۔۔‘‘

صحیح روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یتیم لڑکی قبول صورت نہ ہوتی لیکن دولت والی ہوتی تو اس کا سرپرست دولت کی وجہ سے اس سے نکاح کرلیتا اور ٹھیک سے مہر بھی ادا نہ کرتا۔آیت میں کہاگیا کہ یہ صحیح نہیں ہے لڑکی کے شکل و صورت کے لحاظ سے ناپسند ہونے کے باوجود محض دولت کی وجہ سے اس سے نکاح کرلیاجائے۔ اس صورت میں اس کے ساتھ انصاف نہ ہوسکے گا۔تمہیں نکاح کرنا ہے تو دوسری عورتیں جن سے تمہارا نکاح جائز ہے ان سے نکاح کرسکتے ہو۔

اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ بیان کیاگیاہے کہ اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو اس کاحل یہ ہے کہ تم ان کی بیوہ مائوں سے جن سے نکاح جائز ہے نکاح کرلو۔ اس طرح ان بیوائوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور وہ ازدواجی زندگی گزار سکیں گی اور یتیموں کو ماں کی شفقت حاصل ہوگی اور ان کی بہتر نگہداشت اور تربیت ہوسکے گی۔

اس میں شک نہیں کہ یہ آیت ایک خاص موقع پر نازل ہوئی تھی لیکن یہ بات بالکل غلط ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ایک وقت خاص میں مخصوص حالات کے پیش نظر دی گئی تھی۔ اب وہ حالات بدل گئے اس لیے یہ اجازت باقی نہیں رہی۔ آیت میں اس کا صراحتاََ یا اشارتاََ کوئی ذکر نہیں ہے ۔ پھر یہ کہ پوری اسلامی تاریخ اس کی تردید کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس پر عمل ہوا، صحابہ اور تابعین کے دور میں عمل ہوا، تبع تابعین کے دور میں عمل ہوا،ہر دورکے مسلمان اس پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں۔ کسی بھی دور میں اسے ایک وقتی تدبیر نہیں سمجھا گیا۔کسی ایسے شخص کا جس کی قرآن و حدیث پر نظر ہو، جس کا کوئی دینی اور علمی اعتبار ہو اور جسے علماء و فقہاء امت میں شمار کیاجاتاہو اس کے خلاف آواز نہ اٹھانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان سب کے نزدیک قرآن کی یہ آیت، وقتی ہدایت نہیں بلکہ اس میں دی گئی اجازت مستقل ہے۔

اس آیت میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فقہاء امت نے جو تفصیلات پیش کی ہیں ان میں سے بعض کا یہاں ذکر کیاجارہاہے۔

۱۔ قرآن نے ایک سے زیادہ شادی کی بعض شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے۔ اس کاحکم دیاہے اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

۲۔ اہل عرب جتنی بیویاں چاہے رکھتے تھے ۔ اس آیت نے چار کی حد مقرر کردی۔ اس سے زیادہ بیویاں آدمی نہیں رکھ سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک صاحب اسلام لائے تو ان کی دس بیویاں تھیں۔آپؐ نے فرمایا :’’قرآن نے چار کی اجازت دی ہے تم چار کو رکھو اور باقی کو چھوڑ دو‘‘۔ ایک صاحب اسلام لائے تو ان کی پانچ بیویاں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ان میں سے چار کو اپنی زوجیت میں رکھو اور ایک کو الگ کردو۔‘‘

۳۔قرآن نے بیویوں کے درمیان عدل کو لازم قرار دیاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نان و نفقہ، دیگر اخراجات اور  شب باشی وغیرہ میں ان کے درمیان مساوات برتے گا۔اس میں کوتاہی یا غفلت کی اسے اجازت نہ ہوگی۔اس کی خلاف ورزی پر عورت چاہے تواسلامی عدالت یا دارالقضاء کی طرف رجوع کرسکتی ہے۔

۴۔آدمی کو جسمانی لحاظ سے اس پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ وہ بیوی سے جنسی تعلق رکھ سکے اور تسکین پہنچا سکے۔ یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان سب کا یہ شرعی حق ہے ۔ اگر آدمی اس موقف میں نہ ہوتو عورت اس سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہے۔

۵۔مرد کے ذمہ بیوی کا نان و نفقہ ہے اس میں کھانا کپڑا اور رہائش شامل ہے۔ اسلامی تعلیمات کاتقاضاہے کہ بیوی کی صحت کی نگہداشت ہو اور اس کے دوا اور علاج کا اہتمام کیاجائے۔عورت صاحب حیثیت خاندان سے تعلق رکھتی ہوتوفقہاء نے لکھا ہے کہ  اس کے لیے ملازم کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔

۶۔اگر ایک بیوی دوسری بیوی کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو شوہر کی ذمہ داری ہے کہ اس کے لیے الگ گھر فراہم کیاجائے۔

۷۔جس طرح تمام بیویوں کے حقوق یکساں ہیں اسی طرح ان کی اولادکے حقوق بھی برابر ہیں۔ حق سے مراد صرف ان کی معاشی ذمہ داری ہی نہیں ، ان کی تعلیم و تربیت بھی ہے۔اسلام چاہتاہے کہ انسان کی اولاد اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اور آخرت میں سرخ رو اور کامیاب ہو۔

اس میں شک نہیں مرد کو چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے لیکن ان پابندیوں کی وجہ سے آدمی کم ہی اس کی ہمت کر سکتا ہے۔

بعض لوگوں نے چارشادیوں کے مسئلہ کو ایک سیاسی مسئلہ بنادیا ہے اور ملک میں اس کے خلاف فضا بنارہے ہیں۔ان کے نزدیک چار شادیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب کہ ان کی آبادی ہندؤںکی آبادی سے زیادہ ہوجائے گی،اس لیے وہ ہندوبھائیوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ بچے پیداکریں۔وہ ایک سے زیادہ شادی کی مخالفت اس لیے نہیں کررہے ہیں کہ انہیں عورت سے ہم دردی ہے یا اسے وہ عورت پر ظلم سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ اس کی مخالفت اس لیے کررہے ہیں کہ اس سے مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ حالاں کہ یہ خلاف واقعہ بات ہے۔ اس پر ایک خاص پہلو سے غور کیا جاسکتاہے۔

دنیا میں عورتوں اور مردوں کا ایک خاص تناسب ہے۔ یعنی جتنے مرد ہوں گے اتنی ہی عورتیں ہوں گی۔اتفاق ہی سے کبھی ایسی صورت پیدا ہوسکتی ہے جس میں عورتوں یا مردوں کی تعداد ایک دوسرے سے زیادہ ہو۔جیسا کہ موجودہ دور میں اس بات کی خاص طور سے کوشش کی جارہی ہے کہ لڑکیاں پیدا نہ ہوں اور رحم مادر ہی میں انہیں ختم کردیاجائے۔ عام طور سے دونوں کی تعداد تقریباََ برابر رہتی ہے۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ جہاں ایک ہزار مردوں کے لیے ایک ہزار ہی عورتیں ہوں وہاںچار شادیوں کا رواج کیسے عام ہوسکتاہے؟آپ کسی بھی مسلم آبادی کا جائزہ لے کر دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں کتنے افراد ہیں جن کی ایک سے زیادہ بیویاں ہیں۔ہمارے ملک میں عورتوں کا تناسب مردوں سے کافی کم ہے ۔ اتراکھنڈ میں ایک ہزار مردوں کے مقابلہ میں آٹھ سو عورتیں ہیں۔اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج عام ہو۔

اس کے باوجود ہمارے ملک میںمختلف وجوہ سے ایک سے زیادہ شادیاں ہوتی ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بعض دوسری قوموں میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بیوی ہی کو حقیقی بیوی تسلیم کیاجاتاہے ۔ دوسری بیوی کو پہلی بیوی کا درجہ اور مقام حاصل نہیں ہوتا۔دوسری بیویوں کو معاشرہ میں جس حقارت سے دیکھاجاتاہے اور جس طرح وہ ظلم کا نشانہ بنتی رہتی ہیں،عدالتوں کو چاہیے کہ اس کا جائزہ لیں اور اس کے سد باب  کی راہیں تلاش کریں۔ اسلام میںکسی شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان فرق و امتیاز کو وہ  جائز نہیں سمجھتا ،بلکہ اس کا سد باب کرتاہے۔

(اس موضوع کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب’مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ‘بحث’تعددازواج‘ص ۱۰۹تا۱۲۳۔ ناشر مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز۔ نئی دہلی ۲۵)

نومبر 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau