ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں

مولانا محمد سلیمان قاسمی

الحمدللہ! بعد نماز فجر سورۂ ابراہیم کی رکوع چھ ﴿۶﴾ کی شعوری تلاوت کی، اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالاکہ اِس کارِخیر میں زندگی نو کے قارئین کو شامل کرلیاجائے توبہتر ہوگا چنانچہ لکھنے بیٹھ گیا۔ پہلے ترجمہ پڑھیے:

اور یادو کرو اس واقعے کو، جب کہ ابراہیم نے کہا: اے میرے پروردگار! اس شہر کو پُرامن شہر بنادے اور مجھ کو اور میری اولادکوبت پرستی سے بچا۔ اے میرے پروردگار!ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیاہے، تو جس نے میری اتباع کی، وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی، تو یقینا توبخشنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی ذریت میں سے، بعض کو بن کھیتی کی وادی میں بسادیاہے۔ تیرے محترم گھر کے پاس۔ ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں کا رزق عطا کر، تاکہ وہ شکرگزار بنیں۔ اے ہمارے پروردگار! یقینا تو جانتاہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ہے۔ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ سب تعریفیں اور شکریے، اللہ ہی کے لیے ہیں، جس نے مجھے میرے بڑھاپے میں اسماعیل ؑ  اور اسحاقؑ  عطاکیے، یقینا میرا رب دعائیں سننے والا ہے۔ اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنادے اور میری اولاد کوبھی اور اے ہمارے پروردگار! میری دعا قبول فرمالے ۔ اے ہمارے پروردگار! میری دعا قبول فرمالے۔ اے ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو، اس روز جب کہ حساب ہوگا۔

یہ سورۂ ابراہیم رکوع ۶ کا ترجمہ ہے۔ آئیے غور کریں کہ اس رکوع میں اور ابراہیمؑ  کی دعائوں میں کیا ہدایات اورنصیحتیں پوشیدہ ہیں؟ انسان اللہ کی مخلوق اور ذمے دار ہستی ہے۔ اللہ نے علم و عمل کی بے شمار قوتوں اور صلاحیتوں سے اسے نوازا ہے اور بہت کچھ اختیارات دیے ہیں اور اپنی زمین پر اُسے اپنا خلیفہ بنایاہے۔ چنانچہ اپنی صلاحیتوں اور اختیارات کو استعمال کرکے وہ ہوا پر اڑنے لگاہے۔ پانی کی سطح پر دوڑنے اور چلنے پھِرنے لگاہے۔ زمین کی چھاتی کو چیرکر سیال اور منجمد سونا اور ہزار قسم کی دھاتیں اور گیس اور مختلف قسم کی نعمتیں نکالنے لگاہے اور زمین کی چھاتی پر مونگ دلتاپھرتا ہے۔ سورج کی شعاعوں اور چاند کی چاندنی سے کھیلنے لگا ہے اور اب ستارے اور سیارے اور تحت الثریٰ سب کچھ اس کی کمند کی زد میں ہے۔ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں کو سرکرتاہے، وہ جنگل کو خشک اور بے آو گیاہ میدانوں میں تبدیل کرسکتاہے اور خشک چٹیل میدانوں کو گلستانوں اور چمنستانوں، تاکستانوں اور نخلستانوں میں تبدیل کرسکتا ہے۔ وہ اپنی ایجادات کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو آن کی آن میں، موت کی نیند سلاسکتاہے۔ وہ آج کی موجودہ مفید ترین اور مہلک ترین ایجادات اور ٹکنالوجی کا موجد اور مالک ہونے کے باوجود اور تمام تر قوتوں، صلاحیتوں، علوم و فنون اور ترقیوں کے باوجود محتاج ہے، فقیر ہے، بے بس ہے اور حقیر و ناتواں ہے۔ اللہ سے دعائیں کرنے اور مانگنے پر مجبور ہے۔ غرض کہ دعا کرنا اور اللہ سے مانگنا صرف انبیائ علیہم السلام کی تعلیم اور اللہ کے رسولوں کا اُسوہ مبارکہ ہی نہیں ہے، صرف انسانیت کا تقاضا اور انسان کی فطرت ہی نہیں ہے، بل کہ اس کی مجبوری اور ضرورت بھی ہے۔

زمین کاایک جھٹکا،ہوا کاایک شدید جھونکا، پانی کاطوفان اور آگ کے بے قابو شعلے آن کی آن میں انسان کو بے بس کردیتے ہیں اور اس کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو ناکارہ کردیتے ہیں اور ثابت کردیتے ہیں کہ انسان محتاج ہے اللہ کا۔ اُسے اس سے مانگنے کی ضرورت ہے اور اس کے درکا بھکاری ہے ، وہ اس سے دعائیں کرنے، التجا کرنے کے لیے مجبور ہے۔

اللہ کے تمام بندوں نے اپنی خداداد بصیرت سے کام لے کر، اس حقیقت کو پالیاتھا، کہ انسان بندہ ہے اور اللہ کی عبادت اور بندگی ہی راہ حق ہے۔ اس لیے انھوں نے ہمیشہ، اپنے قول وعمل دونوں سے انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ کائنات پر اقتدار صرف اللہ کا ہے۔ اسباب پر صرف اللہ تعالیٰ کو غلبہ اور اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے اللہ ہی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ ہی سے دعائیں اور التجائیں کرناچاہیے، اللہ ہی کے آگے رونا اور گڑگڑانا چاہیے۔ کیونکہ وہی دعائیں سننے والا ہے۔ صرف وہی مشکلیں حل کرنے والا ہے۔ صرف وہی حامی و ناصر ہے۔ صرف وہی فریاد رس ہے، صرف وہی حاجت روا ہے، اس کے سوا کوئی دعائیں سننے اور قبول کرنے والا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی مشکل کشا، حاجت روا نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی فریاد رس بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ کائنات پر، اقتدار اور اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اسباب پر غلبہ اور تسلط صرف اللہ کو حاصل ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کی ان دعائوں سے ایک اورحقیقت واضح طورپر ثابت ہورہی ہے کہ دعائوں میں کسی کو واسطہ اور وسیلہ نہیں بنانا چاہیے۔ بل کہ کسی کو واسطہ اور وسیلہ بنانا، اللہ کو اپنے سے دور سمجھنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کسی انسان کو وسیلہ بنانے کایہ مطلب ہوگاکہ اللہ تعالیٰ ان راجوں اور مہاراجوں اوردنیا کے حکمرانوں کی طرح مغرور اور بُرا ہے جو کسی کی التجا سنتے ہی نہیں، جب تک سازشیں نہ ہوں، جب تک کہ رشوتیں نہ دی جائیں، جب تک وسیلے اور ذریعے اختیار نہ کیے جائیں۔ حالاں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اپنی مخلوق پر انتہائی شفیق اور مہربان ہے۔ سب کی سنتاہے اور بلاواسطہ اور بغیر وسیلہ سنتاہے۔ اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی تمام دعائوں میں براہ راست اللہ کو پکارا ہے اور کسی کو وسیلہ نہیں بنایاہے، کسی کو واسطہ نہیں بنایا، کسی کی جاہ اور مرتبے اور طفیل کے ذریعے دعا نہیں کی۔ آئیے دیکھیں ابراہیم علیہ السلام نے کیا کیا دعائیں مانگیں۔

ابراہیم علیہ السلام کی دس دعائیں

۱- اے پروردگار! اس شہر کو پُرامن بنادے۔ ۲-اے پروردگار! مجھے بتوں کی عبادت اور پوجا سے بچالے، ۳-اے پروردگار! میری اولاد کوبتوں کی پوجا اور عبادت سے بچالے، ۴-اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے گھر کے پاس بسادیاہے ، تاکہ وہ نماز قائم کریں اور تیرے گھر کو آباد رکھیں، مگر یہ وادی بے آب وگیاہ ہے، بن کھیتی کی زمین ہے اور انسان رزق کا کیڑا ہے اس لیے تو انھیں پھلوں کا رزق دے، ۵-اور لوگوں کو ان کی طرف مائل کردے، لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیداکردے اور ان کے دلوں کو ان کی طرف راغب کردے، ۶-اے پروردگار! مجھے نماز قائم کرنے والا بنادے، ۷-اے پروردگار! میری اولادکو نماز قائم کرنے والا بنادے، ۸-اے پروردگار!میری دعائوں کو قبول فرمالے، ۹-پروردگار! مجھے اور میرے ماں باپ کو بخش دے اور ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال دے اور ۰۱-پروردگار! تمام ایمان والوں کو بخش دے اور اُن کے گناہوں پر پردہ ڈال دے۔

ان دعائوں میں سب سے زیادہ جوبات پُرکشش اور توجہ طلب ہے ، وہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ہر دعا میںاللہ تعالیٰ کو اُس کی صفت ربوبیت کے ذریعے پکارا ہے اور’ربنا‘ ’ربنا‘ کہہ پکارا ہے۔ چوں کہ تو ہمارا رب ہے، ہمارا پالنہار اور پروردگار ہے، ہماری ساری ضرورتیں پوری کرنے والا ہے، داتا! اس لیے دے دے ہماری دعاقبول فرمالے، چونکہ تو ہمارا ‘رب’ ہے۔ ہماری اور کائنات کی تمام مخلوقات کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔ اس لیے میں تجھ سے اور صرف تجھ ہی سے مانگتا اورالتجائیں کرتاہوں۔ اسی بات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ سے اُس کی صفات کے وسیلے اور واسطے سے مانگناچاہیے، کسی زندہ یا مردہ انسان کے وسیلے اور واسطے سے دعا کرنا قرآن سے ثابت نہیں ہے اور ابراہیم علیہ السلام کی ان دعائوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مخلوق یا ہستی یا چیز چونکہ ‘رب’ نہیں ہے اس لیے کسی غیر اللہ سے دعا مانگنا اور التجائیں کرنا اور کسی کو حاجت روائی، مشکل کشائی، فریادرسی کے لیے پکارنا جائز نہیں ہے۔

پہلی دعا ابراہیم علیہ السلام نے یہ مانگی کہ اے پروردگار! اس شہر کو پُرامن بنادے۔ یہاں انسانی جان، انسانوں کامال، انسانوں کی آبرو، انسانوں کاسچا دین و مذہب اور عقیدہ اور سچے دین پر عمل کرنے کا حق اور اس کی دعوت و تبلیغ کے مواقع سب محفوظ رہیں اور یہاں ایسا ماحول اور معاشرہ قائم ہو، جس میں انسانی حقوق محفوظ ہوں اور محفوظ رہیںاور یہاں ایسا اسٹیٹ اور نظام حکومت قائم ہو اور برقرار رہے، جس میں انسانی حقوق محفوظ ہوں اور محفوظ رہیں اور نظام حکومت ایسا ہو جو لوگوں کی جان ومال اور آبرو اور سماجی حقوق، معاشی حقوق ، انفرادی اور اجتماعی عدل وانصاف اور ہر قسم کے حقوق وفرائض کی نگراں، محافظ اور پاسباں ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی انسانیت کا، اس کی شرافت کا، اس کے دین ومذہب کا اور اس کے بنیادی حقوق کا تحفظ، امن و امان کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ابراہیمؑ  نے سب سے پہلے یہی دعا مانگی۔ دین اسلام کی نگاہ میں امن وامان، عدل وانصاف اور مساوات اور سکون و عافیت جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی جس قدر اہمیت ہے، اس کااندازہ ابراہیمؑ  کی اس دعا سے کیاجاسکتا ہے۔ اسلام کی نگاہ میں امن وامان کی یہ اہمیت اس لیے ہے کہ دنیا اور دین کاکوئی کام بھی امن وامان کے بغیر حسن وخوبی کے ساتھ انجام نہیں دیاجاسکتاہے۔

ابراہیم علیہ السلام نے دوسری دعا یہ مانگی کہ پروردگار! مجھے بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں کو میں بتوں کی پوجا کرنے لگوں۔ ابراہیم علیہ السلام اور پیغمبر نبوت سے پہلے بھی، کفرو شرک، الحاد اور بت پرستی اور کسی بھی غیراللہ کی پرستش سے محفوظ رہے۔ اللہ ان کی خودنگرانی اور تربیت فرماتارہا اور نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد تو اس کاکوئی سوال پیدانہیں ہوتا۔ لیکن اللہ کے نبیوں سے زیادہ کوئی بھی انسان کمزوریوں اور بشریت کے نقائص سے اور اللہ تعالیٰ کی عظمتوں سے واقف نہیں ہوسکتا۔ حقیقت اور حق کاجس قدر عرفان انبیائ علیہم السلام کو ہوتا ہے، اس قدر کسی اور کونہیں ہوسکتا۔

اس لیے ابراہیمؑ  نے اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کی کہ پروردگار! مجھے محفوظ رکھ میں کہیں بت پرستی میں مبتلا نہ ہوجائوں۔ اِس سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ شرکت اور کسی بھی غیراللہ کی پرستش کی انبیائ علیہم السلام کی نگاہ میں،کس قدر قباحت ہے کہ وہ اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ شرک، بت پرستی وغیرہ غیراللہ کی عبادت اور پرستش کی انبیائ علیہم السلام کی نگاہ میں اس قدر خطرناک ہے کہ وہ غیراللہ کی عبادت اورپرستش سے دوسروں ہی کو نہیں قبیح اور خطرناک شمار کرتے، بل کہ خود اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لے اس سے محفوظ رہنے کی دعا اور التجا کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بھی دعا مانگی کہ اللہ مجھے اور اولاد کو بھی بت پرستی اور غیراللہ کی عبادت سے محفوظ رکھ!

کھانا، پینا،پہننا، اوڑھنا، گھر مکان، دوا، دارو، امن وامان اور سکون وعافیت ، عدل وانصاف، مساوات اور بابری، آزادی رائے اور آزادی مذہب اور عقیدے کے مطابق عمل کرنے کے مواقع اور دوسری بنیادی ضروریات کی اہمیت، اسلام اس قدر تسلیم کرتاہے، جس قدر واقعی ضروری ہے۔ اسی لیے جہاں انھوںنے امن وامان کے لیے دعا مانگی اور التجا کی، جہاں بت پرستی سے محفوظ رہنے کی دعا مانگی اور التجا کی، وہاں انسان کی بنیادی ضرورت، کھانے اور غذا کی اہمیت کے پیش نظر، اس کی بھی دعا مانگی۔ کیوں کہ اسلام نظریاتی اور جذباتی دین نہیں ہے۔ بل کہ وہ حقائق اور واقعات کو تسلیم کرتاہے اور ان کی اہمیت کو صرف محسوس ہی نہیں کرتا،بل کہ تسلیم بھی کرتاہے۔ انسان مدنی الطبع واقع ہوا ہے۔ فطرتاً اس میں انس ،محبت اور اجتماعیت پائی جاتی ہے۔ وہ وحشی جانوروں کی طرح، جنگلوں، بیابانوںاور غاروں میں اور ویرانوں میں نہیں رہ سکتا اور اگر رہے گا تو اپنی انسانیت سے محروم ہوجائے گا۔ اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے ایک انتہائی عظیم مقصد کے تحت اپنی اولاد کے ایک حصے کو صحرا اور ویرانے میں اللہ کے گھر کے پاس بسا دیا، تاکہ و ہ نماز قائم کریں۔ مگر وہ ہمیشہ تو اس طرح نہیں رہ سکتے تھے ۔جس مقصد کے تحت اللہ کاگھر تعمیر کیا گیاتھا اور اپنی اولاد کو بے آب وگیاہ وادی میں بسایاتھا، وہ لانگ ٹرم پلان اور طویل منصوبہ انسان کی ہدایت اور عالم گیر اسلامی مشن سے متعلق تھا۔ وہ منصوبہ انسانوں کے بغیر پورا نہیں ہوسکتاتھا۔ اقامتِ صلوٰۃ کی بھی غرض وغایت صرف انفرادی تربیت سے ہی پوری نہیں ہوسکتی تھی، جب تک اس کے ذریعے، دوسروں کی تربیت کااہتمام نہ کیاجائے۔

غرض کہ بیت اللہ کی تعمیر کے مقاصد سے رغبت پیداکرنے کی دعا بھی مانگی، بت پرستی اور شرک سے محفوظ رہنا، ایک منفی ہدف ہے اور توحید کا جھنڈا بلند کرنا اور صرف خدا کی عبادت اور بندگی کرنا، اسلام کی سربلندی کے لیے بیت اللہ کی تعمیر اور نماز کی اقامت مثبت اہداف اور مقاصد تھے۔ ان کے لیے بھی دعا و ضروری تھی۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی کہ لوگوںکے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔

اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اُس کا داعی، انتہائی مخلص، سچا اور بے لوث ہوتاہے۔ وہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے مضر،خطرناک اور مہلک سمجھتاہے، ان کو اپنے لیے بھی مہلک سمجھتاہے اور ان سے اسی طرح بچتاہے جس طرح سانپ اور آگ سے لوگ بچتے ہیں۔ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے مفید، بہتر اور حیات بخش سمجھتاہے۔ اُن عقائد، نظریات اور نظام فکر عمل کو اور اعمال و احکام کو، اپنے لیے بھی ضروری خیال کرتاہے، بل کہ اُن کو عملاً اختیار کرتاہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے اقامتِ صلاۃ کی غرض سے اپنی اولاد کو، اللہ کے محترم گھر کے پاس بسایاتھا۔ تاکہ وہ اُس کے ذریعے اپنی تربیت کریں اور دوسروں کی تربیت کا بیڑا اٹھائیں تو اُس کے واسطے اپنے لیے بھی دعا کی کہ اگرچہ آج میں اقامت صلوٰۃ کاحق ادا کررہاہوں لیکن آئندہ بھی اس کی توفیقات عطا فرما اور مستقل طورپر مجھے اقامت صلوٰۃ ادا کرنے والا بنادے اور اگر آج اقامت صلوٰۃ میں کچھ کوتاہیاں ہوںتو بھی دور فرمادے۔

انبیائ علیہم السلام اور دیگر داعیان اسلام کی صداقت اور سچائی کا یہ بھی ثبوت ہے کہ وہ جس فکر وخیال اور عقیدہ و مذہب کی او ر فکر وعمل کی اور جس دین و شریعت کی دوسروں کو دعوت دیتے ہیں اسی کو اپنی اولاد اور نسل کے لیے بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتا اور ہمیشہ یہی چاہتاہے کہ میری اولاددین ودنیا ہر اعتبار سے کامیاب وکامران بنے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے نماز قائم کرنے والا بنانے کی جو دعا اپنے لیے کی، وہی اپنی اولاد کے لیے بھی کی۔ اقامت صلوٰۃ ایک ایسی عبادت اور ذریعہ تربیت ہے کہ اقامت دین کافریضہ اقامت صلوٰۃ کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ کیوں کہ نماز انسان کے ذہن و فکر اور عقیدہ وخیال اسلامی بناتی ہے۔ آدمی کے اخلاق و عادات اور اس کے کردار و سیرت کو اسلامی بناتی ہے۔ اس کی معاشرت اور اس کے سماجی تعلقات، معاملات اور اس کے مشاغل ، اس کی مصروفیات اور طورطریقوں کو اسلامی بناتی ہے۔نماز آدمی کو کمائی کے حرام ذرائع سے بچاتی اور محفوظ رکھتی ہے۔ نماز آدمی کو حرام اور ناجائز جگہوں میں اور ناجائز طریقوں سے خرچ کرنے سے روکتی اور باز رکھتی ہے۔ غرض کہ نماز ہرقسم کی ذہنی، اخلاقی معاشرتی اور سیاسی خرابیوںسے بچاتی ہے۔ مگر یہ سب اسی وقت ہوتاہے، جب نماز کاحق ادا کیاجائے یہ صرف پڑھی نہ جائے۔ بل کہ قائم کی جائے۔ اسی لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے بھی، نماز قائم کرنے والی اولاد بنانے کی دعا مانگی۔ دعائیں اور التجائیں کرنا اور اللہ تعالیٰ کو حل مشکلات کے لیے پکارناجس قدر ضروری ہے اسی قدر یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ ہی سے دعائیں قبول کرنے کی بھی التجا کی جائے۔ سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا سنت ہے۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتاہے کہ قبولِ دعا کی بھی التجا اللہ ہی سے کرنا چاہیے۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ بھی دعا کی تھی کہ میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی بخش دے۔ اصل مسئلہ آخرت ہی کاہے۔ اسی لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنے والدین کی مغفرت کی دعا کی اور جب ان کو معلوم ہواکہ ان کا باپ اللہ کا دشمن تھا تو آپؑ  نے باپ کے دعا کرنے سے تبّری کا اظہار کیا۔

اللہ کے سچے اور اطاعت گزار بندے خصوصاً اللہ پیغمبرخود غرض نہیں ہوتے، وہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ کافروں کے لیے ہدایت کی اور مومنوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔اللہم اغفرلی ولحمیع المؤمنین و المؤمنات۔ آمین

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau