انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس

اسلام اور شناخت کا بیانیہ

ڈاکٹر محمد رضوان

اس سے قبل کے مضمون میں اس بات پر تفصیل سے گفتگو آ چکی ہے کہ شناخت کا بیانیہ اصل میں کیا ہے۔ ایک فرد کی شناخت کن کن عوامل کے ذریعے منضبط ہوتی ہے اور شناخت کے اس پیچیدہ پیراڈائم کو +LGBTQ اور اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے افراد اور گروہ کس طرح بڑی چالاکی کے ساتھ اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اب اس مضمون میں اسلام اور شناخت کے حوالے سے ایک تفصیلی جائزہ پیش نظر ہے۔

اس بحث میں آگے بڑھنے سے پہلے دو اہم نکات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اول یہ کہ شناخت کا مغربی تصور اور شناخت کے پروسیس میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل مختلف معاشرے میں مختلف ہو سکتے ہیں۔

دوم یہ کہ شناخت کا جدید مغربی تصور جن زاویوں کے ساتھ آج نظر آتا ہے عام طور پر ماضی قریب میں ان اصطلاحات، ان پہلوؤں اور ان زاویوں سے وہ نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اس لیے قدیم تصانیف میں اس کو تلاش کرنا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ اس لیے بنیادی طور پر جدید شناخت کے تصورات، اس کی اصطلاحات، اس کی فکری بنیادیں اور ان کے تجزیے کا اسلام کے وسیع تر فکری فریم ورک میں جائزہ لینا ہوگا۔ اس لیے بنیادی طور پر سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ جدید مغربی شناخت کا ڈسکورس اپنے اندر وہ اصطلاحات، وہ پہلو اور وہ زاویے رکھتا ہے جو قدیم زمانے کے مصنفین کے یہاں عام طور پر نہیں پایے جاتے ہیں۔

اس سے قبل کہ ہم اسلام اور شناخت کے ڈسکورس پر آگے بڑھیں، شناخت کے مغربی ڈسکورس اور اسلام کے بنیادی اصولوں میں اس کی تلاش کا ایک موازنہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔

 شناخت کا مغربی ڈسکورسشناخت سے متعلق اسلامی اصول
1شناخت ایک ایسا عمل ہے جو مکمل طور پر تعمیر کردہ ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے شناخت کامل طور پر تعمیر کردہ نہیں ہے۔
2شناخت کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔ہر فرد انسانی کے اندر شناخت کے سلسلے میں ایک داعیہ فطری طور پر موجود ہے۔
3شناخت کی دریافت کا سفر مختلف تجربات چاہتا ہے۔اسلام شناخت کے مکمل طور پر دریافت کرنے کا قائل نہیں ہے بلکہ اسلام میں کچھ بنیادی شناختیں طے ہیں۔ جیسے عبد اور مخلوق
4انسان بحیثیت انسان محض ایک نوع ہے دیگر انواع کی طرح۔انسان کی خصوصی حیثیت ہے۔ اسے بیشتر مخلوقات پر فضیلت عطا کی گئی ہے۔
5فرد اپنی شناخت کو اختیار کرنے کے لیے کامل طور پر آزاد ہے۔فرد اپنی شناخت کو اختیار کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔
6شناخت کی مختلف جہتوں میں ایک صنفی شناخت بھی ہوتی ہے جسے اختیار کرنے کے لیے فرد آزاد ہوتا ہے۔فرد صنفی شناخت اختیار کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔ کچھ استثنائی صورتوں کے علاوہ۔ (جس پر آگے گفتگو ہوگی)
7سیکولر الحادی طرز فکر انسان کی کسی جداگانہ شناخت کی منکر ہے۔ مثلًا اعلی اخلاقی وجود، کسی قوت مقتدرہ کے ساتھ روحانی تعلق۔اسلامی فکر انسان کے مادی وجود کے علاوہ اس کے مکمل روحانی وجود کی قائل ہے۔
8LGBTQ+ سے متاثر اور ملحق ڈسکورس شناخت کے لیے تجربات کرنے کی اور ان تجربات سے سیکھ کر کسی ایک شناخت پر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی سعی اور جدوجہد کو ضروری قرار دیتا ہے۔شناخت کے لیے تجربات کرنے اور ان تجربات سے سیکھ کر کسی ایک شناخت پر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی سعی و جہد ضروری نہیں ہے۔

اس موازنہ کے بعد ہم یہ بتائیں گے کہ شناخت کے مغربی ڈسکورس سے الگ ہٹ کر اسلام کس طرح ایک فرد کی شناخت کو منضبط کرتا ہے اور پہلے انفرادی حیثیت میں اور پھر اجتماعی حیثیت میں کس طرح شناخت کا ایک مکمل اور جامع فریم ورک دیتا ہے جو اس نظام عقیدہ کے ماننے والوں کے لیے بہت سادہ اور عام فہم ہے۔ اسلامی بنیادی مآخذ کا جائزہ شناخت کے حوالے سے ہمیں درج ذیل اصولوں تک پہنچاتا ہے:

1. اسلامی نقطہ نظر سے انسان کی سب سے بنیادی شناخت مخلوق کی ہے۔

یعنی انسان یہاں خود بخود بغیر کسی مقصد کے کچھ نامیاتی مرکبات کا مجموعہ نہیں ہے جسے ارتقائی سفر نے شعور و ادراک کے کچھ پیچیدہ شبکوں تک پہنچادیا ہے، بلکہ اس کا زمین پر وجود ایک خاص مقصد اور خاص کام کے لیے ہے۔ واضح ہونا چاہیے کہ انسان کا وجود یہاں کس طرح ہوا، اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جب کہ آپ یہ مان رہے ہوتے ہیں کہ وہ ایک خاص مقصد اور خاص کام کے لیے یہاں موجود ہے اور اس کا بنانے والا کوئی ہے۔ ایک خالق کی موجودگی کا اقرار اس بات کو عملًا بہت زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہنے دیتا کہ مخلوق کس طرح وجود میں آئی۔ اپنے چند برگزیدہ بندوں کی مدد سے اس خالق نے تمام انسانوں کے شعور و ادراک کی رہ نمائی کرکے دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچان لیں۔ شناخت کا مخلوق والا پہلو افراد اور اقوام کی شناخت کے حوالے سے بہت سارے مسائل کا حل فراہم کردیتا ہے۔ مثلًا سیکولر اخلاقیاتی فریم ورک میں انسان کی حیثیت ہی پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے غیر معمولی قسم کے شناخت کے مسائل وجود میں آتے ہیں۔ مثلًا جیسے ہی آپ نیچرلسٹک اخلاقیات اور نیچرلسٹک سائنس کے سہارے وجود میں آئے سائنٹزم کے اس دعوے کو ماننے لگتے ہیں کہ انسان بتدریج ترقی پاتا ہوا اس دنیا میں آیا ہے ویسے ہی آپ شناخت کے ایک پیچیدہ بھنور میں گھر جاتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ آپ دوسرے جانداروں کی طرح ایک جاندار اور دوسری انواع کی طرح ایک نوع ہیں اور آپ کا کوئی خاص مقام نہیں ہے اور یہ مانتے ہی آپ کے لیے اس بات کا دروازہ کھل جاتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کتّے، ڈولفن، بندر یا کسی اور جانور سے مماثل قرار دینے لگیں اور عملًا آج شناخت کے اس بحران میں ہم اس بات کو محسوس کر سکتے ہیں۔

چناں چہ اگر محسوس کیا جائے تو ایک بار کسی خالق کی موجودگی کو مان لینے کے بعد اور اپنے آپ کو مخلوق تسلیم کرنے کے بعد یہ الجھاؤ خود بخود درست ہو جاتا ہے۔

اللہ کے ذریعے ’’تخلیق کردہ‘‘ ہونے کا تصور ایک انسان کی شناخت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو اس کے عالمی نقطہ نظر، اقدار اور مقصد کے احساس کو کئی گہرے طریقوں سے تشکیل دیتا ہے۔

مقصد الٰہی

اپنے آپ کو اللہ کی تخلیق کے طور پر سمجھنا ایک انسان کو الٰہی مقصد اور اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ اللہ کی خالقیت پر یقین رکھنے والے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو مقصد اور حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے وجود کا ہر پہلو اس وسیع تر کائناتی نظام کے اندر ایک مقصد رکھتا ہے۔ یہ اعتراف ان کی زندگیوں میں معنی (meaning) اور سمت (direction) کا گہرا احساس پیدا کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی حیثیت سے اپنے کردار کو انجام دینے کے لیے ان کے انتخاب اور عمل کی رہنمائی کرتا ہے۔

عاجزی اور شکر گزاری: یہ تسلیم کرنا کہ انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے، انسان کے دل میں عاجزی اور شکر گزاری کو فروغ دیتا ہے۔ اس سے ان میں اپنے وجود (Self Being)، رزق اور فلاح و بہبود کے لیے اللہ پر انحصار کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ یہ عاجزی انسانوں کو اپنی حدوں اور کم زوریوں کو تسلیم کرنے کی ترغیب دیتی ہے جب کہ شکر گزاری انھیں اپنے خالق کی طرف سے عطا کردہ بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور قدر کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس طرح سے وہ شناخت کے ان پیچیدہ مسائل سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں بہتر طور پر کام یاب ہو سکتے ہیں جو انسانی وجود، مقصد اور معنویت کا صحیح تصور نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

ذمہ داری اور جواب دہی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخلیق کیا جانا انسانوں میں ذمہ داری اور احتساب کا احساس پیدا کرتا ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے اعمال اور انتخاب کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور ان کے اعمال آخرت میں ان کی حتمی تقدیر کا تعین کریں گے۔ یہ تفہیم انسانوں کو نیکی کے لیے جدوجہد کرنے، غلط کاموں سے بچنے اور اللہ اور مخلوق کے تئیں اپنی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اور اس طرح سے اعلی مقصدیت کے حوالے سے شناخت پر غیر ضروری زور اور شناخت کو دریافت کرنے کے پیچیدہ راستوں سے ان کی حفاظت کرتی ہے۔

خدا سے تعلق: اللہ کے پیدا کردہ ہونے کا تصور انسانوں اور ان کے خالق کے درمیان گہرا تعلق قائم کرتا ہے۔ اللہ کی خالقیت پر یقین رکھنے والے انسان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے وجود کے ہر پہلو سے بخوبی واقف ہے، بشمول ان کے خیالات، ارادے اور جدوجہد کے یہ شعور اللہ کے ساتھ ان کے رشتے میں قربت اور اعتماد کے گہرے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ جس کے چلتے وہ اس بے معنویت، غیر مقصدیت اور شناخت کے خلا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اسلامی مآخذ کا مطالعہ ہمیں شناخت کے ایک دوسرے پہلو کی طرف لے جاتا ہے اور وہ پہلو عبدیت سے متعلق ہے۔

اسلام میں، ’’عبد‘‘ کا تصور، جس کا ترجمہ بندہ ہے، ایک انسان کی شناخت کی تشکیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تصور فرد اور اس کے خالق یعنی اللہ کے درمیان تعلق پر زور دیتا ہے۔

بظاہر بہت سادہ نظر آنے والے اس تصور میں بڑی گہرائی چھپی ہیں۔ مثلًا جدید مغربی ڈسکورس میں شناخت کے حوالے سے جتنے مسائل درپیش آتے ہیں ان کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ فرد اپنا مقام متعین نہیں کر پاتا۔ اس کا ایک پہلو تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر انسان کی حیثیت میں وہ اپنے آپ کو مان بھی لے تب بھی جو مسئلہ باقی رہتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ انسان ہے بھی تو اس کی حیثیت اس کائنات میں کیا ہے۔ اسلام بہت واضح طور سے اس بات کی وضاحت کر دیتا ہے کہ انسان کی شناخت مخلوق کے بعد دوسرے پہلو سے یہ ہے کہ وہ ایک ایسے خالق کا عبد ہے جو اس پوری کائنات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ اس کائنات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے جس کی وسعت کا اندازہ ہمارے سب سے اعلی ترین اور جدید ترین طریقہ ہائے سائنس اور ہمارے اعلی ترین دماغ بھی ابھی تک نہیں لگا سکے ہیں۔ جیسے ہی بندے کی یہ کیفیت کسی انسان کے ذہن میں جاگزیں ہو جائے گی اسے اپنی شناخت کے سلسلے میں پریشان ہونے کی قطعًا ضرورت نہیں رہے گی۔ اسلام عبد کی اس کیفیت کو جا بجا اپنے بنیادی ماخذ یعنی قرآن میں بیان کرتا ہے۔ ترجمہ: میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ ’’ (سورہ الذاریات: 56)

’عبد‘ کا تصور درج ذیل طریقوں اور پہلوؤں سے ایک اسلامی شناخت کو منضبط کرتا ہے:

اللہ کی اطاعت

اللہ کی اطاعت ایک ایسا غیر معمولی پہلو ہے جو شناخت کے اسلامی ڈسکورس میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لفظ ’’عبد‘‘ اسلام کے بنیادی اصول کی نشان دہی کرتا ہے، جو اللہ کی مرضی کے تابع ہے۔ ایک مسلمان اپنے آپ کو اللہ کے بندے کے طور پر پیش کرتا ہے اور اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کی حاکمیت اور اختیار کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ فرمانبرداری اسلامی عقیدے اور عمل کی بنیاد ہے، جو اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ایک مسلمان دنیا میں اپنے مقصد اور کردار کو کس طرح دیکھے۔

عاجزی اور انحصار

عبد کا ایک دوسرا پہلو وہ عاجزی اور انکساری ہے جو یہ تصور اس فرد کے اندر پیدا کرتا ہے۔ شناخت کے سلسلے میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ شناخت کے مسائل سے گزر رہے افراد اپنے اندر اعلی انسانی صفات جیسے عجز و انکسار کے حوالے سے مشکل میں ہوتے ہیں۔ عبد ہونے کا مطلب ہے اپنی فطری حدوں کو تسلیم کرنا اور اللہ پر انحصار کرنا۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت (transcendental guidance)، رزق (sustenance) اور حفاظت (protection) کے لیے اللہ پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ عاجزی ان کے عالمی نقطہ نظر اور دوسروں کے ساتھ تعامل کو تشکیل دیتی ہے، شکر گزاری کے احساس اور خدائی رحمت پر انحصار کو فروغ دیتی ہے۔

شناخت کے بے شمار مسائل سے گزر رہے افراد ’عبد‘ کے تصور کے اس پہلو کے حوالے سے اپنے لیے وہ نفسیاتی اطمینان پیدا کر سکتے ہیں جو انھیں شناخت سے جڑے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط بناتی ہے۔

اخلاقی فریم ورک

عبد کا تصور اسلام کے اندر اخلاقی فریم ورک کی تشکیل و تعمیر کرتا ہے۔ اللہ کے بندوں کی حیثیت سے مسلمانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قرآن میں بیان کردہ اخلاقی اصولوں اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں۔

عام طور پر شناخت کے مسائل میں اخلاقی فریم ورک کی غیر معمولی اہمیت ہے مثلًا جو مغربی الحاد پرست اخلاقیات کا فریم ورک ہے وہ افادیت پسندی (utilitarianism) سے عبارت ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں صرف افادیت پسندی سے عبارت ہے۔ چوں کہ افادیت پسندی ایک اضافی اصطلاح ہے اس لیے وہ بہت سارے حوالوں سے انفرادی سطح پر قابل عمل اخلاقی اصولوں پر فرد کو نہیں پہنچاسکتی۔ اسی لیے یہ دیکھا گیا ہے کہ شناخت کے مسائل سے نبرد آزما افراد اخلاقی حوالوں سے بھی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

ذمہ داری کا احساس

عبد کے پہلو سے یہ ایک اور پہلو ہے جو شناخت کی تشکیل اور تعمیر میں غیر معمولی رول ادا کرتا ہے۔ عام طور پر لا دینیت پر مبنی اخلاقی فریم ورک انفرادیت پسندی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے جس کے نتیجے میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ فرد کے اندر لامعنویت (meaninglessness) پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی دوسری انتہا یہ بھی ہے کہ فرد صرف انفرادیت پسند ہو جاتا ہے اور فرد کی خوشی، بہتری، نفسیاتی سکون ہی ترجیح اختیار کر لیتے ہیں اور اجتماعی رول خاندان اور ماں اور باپ نیز دیگر خاندان کے افراد کے احساسات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے لیے خود ان کی ذات، شناخت اور خوشی ہر چیز پر مقدم ہوجاتی ہے اور دوسروں کے تئیں ذمہ داری کا احساس ان میں بہت ہی کم ہو جاتا ہے۔ چناں چہ دیکھا گیا ہے کہ صنفی اضطراب سے جھوجھنے والے لوگ عام طور پر خود مرکوز ہوتے ہیں۔ انھیں اپنے مسئلے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ والدین جنھوں نے عمر بھر ایک لڑکے کی پرورش کی اور صنفی اضطراب کے نتیجے میں وہ لڑکا اپنے آپ کو لڑکی باور کرتا ہے تو اس کا فوکس بس اسی پر ہوتا ہے کہ کس طریقے سے وہ ایک لڑکی بن جائے۔ اس کے نتیجے میں اس کے والدین پر کیا گزرے گی، اس کے والدین کے تئیں اس کی ذمہ داری کیا ہے، اس کے اہل خانہ کیا سوچیں گے، اس سے اس کو کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ راقم السطور کے پاس ایسے بھی کیس آئے ہیں جن میں والدہ زار و قطار روتے ہوئے یہ کہتی نظر آئی کہ ہم نے پچھلے 20 برسوں میں اس کو لڑکوں کی طرح پالا اب ہم اپنے آپ کو یہ کس طرح سمجھائیں کہ یہ لڑکا نہیں لڑکی ہے، جب کہ وہ مکمل طور پر لڑکا ہی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ہم صنفی اضطراب سے گزرنے والے افراد کی مشکلوں کو کم نہیں سمجھ رہے ہیں اور اس بات کا پورا احساس کرتے ہیں کہ اس طرح کے کسی معاملے میں جب ایک فرد صنفی اضطراب سے گزر رہا ہوتا ہے، تو کسی دوسرے فرد کے لیے یہ آسان نہیں ہے کہ وہ اس کا تصور کر سکے، اس کی تکلیف کو محسوس کرسکے، لیکن ہم اس پر بھی توجہ دینا چاہتے ہیں کہ ایسے ہر فرد کو یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ وہ جس تکلیف سے گزر رہا ہے کیا اتنی ہی بڑی تکلیف یا اس جتنی تکلیف اس کے اس والدین، بھائی بہن، اہل خاندان اور دوستوں کو بھی ہو رہی ہے، جنھوں نے اسے ایک خاص انداز میں اب تک دیکھا سمجھا اور برتا ہے۔

روحانی تعلق

’تصور عبد‘ شناخت کے ڈسکورس میں ایک اور غیر معمولی پہلو سے اپنا رول ادا کر سکتا ہے اور کرتا ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق کے حوالے سے ہے۔

عام طور پر شناخت اور بالخصوص صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد کے لیے یہ ایک غیر معمولی نعمت ہے کیوں کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر صنفی اضطراب سے گزرنے والے لوگ ایک ایسی روحانیت کی تلاش میں ہیں جس میں مذہبیت کا دخل نہ ہو لیکن یہ ایک ناممکن سی بات ہے کیوں کہ ایسی روحانیت جس میں روح کا تذکرہ نہ ہو، جو کسی اعلی تعلق کی بنیاد پر وجود میں نہ آئے اور جس میں ایک قوت مقتدرہ جو ساری کائنات پر مکمل کنٹرول رکھتی ہو اس کی موجودگی نہ ہو وہ روحانیت دیرپا نہیں ہوسکتی۔ ’عبد‘ کا تصور ایسے تمام افراد کو اس قوت مقتدرہ سے جوڑنے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے جو بالآخر شناخت اور اس سے جڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے ان افراد میں غیر معمولی داعیہ پیدا کر سکتی ہے۔

شناخت کے ڈسکورس میں دوسرا سب سے اہم تصور جو اسلام کے بنیادی مآخذ میں ہم کو ملتا ہے وہ تصور خلافت بنی آدم ہے۔

قرآن مجید میں کئی جگہ پر اس کا تذکرہ آیا ہے۔ مثلًا: ’’پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ (سورۃ البقرۃ: 30)

خلافت کا تصور شناخت کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ ایک دل چسپ موضوع ہے، بطور خاص ان مسلمانوں کے حوالے سے جو اسلام پر کما حقہ عمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بجائے خود ایک وسیع تحقیق کا موضوع ہے کہ کس طریقے سے خلافت کا تصور شناخت کے حوالے سے افراد کی مدد کر سکتا ہے۔

شناخت میں اور بالخصوص صنفی شناخت میں مقصد اور حتمی انجام (ultimate end) کے حوالے سے بہت بڑا خلا پایا جاتا ہے۔ وہ افراد جو اس طرح کے مسائل سے گزر رہے ہوتے ہیں امید، مقصد اور بالآخر انجام کے حوالے سے بہت متذبذب ہوتے ہیں۔ اسلام کا تصور خلافت واضح طور پر ہر فرد کو براہ راست اللہ کے ذریعے تفویض کردہ ایک بہت بڑی شناخت کا حوالہ دیتا ہے۔ وہ ہر شخص کو اللہ کا خلیفہ بناتا ہے۔ ہر بنی آدم کو جو شعوری طور پر اس کائنات میں موجود نشانیوں پر غور کر کے اس علیم و قدیر کا احساس و ادراک کر لیتا ہے، جو اس پوری کائنات کا منتظم ہے۔ تب اس کے اندر ایک خاص قسم کی طمانیت وجود میں آتی ہے۔ مسائل اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس کا ذہنی مشاکلہ بالکل الگ انداز سے تشکیل پاتا ہے۔ شناخت کے بہت بڑے مسائل اسے بہت چھوٹے نظر آتے ہیں اور وہ انفرادیت پسندی سے آگے بڑھ کر ایک عالمی امت کی ایک اکائی ہونے کا احساس اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے۔ جسے اس زمین میں اختیارات دے کر کے بسایا گیا ہے تاکہ وہ یہاں بہتر عمل کر کے دکھائے۔ ’’ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔‘‘(سورۃ الملک: 2)

عبد کے تصور کی طرح خلافت کا تصور، بھی کئی اہم پہلوؤں سے انسانوں کی شناخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مثلًا عبد کے تصور کے ساتھ ہی خلافت کا تصور بھی فرد کے اندر مقصد اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ تصور خلافت شناخت کے حوالے سے ایک فرد میں زمین کے محافظ کی حیثیت سے مقصد اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔

خلافت بنی آدم کے اسلامی تصور کے مطابق، انسان کو زمین پر اللہ کی طرف سے ذمے داری اور اختیارات کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے فرد اپنے آپ کو اس دنیا کے اندر ایک ذمہ دار مخلوق کے طور پر دیکھنا شروع کرتا ہے، جو اللہ کی دوسری مخلوق سے چاہے وہ جاندار ہوں یا بے جان، جُڑا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ شناخت کے حوالے سے بطور خاص صنفی شناخت کے حوالے سے مختلف مسائل کے شکار افراد اپنے آپ کو کسی اجتماعی اکائی اور کسی بڑے ڈیزائن سے جوڑنے میں ناکام ہوتے ہیں اور وہ بس اپنی چھوٹی سی شناخت کی دنیا میں مسائل کا شکار اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ جب کہ خلافت بنی آدم کا تصور افراد کے اندر دنیا کی دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ (قرآن 2: 30)

اخلاقی طرز عمل اور احتساب

اللہ کی مخلوق کے محافظ کی حیثیت سے اسلام فرد کا ذہنی مشاکلہ ایمانداری، دیانت داری اور رحم دلی جیسے تصورات سے تشکیل دیتا ہے۔ خلافت کا تصور اخلاقی طرز عمل، احتساب اور اپنے آپ کو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے پر زور دیتا ہے۔ وہ اس طریقے سے انفرادی فائدے اور خوشی پر اجتماعی فائدے اور خوشی کو مقدم کرنے کا داعیہ پیدا کرتا ہے۔

اس طرح جہاں تصورِ عبد انسان کو فرد کی حیثیت میں تحریک دیتا ہے وہیں خلافت بنی آدم کا تصور اجتماعی طور پر اپنے رول کو سمجھنے کی لیے تحریک کا کام کرتا ہے۔ واضح رہے کہ تصورِ عبد کے مِلتے جُلتے نظر آنے والے تصورات میں ایک بہت باریک اور گہرا فرق ہے۔ ایک تصورِ عبد انسان کو انفرادی حیثیت میں اللہ سے اپنا روحانی تعلق بڑھانے، اپنی شناخت کو اللہ کی مخلوق اور اللہ کے بندے کے حوالے سے محسوس کرنے کی طرف توجہ دیتا ہے جب کہ دوسرا تصورِ عبد تصورِ خلافت سے مل کر اجتماعی طور پر انسان کو ایک اجتماعی ذہنی مشاکلے کی طرف لے جاتا ہے جس کے توسط سے وہ اپنے جیسے ان انسانوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے جو اپنے آپ کو خلیفہ مانتے ہیں اور ایک بڑی امت کی ایک اکائی کی حیثیت میں ایک اعتقادی نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔

اسلام اور عمومی شناخت کے ڈسکورس کا مندرجہ بالا تجزیہ یہ دکھاتا ہے کہ اسلام میں شناخت کے اس پورے ڈسکورس کے لیے بہت پائیدار بنیادیں موجود ہیں اور یہ بنیادیں براہ راست عقیدے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی بنیاد پر ایک خاص قسم کا ذہنی مشاکلہ تشکیل پاتا ہے جو موجودہ مغربی شناخت کے ڈسکورس میں موجود بہت ساری پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے کا بہت آسان حل تجویز کرتا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ اسلام انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں انسان کی تینوں بنیادی شناختوں یعنی مخلوق، عبد اور خلیفہ اور ان سے مشتق ہونے والی ذمے داریوں پر مشتمل انفرادی و اجتماعی شناختیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس طرح یہ مغرب کے ادھورے، نامکمل اور تنگ شناختی دائروں سے اوپر اٹھ کر تمام انسانوں کو ایک کائناتی وسیع ہمہ گیر شناخت میں پروتا ہے جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ انسان شناخت کے محدود دائروں سے باہر آ کر اپنے آپ کو ایک وسیع تر سماج، ایک وسیع تر انسانی تہذیب اور ایک وسیع تر زمینی حقیقت سے جوڑ سکے۔

اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اسلام شناخت کی جن بنیادوں کو پیش کرتا ہے وہ تمام انسانوں کو ایک وسیع شناخت کے ڈسکورس میں شانہ بشانہ ایک دوسرے کے مددگار کے طور پر کھڑا کر دیتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی جداگانہ شناخت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ شناخت کے وہ محدود دائرے جو مغربی ڈسکورس میں بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں انھیں وہ ان کی اصل جگہ دیتا ہے۔ آگے ہم ان شناختی بنیادوں کا تذکرہ کریں گے جو اسلام تسلیم کرتا ہے اور ان کی بنیاد پر وجود میں آنے والی شناخت کو اس کی قرار واقعی حیثیت دیتا ہے۔ لیکن یہ شناخت دراصل اس ہمہ گیر وسیع کائناتی اور زمینی حقیقت والی شناخت سے ایک درجہ نیچے ہوتی ہے، جیسے صنفی شناخت، ثقافتی شناخت، علاقائی شناخت اور قبیلے والی شناخت وغیرہ۔

ثقافتی شناخت: اسلام پر دنیا بھر میں متنوع ثقافتی سیاق و سباق میں عمل کیا جاتا ہے. نتیجتًا، مسلم شناخت اکثر مختلف ثقافتی شناختوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہے، چاہے وہ عرب، جنوبی ایشیائی، افریقی، جنوب مشرقی ایشیائی، یا دیگر شناختیں ہوں۔ رسم و رواج، زبانیں، کھانے پینے اور دیگر روایات پر مبنی ثقافتیں متنوع قسم کی مسلم شناختوں کی تعمیر کرتی ہیں۔

اسلام ثقافتوں کے اس تنوع کو تسلیم کرتا ہے اور اسے ایک وسیع تر شناخت سے جوڑتا ہے جس کا تذکرہ اوپر آ چکا۔

نسلی شناخت

مسلمان مختلف نسلی پس منظر سے آتے ہیں، جن میں عرب، فارسی، ترک، مالے اور بہت سی دوسری شناختیں شامل ہیں۔ اگرچہ اسلام نسلی حدود سے بالاتر ہے، لیکن نسلی شناخت اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور کرتی ہے کہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مسلم شناخت کا تجربہ اور اظہار کیسے کرتے ہیں۔ لیکن نسلی شناخت کا یہ اظہار اور تجربہ اصل میں امت کے وسیع تر شناخت اور تصور کے تحت ہی ہوتا ہے۔

قومی شناخت

مسلمان زمین پر تقریبًا ہر ملک میں رہتے ہیں اور ان کے تجربات ان کے قومی سیاق و سباق سے تشکیل پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انڈونیشیا میں ایک مسلمان کا ثقافتی اور سماجی تجربہ نائجیریا میں ایک مسلمان یا ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ایک مسلمان کے مقابلے میں مختلف ہوسکتا ہے۔ قومی شناخت مذہبی شناخت کے ساتھ پیچیدہ طریقوں سے تعامل کرتی اور رویوں اور طرز عمل کو متاثر کرتی ہے۔

معتدد پہلو والی شناخت

بہت سے انسانوں کی طرح بہت سے مسلمان بھی بیک وقت متعدد شناختوں کے ساتھ تعامل کا سامنا کرسکتے ہیں، جن میں صنف، جنسیت، سماجی و اقتصادی حیثیت اور بہت کچھ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر کسی مغربی ملک میں رہنے والی ایک مسلمان عورت صنف اور ثقافت کے فرق کی وجہ سے اپنی شناخت کو ہندوستان یا نائجیریا یا پاکستان کی مسلم یا غیر مسلم عورت سے مختلف انداز میں محسوس کر سکتی ہے۔

اوپر بیان کیے گیے تفصیلی محاکمے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام شناخت کے وہ آفاقی، پائیدار اور عظمت سے بھرپور اصول دیتا ہے، جن سے انسان کو شناخت کا ایک آفاقی لیکن سادہ اور قابل عمل فریم ورک حاصل ہوتا ہے۔ اس فریم ورک کو اپنانے سے انسان کے لیے شناخت کے پیچیدہ اور بعض اوقات لا ینحل مسائل سے نمٹنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسلام شناخت کا وہ عالم گیر تصور دیتا ہے جسے اپنانے کے بعد بہت سے ذیلی امور جن کو لے کر آج ساری دنیا میں شناخت کے حوالے سے ہنگامہ برپا ہے بہت معمولی نظر آنے لگتے ہیں۔

اللہ کے رسول ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اس حقیقت کا اعلان کیا تھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر برتری نہیں ہے۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقوی (انسان کا حسن کردار) ہے۔ یہ ذیلی شناختوں کے لامتناہی سلسلے سے انسان کو آزاد کرانے کا تاریخی اعلان تھا۔

اپریل 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau