نماز: جذبات و کیفیات سے معمور عبادت

محی الدین غازی

اللہ پاک نے زندگی دی، اور زندگی کی ہر ساعت کو نماز کا سایہ عطا کردیا۔ زندگی گزارنے کے لیے جتنی ساعتیں ملی ہیں، اتنی ہی نمازیں بھی مطلوب ہیں۔ تاکہ پوری زندگی نماز کے سائے میں اور نماز والی کیفیت میں گزرے۔ زندگی کی وہ ساعت ضائع ہوگئی جو نماز کے زیر سایہ نہیں گزری۔

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص نماز کی کیفیت سےآشنا ہوجاتا ہے، نماز اس کی زندگی کا سب سے مرغوب اور دل پسند مشغلہ بن جاتی ہے، اس کے شب وروز نماز پڑھنے اور نماز کا انتظار کرنے میں گزرنے لگتے ہیں۔ نماز میں اس کو سکون ملتا ہے، اور نماز ہی سے اس کو طاقت ملتی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ نماز کے متنوع طریقوں کو لے کر تو امت میں بہت زیادہ اختلافات ہیں، جو اکثر خط اعتدال سے نیچے گرجاتے ہیں، تاہم نماز کی مطلوبہ کیفیت پر سب کا اتفاق ہے، تمام مسلکوں کے صالحین ا س کیفیت کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس مضمون میں نماز کی اسی کیفیت کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کیفیت کیسے پیدا ہوتی ہے؟

کیفیت جذبات سے پیدا ہوتی ہے، دل جذبے سے خالی ہو تو زبان سے دہرائے جانے والے الفاظ سے خواہ وہ کتنے ہی معنی خیز اور اثر آفریں ہوں، نہ طبیعت میںتشفی بخش کیف پیدا ہوتا ہے، اور نہ دل خاطر خواہ اثر قبول کرتا ہے۔

اصل جذبہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو اندر سے متحرک کرتا ہے، جو محرک خارج سے طاری ہوتا ہے، وہ عمل تو کراتا ہے، لیکن کیفیت سے آشنا نہیں کرتا ہے۔ معاشرے کا دباؤ ہو، قانون کا خوف ہو، ساتھیوں کا لحاظ ہو، یا خاندان کا رواج ہو، یہ سب خارجی محرکات کی مختلف صورتیں ہیں، جو زبان اور اعضاء وجوارح تک ہی محدود رہتی ہیں، دل سے ان کا واسطہ نہیں رہتا ہے۔

اسی لیے نماز محض یہ سوچ کر نہیں پڑھنی چاہیے کہ یہ ایک فرض ہے جسے بہرحال کسی طرح سر سے اتارنا ہے، اور جس میں کوتاہی سزا کا سبب بن سکتی ہے۔ بلکہ ایسا محسوس ہو کہ نماز آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، روح کی غذا ہے، وجود کی ضرورت ہے، اسے ادا کرنے سے دل میں موجزن جذبوں کی تکمیل ہوتی ہے، اسی سے زندگی بامعنی ہوتی ہے۔ضروری ہے کہ نماز اس طرح جزو روح بن جائے کہ نماز نہیں پڑھنے پر روح پیاس اور تکلیف کی شدت سے چیخ پڑے۔

سچا اور حقیقی جذبہ وہ ہوتا ہے جو دل کی زمین پر اگتا ہے، اس کی شاخیں اعضاء وجوارح تک پھیل جاتی ہیں، اور اس کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں اترتی چلی جاتی ہیں۔ نماز کے لیے ایسے ہی سچے اور فطری جذبات کی جستجو کرنی چاہیے۔

نماز کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے مصنوعی جذبات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ، اللہ پاک نے اپنے بندوں کے لیے سچے اور حقیقی جذبات کا ایسا بھرپور انتظام کردیا ہے، کہ کسی مصنوعی جذبے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی ہے۔ دراصل مصنوعی معبود بنانے والوں کو مصنوعی عبادتوں اور ان کے لیے مصنوعی جذبات کی ضرورت پیش آتی ہے۔

تنہا حقیقی معبود یعنی اللہ تعالی کی عبادت کرنےکے لیے جب انسان آگے بڑھتا ہے، تو بے شمارسچے جذبے اس کے دل میں امنڈنے لگتے ہیں، اللہ کی پوری کائنات اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، اور اس کے جذبوں کو سہارا دیتی ہے۔

نمازنوع بہ نوع جذبات سے بھرپور عبادت ہے، یہاں ہم کچھ ایسے خاص جذبوں کا ذکر کریں گے، جن کا نماز سے تعلق بہت نمایاں ہے، اور اگر ان جذبوں کی نمود پر توجہ دی جائے تو نماز کی کیفیت میں بہت زیادہ ترقی ہوسکتی ہے۔ جو لوگ اس سے آگے جستجو جاری رکھیں گے ان کی مزید اور جذبوں تک رسائی بھی ہوسکتی ہے، اور یہ مطلوب بھی ہے۔ امام فراہیؒ نے سچ کہا ہے کہ دین نام ہے سیر باطن کا۔

شکر کا جذبہ

یہ احساس کہ زندگی کا لمحہ لمحہ اور جسم کا رواں رواں اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے، شکر کا سچا جذبہ پیدا کرتا ہے، اور اگر شکر کے اظہار کے لیے نماز جیسی صورت معلوم ہوجائے تو پھر انسان کو بہت خوشی ہوتی ہے، درحقیقت نماز شکر کے جذبات کا اظہار کرنے کی بہترین صورت ہے۔ نماز ادا کرتے ہوئے انسان کا پورا وجود ہر ہر پہلو سے شکر ادا کررہا ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ رات میں اتنی طویل نمازیں پڑھتے کہ قدموں میں ورم آجاتا، لوگ کہتے کہ آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کردئے گئے ہیں، تو آپ فرماتے کیا میں بہت زیادہ شکر ادا کرنے والا بندہ نہیں بنوں۔ أفلا أكون عبدا شكورا۔ (متفق علیہ)

اللہ کے رسول ﷺ کی نمازیں شکر کے جذبے سے معمورہوا کرتی تھیں، شکر کا سچا جذبہ انسان کو نماز کے لطف سے آشنا کرتا ہے، اور طویل سے طویل تر نماز پڑھنے پر اکساتا ہے، انسان نماز ادا کرتے ہوئے شکر کے اعلی مراتب حاصل کرتاہے۔

شکر کا جذبہ جس قدر طاقت ور ہوگا اسی قدر نماز میں لطف آئے گا، شکر کا جذبہ کوئی مصنوعی جذبہ نہیں ہے، اور نہ اس کے لیے کسی مصنوعی کوشش کی ضرورت ہے، انسان غفلت کی ناپسندیدہ حالت سے باہر آجائے، ہر چار سو پھیلی ہوئی بے شمار نعمتوں کو دیکھے، تو ضرور شکر کا جذبہ بیدار ہوجائے گا، اور وہ جذبہ جب نماز میں شامل ہوگا تو نماز شکر کی حسین کیفیت سے آراستہ ہوجائے گی۔

کسی خاص خوشی کے موقع پر نماز شکر ادا کرنا قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے، لیکن ہر نماز کو شکر کے جذبے سے ادا کرتے ہوئے شکر کی نماز بنالینا، عین روح نماز ہے۔

تعظیم کا جذبہ

اللہ کی بنائی ہوئی اس عظیم کائنات میں رہتے ہوئے اور ہر طرف اللہ کی عظیم صفات کا مشاہدہ کرتے ہوئے، اللہ کی حمد وثنا اور تعظیم وتمجید کرنے کا جذبہ نمود پاتا ہے، اورتسکین کے لیے بہتر صورت اور تعبیر تلاش کرتا ہے۔

نماز اللہ پاک کی عظمت کا اظہار کرنے کی بہترین صورت ہے، نماز کے افعال، قیام پھر رکوع پھر سجود اور قعود، اور ان افعال کے ساتھ تکبیر، حمد اور تسبیح جیسے اذکار، رب عظیم کی تعظیم کی بہترین ادائیں ہیں۔ نماز میں انسان کا پورا وجود پہلو بدل بدل کر نوع بہ نوع تعبیر وں سے اللہ کی تعظیم کرتا ہے۔

اللہ کی عظمت کا نقش دل پر جتنا گہرا ہوتا ہے، اللہ کی حمد وثنا کرنے کا جذبہ اتنا ہی زیادہ طاقت ور ہوتا ہے، اس عظیم کائنات کے خالق کی عظمت کا احساس اس کی تعریف اور عظمت کے گن گانے کی طاقت ور ترغیب دیتا ہے۔

جب اللہ کی مدح وثنا اور تعریف وتعظیم کے جذبے سے نماز ادا کی جاتی ہے، تو نماز کیف اور لطف سے بھرپور عبادت بن جاتی ہے، ایسی عبادت جس کا شوق بار بار اس کی طرف لے جاتا ہے۔

تعظیم کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے کوئی مصنوعی کوشش درکار نہیں ہے، کائنات کے شمس وقمرسے لے کرقطرہ قطرہ اور ذرہ ذرہ اللہ کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے، اللہ کی بہترین کاریگری کے شاہ کار نمونے ہر طرف سے دعوت نظارہ دیتے ہیں، وہ شخص شدید غفلت یا پھر نہایت بدذوقی کا شکار ہے جو اس کائنات میں رہتا ہو اور اس کے دل میں اللہ کی مدح وثنا کا جذبہ پیدا نہ ہو، اس جذبے کے ہر آن امنڈنے کے لیے دل کی زندگی اور فطرت کی سلامتی کافی ہے۔

عظیم ہستیوں کی تعریف کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے، اگر عظمت اور احسان ایک ساتھ جمع ہوجائیں تو یہ جذبہ بڑھ جاتا ہے۔ اورجب رب عظیم اور رب کریم کی بات ہو، جو بے پناہ عظمت والا اور بخشش والا ہے، تو تعظیم کا جذبہ بھی بے پناہ ہوجاتا ہے، اور بندے کو اپنے رب کی تعظیم اور شکرکے بغیر چین نہیں آتا۔قرآن مجید میں اللہ کے لیے ذو الجلال والاکرام کی صفت ذکر کی گئی ہے، جس کا ترجمہ ہے: عظمت والااور نوازنے والا۔

خاص بات یہ ہے کہ ہمیں ہر جگہ اور ہر حال میں اللہ کی نعمتوں کی رفاقت حاصل رہتی ہے، کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا ہے جب اللہ کی نعمتیں ہمارے ساتھ نہ ہوں۔ اسی طرح ہم ہر آن اللہ کی عظمت کا مشاہدہ کرتے ہیں، کوئی حالت ایسی نہیں ہوتی ہے، جب اللہ کی عظمت کے بے شمار مظاہر ہماری نگاہ کے سامنے نہ ہوں۔ معلوم ہوا کہ دن اور رات کی ہماری کوئی نماز ایسی نہیں ہوتی ہے جو کسی بھی وجہ سے جذبہ شکر اور جذبہ تعظیم سے خالی رہ جائے۔

اللہ سے قریب ہونے کی جستجو

اللہ کی معرفت اللہ سے قریب ہونے کا شوق پیدا کرتی ہے، نماز اس شوق کی تکمیل کا بہترین ذریعہ ہے، نماز خود کو ہر چیز سے کاٹ کر اللہ کی طرف یکسو کرلینے والی حالت ہے، اس یکسوئی کی حالت میں اللہ سے قریب ہوجانے کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ نماز میں جو کچھ بھی ہوتا ہے سب اللہ کے حضور اوراللہ کے لیے ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں سجدے کو قرب الہی کا راستہ بتایا گیا:

واسجد واقترب سجدہ کرو اور قریب ہوتے جاؤ۔

حدیث پاک میں سجدے کی حالت کو اللہ سے قریب ترین ہونے کی حالت بتایا گیا:

بندہ اپنے رب سے سب زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، اس لیے خوب دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم)

یہ ادراک کہ نماز اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے، نماز کے شوق کو بڑھادیتا ہے، اور نماز کو کیف سے بھرپورکردیتا ہے۔

عہد کی تجدید کا جذبہ

نماز کے ذریعہ بندہ اللہ سے اپنے عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزرے گی، عہد کی تجدید ایک بندے کی بہت بڑی ضرورت ہے، زندگی کی گوناگوں الجھنیں، اہداف اور مصروفیات عہد بندگی سے غافل کردیتے ہیں، جذبہ بندگی اور جوش اطاعت کمزور پڑنے لگتا ہے، ایسے میں ہر تھوڑی دیر بعد نماز انسان کے اندر بندہ ہونے کا احساس تازہ کرتی ہے، اور نماز کے افعال واقوال بندگی کے عہد کی تجدید کرتے ہیں، وہ ہر بار نماز ادا کرکے ایاک نعبد (میں تیری ہی عبادت کروں گا) کے ایک نئے عہد کے ساتھ باہر کی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ تکبیر تحریمہ کے بعد مختلف اذکار کا ورد کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے:

وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ       (صحيح مسلم)

‘‘میں نے اپنا رخ بالکل یکسو کرلیا اس کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز اور میری قربانی، اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو سب انسانوں کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے، مجھے اسی کا حکم ہے، اور میں خود کو اللہ کے حوالے کرنے والوں میں سےہوں۔ اے اللہ تو ہی اقتدار کا مالک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا رب ہے، اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے آپپر ظلم کیا ہے، اور میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، میری ساری غلطیاں معاف کردے، بے شک تو ہی ہےغلطیاں معاف کرنے والا۔ مجھے بہترین اخلاق کی راہ دکھا، بہترین اخلاق کی راہ دکھانے والاتیرے سوا کوئی نہیں ہے، اور برے اخلاق کو مجھ سے پھیر دے، انہیں تیرے سوا کوئی اور مجھ سے نہیں پھیر سکتا ہے، میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں دل سے حاضر ہوں، سارا خیر تیرے ہاتھوں میں ہے، شر کی تجھ سے کوئی نسبت نہیں ہے، میں تجھ سے ہی ہوں اور تیری ہی طرف ہوں، تو بابرکت ہے، تو بلند وبرتر ہے، میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں، اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں’’۔

اس ذکر کے ایک ایک لفظ پر غور کریں، بندگی کے عہد کی کیسی شان دار تجدید ہے۔ شکر اور تعظیم کی کیسی خوب صورت تعبیریں ہیں، اپنے تزکیہ اور تطہیر کی کیسی آرزو ہے، استعانت کا کتنا خوب صورت انداز ہے۔ قرب الہی کے لیے کیسا شوق اور بے تابی ہے۔

مسلکوں میں نمازوں کو تقسیم کرنے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ نماز کے بہترین اذکار بھی تقسیم کردئے گئے، احناف نے سبحانک اللھم پر اکتفا کرلیا اور شوافع نے وجھت وجھی پر قناعت کرلی، جب کہ دونوں ہی اذکار سب کے لیے قیمتی ہیں۔

استعانت کا جذبہ

اللہ کی بے پناہ قدرت کا نقش دل پر جتنا گہرا ہوتا ہے،اور انسان کو اپنے محتاج ، کمزور اور بے بس ہونے کا جتنا گہرا احساس ہوتا ہے، اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی بقا اور ترقی اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے، پھر وہ اللہ سے مدد مانگنے کے بہترین طریقے تلاش کرتا ہے۔

نماز اللہ سے مانگنے کی بہترین صورت ہے، انسان کو اگر اس حقیقت کا ادراک ہوجائے کہ اس کا دنیا سے آخرت کا سفر بہت مشکل اور خطرات سے گھرا ہوا ہے، اور اس کی زندگی کا ہر لمحہ ضرورت مندی اور احتیاج سے عبارت ہے، وہ ایک ایک سانس کے لیے مدد کا محتاج ہے، اس کی ہر ضرورت کی تکمیل صرف اللہ کی مرہون منت ہے، اور وہ نماز کی حالت میں اللہ سے قریب، بہت قریب ہوگیا ہے، اللہ سے مانگنے کے لیے جو مناسب ترین حالت ہوسکتی ہے، وہ اسے حاصل ہوگئی ہے، تو اس کی نماز استعانت والی نماز ہوجاتی ہے۔ نماز محض ایک رسم بندگی کی ادائیگی نہیں ہوتی، بلکہ انسان کی قوت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔

اللہ کا حکم ہے:  واستعینوا بالصبر والصلاۃ۔صبر اور نماز سےمدد حاصل کرو۔

روایتوں میں آیا ہے کہ رسول پاک ﷺ کو جب کوئی بڑا معاملہ درپیش ہوتا تو نماز کا رخ کرتے، اس روایت پر محققین نے کلام کیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ نماز اللہ سےمدد مانگنے کی بہترین صورت ہے، انسان ہر وقت اللہ کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، اور اس کی ہر نماز مدد مانگنے والی نماز ہونی چاہیے۔نماز میں ایاک نستعین  (میں تجھ سے ہی مدد مانگوں گا) کا ورد اس کے اندر اپنی پوری زندگی میں صرف اللہ سے استعانت کا یقین پختہ کرتا ہے۔

پاکیزگی حاصل کرنے کا جذبہ

انسان جس قدر اس دنیا کے کاموں میں مصروف رہتا ہے، اسی قدر اسے دنیا کی آلائشوں سے پاک ہونے کی ضرورت بھی رہتی ہے، نماز کے ذریعے ہر تھوڑی دیر پر اس کی مکمل تطہیر کا سامان ہوتا رہتا ہے، اگر وہ بار بار نماز کی طرف رجوع نہ کرے، تو دنیا کے اثرات اس کے دل ودماغ پر گہرے ہونے لگتے ہیں، اللہ سے تعلق کے مقابلے میں مخلوق سے تعلقات اس کے اوپر زیادہ حاوی ہونے لگتے ہیں، ذرا سی غفلت میں وہ کبھی دولت، کبھی شہرت اور کبھی شہوت کا پجاری بن جاتا ہے، زندگی کے تمام ایام اور شب وروز کے تمام اوقات پر پھیلی ہوئی نماز انسان کو ہر طرح کی آلائشوں سے پاک کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

رسول پاک ﷺ نے سوال کیا: سوچو، اگرکسی کے دروازےپر نہر ہو، جس میں وہ پانچ بار غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا، صحابہ نے جواب دیا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی ، اللہ ان کے ذریعہ غلطیوں کو مٹاتا ہے۔ (متفق علیہ)

یہاں صرف خطاؤں کو معاف کردینے کی بات نہیں ہے، بلکہ خطاؤں کے جو دل ودماغ پر اثرات پڑتے ہیں، جو دراصل شخصیت کا میل کچیل ہوتے ہیں، نمازوں کے ذریعہ ان کی مکمل صفائی ہوتی ہے، کہ پھر شخصیت میں کچھ بھی میل باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

یا د رہے کہ صرف دنیاداری کے کاموں سے دل پر میل نہیں آتا ہے، بلکہ بسا اوقات انسانوں کے درمیان جب دین کا کام کیا جاتا ہے، تو بھی دل پر کچھ نہ کچھ میل آجاتا ہے، دین کا کام کرنے والوں کو بھی نماز کے ذریعہ دل کو پاک کرتے رہنے کی سعی کرتے رہنا چاہیے۔

اپنے آپ کو پاک کرنے کے سچے جذبے کے ساتھ نماز ادا کی جائے تو نماز کی مطلوبہ کیفیت تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے۔

بلندیوں کے سفر کا شوق

نماز میں انسان عابدانہ جھکاؤ کا آخری حد تک اظہار کرتا ہے، نگاہ نیچے جھکا کر کھڑا ہوتا ہے، پھر خود جھک کر رکوع کرتا ہے، اور پھر پیشانی زمین پر رکھ کر سجدہ کرلیتا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ یہ عجز وانکسارنہ کسی ڈوب جانے والی چیز کے سامنے ہوتا ہے، نہ کسی فنا ہونے والی چیز کے سامنے اور نہ کسی بے بس اور محتاج کے سامنے، بلکہ یہ توسب کے خالق، سب کے مالک کے سامنے ہوتا ہے، جو سب سے بے نیاز ہے، اور جو اعلی ہے اور برتر ہے۔

حقیر اور بے وقعت چیزوں کی بندگی انسان کو پستی میں ڈھکیل دیتی ہے، جب کہ رب اعلی اور رب عظیم کی بندگی انسان کو بلندیوں کی راہ دکھاتی ہے، نماز بلندیوں کے سفر کا بہترین ذریعہ ہے۔

بندے کے حصے میں مال ودولت چاہے بہت کم کیوں نہ ہو، دنیاوی جاہ و منصب سے اس کا تعارف نامہ بالکل خالی کیوں نہ ہو، اور ظاہر پرستوں کی نگاہ میں وہ کم وقعت اور بے وزن کیوں نہ ہو، لیکن جب وہ نماز میں داخل ہوتا ہے تو اسے بلندخودی ، خوش نصیبی ، عزت افزائی اور حقیقی سعادت کا خوب صورت احساس ہوتا ہے۔ کیوں کہ نماز اسے ایسی بلند کیفیت سے ہم کنار کرتی ہے، جہاں دنیا کی ہر چیز بے وقعت محسوس ہوتی ہے۔

بزرگ وبرتر ہستی کی عبادت بندے کے اندر پستی سے نفرت اور بلندی کا شوق پیدا کرتی ہے۔نماز کا یہ نمایاں پہلو انسان کی پسند اونچی کرتا ہے، اس کی سوچ کا معیار بلند کرتا ہے، اور اس کے اندر اونچی منزل کی جستجو بڑھاتا ہے۔

بلندی کے شوق کے ساتھ جب نماز ادا کی جاتی ہے تو نمازکی کیفیت انوکھی ہوجاتی ہے۔

اتباع رسول کا جذبہ

یہ احساس بہت فرحت بخش ہوتا ہے کہ نماز کی صورت میں عبادت کا جو بہترین طریقہ اللہ نے اپنے رسول کو عطا کیا، وہی بہترین طریقہ ہمیں بھی عطا ہوا ہے، جن کیفیتوں کے ساتھ رسول پاک نماز ادا کرتے تھے، انہیں کیفیتوں کا حصول ہم سے بھی مطلوب ہے، نماز کی ادائیگی کے دوران ہمارا دل خشوع سے لبریز رہے گا، تو ہمیں لگے گا کہ ہماری نماز رسول پاک کی نماز سے مشابہ ہورہی ہے۔ اتباع رسول کے اس حسین احساس کے ساتھ ادائیگی نماز کو پرکیف بنادیتی ہے۔ جو لوگ اللہ کے رسول والی نماز پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں، وہ نماز کی کیفیت پر بہت زیادہ توجہ دیں۔ یہی مقابلے کا اصل میدان ہے، جسے مقابلے کا شوق ہو وہ اس میں مقابلہ کرے۔

افسوس اتباع رسول کے جذبے کو لوگوں نے نماز کے طریقے کے چند فروعی مسائل تک محدود کردیا ہے، اور اسی پر سارا زور صرف کرتے ہیں، حالانکہ ان میں اختلاف عام طور سے تنوع کا اختلاف ہے، کہ وہ سارے ہی طریقے سنت میں شامل ہیں۔ لیکن حقیقت میں اتباع رسول تو نماز کی کیفیت میں مطلوب ہے، خشوع وخضوع اور تذلل وتضرع میں اتباع رسول کی جستجو ہونی چاہیے۔

صالحین میں شمولیت کا جذبہ

انسانیت کی معراج صالحیت کا مقام ہے، یہ وہ مقام ہے جس کے لیے جلیل القدر انبیاء دعائیں کیا کرتے تھے، صالحین میں شمولیت ایک مومن کی سب سے بڑی آرزو ہوتی ہے، نماز کی صورت میں اسے تکمیل آرزو کا ایک امید افزا راستہ نظر آتا ہے۔ وہ جتنی دیر نماز میں ہوتا ہے اسے لگتا ہے کہ وہ صالحین کی جماعت میں شامل ہے۔ یہ احساس اور خواہش اسے ترغیب دیتی ہے کہ وہ نماز کو اس کیفیت کے ساتھ ادا کرے جو صالحین کی کیفیت ہونی چاہیے۔ اللہ پاک سچے مومنوں کا تذکرہ فرماتے ہیں:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (۱) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (۲)  (المؤمنون)

(مومن کامیاب ہوگئے، جو اپنی نمازوں میں خشوع اور جھکاؤ اختیار کرتے ہیں)

بندہ مومن اچھی طرح جانتا ہے، کہ کامیاب ہونے والی صالح مومنوں کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے۔

جب بندہ حالت قیام میں صراط الذین انعمت علیھم کہتا ہے، تو صالحین کی راہ اور روش کو اپنی زندگی کی آرزو قرار دیتا ہے، اور جب وہ التحیات میں السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحینکہتاہے، توصالحین سے اپنے قلبی لگاؤ کا خوب صورت اظہار کرتا ہے۔ غرض نماز میں بندہ مومن کو صالحین سے قربت اور ان کی رفاقت کاایمان افروز احساس ہوتا ہے، اور ان کے گروہ میں ہمیشہ ہمیش کے لیے شامل ہوجانے کا جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔

اللہ کی ہر پکار پر حاضر ہوجانے کا جذبہ

نماز ادا کرتے ہوئے اللہ کی ندا پر لبیک کہنے کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ زندگی کے عیش وآرام اور زندگی کی مصروفیات کو چھوڑ کر بار بار نماز کی طرف آنا اس جذبے کا اظہار ہے کہ زندگی اصل میں اللہ کے لیے ہے، اور نماز کے باہر جو بھی مصروفیات اور آرام کی ساعتیں گزرتی ہیں، وہ صرف اس لیے کہ اللہ نے ان کی اجازت دی ہے، اور انہیں زندگی کا جزو بنادیا ہے، اس لیے جب اور جس حال میں اللہ کی طرف سے ندا آجائے تو ہر کام سے زیادہ اہم کام اللہ کی طرف دوڑ پڑنا ہے۔جو بندہ شب وروز کی ہر پکار پر نماز کی طرف دوڑ پڑتا ہے، وہ اللہ کی ہر پکار پر لبیک کہنے کا دلدادہ اور شوقین ہوجاتا ہے۔

بندے کا یہ احساس کہ میں نے اپنا کام اور اپنا عیش وآرام اللہ کے لیے چھوڑ دیا، اور میں اللہ کے بلانے پر اللہ کے سامنے حاضر ہوگیا، بہت فرحت بخش احساس ہے۔ یہ احساس زندگی کے بہت سے مشکل موقعوں پر رہنمائی اور ہمت افزائی کا کام کرتا ہے، اور پھسلتے ہوئے قدموں کو سنبھال دیتا ہے۔

اللہ کی طرف سے جواب ملنے کی خوشی

اگر یہ معلوم ہوجائے کہ جب ہم نماز ادا کرتے ہیں، تو اللہ ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے، اور ہمارے ایک ایک جملے پر وہ سرور بخش جوابوں سے نوازتا ہے، تو نماز کی ہر ادا سرور کی کیفیت سے معمور کرنے والی ہوجاتی ہے۔

درج ذیل حدیث کو پڑھیں، اور نماز کے اس مسرت آگیں پہلو سے لطف اٹھائیں:

حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا:

اللہ تعالی کہتا ہے: میں نے صلاۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان برابر برابرتقسیم کردیا ہے، اور میرا بندہ جو مانگے وہ اس کے لیے ہے، جب بندہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، تو اللہ کہتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی، اور جب کہتا ہے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، تو اللہ کہتا ہے میرے بندے نے میری ثنا کی، اور جب بندہ کہتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، تو اللہ کہتا ہے میرے بندے نے میری عظمت کا چرچا کیا، اور جب بندہ کہتا ہے  إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، تو اللہ کہتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کےدرمیان مشترک ہے، اور میرے بندے کو جو وہ مانگے گا ملے گا، وہ جب کہتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، تو اللہ کہتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندےنے جو مانگا وہ اسےملے گا۔

یہ خوش خبری اس سورہ فاتحۃ کے بارے میں ہے جو نماز میں پڑھی جائے، اسی لیے اسے یہاں صلاۃ کہا گیا۔ معلوم ہوا کہ نماز میں بندہ اللہ کی خاص توجہ حاصل کرلیتا ہے، اور اس کے ہر ہر ذکر پر اللہ تعالی اس کی طرف حیات بخش کلمات بھیجتا ہے۔ اللہ کی طرف سےحوصلہ افزائی کے کلمات پانے کی خوشی نماز کی کیفیت کو دوبالا کردیتی ہے۔

 بندگی کا جذبہ

ہم نے سب سے آخر میںجذبہ بندگی کو ذکر کیا ہے، کیوں کہ وہ سب پر محیط ہے، اس کے بعد پھر کسی اور چیز کے تذکرے کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔ بندگی (عبادت) ایک جامع تعبیر ہے، جوان تمام کاموں پر مشتمل ہے جو بندہ اپنے رب کے لیے کرتاہے۔ رب کو راضی کرنے اور رب کی ناراضگی سے بچنے کی ساری ادائیں بندگی میں شامل ہوتی ہیں۔

اللہ کی کتاب کی تمام آیتیں، اور آفاق وانفس کی تمام نشانیاں رب کی معرفت دیتی ہیں۔ اور رب کی معرفت بندگی کے جذبے کو بے قرار کردیتی ہے، بندگی کے جذبے کی اس بے قراری کو سب سے زیادہ سکون دینے والی چیز نماز ہے۔ رب کی بندگی انسان کی سرشت میں داخل ہے، رب کی صحیح معرفت نہ ہو تو انسان یا تو غلط جگہوں پر جاکر بندگی کا اظہار کرتا ہے، یا پھر بندگی کے تصور سے بیزاری اور بغاوت کا اعلان کردیتا ہے، دونوں صورتوں میں اس کی روح کے ہاتھ نامرادی ہی آتی ہے۔

رب کی صحیح معرفت کے بعد بندگی بجالانا انسان کی سب سے بڑی آرزو، اور زندگی کی سب سے اہم  ضرورت بن جاتی ہے، بندگی کے لیے الگ سے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، رب کی معرفت بندگی کی سب سے روشن دلیل ہے۔ انسان جیسے جیسے رب کے احسانات اور اس کی عظمتوں کا ادراک کرتا جاتا ہے، اس کی بندگی کا جذبہ خود طاقت ور ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے بغیر اسے چین نہیں ملتا۔

نماز ادا کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ یہ بندگی بجا لانے کا بہترین طریقہ ہے، عبادت کا یہ طریقہ رب کی عظمت کے شایان شان ہے، نماز کا طریقہ خود کہتا ہے کہ حقیقی معبود کی عبادت اسی طریقے سے ہونی چاہیے، اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اسلام دین برحق ہے اس کی بہت بڑی دلیل نماز کا طریقہ ہے۔ نماز شرک کی تمام جڑوں کو اکھاڑ پھینکتی ہے، کفر کی تمام صورتوں کا قلع قمع کردیتی ہے، خالق اورمخلوق کے درمیان جتنے لوگ اور پردے حائل ہیں، سب کوبیچ سے دور ہٹادیتی ہے، اور تمام جھوٹے معبودوں سے کاٹ کر اللہ کے سامنے کھڑا کردیتی ہے۔ نماز کے افعال اور اذکار عبادت کے جذبے کی ہر طرح سے تسکین کا سامان کرتے ہیں۔

کیفیت کے لیے اقوال اور افعال سے مدد لیں

نماز میں جسم کے اعضاء وجوارح اپنی ہیئت اور فعل سے شریک ہوتے ہیں، زبان اپنے اذکار سے شریک ہوتی ہے، اور یہ دونوں مل کر دل کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں، کہ وہ اپنے جذبات وکیفیات کے ساتھ شامل ہوجائے، کیوں کہ نماز مکمل ہوتی ہی اس وقت ہے، جب جسم اور زبان کے ساتھ دل بھی نماز میں شامل ہوجائے۔

خاص بات یہ ہے کہ نماز کے افعال ، نماز کے اقوال اور نماز کی کیفیت، یہ تینوں آپس میں مکمل ہم آہنگ ہیں، اور تینوں ہی ضروری ہیں، کسی ایک کی کمی بہت بڑی کمی کا احساس دلاتی ہے۔

اللہ پاک نے نماز کے لیے ایسے افعال اور اقوال کا انتخاب کیا ہے، جو نماز والی کیفیت پیدا کرنے میں بہت معاون ہوتے ہیں، ایسے میں اگر دل کے جذبات حاضر رہیں، تو نماز کیف سے معمور ہوجاتی ہے۔

نمازجن ہیئتوں اور افعال پر مشتمل ہے، ان کی معنویت پر غور کرتے رہنا چاہیے، اور انہیں بہت اہتمام کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔

اسی طرح نماز کے مسنون اذکار کی بے پناہ اہمیت اور معنویت کا تقاضا ہے کہ نماز میں پڑھے جانے والے اذکار کا مفہوم ذہن میں محفوظ کیا جائے، اور مسلسل ان پر غور کیا جائے۔

نماز کا ایک ایک لفظ کسی نہ کسی جذبے کو مہمیز لگاتا ہے، ہم سجدے میں خاص طور سے سبحان ربی الاعلی کا ورد کرتے ہیں، لفظ ربی (میرا پروردگار) شکر کے جذبے کو بیدار کرتا ہے، سبحان (پاک اور عظیم ہے) اور الاعلی (بلند وبرتر)کے الفاظ حمد وتعظیم کے جذبے کو جگاتے ہیں، لفظ سبحان پاکیزگی حاصل کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے، اور لفظ الاعلی بلندیوں کے سفر کا شوق بھی پیدا کرتا ہے۔ رکوع کے خاص ذکر سبحان ربی العظیم کے اندر بھی یہ سب داعیے موجود ہیں۔

اور پھر خاص طور سے سورہ فاتحہ تو ایسی جامع سورت ہے، اور نماز سے اس قدر ہم آہنگ ہے، کہ بندہ مومن نماز میں اس کی تلاوت کرتا جائے اور نمازکو پرکیف بنانے والے تمام جذبے ایک کے بعد ایک بیدار ہوتے چلے جائیں۔ سورہ فاتحہ نماز کا لفظی پیکر ہے، یا نماز سورہ فاتحہ کا عملی روپ ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نماز کے مشہور اذکار کے علاوہ بھی کچھ اذکار کا اہتمام کرتے، اور وہ نماز کی کیفیت کو دوبالاکردینے والے بہت معنی خیز اذکار ہیں۔ کوشش کرکے ایسے بہت سے اذکار مفہوم کے ساتھ یاد کرلینے چاہئیں۔

صحیح مسلم کی روایت میں ہے:

جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو کہتے:

اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِيَ۔ “اے اللہ میں نے تیرے حضور رکوع کیا، اور تیرے اوپر ایمان لایا، اورخود کو تیرے حوالے کردیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈیاں، اور میری رگیں، سب تیرے آگے جھکے ہوئے ہیں”۔

اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے:

اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔‘‘اے اللہ ہمارے رب، تیرے لیے حمد ہے، سارے آسمانوں کے برابر، زمین کے برابر، دونوں کے درمیان کی جگہ کے برابر، اور اس کے بعد جو بھی تو چاہے اس کے برابر’’۔

اور جب سجدے میں جاتے تو کہتے:

اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔ ‘‘اے اللہ میں نے تیرے حضور سجدہ کیا، اور تیرے اوپر ایمان لایا، اور خود کو تیرے حوالے کردیا، میرا چہرہ اس کےآگے سجدہ ریزہے، جس نے اس کی تخلیق کی، اس کی صورت گری کی، اس میں سننے اور دیکھنے کی راہیں نکالیں، بابرکت ہے اللہ بہترین خالق۔’’

پھر آخر میں تشہد کے بعد، سلام سے پہلے جو پڑھتے تو یہ بھی پڑھتے: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔

‘‘اے اللہ میں نےجو کیا دھرا، اور جو چھپایا اور ظاہر کیا، اور جو بھی حد سے تجاوز کیا اسے معاف کردے، اور اسے بھی معاف کردے جو تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، تمام فیصلے تیرے ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔’’

غرض یہ کہ نماز کے الفاظ کے اندرنماز والی کیفیت کو پیدا کرنے کے لیے بھرپورامکانات پائے جاتے ہیں۔

نماز سے باہر بھی خشوع ضروری ہے

یہ ممکن نہیں ہے کہ نماز کے باہر اللہ سے مکمل غفلت رہے، اور نماز کے اندر اللہ کی طرف مکمل یکسوئی ہوجائے، جولوگ دن بھر زندگی کے کاموں میں مصروف اور اللہ کی یاد سے یکسر غافل رہتے ہیں، وہ رات کی تنہائی میں جب تہجد پڑھتے ہیں، تو بھی اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوپاتے ہیں۔دنیا اس وقت بھی ان کے خیالوں پر سوار رہتی ہے۔

اس لیے بہت ضروری ہے کہ نماز کے باہر کی زندگی میں بھی ہم ان قلبی کیفیات کی جستجو کرتے رہیں، جن کی ہم نماز میں جستجو کرتے ہیں۔ نماز میں اسی وقت خشوع حاصل ہوگا، جب زندگی خشوع میں گزرے گی۔

ہماری عام زندگی میں اللہ کی نعمتوں کا احساس جتنا زیادہ ہوگا، شکر کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، اللہ کی عظمتوں کا احساس جتنا زیادہ ہوگا حمد وثنا کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، زندگی کی مشقتوں کا احساس جتنا زیادہ ہوگا استعانت کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، رسول سے محبت جتنی زیادہ ہوگی، اتباع رسول کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، صالحین کے اعلی مقام کا ادراک جتنا زیادہ ہوگا، ان میں شامل ہوجانے کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، دنیا کی آلائشوں سے جتنی زیادہ نفرت ہوگی، اپنی تطہیر کا جذبہ اتنا ہی زیادہ بڑھے گا، غرض لطیف احساسات سے جذبے پیدا ہوتے ہیں، اور جذبوں کی پرورش کیفیتوں سے ہم کنار کرتی ہے۔

نماز کے باہر ان نیک جذبوں کی پرورش ہوگی تو نماز کے اندر بھی یہ جذبے اثر دکھائیں گے،اور ان جذبوں کی بدولت ایمان افروز کیفیتوں کا حصول ہوگا۔

قرآن مجید ، نیک جذبوں کا مخزن

قرآن اور نماز کا تعلق بہت گہرا ہے۔قرآن میں نماز کی بہت تاکید ہے، اور نماز میں سب سے زیادہ جگہ قرآن پڑھنےکے لیے رکھی گئی ہے،نماز سے قرآن کے تعلق کو ہم دو طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔

اول:  نماز کی مطلوبہ کیفیت حاصل کرنے کے لیےجو جذبات مطلوب ہیں، انہیںتروتازہ اور شاداب رکھنے کا بھرپور انتظام قرآن مجید میں موجود ہے۔ جب بندے غور سے قرآن پڑھتے ہیں، تو بے شمار ایمانی جذبے بیدار ہونا شروع ہوجاتے ہیں، یہ جذبے نماز کا محرک بنتے ہیں۔ قرآن مجید پڑھتے ہوئے رب کے احسانات سامنے آتے ہیں، رب کی عظمتوں کا مشاہدہ ہوتا ہے، اپنے اندر فروتنی اور بندگی کا احساس بڑھتا ہے، ضرورت مندی کا احساس استعانت پر اکساتاہے، پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے بیتابی بڑھتی ہے، بلندیوں کے سفر کا شوق بے قرار کرتا ہے، اللہ سے کئے ہوئے عہد کے بارے میں فکرمندی بے چین کرتی ہے، اتباع رسول کا جذبہ اور صالحین میں شامل ہونے کی خواہشیں کروٹیں لیتی ہیں۔ اور یہ سارے جذبات نماز کی طرف کشاں کشاں لے جاتے ہیں، اور نماز کوحسین اور پرکیف بنادیتے ہیں۔

دوم: جب بندے نماز میں قرآن غور سے پڑھتے ہیں، تو قرآنی تعلیمات ان کے دل ودماغ میں تازہ ہوجاتی ہیں،ان کی روح کو قرآن سے غذا ملنے لگتی ہے، اور نماز زندگی سے بھرپور ہوجاتی ہے۔ اس کیفیت کو مولانا صدر الدین اصلاحی اس طرح بیان کرتے ہیں:

‘‘خشوع اور حضور قلب کے ساتھ اور حرف حرف الگ کر کے جو قراءت ہوگی، کوئی شک نہیں کہ وہ الفاظ سے زیادہ معانی کی قراءت ہوگی۔ زبان پورے ادب اور احترام کے ساتھ آیات الہی پڑھ رہی ہوگی، اور دل و دماغ سراپا گوش ہوش بنے ان کے معنوں اورتقاضوں کو سن رہےہوں گے۔ جب امر واقعی یہ ہے تو نماز میں قرآن کے پڑھے جانے کی غایت مقصود لازما یہ بھی ہوگی، اور ہونی چاہیے کہ سلطان کائنات کے اس آخری ہدایت نامہ میں غیب کے جو حقائق مذکور ہیں، وہ جن احکام وقوانین پر مشتمل ہے، اس نے جو تعلیمات اور ہدایات دی ہیں، ان سب کی یاد تازہ تر ہوجائے۔ مومن کے ذہن میں ان کے جو نقوش بیٹھے ہوئے ہیں، ان پر مزید جلا آجائے۔ اور پھر اس کے نتیجے میں ان احکام وہدایات قرآنی کی خوش دلانہ اور والہانہ تعمیل کے لیے سینے میں ایک نیا جذبہ، اور فرائض بندگی کی انجام دہی کا ایک نیا احساس ابھر آئے۔ یہ غیر معمولی اہم نکتہ اگر نظر میں رہے تو صاف محسوس ہوگا کہ نماز ایک منفرد نوعیت کا اورانقلابی قسم کا ذکر الہی ہے۔ اس کی شان انفرادیت یہ ہے کہ وہ فرماں روائے حقیقی کے سامنے کھڑے ہوکر اس کے جملہ احکام وہدایات کی مخلصانہ اور مکمل انجام دہی کے عہد کی تجدید بھی کرتی ہے۔’’ (دین کا قرآنی تصور ص ۷۲)

نماز ہی رابطہ ہے

اس زمین پر ایک بندے کے لیے سب سے زیادہ خوشی اور سب سے زیادہ امید کی بات یہ ہے کہ اللہ سے رابطہ رکھنے کی ایک راہ اسے حاصل ہے، وہ جب چاہے اپنی مراد اللہ کے سامنے بہترین طریقے سے پیش کرسکتا ہے۔ وہ جب چاہے اپنے جذبات کا بہترین اظہار کرسکتا ہے۔

اللہ سے مسلسل رابطہ رکھنے کی یہ واحدسبیل ہے، اس سے محرومی کا مطلب سب سے ضروری رابطے سے مکمل محرومی ہے، بہت ضروری ہے کہ اس رابطے کی ہر ممکن حفاظت کی جائے، اس میں کوئی خلل ، انقطاع اور کمزوری نہ آئے۔

حقیقت میں نامراد ہوا وہ شخص جس کی زندگی نماز سے خالی رہی، نماز ضائع کرنے کے بعد بھلا اس کے پاس زندگی گزارنے کے لیے کیا بچا۔اور کامیاب ہوا وہ شخص جو زندگی بھر نماز جیسی عظیم ترین عبادت سے اپنی روح کی ترقی اور تسکین کا سامان کرتا رہا۔

جنوری 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau