- کیا کبھی آپ نے رات کے اندھیرے میں سوتے وقت یہ سوچا ہے کہ میرا بچہ باہر کی دنیا کے فتنوں سے کس قدر محفوظ ہے؟
- کیا کبھی دل میں یہ خوف جاگا ہے کہ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی، بدلتے نظریات، اور بے لگام ماحول میں ایک بچے کو سیدھے راستے پر رکھنا کتنا مشکل ہو چکا ہے؟
- اور کیا آپ نے خود سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنے بچے کو برائی، گمرہی، بے راہ روی اور وقت کے فتنوں سے کیسے بچاؤں؟
آج کا ترقی یافتہ دور فتنوں کو ہر جگہ مہیا کرتا ہے۔ آج فتنہ صرف گلیوں میں نہیں، کھلونوں، موبائل گیموں، کارٹونوں، سوشل میڈیا، پوسٹروں، ماحول، معاشرے اور دوستوں کی شکل میں بھیس بدل بدل کر بچے کے سامنے آتا ہے۔
فتنہ کیا ہے؟
فتنہ ہر وہ چیز ہے جو معصوم ذہن کو غلط سمت میں موڑ دے، جو ایمان، اخلاق اور کردار کو کمزور کردے، جو بچے کے اندر سے معصومیت چھین لے اور جو بنیاد ہی کو زنگ لگادے۔ والدین کے دل میں سب سے بڑا خوف یہی ہونا چاہیے کہ
” کہیں میرا بچہ غلط ہاتھوں میں نہ چلا جائے، غلط راستے پر نہ لگ جائے، اور کہیں وہی چیزیں اس کی شخصیت کو بگاڑ نہ دیں جن کے بارے میں وہ خود سمجھ بھی نہیں پاتا۔“اور بس یہی فکر ہر سمجھدار والدین کو جگائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ مضمون اسی لیے ہے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ فتنہ کیسے بچوں تک پہنچتا ہے، اور ایک باشعور والدین کی طرح آپ اپنے بچے کو اس کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آخر اصل ذمہ داری روٹی ،مکان، کپڑا نہیں ہے بلکہ کردار کی، ایمان کی اور مستقبل کی حفاظت ہے۔
بچے فتنے کی طرف مائل کیوں ہوتے ہیں؟
والدین اگر بچوں کی فتنے سے حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ بچے اس راہ پر جاتے کیوں ہیں، ان کی کیا سوچ ہوتی ہے، وہ کونسا مرحلہ آتا ہے جب بچے گمراہ ہوسکتے ہیں۔
(۱) بچہ تجسس (Curiosity) کی فطری جِبلت کی وجہ سے فتنے کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ وہ فطرتاً ہر چیز جاننا چاہتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیسا ہے؟ کیوں ہے؟ بس یہی تجسس کبھی کبھی اسے غلط سمت میں لے جاتا ہے۔
(۲) جو بچے کمزور ہوں اور ان میں خود اعتمادی (Low Self-esteem) کی کمی ہو وہ آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ فیصلہ لینے میں ماہر نہیں ہوتے ہیں کہ کیا مناسب ہے اور کیا مہلک ہے۔
(۳) غلط دوستی میں پڑ کر بھی بچے بری باتیں سیکھتے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، دیر رات تک باہر آوارہ گردی کرنا، بدزبانی کرنا، فحاشی، بے حیائی، نشہ وغیرہ۔ غرض بری صحبت میں بچے بہت آسانی سے بگڑ جاتے ہیں۔
(۴) جب بچے کے پاس تعمیری کاموں کی مصروفیات نہ ہوں اور اس کا بہت سا وقت بے کار گزرتا ہو تو شیطان کے ہتھکنڈوں کا شکار ہوجاتا ہے۔
(۵) گھر میں بدمزاجی کا ماحول ہو تو سکون میسر نہیں رہتا اور بچے خوشی حاصل کرنے کے لیے اسکرین کا سہارا لیتے ہیں۔
(۶) حد سے زیادہ روک ٹوک کرنے سے بچوں میں بغاوت کا جذبہ ابھرتا ہے اور وہ ان کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جن سے منع کیا گیا ہو اور اس طرح ممنوع کاموں کے ارتکاب میں انھیں بہادری اور مہم جوئی کا لطف ملتا ہے۔
(۷) ٹیکنالوجی ،اسمارٹ فون ، سوشل میڈیا، گیم اور انٹرنیٹ کا بنا کسی پابندی کے بے روک استعمال بچوں کو فتنے کی راہ پر ڈالتا ہے کیونکہ انہیں صحیح غلط کا فرق نہیں معلوم ہوتا اور فحاشی، تشدد اور گندی زبان یہ سب بس انگلی کے ایک ٹچ سے سامنے اسکرین پر آ جاتا ہے۔
(۸) جب والدین بچوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتے اور بچوں کی ضرورتوں سے لاعلم ہوتے ہیں، چاہے والدین بچوں کو اسکول، خادمہ یا رشتے داروں اور اسکرین کے حوالے کردیں۔ ایسے بچوں میں گہرا خالی پن اتر جاتا ہے اور وہ بھٹک سکتے ہیں۔
(۹) اگر کسی بچے کو ڈانٹا اور پیٹا جائے، اسے دوسرے بچوں یا لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے، اور اپنوں کے ہاتھوں بچے سے عزت چھن جائے تو بچہ اعتماد کھو دیتا ہے اور اس کا کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ مگر ضروری کام تو اسے کرنے ہی ہوتے ہیں، اس لیے بچے کا ذہن وقتی طور پر صدمہ بھلانے کے لیے سکون کا سامان چاہتا ہے اور یوں بچہ نشے کی طرف بڑھتا ہے۔ نشہ کا مطلب صرف شراب، سگریٹ یا ڈرگس نہیں ہے۔ ایسی کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے جو بچہ اپنی ٹینشن کو کم کرنے کے لیے اور اپنے کاموں کی خاطر ذہنی توانائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہو جیسے بار بار چائے یا کافی پینا۔
(۱۰) اگر کسی بچے نے کم سنی میں کوئی ایسا منظر دیکھ لیا ہو جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے تھا، یا کسی نے کمسن بچے کے ساتھ زبردستی کچھ کرنے کی کوشش کی ہو، کچھ نامناسب دکھایا ہو یا اس سے کوئی غلط کام کروانے کی کوشش کی ہو، تو ایسی صورت میں بچہ شدید اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے۔ چونکہ وہ کمسن ہوتا ہے، اس کا ذہن معصوم ہوتا ہے اور اس کا اعصابی نظام ابھی ایسے معاملات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کا تجسس، ذہنی الجھن، بے چینی اور اضطراب اسے گمراہی کی طرف بھی ڈھکیل سکتے ہیں۔
(۱۱) جب والدین خود موبائل سے چپکے رہیں، بات بات پر جھوٹ بولیں، غصے میں گالیاں دیں، یا بے حیائی والے ڈرامے دیکھیں اور بچے کو منع کریں تو بچہ کنفیوژن کا شکار ہوتا ہے اور غلط راستہ اختیار کرنا اسے بغاوت نہیں لگتا، بلکہ نارمل لگتا ہے۔
(۱۲) جس گھر میں اپنائیت کم ہو، ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت زیادہ ہو، وہاں بچے نفسیاتی خلا بھرنے کے لیے غلط لوگوں اور غلط عادتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ محبت ہر انسان کی مانگ ہوتی ہے اور ہر انسان کو توجہ بھی چاہیے ہوتی ہے اس لیے بچے بس انھی کی کھوج کرتے ہیں جو انھیں انس اور توجہ دیں۔ پھر انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں کس سے اور کہاں سے ملتا ہے۔
بعض بچوں کو جب یہ محسوس ہوتا ہے وہ گھر والوں کی نظر میں قابل قبول نہیں ہیں تو وہ گھر سے باہر لوگوں (دوستوں) کی نظر میں صرف مقبولیت کے لیے وہ کام کرتے ہیں جو دوستوں میں زیادہ رائج (ٹرینڈ) اور پسندیدہ ہوں اور اس چکر میں وہ غلط راستے پر نکلتے ہیں۔
(۱۳) کچھ بچے اس لیے بھی بگڑتے ہیں کہ ان کے والدین ہر غلطی پر کہتے ہیں ” کوئی بات نہیں، بچہ ہے“ یہ رویہ بچے میں بے خوفی پیدا کرتا ہے اور وہ غلط راستے پر جانے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔
(۱۴) اسلامی تعلیمات، اخلاقیات اور شرم و حیا کی بنیاد اگر گھر میں کمزور ہو تو باہر کا ماحول بچے کو بہت آسانی سے بہا کر لے جاتا ہے۔
بچوں کو فتنوں سے بچانا یہ صرف ایک ذمہ داری نہیں ہے، یہ والدین کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ آج کا دور پہلے سے کہیں زیادہ تیز، کھلا اور خطرناک ہے۔ برائی پہلے ڈھکی چھپی ہوتی تھی، اب ہر گھر میں، ہر موبائل میں، ہر اسکرین پر موجود ہے۔ بچوں کے کانوں تک پہنچنے والی آوازیں، آنکھوں کے سامنے گزرنے والے مناظر، ان کے اندر خاموشی سے کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو فتنے سے بچانے کے لیے والدین کو ممکنہ تدابیر اختیار کرنی ہوں گی اور ان کے پاس بچوں کی بڑھتی عمر کی مناسبت سے منصوبہ بندی بھی ہونی چاہیے تاکہ بچوں کی زندگی بالکل ایک ایسے نظم کے حوالے ہوجائے کہ جہاں فتنوں کی گنجائش نہ ہو اور اگر کوئی برائی ان تک پہنچے بھی تو ان میں اس کی پہچان اور خود کو بچانے کی قوت ہو۔
۱۔ والدین کو اس حقیقت کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار رکھنا چاہیے کہ لاکھ کوششوں اور بہترین تربیت کے باوجود بھی ان کا بچہ کسی نہ کسی برائی یا غلط رویے کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب والدین کو معلوم ہو کہ ان کا بچہ نشہ کرنے لگا ہے، کسی نامناسب تعلق میں الجھ گیا ہے یا کسی اخلاقی گندگی کا شکار ہے، تو فوراً جذبات سے مغلوب ہو کر ڈانٹنا، مارنا یا سخت سزائیں دینا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس موقع پر خود کو حد سے زیادہ ٹینشن میں مبتلا کرنا بھی سود مند نہیں ہوتا۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے بارے میں والدین کو کسی تیسرے انسان سے کچھ معلوم ہوجاتا ہے تب والدین اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اپنے بچوں کی غلطی ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، وہ اس شخص کی نیت پر شبہ کرتے اور خود کو اور دوسروں کو یہی جھوٹی تسلی دیتے ہیں کہ ان کا بچہ ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ جب کہ والدین کو تیسرے انسان کی نیت اور لہجے سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر ہونی چاہیے۔
اصل ضرورت یہ ہوتی ہے کہ والدین پرسکون رہ کر بچے کے اندرونی حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کس محرومی، کس ذہنی دباؤ، کس غلط صحبت یا کس جذباتی کمزوری کی وجہ سے اس گندگی کی طرف گیا؟ جب والدین بچے کی غلطی کو صرف “جرم” کے طور پر نہیں بلکہ “غلطی” کے طور پر دیکھتے ہیں تو اصلاح کے دروازے کھلتے ہیں۔ بچے کو سمجھانے، سنبھالنے اور اس گندگی سے نکالنے کے لیے والدین کو اس کے معاون اور رہنما بننا چاہیے، نہ کہ اس کے دشمن یا سخت ناقد کی طرح اس سے پیش آنا چاہیے ۔
اس مرحلے میں والدین کا پرسکون رہنا، نرمی سے بات کرنا، بچے کو اعتماد دینا اور اس کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہی وہ طریقہ ہے جو بچے کو فتنے سے نکال کر دوبارہ صحیح راستے پر لا سکتا ہے۔
۲۔ والدین کی اچھی اور بری خصلتوں کا بچوں پر گہرا اثر واقع ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ والدین کے مزاج، عادات اور رویے تقلید کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی کے والدین کی پیشہ ورانہ مہارت تدریس کی ہے، تو بچے میں سمجھانے اور پڑھانے کی خوبی منتقل ہو جاتی ہے، وہ بچہ چاہے ٹیچر نہ بنے، مگر اسے چیزوں کو سمجھانا آتا ہے۔ اسی طرح، اگر کسی کے والدین کو نشے کی عادت ہو، تو یہ گندگی بھی بچے میں منتقل ہوتی ہے۔
لیکن اگر والدین اپنی عادتوں کو ترک کرلیں تو بچوں میں اس برائی کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔
اس لیے والدین اپنی وہ عادتیں، جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بری عادتیں ہیں، اچھائیوں سے بدل دیں تاکہ ان کے بچے بھی اچھی عادتوں کی طرف مائل ہوں اور فتنے سے بچ جائیں۔
۳۔ والدین کو اپنی رہائش کی جگہ کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ آیا یہ مقام ان کے بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ یہ دیکھنا بے حد ضروری ہے کہ
- ️آپ کے علاقے کا ماحول کیسا ہے؟
- ️کیا وہاں ایسے عناصر موجود ہیں جو بچوں کی شخصیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں؟
- ️کیا آپ کا بچہ گلی محلے میں، پارکنگ یا کمپاؤنڈ میں کھیلتے ہوئے واقعی محفوظ ہے؟
- ️علاقے میں کس نوعیت کے جرائم ہورہے ہیں؟
- ️ان جرائم میں ملوث افراد کی عمریں کیا ہیں؟
- ️کیا یہ سرگرمیاں بچوں پر برا اثر ڈال سکتی ہیں؟
- ️گلی، اسکول اور ارد گرد کا ماحول کیسا ہے؟
- ️کون سے گھرانوں میں آپ کے بچے کا آنا جانا ہے؟
اگر والدین محسوس کریں کہ ان کا رہائشی علاقہ بچوں کی صحت، ذہنی نشوونما، اخلاقی تربیت یا تعلیمی ترقی کے لیے غیر مناسب ہے، تو اپنی استطاعت کے مطابق بہتر اور محفوظ علاقے میں منتقل ہونے پر غور کرنا چاہیے۔ ماحول انسان کی فطرت اور شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، اس لیے رہائشی جگہ کا صحیح انتخاب بچوں کی تربیت کا لازمی حصہ ہے۔
لیکن اگر کسی وجہ سے والدین گھر تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں، تو انہیں ان باتوں کا خیال کرنا ہوگا۔
- ️بچوں کے آس پاس کے ماحول پر مسلسل نظر رکھیں۔
- یہ جانیں کہ کن بچوں، کن گھروں اور کس گلی میں آپ کا بچہ زیادہ وقت گزارتا ہے۔
- علاقے میں نئی سرگرمیوں، نئے آنے جانے والوں اور غیر معمولی حرکات پر نظر رکھیں۔
- بچوں کو بالکل ہی تنہا باہر نہ چھوڑیں۔
- ️روزانہ ان کی سرگرمیوں کے بارے میں ان سے بات کریں۔
- ان کے دوستوں اور ہم جماعتوں کے بارے میں آگاہ رہیں۔
- انھیں مخصوص مدت تک ہی گھر سے باہر رہنے کی اجازت دیں۔
کبھی کبھار جب بچہ باہر سے گھر میں داخل ہو تو والدین کو چاہیے کہ اس کا جائزہ ضرور لیں۔ کہیں اُس کے کپڑوں یا سانس میں کسی نشے کی بو تو محسوس نہیں ہو رہی، کہیں جسم یا کپڑوں پر کوئی مشکوک نشان، داغ یا چوٹ تو نظر نہیں آ رہی، کہیں اس کے رویے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی تو نہیں۔
یاد رکھیں:
بچوں کی حفاظت کا پہلا قلعہ گھر ہے، اور دوسرا قلعہ وہ ماحول ہے جہاں وہ رہتے اور کھیلتے ہیں۔
اگر والدین ان پر نظر رکھیں اور بروقت اقدامات کریں تو بہت سے فتنوں کے دروازے خودبخود بند ہوجاتے ہیں۔
۴۔ آج کے دور میں بچے ایسے سوالات پوچھنے لگے ہیں جنہیں سن کر والدین پریشان ہوجاتے ہیں بلکہ بسا اوقات غصے میں آجاتے ہیں۔ والدین اکثر سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی بچپن کی عمر میں کبھی ایسے سوالات نہیں کیے تھے، نہ اتنا تجسس تھا، نہ اتنی ہمت کہ بڑوں کے سامنے اس طرح کے سوالات زبان پر لائیں۔ بعض والدین تو آج بھی ایسے سوالات سوچ نہیں سکتے، مگر ان کا بچہ بنا کسی جھجھک کے یہی سوال لے کر ان کے پاس آرہا ہے۔ غور کریں، یہ تو خوش آئند بات ہے کہ بچہ اپنے سوالات لے کر والدین کے پاس ہی جارہا ہے۔ کیونکہ بچہ چاہے تو یہ سوالات گوگل، یوٹیوب، چیٹ جی پی ٹی، جیمینی یا کسی بھی غیر مناسب ذریعے سے پوچھ سکتا ہے اور وہاں سے کسی بھی نوعیت کی معلومات حاصل کر سکتا ہے، صحیح بھی، غلط بھی، اور نقصان دہ بھی۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ سوالات لے کر والدین کے پاس آ رہا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ والدین کو اپنا اعتماد، سہارا اور رہبر سمجھتا ہے۔
جب والدین بچے کے سوال کو دیکھ کر غصہ، شرمندگی یا جھنجھلاہٹ ظاہر کرتے ہیں تو بچہ یہ نوٹ کرتا ہے کہ کچھ باتیں والدین سے نہیں پوچھنی چاہئیں۔ پھر اگلی بار اس کے تجسس کی تسکین کسی اور ذریعے سے ہوگی، جو ممکن ہے خطرناک ہو۔ ایسا بچہ اپنے ذہن میں غلط فہمیاں اور خوف لے کر بڑا ہوتا ہے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ ایسے ادھورے سوالات بچہ کو بڑے بڑے فتنے میں مبتلا کردیتے ہیں۔ سوال کرنے کا حوصلہ بچے کی ذہانت کی علامت ہے، اس کی حق تلفی ہو تو بعد میں بچہ ایک خطرناک مجرم بھی بن سکتا ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ:
سوال کو الزام نہ بنائیں۔ سوال پر ناراضی ظاہر کرنے سے بچہ سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ صرف سیکھنا چاہتا ہے۔
سوال کو ٹالنے کی کوشش نہ کریں نہ ہی بچہ کے ذہن میں ادھورا چھوڑیں۔ بچوں کا دھیان بھٹکانے کی کوشش صرف وقتی حل ہے، مگر اس سے تجسس ختم نہیں ہوتا بلکہ غلط جگہ اور غلط طریقے سے جواب تلاش کرنے کی خواہش بڑھتی ہے۔
بچوں کی عمر کے مطابق، سادہ اور محفوظ الفاظ میں جواب دیں۔ ہر بات کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں، لیکن بات سمجھ میں آجانی چاہیے۔
سادہ، مختصر اور عمر کے لحاظ سے مناسب رہنمائی بہترین طریقہ ہے۔
سوال کے پیچھے موجود وجہ بھی سمجھیں
صرف سوال کا جواب نہ دیں، بلکہ یہ بھی غور کریں کہ:
- ️یہ سوال میرے بچے کے ذہن میں کیوں آیا؟
- بچہ کس سے جڑ رہا ہے؟
- ️میرا بچہ کیا دیکھ رہا ہے؟
- بچہ کے ساتھ کون کیا کررہا ہے؟
- بچےکو کون کیا سکھا رہا ہے؟
- ️وہ کن ذہنی الجھنوں سے گزر رہا ہے؟
اصل تربیت تو تب ہوگی جب سوال کا جواب بھی مل جائے اور سوال پیدا ہونے کی وجہ بھی دور ہو جائے۔ بچوں کے سوالات ان کی ذہنی سرگرمی، اعتماد اور والدین سے تعلق کی گہرائی کا ثبوت ہیں۔
اگر والدین انہیں محبت، حکمت اور سمجھداری سے لیں تو یہی سوالات بچے کے ذہن کو صاف، روشن اور درست سمت پر لے جاتے ہیں۔
(۵) والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو پرسکون، کشادہ اور خوشگوار بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔ گھر میں غیر ضروری سامان، پرانا کباڑ، ٹوٹا پُھوٹا فرنیچر یا بے ترتیبی نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھاتے ہیں بلکہ گھر کے ماحول کو بھی بھاری بنا دیتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے گھر سے کباڑ اور بے کار چیزوں کو ہٹا دینا چاہیے تاکہ گھر میں تازگی، صفائی اور سکون پیدا ہو۔ گھر کو اس انداز میں ترتیب دیں کہ ہر فرد، خاص طور پر بچے، وہاں رہ کر راحت محسوس کریں۔ ایک صاف، روشن اور مناسب انداز میں سجا ہوا گھر بچوں کی ذہنی صحت پر براہِ راست مثبت اثر ڈالتا ہے۔
گھر کے کسی ایک کونے کو یا جگہ کو خوبصورت، آرام دہ اور دلکش انداز میں مزین کرنا جہاں سب مل کر بیٹھ سکیں، اچھی گفتگو ہو، کہانیاں سنائی جائیں، ہنسی مذاق ہو، کتابیں پڑھی جائیں، یا کوئی کھیل کھیلا جائے، اسکول کی پڑھائی کی جائے۔ اس طرح والدین اور بچوں کے درمیان خوشگوار لمحات کی یادیں بُنی جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ایسے مواقع کو بڑھائیں جہاں بچے اور والدین ایک دوسرے کے ساتھ وقت بتاتے ہوں، قریب آتے ہوں تاکہ ان کے رشتوں میں مضبوطی اور اپنائیت قائم رہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ گھر میں خوشیوں کا خوب انتظام کریں۔ تقریبات اور دعوتوں میں شریک ہوا کریں اور گھر میں بھی ایسا اہتمام کریں۔ خوش رہیے اور بچوں کو خوش رکھیے۔ زندگی کو انجوائے کیجیے اور اپنے بچوں کو بھی اس کا مزہ معلوم ہونے دیں۔ محبت بانٹیں اور سکون کو گھر میں عام کریں۔ کیونکہ خوشحال اور پرسکون دل کم ہی فتنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔
(۶) بچے اپنی روزمرہ زندگی کا ایک بڑا اور اہم حصہ اسکول میں گزارتے ہیں۔ اسی لیے والدین کے لیے یہ فیصلہ بے حد اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کس ادارے میں بھیج رہے ہیں۔ اسکول صرف پڑھنے لکھنے کی جگہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ بچے کی شخصیت، اخلاق، رویے اور مستقبل کے کردار کو تشکیل دینے والا بنیادی ادارہ ہے۔
اسی لیے والدین کو چاہیے کہ ایسا اسکول منتخب کریں جو صرف تعلیم میں نہیں بلکہ تہذیب، اخلاق، کردار سازی اور محفوظ ماحول کے حوالے سے بھی معرف ہو۔
(۷) بچوں کی شخصیت کو مضبوط، منظم اور فعال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کم عمری ہی سے مختلف مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔ بچپن وہ عمر ہے جب ذہن سب سے زیادہ سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسی دوران دی گئی تربیت بچے کی پوری زندگی کا رخ طے کرتی ہے۔
اسی لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو بچپن ہی سے ایسی سرگرمیوں میں شامل کریں جو ان کی صلاحیتوں کو نکھاریں اور ان کے اندر نظم، قوتِ ارادی اور مقصدیت پیدا کریں۔ جیسے کہ
- تیراکی سیکھنا : جسمانی مضبوطی، اعتماد اور بقا کی مہارت
- ریاضی سیکھنا : ذہانت، منطقی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت
- مارشل آرٹس : خود اعتمادی، خود حفاظت، نظم و ضبط، صبر
- حفظِ قرآن یا قرآن فہمی : روحانی، اخلاقی اور ذہنی تربیت
- مختلف زبانیں سیکھنا : ذہن کی وسعت، بہتر ابلاغ اور مستقبل کے مواقع
- یہ سرگرمیاں نہ صرف بچوں کو باصلاحیت بناتی ہیں بلکہ انہیں اپنے وقت کی قدر، محنت کی اہمیت اور کارآمد مصروفیات کا شعور بھی دیتی ہیں۔
جب بچوں کے دن کا شیڈول مفید سرگرمیوں سے بھرا ہوتا ہے تو وہ بے کار کاموں میں وقت ضائع نہیں کرتے، ان کی ذہنی توانائی صحیح سمت میں استعمال ہوتی ہے، ان کا دماغ مضبوط، بااعتماد اور متوازن بنتا ہے، غلط دوستوں، غیر ضروری اسکرین ٹائم اور فتنوں کی طرف رجحان کم ہوتا ہے اور ان میں وقت کا بہترین استعمال کرنے کا شعور اور نظم آتا ہے جو زندگی بھر کارآمد رہتا ہے۔
ایسی سرگرمیوں کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے بچوں سے ان کے بچپن کا مزہ چھین کر انہیں خوب مصروف رکھا جائے اور ان سے خوب محنت کروائی جائے۔
(۸) آج کے دور میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی استعمال کی جانے والی چیزوں پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ مارکیٹ میں موجود بہت سے کھلونوں، کپڑوں اور بچوں کی روزمرہ استعمال کی اشیا پر ایسے غلط نمبر، غیر شائستہ الفاظ اور نامناسب نشانات پائے جاتے ہیں جو اخلاقی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں کی کارٹون ویڈیو، اینیمیشن اور موبائل گیم میں بھی ایسے عناصر شامل کیے جاتے ہیں جو فحاشی، بے حیائی اور غلط نظریات کی طرف مائل کرتے ہیں۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ کچھ چیزوں میں خفیہ طور پر ایسی علامات یا پیغامات بھی شامل کیے جاتے ہیں جن کا تعلق جادو، توہمات، غیر اخلاقی نظریات اور illuminati سے ہوتا ہے، جو معصوم ذہنوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے آج کے دورمیں والدین کو بہت زیادہ اپڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے لیے اور گھر کے استعمال کے لیے چیزیں خریدتے وقت ہوشیار رہیے۔ بچے کونسی ویڈیو دیکھ رہے ہیں ان کا جائزہ لیتے رہیے، بچوں کی ویڈیو کے پیچھے کونسی موسیقی اور بول چل رہے ہیں اس پر بھی نظر رکھیے۔ بہتر یہ ہوگا کہ والدین میں سے کوئی ایک اکثر بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت بتایا کریں ۔
(۹) کم سن اور نوجوان بچوں کو اپنا احتساب کرنا سکھائیے تاکہ وہ خود اچھائی اور برائی کا فرق کرسکیں۔ کیونکہ ہر بار ہر عمر میں والدین نگہبانی نہیں کرسکتے اس لیے بچوں کو اپنی اصلاح کرنی آنی چاہیے۔ اپنی غلطی کو جلد ماننا اور اپنے آپ کو بدلنا اور بہتر سے بہتر بننے کی چاہت کرنا بچوں کی شخصیت کو قوی کرتا ہے۔
(۱۰) بچوں کو ہمیشہ مل جل کر کام کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ وہ ٹیم ورک کی اہمیت سیکھیں۔ اس طرح گروہ میں رہنے سے بھیڑیا (شیطان) تنہا بکرے (بچہ) پر حملہ نہیں کرے گا۔ اور اس لیے بچوں کو ہمیشہ اچھی سنگت کی عادت ڈالیں تاکہ وہ نیک لوگوں کے ساتھ ہمیشہ لمبے عرصے تک دوستی نبھا سکیں اور ان کے ساتھ کام کرسکیں ۔
(۱۱) نوعمر اور نوجوان بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ اپنا وقت زیادہ سے زیادہ کہاں اور کن کاموں میں لگاتے ہیں؟ کہیں وہ تنہائی پسند تو نہیں ہیں؟ کہیں وہ باتھ روم میں زیادہ وقت تو نہیں لگاتے ہیں؟ کہیں ان کے نظریات اسلامی تعلیمات کے خلاف تو نہیں ہورہے ہیں؟ وہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ ، موبائل یا دیگر گیجٹ کا کیسا استعمال کررہے ہیں؟ ایسی باتوں کا باریکی سے جائزہ لیتے رہیں اور اپنے بچوں کی دوستانہ رہنمائی کرتے رہیں۔
(۱۲) کھانے پینے کی چیزیں بھی بچے کی شخصیت، رویے، سوچ اور فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بعض غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو بچے کو چڑچڑا، بے قرار، ضدّی، بے توجہ، جلد مشتعل یا حد سے زیادہ متحرک بنا دیتی ہیں۔ جیسے جنک فوڈ ہیں ، یا بار بار کافی پینا۔ جب بچہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے تو وہ فطری طور پر غلط کاموں، غلط دوستوں یا اسکرین کے فتنوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔
زیادہ چینی بچوں کے دماغ میں توانائی کا غیر متوازن اضافہ کرتی ہے۔بچہ Hyperactiveہوجاتا ہے، چھوٹی بات پر غصہ کرتا ہے، پڑھائی یا عبادت میں دل نہیں لگتا، فوکس برقرار نہیں رہتا، جلدی اکتا جاتا ہے، ایسی کیفیت میں بچہ جلد بہک جاتا ہے اور فتنہ جیسے گیم، اسکرین بچے کے لیے ایک فوری جائے فرار (Escape) بن جاتا ہے۔
پیکڈ فوڈ، چپس، اسنیکس اور رنگین ٹافیوں میں موجود Artificial Colors اور Preservatives دماغ پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ بچہ بے چین، ضدّی، بد زبان اور بعض اوقات پرتشدد بھی ہوسکتا ہے۔ یہ کیفیت بچے کو اطاعت سے دور اور نافرمانی کے قریب کرتی ہے۔ یوں گھر کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے اور بچہ غلط راستے پر جا سکتا ہے۔
انرجی ڈرنک، کولڈ ڈرنک اور کافین کا روزانہ استعمال دماغی توازن کو بگاڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیند کم ہوجاتی ہے، چڑچڑاپن بڑھتا ہے، ذہنی تھکاوٹ ہوتی ہے، فیصلہ لینے کی صلاحیت اور قوت دونوں متاثر ہوتی ہیں، ایک تھکا ہوا، چڑچڑا اور بے چین بچے فتنے میں زیادہ تیزی سے پھنس سکتا ہے۔
جنک فوڈ میں دماغ کی نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزا نہیں ہوتے۔ اس لیے بہت زیادہ جنک فوڈ کھانے والے بچے انتہا پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن میں جذبات اچانک بھڑک جاتے ہیں۔ جنک فوڈ زیادہ کھانے سے بچے سست اور کاہل بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں اس لیے فیصلہ لینے کی قوت بھی کمزور ہوتی ہے۔
غذائی قلت بھی بچے کو فتنے تک لے جاسکتی ہے۔ اگر بچہ متوازن غذا نہ کھائے تو اسے آئرن، اومیگا-3،کیلشیم، بی وٹامنز نہیں ملتے جس سے وہ لاغر پن ، ڈپریشن، بے چینی گھبراہٹ کا شکار ہوسکتا ہے اور جسمانی اور ذہنی طور پر غیر صحت مند بچہ نیکی کی راہ کو مشکل اور برائی کے راستے کو آسان سمجھ کر اسی پر چلتا ہے۔
غرض والدین کو اگر اپنے بچوں کو بہتر مومن بنانا ہو تو انہیں جسمانی صحت ، غذائیت پر خوب توجہ دینی ہوگی۔
(۱۳) اپنے گھر اور اپنے بچوں کو فتنے سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر کو ہمیشہ گھر میں تازہ رکھا جائے۔ بچوں کو اپنی عبادات کا حصہ بنائیں؛ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھیں، رمضان میں روزوں کا اہتمام کریں، اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دیں۔
بچوں کو جانوروں اور پرندوں سے شفقت اور ہمدردی کرنا سکھائیں، نیکی کے چھوٹے بڑے مواقع بتاتے رہیں اور ان سے اچھے عمل کرواتے رہیں۔ ساتھ ہی انہیں انبیائے کرام، صحابہ کرام اور دیگر نیک و صالح بزرگانِ دین کے واقعات سنائیں، تاکہ ان کے دل و دماغ میں ایمان کی روشنی پیدا ہو اور ان کی روح سلف صالحین کی محبت اور ان کے اخلاق سے منور ہوتی رہے۔
(۱۴) اپنی اولاد کو ہمیشہ دعا میں شامل رکھیں۔ ان کی جسمانی صحت، ان کے اخلاق و کردار، ان کی کامیابی، ان کی کارکردگی، ان کے مسائل، ان کی خوشیاں غرض ہر ہر پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے دعائیں کریں۔
آج کے دور میں فتنہ مختلف شکلوں میں ہر قدم پر نظر آئے گا ۔ والدین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کے لیے، اپنے بچوں کے لیے اور اپنے خاندان کے لیے فتنے سے بچاؤ کا راستہ چننا ہوگا۔ انسان غلطی کا پتلا ہے، فتنے کی طرف ہر کوئی کسی نہ کسی سطح پر جھانک کر رہے گا لیکن اصل تو اسے برا جاننا، اپنا بچاؤ کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ہے۔ بس اپنے بچوں کو بھی انسان سمجھیں اور مختلف تدبیروں سے ان کی فتنوں سے حفاظت کریں اور انھیں اپنی حفاظت کرنا سکھائیں۔







