صدارتی تبصرہ

سید سعادت اللہ حسینی

اسلامی تحریک میں اداروں کی اہمیت تین پہلوؤں سے ہے۔ ان پہلوؤں پر اس مذاکرے میں اشارات آچکے ہیں۔ اول یہ کہ جس طرح انفرادی زندگی سے متعلق اسلام کی عملی شہادت کا ذریعہ تربیت یافتہ افراد کی زندگیاں ہوتی ہیں، اجتماعی زندگی سے متعلق اسلام کی عملی شہادت کا اہم ذریعہ ادارے ہوتے ہیں۔ ادارے نہ ہوں تو اسلامی اجتماعیات کے عملی نمونوں کی شہادت ممکن نہیں رہتی۔ دوسرے یہ کہ اقامت دین افراد کے ارتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل تینوں مقاصد کے مجموعے کا نام ہے۔ معاشرہ جن چیزوں سے مل کر بنتا ہے ان میں افراد کے ساتھ ساتھ ادارے اور روایتیں اہم عناصر ہوتے ہیں۔ اداروں کو درست رخ دیے بغیر اور مثالی اداروں کی نشو و نما کے بغیر معاشرے کی تعمیر ممکن نہیں ہے جو اقامت دین کا اہم جز ہے۔ اس لیے ادارے اقامت دین کے مقصد سے راست تعلق رکھتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ موجودہ دور میں ادارے قوت و طاقت کا اہم مرکز ہیں۔ اب سول سوسائٹی کو مقنّنہ، عاملہ اور عدلیہ کے ساتھ ایک اسٹیٹ (estate)تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ جو تحریک زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے وہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام اسلامی تحریکیں بلکہ تمام نظریاتی تحریکیں اداروں کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔

اسی میں اس بات کا جواب موجود ہے کہ ادارے کب نامطلوب ہوجاتے ہیں یا تحریک کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں؟ ادارے اس وقت بوجھ بن جاتے ہیں جب مذکورہ بالا اصل مقاصد کو نظر انداز کرکے محض اداروں کے قیام یا ان کے ‘حسن انتظام’ کو مقصد بنالیا جاتا ہے۔ اداروں کو تحریک کے اصل مقصد کے تابع یعنی اسلام کی عملی شہادت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اصل مقصد کی متابعت ہوگی اور مقصد کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی تو توازن خود بخود قائم ہوجائے گا۔ استعداد سے زیادہ اداروں کا بوجھ نہیں لاد لیا جائے گا۔ تحریک کی دعوت میں توسیع اور افرادی قوت میں اضافے کو ہمیشہ اداروں کے قیام و انتظام پر ترجیح دی جائے گی۔ اداروں کے نظم و انتظام میں عام تجارتی و انتظامی اصولوں کے بجائے اسلامی اخلاقیات کو اصل فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگی۔

اسی سے خود بخود تیسرے اہم سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے یعنی تحریکی قائدین کا رول کیا ہو اور ماہرین کا رول کیا ہو؟ ادارے تحریک کے مقاصد کے تابع ہیں اس لیے لیڈرشپ یعنی اداروں کے رخ، ان کے فلسفے، وژن، مقاصد کا تعین یہ تحریکی قیادت کا کام ہے۔ جب کہ تکنیکی و انتظامی امور یہ ماہرین کا کام ہے۔ ادارے کو کیا کرنا چاہیے؟ اسے دیکھنا قیادت کا کام ہے اور جو کچھ کرنا ہے وہ کیسے کرنا ہے؟ اسے دیکھنا ماہرین کا کام ہے۔ جب تحریک کے ذمہ دار افراد کی دل چسپی اور مداخلت، ادارے کے مقاصد اور اس کے مجموعی رخ کے بجائے روز مرہ کے انتظامی امور میں بڑھ جاتی ہے تو مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔

ایک اہم بات جو اس بحث میں نہیں آئی ہے وہ یہ ہے کہ تحریکیں صرف اپنے زیر انتظام اداروں پر توجہ نہیں دیتیں بلکہ معاشرے کے تمام اداروں کو درست رخ دینے کی ممکنہ کوشش کرتی ہیں۔ قلعے بنانے سے زیادہ ان کی دل چسپی قلعے فتح کرنے میں ہوتی ہے۔ وہ بڑے دل کے ساتھ معاشرے میں موجود ہر ادارے کو اپنا سمجھتی ہیں، اسے گلے سے لگاتی ہیں، اپنالیتی ہیں اور انتظامی بکھیڑوں میں الجھے بغیر اور اختیارات اور انتظامی طاقت کو دوسروں کے ہاتھ میں رہنے دے کر، صرف اس کے رخ، سمت اور مقاصد کو درست کردیتی ہیں۔

دنیا کی نظریاتی تحریکوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو تحریکیں کام یاب رہی ہیں ان کی اہم خصوصیت اجنبی اداروں کو اپنالینے اور ان پر اثر انداز ہونے کی ان کی صلاحیت رہی ہے۔ یہ صلاحیت اداروں کی بڑی تعداد کو، انتطامی ذمے داری اور انتظامی مسائل کی الجھنوں کے بغیر، تحریکی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بناتی ہے۔ اس طرح صحیح معنوں میں پورے معاشرے کی تعمیر میں تحریک رول ادا کرنے لگتی ہے۔ شاید ہم نے اس صلاحیت کا مظاہرہ بہت کم کیا ہے بلکہ اپنے اداروں کو بھی یا تو گنواتے رہے یا اصل مقاصد پر قائم نہیں رکھ سکے۔ اس کی اصل وجہ لیڈرشپ سے زیادہ مینیجمنٹ، یعنی روزمرہ کے انتظامی امور میں دل چسپی کا رجحان ہے۔

اسی طرح تحریکیں افراد کو تیار کرتی ہیں اور ان کی ہمت افزائی کرتی ہیں کہ وہ آزاد ادارے قائم کریں اور چلائیں۔ تحریکوں میں ان کے راست زیر انتظام ادارے بہت کم ہوتے ہیں۔ اصلًا تحریکوں کے افراد ادارے چلاتے ہیں اور تحریکیں ان کی رہ نمائی کرتی ہیں اور ان کا تعاون کرتی ہیں۔ اخوان ہو یا ہمارے ملک میں سنگھ ہو، ترکی کی تحریک ہو یا کمیونسٹ تحریکیں ہوں، ان سب نے افراد تیار کیے اور ان افراد نے طرح طرح کے ادارے آزادانہ قائم کیے اور چلائے۔ اس صورت میں بھی تحریک کی قیادت کو یہ موقع حاصل رہتا ہے کہ وہ انتظامی الجھنوں میں پڑے بغیر محض افراد کی تربیت و رہ نمائی کے راستے ان کے اداروں کے ذریعے تحریکی مقاصد حاصل کرسکیں۔ یہ صورت پیدا ہوجائے تو بڑی تعداد میں تحریکی مقاصد کے لیے اداروں کا کارگر ہونا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس صلاحیت کو بھی ہمیں اپنی تحریک میں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

خلاصہ یہ کہ ادارے بہت ضروری ہیں لیکن اداروں سے تحریک کا تعلق کیا ہو اور اداروں کو کیسے چلایا جائے، اس حوالے سے ہمیں اپنے رویوں میں بہت سی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

فروری 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau