مادہ پرستی کے ماحول میں باصلاحیت افراد کی تیاری

موجودہ دور مادہ پرستی، کیریئرازم، انفرادیت اور شدید مسابقت کا دور ہے۔  ایک نوجوان کی کام یابی کا معیار اس کی آمدنی، ملازمت، عہدہ اور مادی آسائشیں سمجھی جا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں دینی اور تحریکی کام کے لیے باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سماج میں مؤثر افراد کو تیار کرنا اور انھیں کسی اسلامی تحریک سے وابستہ کرنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ آج             تحریک اسلامی کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنے لیے نئی، باصلاحیت اور باکردار قیادت کیسے پیدا کرے۔

یہ احساس بہت سے لوگوں کا ہے کہ تحریک کے ذمہ داران اور کارکنان اخلاص کے ساتھ محنت تو کر رہے ہیں۔ میٹنگیں ہوتی ہیں،تنظیمی دورے کیے جاتے ہیں، تربیتی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور مختلف پروگرام بھی ہوتے ہیں، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود معاشرے کے ممتاز، اعلیٰ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور با اثر نوجوان بڑی تعداد میں تحریک سے وابستہ نہیں ہو رہے ہیں۔ اگر چند افراد متوجہ بھی ہوتے ہیں تو ان میں سے اکثر معاشی، سماجی، علمی یا فکری اعتبار سے مضبوط پس منظر نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے معاشرے میں ان کا اثر محدود رہتا ہے۔

ایک اور قابل توجہ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض کارکنان کا مطالعہ محدود اور غیر منظم ہوتا ہے۔  اس کے نتیجے میں وسعت نظر پیدا نہیں ہو پاتی، اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا مزاج کم زور ہو جاتا ہے اور یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ صرف ہماری رائے ہی درست ہے۔ یہ رویہ دعوت کے دروازے کھولنے کے بجائے انھیں بند کر دیتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے کارکنان کی عملی زندگی میں تحریک اسلامی کی مطلوبہ صفات معیارِ مطلوب پر نظر نہیں آتیں۔ نمازوں کی پابندی، قرآن مجید سے تعلق، مسلسل مطالعہ، حسن اخلاق، خوش لباسی، نفاست، وقت کی پابندی، مسجد سے وابستگی اور سماجی خدمت جیسی بنیادی صفات اگر کم زور ہوں تو دعوت کا اثر بھی کم زور پڑ جاتا ہے۔  لوگ سب سے پہلے کردار کو دیکھتے ہیں، اس کے بعد گفتگو کو سنتے ہیں۔ اگر داعی خود اپنی زندگی سے متاثر نہ کر سکے تو اس کی دعوت بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دعوت کے طریقہ کار میں بھی عملی تبدیلی لائی جائے۔ محض روایتی پروگراموں سے آگے بڑھ کر معاشرے کے مؤثر طبقات تک مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ پہنچنا ہوگا۔

اس سلسلے میں چند عملی اقدامات نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ہر شہر اور قصبے میں ممتاز ڈاکٹروں، انجینئروں، پروفیسروں، وکلا، تاجروں، صنعت کاروں، سول سروس کے افسران، اساتذہ، صحافیوں اور دیگر با اثر افراد کی فہرست تیار کی جائے۔ ان سے صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ مسلسل ملاقاتیں کی جائیں، انھیں جماعت کے تعارف پر مشتمل معیاری لٹریچر دیا جائے، ان کے خیالات سنے جائیں اور مناسب مواقع پر خصوصی مہمان یا مقرر کی حیثیت سے مدعو کیا جائے۔ عزت و احترام کا رویہ دلوں کو قریب لاتا ہے۔

اسی طرح شہر کے ممتاز اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے مضبوط تعلقات قائم کیے جائیں۔  صحت سے متعلق کیمپ، سیمنار، خون کے عطیے کی مہم اور دیگر سماجی خدمات میں انھیں شریک کیا جائے۔ اس سے نہ صرف خدمت خلق کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ معاشرے کے با اثر طبقے سے بھی مضبوط تعلق قائم ہوگا۔

اسی کے ساتھ ان خاندانوں کے بچوں کی تعلیم، کیریئر اور رہ نمائی کے معاملات میں بھی تعاون کیا جائے۔ اگر کوئی طالب علم کسی دوسرے شہر میں تعلیم یا کوچنگ کے لیے جا رہا ہو تو وہاں رفقائے تحریک سے اس کا تعارف کرایا جائے تاکہ اس کی اخلاقی اور دینی رہ نمائی بھی ہوتی رہے۔ اس طرح اعتماد اور تعلق دونوں مضبوط ہوں گے۔

تعلیمی اداروں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ شہر اور قصبے کے بہترین اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں علمی مقابلے، مضمون نویسی، تقریری مقابلے، کیریئر گائیڈنس پروگرام، شخصیت سازی کی ورکشاپ، کتاب میلے اور اخلاقی تربیت کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں سے مسلسل تعلق قائم کیا جائے۔ یہی نوجوان مستقبل کی قیادت بن سکتے ہیں۔

طلبہ اور طالبات کے درمیان منظم دعوتی اور فکری کام کو تحریک کی اولین ترجیح بنایا جائے۔  صرف عمومی اجتماعات کافی نہیں بلکہ مختلف شعبوں کے طلبہ کے لیے الگ منصوبے، مطالعہ جاتی حلقے، رہ نمائی نشستیں اور انفرادی ملاقاتوں کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔

اس کے ساتھ کارکنان کی ذاتی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ہر کارکن کی نماز، قرآن، مطالعہ، علمی ترقی، اخلاق، دعوتی صلاحیت، سماجی تعلقات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔ ایک ایسا کارکن جو عبادت گزار، خوش اخلاق، باعلم، خوش سلیقہ، وقت کا پابند اور اپنے پیشے میں کام یاب ہو، وہی معاشرے میں تحریک کا حقیقی نمائندہ و ترجمان بن سکتا ہے۔

دعوت کا انداز بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان محض جذباتی تقاریر سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ دلیل، مکالمہ، علمی گہرائی، عملی نمونہ اور معاشرے کے مسائل کے حل کی صلاحیت کو دیکھتا ہے۔  لہٰذا ہماری گفتگو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق، مثبت، علمی اور حکمت پر مبنی ہونی چاہیے۔

یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ باصلاحیت افراد کسی تحریک کی طرف اس وقت متوجہ ہوتے ہیں جب انھیں وہاں اعلیٰ کردار، علمی وقار، فکری وسعت، خدمت خلق، باہمی محبت، شفاف نظام اور مستقبل کا واضح وژن نظر آئے۔ اگر تحریک کے کارکن خود ان صفات کا عملی نمونہ بن جائیں تو معاشرے کے بہترین لوگ خود بخود اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔

یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر تحریک کے کارکنان روایتی سرگرمیوں کے ساتھ ان عملی اقدامات کو مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ اختیار کریں، معاشرے کے باصلاحیت طبقے سے مسلسل روابط قائم کریں، طلبہ و نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیں، کارکنان کی شخصیت سازی کو اولین ترجیح بنائیں اور دعوت کو اعلیٰ کردار کے ساتھ پیش کریں تو چند برسوں میں اس کے خوش گوار نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔ ان شاءاللہ تحریکِ اسلامی کو ایسی نئی نسل میسر آئے گی جو علمی اعتبار سے مضبوط، اخلاقی اعتبار سے بلند، معاشرتی اعتبار سے مؤثر اور دعوت دین کی حقیقی امین ہوگی۔

آخری بات یہ ہے کہ اس کے لیے سخت محنت، منظم پروگرام اور منصوبہ بند جدو جہد کرنی ہوگی۔ ایک ایک فرد کے ساتھ، ایک ایک مقام پر ذمہ داران کو وقت دینا ہوگا۔ نئے نئے مقامات اور نئے نئے افراد پر توجہ دینی ہوگی۔ جہاں کا سفر ہو، ہفتہ عشرہ پہلے بلکہ مہینہ پہلے آنے کی اطلاع ہو، دورے کا مقصد واضح ہو اور متعین پروگرام، انفرادی ملاقات کی واضح ہدایت ہو۔ اگر کسی مقام پر کارکنان کام نہیں کر پا رہے ہیں تو ان کو ساتھ لے کر عملاً ملاقاتیں اور گفتگو کر کے عملی نمونہ پیش کریں تو ان کو حوصلہ ملے گا اور کام کرنے کا سلیقہ بھی معلوم ہوگا۔ اگر آپ صرف ایک ہی مقام پر بار بار دورہ کر رہے ہیں اور ایک دو پرانے تحریکی افراد سے ملاقات کر کے واپس آ جا رہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ چار چھ آٹھ سال میں بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے آپ کو اس مقام پر خود ڈیرہ ڈالنا ہوگا۔  اگر قیام و غیرہ کی سہولت نہیں ہے تو خود اس کا اہتمام کرنا ہوگا۔  فلائنگ وزٹ سے کام نہیں ہو سکتا۔  ذمہ دار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صرف اسٹیج پر آئے، تقریر کرے اور مخصوص افراد سے ملاقات کر کے رخصت ہو جائے۔  بلکہ لوگوں کے درمیان وقت دینا ہوگا، ان کی باتوں کو سننا ہوگا اور ان کے ساتھ گھلنا ملنا ہوگا تب تعلق قائم ہوگا اور وہ تحریک اسلامی کا اثاثہ بنیں گے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مادہ پرستی کے ماحول میں باصلاحیت افراد کی تیاری

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223