نفسیاتی صحت کے رہنما اصول

(علم نفسیات کی روشنی میں)

ایس امین الحسن

اندلس کے عظیم اسلامی اسکالر امام ابن حزم لکھتے ہیں:

’’میں نے تلاش کیا کہ انسانوںکے مابین ایسا مشترک مقصد کیا ہے ، جس میں درجہ کمال حاصل کرنے کی کوشش پر سبھی لوگ اتفاق کرلیں؟۔ مجھے ذہنی پریشانی سے نجات پانے کے علاوہ کوئی اورایسا مقصد نہیں ملا ‘‘[کتاب الاخلاق والسیر]۔

تندرستی ہزار نعمت ہے ،اس ضرب المثل کا مفہوم کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان جسمانی طور پر قوی ہو۔ لیکن آج معلوم ہوتا ہے کہ ذہنی طور پر صحتمند انسان ہی گھر ، ادارہ اور سماج کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ نفسیاتی تندرستی سے عاری انسان سے کسی تعمیری فکر یا سرگرمی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کہ امنگوں، آرزوؤں ، خواہشوں ،جوش و خروش، حرکت و سرگرمی کا جنازہ خود اس کے ہاتھوں کبھی کا نکل چکا ہوتا ہے۔ وہ صرف سانسوں کے آنے جانے سے زندہ ہے۔

اسلام کے نزدیک صحت کا ایک جامع تصور ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مومن ہر پہلو سے قوی ہو۔ ایک صحتمند مومن ہر پہلو سے خود اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اس کی زندگی خوشگوار ،اس کے تعلقات حسین ،اس کے قوی مضبوط اور اس کے خیالات اعلی پاکیزہ اور تعمیری ہوتے ہیں۔ اسلام کے تصور صحت میں چار عناصر شامل ہیں۔

۱۔  روحانی صحت

۲۔ جسمانی صحت

۳۔  نفسیاتی اور ذہنی صحت

۴۔  معاشرتی صحت

روحانی صحت کا مطلب ہے کہ بندے کا خالق کے ساتھ صحیح تعلق قائم ہو۔جسمانی صحت کا مطلب ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ بہتر صورتحال میں جسمانی کارکردگی کو برقرار رکھے ہوئے ہو۔ نفسیاتی صحت سے مرادخود کے ساتھ اور آس پاس کے معاشرتی ماحول سے بھی صحیح واقفیت ہو اور دونوں پہلو سے انسان پرسکون رہے۔ معاشرتی صحت کا مطلب ہے معاشرتی عمل میں پْرامن رہ کر کام کرسکے اور اس کے تعلقات ایسے ہو ں کہ سماج سے لینا پڑے یا دینا پڑے ،ہر دو صورت میں بہت خوشگوار ہوں اور ذہن پر اس کی تازگی محسوس ہو۔ صحت کے یہ مختلف پہلو اس طرح باہم وابستہ اور باہم انحصار کرتے ہیں کہ کسی ایک میںخرابی آسانی سے دوسروں میں علالت کا سبب بن سکتی ہے۔

ہم اس مضمون میں یہاں صرف نفسیاتی صحت کے بارے میں بات کریں گے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سماج کی صورتحال کی پیمائش کے بہت سے پیمانے اور اوزان ہیں۔جی ڈی پی معاشی پیداوار اور دولت کی ریل پیل کی کیفیت بتاتا ہے۔ پیس انڈیکس کسی معاشرے میں امن کی صورتحال حال کا پتہ دیتا ہے۔ خوشی ناپنے کا انڈکس قدرے نیا ہے۔یہ انڈکس بتاتا ہے کہ کسی قوم کے افراد ذہنی طور پر کتنے خوشحال اور صحتمند ہیں۔ اس پیمائش کی شروعات بھوٹان سے ہوئی تھی۔ بعد میں اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور اقوام متحدہ کی جانب سے اسے اپناتے ہوئے ہر سال نفسیاتی صحت سے متعلق نئے نئے پہلووں پرمشتمل رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

پہلی بار اپریل 2012 میں اقوام متحدہ کے اعلی سطح کے اجلاس کی حمایت سے ’’خوشحالی اور خوشی: ایک نئی معاشی تمثیل کی تعریف‘‘سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی۔

تازہ رپورٹ کا 2019 میں اجرا ہوا، جس کا مرکزی موضوع نفسیاتی صحت ہے۔ ہمارے مضمون سے متعلق جو پہلو پیش نظر ہے وہ نئی نسل میں پیدا ہونے والی ذہنی بیماریاں ہیں جو بڑی تیزی سے سے جڑ پکڑ رہی ہیں۔

ریاستہائے متحدہ کے نوعمروں میں خوشی اور زندگی کا اطمینان ، جو 1991 اور 2011 کے درمیان بڑھ گیا تھا ، اچانک 2012 کے بعد کم ہوگیا۔ اس طرح، 2016-17 تک، دونوں بالغوں اور نوجوانوں نے 2000  کے دہے کے مقابلے میں، نمایاں طور پر کم خوشی کی اطلاع دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ نسل جسے آئی جنریشن کہا جاتا ہے ،یعنی وہ جن کی پیدائش 1995 کے بعد ہوئی ہے، نفسیاتی صحت کے معاملے میں اپنے سے پہلی نسل جو 1980کے بعد پیدا ہوئی سے نمایاں طور پر نیچے ہیں۔

میں ایک اوربات کی وضاحت کرتا چلوں، وہ یہ کہ امریکی آج کم خوش نظر آتے ہیں اس کی بنیادی وجہ اس میں مضمر ہے کہ وہ اپنا تفریحی وقت کیسے خرچ کرتے ہیں ؟

گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹل میڈیا کا عرو ج اور ہر چیز کے زوال میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں نئی نسل کے افراد اسکرین کی سرگرمیوں (خاص طور پر ڈیجیٹل میڈیا جیسے گیمنگ، سوشل میڈیا، ٹیکسٹنگ، اور آن لائن وقت ) پر اچھا خاصا وقت صرف کرتے ہیں۔ 2012 کے بعد اسمارٹ فون کی ملکیت نوجوانوں میں تیز رفتار بڑھ گئی ہے. 2017 تک، اوسط 12th گریڈر (17-18 سال) دن میں تقریباً 6 گھنٹے صرف تین ڈیجیٹل میڈیا سرگرمیوں (انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور ٹیکسٹنگ) پر صرف کرتے ہوے آرام اور پرسکون طریقے سے وقت خرچ کرتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ،قوموں کی صورتحال کے جائزے کے الگ الگ پیمانے ہیں ان میں سے ایک ہے  قومی خوشی کا انڈکس جس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں:

۱۔  نفسیاتی تندرستی۔

۲۔  صحت

۳۔  وقت کا استعمال۔

۴۔  تعلیم

۵۔  ثقافتی تنوع اور لچک۔

۶۔  گڈ گورننس

۷۔  معاشرتی زندگی کی روح

۸۔  ماحولیاتی تنوع اور لچک۔

۹۔  معیار زندگی

ہمارے لیے یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گاکہ خوشی کے انڈیکس میں ہمارا ملک عزیز ہندوستان کہاں کھڑا ہے؟

ہندوستان نے ایک سال میں اپنے آپ کو خوشی کی درجہ بندی میں سات درجہ نیچے گرا دیا ہے۔  2018 میں ، ہندوستان کو 133 ویںپوزیشن پر رکھا گیا تھا ، لیکن اس سال اس کی درجہ بندی 140 تک گرگئی۔ٹائمز آف انڈیا نے اس رپورٹ کی توجیہ اس طرح کی ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی پوری دنیا میں خوشی کم ہوگئی ہے۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ دنیا میں آبادی اگر بڑھی ہے تو ذرائع پیداوار میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ قدرتی وسائل و ذرائع اتنی مقدار میں روئے زمین پر پائے جاتے ہیں کہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کا سامان وہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ مگر کوتاہ نظروں کی نگاہ بڑھتی ہوئی آبادی پر جا کر کر رک جاتی ہے اور وہ کانٹا بن کر چبھنے لگتی ہے۔ صحت، تعلیم، معیار زندگی وغیرہ میں گراوٹ اور ابتر صورتحال بنیادی طور پر حکومتوں کی بے ایمانی و نا اہلی کی وجہ سے ہے۔

ذیل میں ہم نفسیاتی صحت و تندرستی کا ایک مختصر جائزہ لیںگے ،تاکہ قارئین کو پتہ چلے کہ نفسیاتی تندرستی کی بنا کن چیزوں پر مانی جاتی ہے۔ ماہرین نفسیات نے اس کے لیے سوالنامہ ایجاد کیا ہے جس کے پر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی فرد اپنے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے کہ وہ کس حد تک ذہنی اور نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو تندرست پاتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک نفسیاتی بہبود کے چھ اجزاء ہیں، ہم یہاں ان کا تفصیل سے ذکر کریں گے۔

۱  خود قبولیت

نفسیاتی تندرستی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اس بات کو تسلیم کرے کہ وہ جیسا کچھ بھی ہے ویسے اپنے آپ کو قبول کرتا ہے۔ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے ،وہاں والدین، ماحول، معاشی صورتحال، زبان، نسل، جلد کا رنگ  اور چہرے کا حسن وہ چیزیں ہوتی ہیں جن پر انسان کا اختیار نہیں ہے۔ پھر آگے چل کر انسان اپنی ذات کی تعمیر کرتے ہوئے کچھ چیزوں کو پاتا ہے اور زندگی میں بہت سی چیزوں کی کمی رہ جاتی ہیں۔ جب ان چیزوں کا شعور ہونے لگتا ہے تو اس وقت پچھتانے کے بجائے انسان قبول کرے کہ جو کچھ اس نے محنت کی ہے اس کے مطابق آج اس کی پوزیشن ہے۔ زندگی کی دوڑ میں اسے کچھ باتوں کا اہتمام کرنا تھا جو اس نے نہیں کیا اور کچھ کام نہیں کرنے کے تھے جن میں وہ مشغول رہا۔ اس کو قبول کر لینے سے انسان کے لیے راہیں کشادہ ہو جاتی ہیں۔ ورنہ وہ خود ملامتی کا شکار ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں آخر کار مایوسی، قنوطیت اور ڈپریشن کا بھی وہ شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر طلبہ میں اکثر یہ دیکھا گیا کہ وہ بڑے بڑے کورس جن کے لیے انٹرنس امتحانات لازم ہوتے ہیں، ان میں جب وہ ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر مایوس ہوجاتے ہیں، اور جن لوگوں کا ایمان نہیں ہوتا بسا اوقات وہ اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں۔ خود قبولیت کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ یا تو اس امتحان میں بیٹھنے کی وہ اپنے اندر استعداد نہیں پاتا یا بصورت دیگر اس کی اس نے ویسی تیاری نہیں کی جیسا کہ کرنا چاہیے تھا۔ اس کا نتیجہ جو کچھ نکلا اس کا ذمہ دار وہ خود ہے اور جب وہ یہ تسلیم کر لیتا ہے تو پھر اس کے لیے یہ بڑا صدمہ نہیں ہوتا۔

قرآن یہ بنیادی کلیہ پیش کرتا ہے:

’’اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے۔‘‘ (سورۃ النجم آیت ۳۱)

یہ بات جہاں آخرت کے سلسلے میں صحیح ہے وہیں یہ بھی ثابت ہوتاہے اس دنیا میں انسان کی سرگرمیوں سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے اس کے لیے بھی وہ خود ذمہ دار ہے۔ مگر ناکام لوگوں کی اکثریت اپنی ناکامی کی وجہ دوسروں میں تلاش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کاش مجھے یہ مل جاتا، مجھے وہ مل جاتا تو میں آج ایسا اور ایساہوتا۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہے وہ اس کی اپنی کوششوں کا ثمرہ ہے، اس بات کو تسلیم کرلینے سے انسان کی نفسیاتی صحت برقرار رہتی ہے۔

۲  ذاتی نشونما

کچھ لوگوں کی زندگی درخت کے مانند ہوتی ہے جس میں ہر دن ایک نئی شاخ، نیا پھول نیا پتہ اور نیا پھل لگتا ہے جس سے دنیا مستفید ہوتی ہے۔ اور کچھ نیا نہ ہو تب بھی وہ شجر سایہ دار بن کر مخلوق کے لیے سایہ اور راحت فراہم کرتے رہتا ہے۔

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیّبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔‘‘ (سورۃ ابراہیم آیت ۲۴ اور ۲۵)

اس کے برعکس کچھ لوگوں کی زندگی ایک چٹان کی مانند ہوتی ہے جس میں نہ کوئی جان نظر آتی ہے اور نہ نشوونما۔ ایسے لوگوں کی زندگی بنجر اور بے آب و گیاہ ہوتی ہے۔ وہ خود اپنے لیے بے فائدہ اور دوسروں کے لیے ایک بوجھ ہوتے ہیں۔

’’اللہ ایک اور مثال دیتا ہے ۔ دو آدمی ہیں ۔ ایک گونگا بہرا ہے ، کوئی کام نہیں کر سکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے بن نہ آئے ۔ دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے ۔ بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟‘‘ (سورۃ النحل آیت ۷۶)

انسان کی عمر جب جسمانی نشوونما کی ہوتی ہے تو ہر نشوونما باعث خوشی ہوتی ہے۔ دانت نکلنے سے لے کر داڑھی کے اگ آنے تک۔ اسی طرح تعلیم کا زمانہ جب آتا ہے تو ہر سبق نیا، ہر کلاس نیا اور ہر سال ایک قدم آگے بڑھنے کا احساس انسان کو خوش رکھتا ہے۔ پھر معاشی زندگی کی جب شروعات ہوتی ہے تو خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی خوشی، کمانے کی خوشی اور ضروریات زندگی کی اپنے ہاتھوں سے فراہمی کی خوشی ہوتی ہے۔ شادی سے زندگی میں گویا بہار آجاتی ہے پھر بچوں کے آنے سے خاندان کی نشوونما ہونے لگتی ہے۔ اس کے بعد کسی جگہ جاکر زندگی مسطح ہو جاتی ہے، جب انسان نئی چیزیں سیکھنا ترک کردیتا ہے۔زندگی میں ٹھہراؤ بوریت کو جنم دیتا ہے۔ انسان نفسیاتی طور پر اس وقت تک خوش رہتا ہے جب تک زندگی میں کچھ نہ کچھ وہ سیکھتا رہتا اور ترقی کا کا زینہ چڑھتے رہتا ہے۔

۳ زندگی میں مقصد

کچھ لوگ زندگی کو ایک سفر مانتے ہیں جس میں نئی نئی منزلیں آتی رہتی ہیں ، راستہ نشیب و فراز سے گزرتا ہے۔ نفع و نقصان سے بھی سابقہ پڑتا ہے مگر نگاہ میں منزل ہوتی ہے اس لیے بیچ میں تھک ہار جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کچھ لوگوں کی زندگی صحرا کی مانند ہوتی ہے اور وہ بے مقصد اور بے سمت صحرانوردی کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کی شروعات میں تو مقصد ہوا کرتا ہے جیسے بچہ، جب آٹھ دس سال کا ہو اور اس سے پوچھا جائے کہ تم کیا بننا چاہتے ہو تو وہ جواب دے گا کہ ’’میں ٹیچر بننا چاہتا ہوں‘‘  ’’میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ اس کی زندگی کا در اصل مقصد ہوتا ہے اور بچے کی عمر کی ناپختگی کی وجہ سے یہ آئیڈیل بدلتے رہتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے وہ اپنی مقصد زندگی کو بدلنے اور متعین کرنے لگتا ہے۔ المیہ اس وقت پیش آتا ہے جب پیٹ سے آگے کوئی اور مقصد حیات نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی زندگیوں میں دنیا کے مادی سروسامان کی فراوانی ہوتے ہوئے بھی اندر سے کھویا کھویا سا محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے پاس زندگی کا کوئی حقیقی مقصد نہیں ہوتا۔ نفسیاتی بہبود کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے پاس اپنی ذاتی زندگی اورمعیار زندگی کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی ایسا مقصد زندگی ہو جو اس کی زندگی کو معنویت عطا کرے۔

۴ ۔  مہارت

دنیا میں کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر دو نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں: ایک یہ کہ وہ صاحب فن اور صاحب مہارت ہوتے ہیں۔ دوسرا وہ اپنے کام کے دھنی اور محنتی ہوتے ہیں۔ ناکام لوگ وہ ہوتے ہیں جنہیں کچھ آتا نہیں ہیں اور عملی زندگی میں منجمد اور غیر فعال ہوتے ہیں۔ مہارت یہ ہے کہ اپنے آس پاس کی دنیا کو مسخر کیا جائے اور اس کے بیچ میں زندگی کی راہ نکالی جائے۔ کسی زمانے میں پتھر کو تراش کر گپھائیںبنانا یا بانس کو جوڑ کر کشتی کا ابتدائی ڈھانچا تیار کرنا اور اس کے ذریعہ دریا اور ندی میں سفر کرنا مہارت مانا جاتا تھا۔ زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی اس طرح انسان نے اپنی مہارت سے کائنات کے رازوں کو ٹٹولا ، زمین کے سینے کو چاک کیا ، اس کے اندر مدفون خزانے دریافت کئے ، اور اپنی تہذیب کی ترقی کے سامان فراہم کئے۔

’’اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ، سب کچھ اپنے پاس سے ، اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الجاثیہ آیت ۱۳)

فن، ہنر مندی، تعمیرات، موٹر گاڑی بنانا، ہوائی جہاز اڑانا، کمپیوٹر آپریٹ کرنا، سائنس و ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا، لکھنا بولنا ، جیسی لیاقتیں ہی مہارت میں شامل نہیں ہیں بلکہ رسی بٹنا، رسی میںگرہیں ڈالنا، درختوں پر چڑھنا، جا نوروں کی آوازوں کو پہچاننا ، شکار کرنا، خوشبو اور ذائقہ پہچاننا، معاملات کو سلجھانا, دلوں کو جوڑنا, شاعری کرنا ، گا نا، زبان دانی وغیرہ امور بھی مہارت میں شامل ہیں۔

جس کے پاس مہارت کی جتنی وسعت ہوگی وہ بندہ نفسیاتی طور پر اتنا ہی شاداں وفرحاں ہوگا۔ زندگی کے میدان میں اس کے لیے ترقی کی راہیں کشادہ ہو نگی۔ جن کے پاس کوئی مہارت نہیں ،وہ مفلوج اور مفلوک الحال زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

۵۔  خود مختاری

وہ انسان دنیا میں سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں جنہیں آزادی اور خودمختاری نصیب ہو مگر ایسے بندے بہت کم ہوا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ انسان جب بچہ ہوتا ہے تو اکثر والدین  ان پر دباؤ بنائے رکھتے ہیں کہ انہیں بالکل وہی کرنا ہوتا ہے جو ماں باپ نے ڈکٹیٹ کیا ہو۔ اسکول جاتے ہیں ، وہاںسبق سمجھنے کے بعد اپنے طور سے جواب لکھنا چاہیں بھی تو ان کو اس کی آزادی نہیں ہوتی اور اگر ایسا کرنے کی جرات کریں ، تو نمبر صفر ملے گا اس لیے کہ استاذہ یہ چاہتے ہیں کہ جواب بالکل ویسا ہی لکھیں جیسا انہوں نے لکھایا ہے۔ آج کے طلبہ و طالبات شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوا کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کے گھر اور اسکول میں اساتذہ کی طرف سے شدید دباؤ ہوتا ہے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اعلی نمبرات لائیں گے اور گھر اور اسکول کا نام روشن کریں گے، بڑی بڑی سیٹیں حاصل کریں گے،ا گرچہ خود طالب علم کو اس سے دلچسپی نہ ہو۔ بالفرض کارکردگی کبھی حسب توقع نہ ہو تو باور کرایا جاتا ہے کہ پورے خاندان میں اس کی ناک کٹ گئی ، یہاں تک کہ وہ شرمسار اور رسوا ہوجاتا ہے۔ بے چارے طالبعلم کو وہ کرنے کی آزادی نہیں ہوتی ہے جس کا بنیادی مادہ اس کی شخصیت میں ہوا کرتا ہے ،یا وہ لائن وہ نہیں اپنا سکتا ہے جس میں اسے فطری دلچسپی ہو۔ایسے طلبہ کی طرف سے چڑچڑاپن، مایوسی، قنوطیت اور بغاوت جیسے رویوں سے ان کے ذہنی تناؤ کا اظہار ہوتا ہے ۔ نفسیاتی تندرستی سے وہ کوسوں دور ہوتے ہیں۔

پھر کچھ اور بڑا ہونے کے بعد معاشی مصروفیات شروع ہوتی ہیں تو دفتر میں ملازم کی حیثیت سے اسے بالکل وہی کام کرنا پڑتا ہے جس کا چوکھٹا بنا کر اسے دے دیا گیا ہوتا ہے۔ بہت کم بندے ہوتے ہیں جن کی تخلیقی صلاحیت کے اظہار کا موقع ملتا ہو اور اس کی تحسین بھی ہوتی ہو۔ عورتوں کا حال بھی کوئی اچھا نہیں ہوتا ،انہیں سسرال میں دوسروں کے دیے گئے پروگرام پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ آزادی اور خود مختاری ایک مدت تک انہیں نصیب نہیں ہوتی۔

کسی زمانے میں انسانی جسموں کو غلام بنا لیا جاتا تھا اور آج ذہن و فکر کو غلام بنا دیا جاتا ہے۔ جس میں کچھ معاشی اور سماجی مجبوریاں ہوتی ہیں تو کہیں میڈیا کے سحر کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ باطل مذاہب کا شیوہ رہا ہے کہ وہ فکر پر تالے ڈال دیتے ہیں، خدا کی ذات کے بارے میں اور اپنی ذات کی بہبودی کے بارے میں بھی خود مختاری سے سوچ سکیں ، اس پر بھی قدغن لگایاجاتا ہے۔

خود مختاری کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ انسان کہے کہ وہ اپنی رائے پر یقین رکھتا ہے گرچہ وہ عام مروجہ خیال کے برخلاف ہی کیوں نہ ہوں اور اس سے برآمد ہونے والے نتیجے کو وہ تسلیم بھی کرتا ہو۔

اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ مصر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا گھوڑ سواری کا مقابلہ کسی قبطی سے ہوتا ہے اور اس کا گھوڑا آگے نکل جاتا ہے۔ گورنر زادہ غصہ میں آ جاتا ہے اور طیش میں اس قبطی کو دو کوڑے رسید کر دیتا ہے۔ وہ قبطی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں فریاد رس ہوتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرو بن العاص ، ان کے بیٹے اور دیگر گواہوں کو طلب کرتے ہیں اور شنوائی کے بعد گورنر زادے کے خلاف فیصلہ فرماتے ہیں۔ حکم ہوتا ہے کہ قبطی کے ہاتھ میں کوڑا دیا جائے پھر کہتے ہیں کہ گورنر کے لڑکے کو مارو۔  مزید یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو اس کے والد کو بھی ایک دو درے لگاسکتے ہو کیونکہ ان کی گورنری کا غلط فائدہ اٹھا کر ان کے بیٹے نے تم پر ظلم ڈھایا ہے۔ اسی موقع پر آپ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا جو آج بھی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ ’’ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنم دیا تھا ، تم نے کب سے انہیں غلام بنالیا‘‘یہ ہے خود مختاری جس سے اسلام نے لوگوں کو روشناس کرایا تھا۔

۶۔  مثبت تعلقات

انسان فطرتا ایک معاشرتی مخلوق ہے۔ بہت سے دوسرے جاندار بھیبنی ہوئیجماعتوں میں رہتے ہیں۔  لیکن انسان سب سے زیادہ اجتماعت پسند واقع ہوا ہے۔صدیوں سے لوگ ایک طے شدہ نظام میں خاندان والوں سے اور دوسرے لوگوں سے تعلقات نبھاتے آرہے ہیں اور بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن تکنیکی ترقی اور اس کے نتیجے میں معاشی ترقی کے ساتھ ، ایسا لگتا ہے کہ اب یہ نظام تباہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے شہری علاقوں کے بیشتر افراد کو خود غرضی کا شکار بنا دیا ہے۔

لوگ اپنے معاملات میں اس قدر مشغول ہیں کہ ان کے پاس شاید ہی کسی کے لیے وقت ہوتا ہے۔ دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنا ایک رسمی معاملہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ مہمانوںکے اچانک گھر میں آنے کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ وہ ترجیح دیتے ہیں کہ ان کے گھر آنے والا کوئی شخص وقت سے پہلے اپائنٹمنٹ لے پھر ملاقات کرے۔ وہ زمانہ بیت گیا جب آپ آسانی سے کسی دوست کے گھر جاتے ، دروازہ کھٹکھٹاتے اور اپنی خواہش پر اس سے ملتے تھے۔ اب عملی طور پر یہ بے تکلفی ختم ہو تی جارہی ہیں۔ آج معاملہ یہ ہے کہ شام کو جب لوگ گھر آتے ہیںتو فارغ وقت کا زیادہ تر حصہ وہ اپنے کمپیوٹر کے ساتھ گزارتے یا گیجٹ اور ٹیلی ویڑن سے چپک جاتے ہیں۔ خاندان کے دوسرے افراد یا دوستوں کے ساتھ شاید ہی کوئی تعامل ہوتا ہو۔

لیکن یہ صحت مند رجحان نہیں ہے۔ انسان کے تعلقات کسی فرد کی مجموعی بہبود کے لیے اہم ہیں اور کوئی بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اضطراب ، افسردگی اور دیگر ذہنی پریشانیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات قریبی انسانی تعلقات کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ کسی قریبی دوست یا رشتے دار سے بات کرنے سے ذہنی اور جسمانی تناؤ کو دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کسی کو بھی اسے پریشان کرنے والی کسی بھی پریشانی سے متعلق مشورے ملتے ہیں۔ اگر غم یا خوشی کا کوئی موقع موجود ہو تو اس کے ساتھ ہمیشہ کوئی نہ کوئی فرد یا افراد شریک ہوتے ہیں۔ اس سے خوشی کے موقع پر خوشی بڑھتی ہے اور کسی سانحے کی صورت میں تکلیف کم ہوتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں ، کسی کے پاس مدد کے لیے کوئی ایسا ہو جس پر انحصار کیا جاسکتا ہے۔

آسٹریلیا میں مجھے ہمارے دوستوں نے بتایا کہ بڑی عمر کے لوگ گھروں میں تنہائی ، فرصت اور کام کے نہ ہونے سے شدید تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ صبح ہوتی ہے تو کسی کی راہ تکتے ہیں کہ کوئی بندہ خدا ان سے ملے اور بات کرے جو ان کے دل کے بوجھ کو ہلکا کرسکے مگر کیا کیجیے کہ مادہ پرستی کے دوڑ میں کسی فرد کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ خود اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر ہر کچھ لمحے خوش گپیوں میں گزار سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی بیماریاں، تناؤ اور افسردگی میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے آسٹریلیا کی حکومت نے ایک اقدام کیا ،وہ یہ کہ حکومت کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس وقت فارغ ہے اور وہ دوسروں سے بات کر سکتے ہوں، تو وہ اپنا انرولمنٹ کرائیں۔ پھر اس بات کا انتظام ہوتا ہے کہ وہ فارغ احباب دور دراز بستیوں اور فارم ہاؤس میں بسنے والے بزرگوں کے پاس جائیں اور روزانہ کم از کم دو گھنٹے ان سے بات کرکے آئیں۔ اس انسانی تعلقات کو مصنوعی طور پر بنائے رکھنے کی فیس بھی حکومت انہیں دیتی ہے۔ یہ ایک گمبھیرصورت حال ہے جو مجموعی طور پر معاشرے کی نفسیاتی تندرستی کے بارے میں پتہ دیتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

ستمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau