تطہیر قلب : راہ و منزل

سید شکیل احمد انور

جماعت اسلامی ہند نے اپنے وابستگان کی ہمہ جہتی تربیت کے لیے اس مرتبہ اپنے میقاتی پروگرام میں تطہیر قلب پر بھی زور دیا ہے ۔ تزکیۂ نفس اور اصلاح اعمال پر وہ پہلے ہی سے عامل رہی ہے۔ خصوصاً انفرادی تربیت اور تزکیے کے لیے اس کا ۲۱ نکاتی لائحہ عمل مثالی ہے ۔ ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح اور تطہیر قلب کا مقام قرآن و حدیث میں واضح ہے ۔یہ امور اہل تصّوف یا رشدو ہدایت کے سلسلوں میں ہی مقبول نہیں بل کہ عالمی تحریکات اسلامی ، اخوان المسلمون اور نورسی تحریک میں بھی رائج رہے ہیں ۔ تزکیہ نفس کے ساتھ ساتھ تطہیر قلب کی مساعی یقینا تحریکی صفوں میں نئی روح پھونکنے کے مترادف ہونگیں ۔قرآن حکیم میں اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ایمان لانے کا زبانی دعویٰ کر تے ہیں، حالانکہ ان کے دلوں نے ایمان قبول نہیں کیا ہے ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے فتنہ میں ڈال دیا ہے اور جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک کرنا نہیں چاہا، ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے ۔

أولٰئِکَ الَّذِےْنَ لَمْ ےُرِدِ اللّٰہُ أَنْ ےُّطَھِّرَ قُلُوْ بَھُم لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ ﴿المائدہ:۴۱﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا— ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی سخت سزا‘‘۔

اس آیت میں میں تطہیر قلب کا اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے، جسے قرآن حکیم میں ’ختم قلوب‘  کے الفاظ سے قرآن میں تعبیر کیا گیا ہے ۔علمائ نے آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : ’’مطلب یہ ہے کہ دلوں کی تطہیر اور ان کے تزکیے کے لیے اللہ کے ہاں ایک خاص ضابطہ ہے ۔ جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلتے ہیں اگر اثنائے راہ میں ان کو کوئی ٹھو کر لگ جاتی ہے ‘ وہ گرپڑتے ہیں ‘ لیکن گرنے کے بعد پھر اٹھ کھڑے ہو تے ہیں اور توبہ و اصلاح کے ذریعہ سے دامن جھاڑ کے پھر چل کھڑے ہو تے ہیں تو خواہ ہزار بار گریں اور اٹھیں لیکن ان کے دامن دل پر میل جمنے نہیں پا تا ‘ اللہ ان کی توبہ و اصلاح کو ان کے لیے کفارۂ سئیات بناتا رہتا ہے ۔ لیکن جو لوگ برائی اور نافرمانی ہی کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور گنا ہوں کی کیچڑہی میں لت پت رہنے میں لذت و راحت محسوس کر تے ہیں آہستہ آہستہ ان کے دلوں پر اتنی سیاہی جم جاتی ہے کہ ان پر کوئی صیقل بھی کار گر نہیں ہوتا ‘ پھر خدا انہیں جہنم کی بھٹّی ہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے ‘‘ ۔توبہ و اصلاح حال کی انسانی سعی کو اللہ تعالیٰ دلوں کی پاکیزگی، صفائی اور ستھرائی کا ذریعہ بنا کر اسے اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے اور جو انسان توبہ وا صلاح کی روش اختیار نہ کر ے بلکہ اپنے افعال بد کے معاملے میں ڈھٹائی پر اترآئے تو اللہ تعالیٰ اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے— اس کیفیت کو ختم ’قلوب‘ کہا گیا ہے ۔

خَتَمْ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوْ بِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ وَعَلٰٓی اَبْصَارِ ھِمْ غِشَا وَۃٌ وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ۔  ﴿البقرہ: ۷﴾

’’ جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے یکسا ں ہے ڈر ائو یا نہ ڈر ائو ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں—اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر او ر ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے ‘‘ ۔

یہاں جس ختم قلوب کا ذکر ہے، اس سے مراد ختم ظاہری نہیں بلکہ ختم معنوی ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے ‘ سننے اور سمجھنے کا تعلق ہے وہ سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحتیں دنیا کے ظواہر و محسوسات ہی تک محدود رہتی ہیں۔ ان کے پس پردہ حقائق تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ دوسرے یہ کہ ختم قلوب سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مائوں کے پیٹوں ہی سے دلوں پر ٹھپّا لگا کر پیدا کیا ہے، بل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بداعمالیوں سے اس قدر بگاڑ آگیا ہے کہ نیکی ‘ خیر اور فلاح کی کوئی بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہی محرومی ہو گئی ہے ۔یہی وہ مرحلہ ہے جہا ں اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت کسی انسان کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور اس کا مذاق اس قدر بگڑ جا ناہے کہ اس کی ساری دلچسپی صرف بدی ہی کے لیے رہ جاتی ہے ۔نیکی کرنا تو کجا نیک باتیں سننے ہی سے اس کو وحشت ہو تی ہے ۔ ختم قلوب یا دل پر مہر لگنے کا ذکر قرآن حکیم میں دیگر مقامات پر بھی آیا ہے سورہ اعراف آیت : ۱۰۰ ‘ ۱۰۱‘ ۱۰۲‘ میں اس کیفیت کو طبع قلوب کہا گیا ہے ۔سورہ نسائ آیت ۱۵۵ میں بھی اسی بات کو دہرایا گیا ہے ۔ ان آیات کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو تی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی کو اس کی ما ں کے پیٹ سے اس کے دل پر مہر لگا کے نہیں بھیجتا ،بل کہ گناہوں کے قدرتی نتیجے کے طور پر دلوں پر مہر لگتی ہے اور اس میں یہ پہلو ہے کہ گناہوں پر ہٹ دھرمی ‘ ضد ‘ نفسانیت اور اندھی مخالفت کے سبب جب وہ نیکی کو رد کر تا ہے تو اس کا اثر یہ ہو تا ہے کہ دل پر مہر لگ جاتی ہے اور انسان صحیح طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے ۔ تیسرے یہ کہ دلوں کا مہر بند ہو جانا اور سمع و بصر کی صلاحیتوں سے کسی کا محروم ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کی پاداش میں کسی فردیا گروہ پر نازل ہو تا ہے ۔ختم قلوب کی اس کیفیت کا دوسرا نام تطہیر قلوب سے محرومی ہے۔ حدیث نبوی سے بھی اس کی تصدیق ہو تی ہے :

اِنَّ الْمُوْ مِنینْ اِذَا ذَنُبِ کاَنَتْ نَکِتَہِ سَوْدَائِ فِیْ قُلْبِہ وَاِنَّ ذَاْدَتُ حَیَّ تَعْلَوْ قَلْبِہ فَذَالِکَ أَتْرَان الَّذیْ قَالَ اللّٰہُ تَعالیٰ کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْ بِھِمْ مَاکاَنُوْ ےَکْسِبُوْنَ۔ ﴿ابن کثیر بحوالہ ترمذی﴾

’’مومن جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے سبب سے اس کے دل پر ایک سیاہ دھبّا پڑجاتا ہے ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے ‘ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا ہے تو اس کے دل کا وہ دھباّ صاف ہو جاتا ہے ۔ اور اگر اس کے گناہوں میں اضافہ ہو تا رہتا ہے یہاں تک کہ ان کی سیاہی اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے تو یہی وہ رین ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْ بِھِمْ مَاکاَنُوْ ےَکْسِبُوْن۔﴿المطففین:۱۴﴾

’’ ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھاگئی ہے ‘‘۔

سلف صالحین کے نزدیک بھی ختم قلوب کی یہی حقیقت ہے ۔ ابن کثیر نے اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اعمش کہتے ہیں کہ مجاہد نے ایک مرتبہ سمجھایا کہ سلف﴿صحابہ کرام رضی اللہ عنہم﴾ دل کو اس ہتھیلی کے مانند سمجھتے تھے، جب آدمی کسی گناہ میں آلودہ ہو تا ہے تو ﴿انھوں نے اپنی انگلی سکیڑتے ہوئے سمجھایا ﴾ دل اس طرح سُکڑ جاتا ہے پھر جب مزید گناہ کرتا ہے تو دوسری انگلی کو سکیڑتے ہوئے بنایا ﴾۔دل اس طرح بھنچ جاتا ہے ۔ اسی طرح تیسری انگلی کو سکیڑا ۔ یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے تمام انگلیوں کو سکیڑلیا ۔ پھر فرمایا کہ جب دل گناہوں کے غلبے سے اس طرح بھنچ جاتا ہے تو اس پر مہر کر دی جاتی ہے ۔ مجاہد نے بتایا کہ سلف ﴿صحابہؓ ﴾ اسی چیز کو وہ رین قرار دیتے تھے جس کا ذکر کَلاَّ بَلْ رَانَ عَٓلٰی قُلُوْ بَھُمْ الآیۃ میں آیا ہے ۔اس کیفیت کو فَلَمَّازَا غُوْاأَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبھُمْ ﴿جب وہ کج ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کج کر دئیے و نیز           وَنَقَلب انئد تھم وَ أَبْصَار ھم ﴿اور ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیتے ہیں ﴾ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔

اس بات کو دوسرے پہلو سے اجا گر کیا گیا ہے :

فِیْ قُلُوْ بِھِمْ مَرَضٌ فَزَادَ ھُمُْ اَللّٰہُ مَرَ ضَا۔  ﴿البقرہ: ۱۰﴾

’’ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے، جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا‘‘۔

مرض کا لفظ قرآن حکیم میں دو معنی میں مستعمل ہوا ہے ایک کینہ وحسد کے معنٰی میں دوسرے نفاق کے معنٰی میں ۔ جن مقامات پر یہ لفظ نفاق کے ساتھ آیا ہے وہاں تو یہ کینہ اور حسد کے معنی میں ہے لیکن جن مقامات پرتنہا استعمال ہوا ہے وہاں تو دونوں معنی اس کے اندر جمع ہیں یا قرینہ اس کے دونوں معنی میں سے کسی ایک معنی کو لیتا ہے۔ حاصل کلام اس تفصیلی بحث کا یہ ہے کہ تطہیر قلب سے مراد دل کاکینہ و حسد سے پاک ہو جانا،نفاق کی بیماری سے شفاء  یاب ہو جانا،گناہ کی آلودگی دور ہو جانا،کردار کی کجی رفع ہو جانا،توبہ واصلاح احوال سے دلوں کی پاکیزگی بحال ہو جانا،انسان کا نیکی و تقویٰ کی راہ پر گامزن ہو جانااور دلوں سے میل اور کدو رتوں کا دور ہو جانا وغیرہ ہے ۔

بکثرت ذکر الٰہی اور تلاوت آیات سے قلوب پر اثر پڑتا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا:

اِنَّمَا اْلمُوْمِنُوْنَ الَّذِےْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبِھِمْ ﴿الانفال:۳﴾

’’بس ایمان والے تو ایسے ہو تے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں ‘‘۔

وَاِذَاتُلِیتْ عَلَےْھِمْ اٰےَاتِہٰ زَادَ لَھُمْ اِےْما ناً۔

’’اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ تازہ کر دیتی ہیں‘‘۔

حدیث شریف کے مطابق اصلاح اعمال کا دارومدار اصلاح قلب پر ہے ۔ حضرت ابو عبد اللہ نُعمان بن بشیر ؓ  سے منقول ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺکا یہ فرمان ہے:

وَاِنَّ فِیْ الْجَسْدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلَحَ الْجَسْد کُلُّہُ وَاِذًا فَسَدتْ فَسَدَا لْجَسَدُ کُلُّہُ اَلاَ وَھِیَ انْقَلْبُ۔

﴿سن لو ! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہو تا ہے جب وہ ٹھیک ہوا تو پورا جسم ٹھیک ہو گیا اور جب وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑگیا۔ سن لو! وہ﴿ گوشت کا لوتھڑا﴾ دل ہے ۔

محترم محمد فاروق خان صاحب مذکورہ حدیث کے ’قلب‘ سے متعلقہ جملے کی تشریح میں فرماتے ہیں :-

’’ اس معاملہ ﴿حرام و حلال کے سلسلہ میں مشتبہ امور﴾ میں تورّع اور احتیاط سے کام وہی شخص لے سکتا ہے جسے قلب سلیم حاصل ہو۔ اس لیے آپ نے فرمایا کہ قلب کی صحت اور سلامتی پر جسمانی صحت و صلاح کا اصل دارومدار ہے ۔ ہمارے اعمال درست ہوں اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے قلب کو درست رکھیں ۔ دل اگر ماسوا کا گرفتار نہیں ہے بلکہ وہ ایک خدا کا ہو گیا ہے تو لازماً انسان مشتبہات کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتا لیکن اگر دل گرفتار ماسوا ہے ‘ یکسوئی اور انابت الی اللہ کی کیفیت اس میں پیدا نہیں ہوسکی ہے تو اسے قلب سلیم نہیں کہہ سکتے ۔ ایسی صورت میں مشتبہات تو کیا انسان ممنوعات و مُحّرمات کا مرتکب ہو سکتا ہے ۔

قلب سلیم تمام بھلائیوں کا سر چشمہ اور بذات خود بڑی نعمت ہے ۔ قرآن میں ہے :

یوْمَ لَا تَنْفَعُ مَالَ وَلاَ بَنُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہُ بِقَلْبٍ سَلَیمْ۔﴿سورہ الشعراء﴾

’’جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد بجز اس کے کہ کوئی صحیح سالم دل لے کر خدا کے پاس آیا ہو‘‘۔

صحت قلب کی پہچان کیا ہے ؟ اسکے لیے قرآن کی یہ آیات دیکھیں :

وَاِزْ لَفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِےْنَ غَےْر بَعِےْد ھٰذَا مَاتُوْعَدُوْن لِکُلِ أوَّابِِ حَفِےْظ مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیبِ وَ جَائَ بِقَلْبِِ مُّنِیب۔ ﴿سورہ ق: ۲۱۔۲۲﴾

’’اور جنت اہل تقویٰ کے قریب کر ائی گئی درآں حالانکہ کچھ بھی دور نہ تھی یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے‘‘۔

ہر رجوع رہنے والے بڑی نگہداشت کر نے والے کے لیے جو رحمن سے ڈرا غیب میں‘ اور آیا رجوع رہنے والا گرویدہ دل لے کر ‘‘ معلوم ہوا کہ قلب سلیم وہی ہو سکتا ہے جس کی حیثیت دل گرویدہ کی سی ہو ‘ جو خدا کی جانب برابر رجوع رہتا ہو ‘ ماسوا کا پرستار نہ ہو ۔

﴿کلام نبوت جلد دوم صفحہ  ۱۲۹۔۱۳۱﴾

ایک دوسری حدیث میں جسے حضرت ابوہریرہؓ  نے روایت کیا ہے حضور نے تقویٰ کا مبداء/ مستقر دل کو قرار دیا ہے :

اَلْتَّقْویٰ ھٰھُنَا وَےَشِےْرُاِلیٰ صَدْرِہ ثَلاَثَ مَّرارَ بَحسْبِ اِمرَئَ الشَّر اَنِ۔

’’تقویٰ یہاں ہے ‘تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فرمایا‘‘۔

جناب محمد فاروق خان ’کلام نبوت‘ کے دوسرے حصے میں اس کی تشریح کر تے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ معلوم ہو ا کہ تقویٰ کا اصل مرکز انسان کا دل ہے ۔ دل میں اگر خدا کا خوف اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس پایا جاتا ہے تو اس کا اثر انسان کی پوری زندگی میں نمایاں ہو کر رہے گا ۔ زندگی میں اگر کوئی خوش گوار تبدیلی کا خواہش مند ہے تو اسے یہ بات شروع ہی میں جان لینی چاہیے کہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کے دل کی حالت درست ہو اور دل کی درستی تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں ۔ تقویٰ دل کا ادب ہے ۔ دل اپنی فطری حالت میں رہ سکے اس کے لیے ضروری ہے کہ دل میں تقویٰ کو جگہ دی جائے ‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کردہ حدیث میں بہترین شخص ہو نے کی صفت اس کا مخموم القلب ہو نا بیان کیا گیا ہے اس کی وضاحت کر تے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ صفت اسکی ہے جو صاف دل اور خدا ترس ہو جس پر نہ تو گناہ کا بوجھ ہو اور نہ ظلم و تعدّی کا کوئی بار اور نہ دل میں اس کے کسی کے لیے کوئی غبار یا حسدہو۔

محترم محمد فاروق خان اس حدیث کی تشریح کر تے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ انسان مطلوب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ نہایت واضح اور مکمل ہے ۔ اس میں سیرت کا کوئی بھی پہلو نظر انداز نہیں ہوا ہے ۔ دل ‘ زبان اور کردار ‘ یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے شخصیت کی تشکیل و تعمیر ہو تی ہے ۔ اس حدیث میں ان تینوں اجزائ کے ذریعے سے انسان کی جو تصویر پیش فرمائی گئی ہے، اس میں اس کے ظاہر اور باطن دونوں کی پاکیزگی اور حسن و خوبی نمایاں ہے۔ ایسے شخص کے ایک بہترین انسان ہو نے میں کسی شخص کو بھی شبہ نہیں ہو سکتا ۔زبان جھوٹ اور کذب سے نا آشنا ہو اور دل ہر طرح کے غبار اور کثافت سے پاک ہو اور کردار میں کہیں ظلم و زیادتی کا نشان موجود نہ ہو توآدمی کی شخصیت میں جو حسن اور دل آویزی پیدا ہو گی اس کا اندازہ کر نا کسی کے لیے مشکل نہیں ہے ‘‘۔                           ﴿کلام نبوت جلد دوم صفحہ ۳۷۷،۳۷۸﴾

لغت میں مخموم کے معنی Sweeped or Cleansed  کے ہیں، جس کا مطلب ہے پاکیزہ اور صاف ستھرا‘ ہونا۔محترم خان صاحب نے اس حدیث کا عنوان پاکیزگی نفس ‘ باندھا ہے— گویا نفس اور دل مترادف الفاظ ہیں ۔

ایک حدیث میں زیادہ ہنسنے کو قلب کی مُردگی ﴿ےُمِےْتُُ القَلْبَ﴾ کہا گیا ہے ۔کیوںکہ زیادہ ہنسی آدمی کے دل کو مُردہ کر دیتی ہے ۔ زیادہ ہنسی مذاق سے دل بے حسی اور غفلت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اِسے ایک طرح کی ظلمت گھیر لیتی ہے ۔ جب دل بے نور ہو گیا تو چہرہ بھی بے نور ہو جائے گا ۔ آدمی کا چہرہ اس کے دل کی حالت و کیفیت ہی کا ترجمان ہو تا ہے ۔ چنانچہ قرآن میں بھی فرمایا گیا ہے :

سیمَا ھُمْ فِیْ وُجُوھِہمْ مِنْ اَثرِالسُجُوْدِ ۔﴿الفتح:۲۹﴾

’’ان کا امتیاز ان کے چہروں سے سجدوں کے اثر سے ظاہر ہے‘‘

حضرت ثوبان سے مروی حدیث میں مستقبل میں قوموں کا ملت پر ٹوٹ پڑنے کا حال بیان کر تے ہوئے دلوں میں سستی اور کمزوری ﴿فِیْ قُلُوْ بکُمُ الْوَھْنَ﴾ ڈال دینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ’وہن‘ کو دنیا کی محبت اور موت سے نفرت فرمانے کا ذکر ہے ۔ اسی طرح کئی اخلاقی خرابیوں تنگ ظرفی و تنگ دلی‘ بُخل‘ حرص ‘ بزدلی ‘ سختی و درشت مزاجی ‘ ﴿سخت دلی﴾ وغیرہ کا تعلق بھی دل سے بتایا گیا ہے ۔کلام نبوت جلد دوم کا مطالعہ اس کے لیے نہایت مفید رہے گا۔

گزشتہ سطور میں کہا گیا ہے کہ قلب پر مہر لگتی ہے ‘ وہ زنگ آلود ہو جاتا ہے ‘ اِسے مرض لگ جاتا ہے وہ ذکر الٰہی سے لرزاٹھتا ہے اور بتوفیق الٰہی اسے پاکیزگی بھی نصیب ہوتی ہے۔ قرآن حکیم میں تخلیق انسانی کے مختلف مراحل بیان کر کے فرمایا گیا ہے :-

وَجَعَلَ لَکُم السَّمْعَ وَالْاَبْصَاَرَ وَ اْلاَفْئِدَۃَ قَلِےْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔

’’اور تم کو کان دیے‘آنکھیں دیں اور دل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہو تے ہو‘‘۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کی تشریح کر تے ہوئے فرماتے ہیں :

’’ کانوں اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں، جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے اگرچہ حصول علم کے ذرائع ذائقہ، لامسہ اور شامّہ بھی ہیں، لیکن سماعت و بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع ہیں۔ اس لیے قرآن جگہ جگہ انھی دو کو خدا کے نمایاں عطیوں کی حیثیت سے پیش کر تا ہے ۔ اس کے بعد ’’ دل ‘‘ سے مراد وہ ذہن (Mind) ہے جو حواس کے ذریعے سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کر کے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی ایک راہ منتخب کر تا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کر تا ہے ۔

یعنی یہ عظیم القدر انسانی روح اتنے بلند پایہ اوصاف کے ساتھ تم کو اس لیے تو عطا نہیں کی گئی تھی کہ تم دنیا میں جانوروں کی طرح رہو اور اپنے لیے بس وہی زندگی کا نقشہ بنالو جو کوئی حیوان بنا سکتا ہے ۔ یہ آنکھیں تمھیں چشم بصیرت سے دیکھنے کے لیے دی گئی تھیں نہ کہ اندھے بن کر رہنے کے لیے۔ یہ کان تمھیں گوش ہوش سے سننے کے لیے دیے گئے تھے نہ کہ بہرے بن کر رہنے کے لیے ۔ یہ دل تمھیں اس لیے دیے گئے تھے کہ حقیقت کو سمجھو اور صحیح راہ فکر و عمل اختیار کرو ‘ نہ اس لیے کہ اپنی ساری صلاحیتیں صرف اپنی حیوانیت کی پرورش کے وسائل فراہم کر نے میں صرف کر دو اور اس سے کچھ اونچے اٹھو تو اپنے خالق سے بغاوت کے فلسفے اور پروگرام بنانے لگو ۔ یہ بیش قیمت نعمتیں خدا سے پانے کے بعد جب تم دہریت یا شرک اختیار کر تے ہو‘ جب تم خود خدا یا دوسرے خدائوں کے بندے بنتے ہو ‘ جب تم خوا ہشوں کے غلام بن کر جسم و نفس کی لذتوں میں غرق ہو جاتے ہو تو گویا اپنے خدا سے کہتے ہو کہ ہم ان نعمتوں کے لائق نہ تھے۔ ہمیں انسان بنانے کی بجائے تجھے ایک بندر ،بھیڑیا، مگرمچھ یا ایک کوّا بنانا چاہیے تھا ‘‘۔ ﴿تفہیم القرآن جلد چہارم، السجدہ : ۹﴾

قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اُکساتا ہے ، اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بُری نیت رکھنے پر نادم ہو تا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کر تا ہے اس کا نام نفس لوّامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر (Conscience) کہتے ہیں ۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کر تا ہے اس کا نام نفس مطمئنہ ہے ۔  ﴿تفہیم القرآن، جلد ششم ، القیامہ﴾

’’تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا‘ ابھارنا اور نشو ونما دینا—سیاق وسباق سے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پاک کر ے ‘ اس کو ابھار کر تقویٰ کی بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشو ونما دے وہ فلاح پائے گا ۔ اس کے مقابلے میں دَسٰھَاکا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی دبانے ‘ چھپانے اغوا کر نے اور گمراہ کر دینے کے ہیں۔ سیاق و سباق سے اس کا مطلب بھی واصح ہو جاتا ہے کہ وہ شخص نامراد ہو گا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے والے نیکی کے رجحانات کو ابھارنے اور نشوونما دینے کے بجائے ان کو دبادے ‘ اس کو بہکا کر برائی کے رجحانات کی طرف سے جائے اور فجور کو اس پر اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اس کے نیچے اس طرح چھپ کر رہ جائے جیسے ایک لاش قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد چھپ جاتی ہے ‘‘

﴿تفہیم القرآن ششم،الشمس﴾

نفس کے احوال سے یہ بخوبی عیاں ہے کہ اس کا مصدر و منبع انسانی قلب و ذہن ہے اور یہ روح کے مانند ہے۔تطہیر قلب کے موضوع پر تحریکی علمائ کی کتب کے حوالے سے یہ تحریر مرتب کی گئی ہے اس لیے امید کی جاتی ہے کہ بظاہر ایک نئے موضوع پر اس اظہار خیالات سے وابستگان جماعت کی اس سلسلہ میں عملی کاوشوں میں سہولت ہوگی اور صرف بحث و نظر کا عنوان بننے کے بجائے اصلاح و تربیت کے ہمہ جہتی پہلؤں پر اس سے مدد لی جائے گی۔

جنوری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau