اس سلسلے کی گذشتہ قسط میں ہم نے دل کی دو قسموں کو بیان کیا تھا۔ قلب سلیم اورقلب مریض۔ اب ہم دل کی تیسری قسم یعنی قلب میت (مردہ دل) کے بارے میں گفتگو کریں گے اور دل کے امراض کی نشان دی بھی کریں گے۔
قلبِ میت
قلبِ میت وہ دل ہے جو روحانی اعتبار سے مردہ یا نیم مردہ ہوجاتا ہے۔ شرور و فتن کی مستقل آماجگاہ بننے اور شیطان کے تسلط میں شب و روز بسر کرنے کے نتیجے میں دل میں کوئی خیر باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ بھلائیوں کی طرف رغبت ختم ہو جاتی ہے۔ نیک کام میں دل نہیں لگتا۔ نصیحت ویاد دہانی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ دل سخت ہو جاتا ہے۔ سنگین سے سنگین حالات رونما ہوجائیں، دل میں کوئی نرمی پیدا نہیں ہوتی۔ گناہ کا کام کرتے وقت کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ فتنہ و فساد کی طرف دل کا میلان زیادہ ہونے لگتا ہے۔ دین کے سلسلے میں شکوک و شبہات جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ خدا کی نافرمانی کرتے کرتے دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اسی دل کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:
والآخَرُ أسودَ مُربَدًّا كالكُوزِ مُجَخِّيًا ، لا يَعرِفُ مَعروفًا ، ولا يُنكِرُ مُنكَرًا ، إلا ما أُشْرِبَ من هَواه۔ (رواہ مسلم)
’’ اور دوسرا سیاہ بھجنگ دل ٹیڑھے برتن کی طرح جھکا ہوا جس میں کوئی چیز ٹھہر نہ سکے۔ وہ معروف و منکر کے درمیان تمیز نہیں کر پاتا۔ خواہشات نفس کے نشے میں دھت رہتا ہے۔ ‘‘
قلبِ سلیم رب کے عرفان سے منور ہوتا ہے اور اس کے ذکر سے اطمینان و سکون حاصل کرتا ہے، لیکن قلبِ میت اپنے رب کو نہیں پہچانتا۔ اس کی عبادت و بندگی میں اسے لذت محسوس نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کی اسے کوئی پروا نہیں ہوتی۔ خواہشاتِ نفس کا دیوانہ بن کر رہ جاتا ہے۔ ابن قیمؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:
القلب الميّت: الّذى لا حياة به؛ فهو لا يعرف ربّه، ولا يعبده بأمره وما يُحبّه ويرضاه، بل هو واقف مع شهواته وإرادته؛ ولو كان فيها سخط ربّه وغضبه، فهو لا يبالى! (إغاثۃ اللَّہفان:44/1)
’’ قلبِ میت وہ ہے جس میں زندگی کی کوئی رمق نہیں ہوتی۔ وہ اپنے رب کو نہیں پہچانتا۔ وہ اپنے رب کا حکم نہیں مانتا اور نہ ہی اس کی مرضی اور پسند کے کام کرتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی خواہشاتِ نفس کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنے رب کی ناراضگی اور غضب کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قلبِ میت کی صفات
ذیل کی سطور میں قلب میت کی بعض صفات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ یہ دل کی وہ کیفیات ہیں جن کی روشنی میں قلبِ میت کو سمجھنا آسان ہوگا۔ ہمیں ہر وقت قلبِ میت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ رب ذوالجلال ہمیں قلبِ سلیم عنایت فرمائے۔
قاسی دل
قلبِ میت کی ایک صفت قساوت اور سختی ہے۔ دل کو اللہ رب العزت نے نرم بنایا ہے۔ پیار، محبت، رحمت اور رقّت اس کا خاصہ ہے۔ لیکن جب آدمی خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے تو دھیرے دھیرے دل سخت ہو جاتا ہے۔ بعض پتھروں سے پانی کے سوتے پھوٹتے ہیں اور بعض اللہ تعالیٰ کی خشیت سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، لیکن انسان کا دل بسا اوقات پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔ ہمیں اس دل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ قساوتِ قلبی کے سلسلے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً (المائدۃ: 13)
(پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے۔ )
منکِردل
انکار کرنے والا دل۔ یہ بھی قلب میت کی صفت ہے۔ فطرتِ سلیمہ کے مسخ ہوجانے کی بنا پر دل کے اندر قبولیتِ حق کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ہر اچھی بات کا انکار کرنے لگتا ہے۔ جواب دہی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ بے مقصد زندگی گزارتا ہے۔ کفرانِ نعمت اس کی زندگی کا شیوہ بن جاتا ہے۔ ہر بہتر چیز اسے بری لگنے لگتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ۔(النحل: 22)
(تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کےدلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں۔ )
برائیوں سے ڈھکا ہوا دل
قلبِ میت کی ایک صفت یہ ہے کہ اس کے دل پر برائیاں چھا جاتی ہیں۔ پھر اس کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ گناہوں اور بد اعمالیوں کے کالے بادل اس کے اوپر چھا جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ شیطان اور نفس کے حصار میں رہتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔(المطففين: 14)
(ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ )
بھِنچ جانے والا دل
قلبِ میت کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ ناپسندیدگی اور نفرت کی وجہ سے بھنچ جاتا ہے۔ اسے حق و صداقت ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو تو اسے شدید پریشانی لاحق ہونے لگتی ہے، جیسے وہ گھُٹ رہا ہو۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ۔ (الزمر: 45)
(جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل بِھنچ جاتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھِل اٹھتے ہیں۔)
ڈھکّن لگا ہوا دل
قلبِ میت کی ایک صفت یہ ہے کہ اس پر ڈھکّن لگ جاتا ہے۔ اگر کسی چیز پر ڈھکّن لگ جائے تو باہر کی چیز اندر نہیں جاتی۔ انسان کا دل ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ قبولیتِ حق کے لیے دل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ بہتر سے بہتر بات بھی اس پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ یہ دل خطرناک دلوں میں سے ہے۔ ہمیں ہمیشہ ایسے دل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِن يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِين َ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ۔ (الانعام: 25)
(ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لاکر نہ دیں گے۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ ساری باتیں سننے کے بعد یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں۔)
غلاف چڑھا ہوا دل
دل کی یہ کیفیت بھی کافی خطرناک ہے۔ جس دل پر غلاف چڑھ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دل اندھیرے میں ہوجاتا ہے۔ تنہائی اور اندھیرا۔ اب اسے کچھ نہیں سوجھتا۔ خیر و شر میں تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ غلاف چڑھا ہوا دل روحانی اعتبار سے مردہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ۔ (البقرۃ:88)
(وہ کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔)
مقفّل دل
قلبِ میت کی ایک صفت یہ ہے کہ اس پر قفل چڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین کیفیت ہے۔ جو چیز مقفل ہو اس سے امید ختم ہوجاتی ہے۔ لوگ اس کے پاس جاتے نہیں ہیں اور اس سے دوسروں کو بھی کچھ نہیں ملتا۔ مقفل دل ہدایت و رہنمائی سے محروم ہوجاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا۔ (محمد: 24)
(کیا اِن لوگوں نے قرآن پر غورنہیں کیا ، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟ )
مُہر لگا ہوا دل
یہ سب سے خطرناک کیفیت ہے۔ جس دل پر مہر لگ جاتی ہے وہ پوری طرح مردہ دل ہو جاتا ہے۔ اب اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔ اب اس کے سلسلے میں ہدایت کی امید ختم ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو اس کیفیت سے محفوظ رکھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ (غافر: 35)
(اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے اسی طرح اللہ ہر متکبّر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔)
انسان اپنی حرکتوں سے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ اب اسے ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگا دی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے:
خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ(البقرۃ:7)
(اللہ نے اُن کے دلوں اور ان کے کانوں پر مُہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیاہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔)
امراضِ قلب
دل کو روحانی اعتبار سے بعض بہت سنگین قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہیں جو دل کو ناکارہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ یہ جسمانی بیماریوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ ان سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ذیل کی سطور میں چند اہم بیماریوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ہر مومن کو ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور اگر خدانخواستہ ان میں سے کسی بیماری کی علامات موجود ہیں تو پہلی فرصت میں ان کے علاج کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ بیماریاں صرف دل کو ہی برباد نہیں کرتیں، بلکہ بندے کے اعمال کھا جاتی ہیں۔ اسے دین دنیا کہیں کا نہیں چھوڑتیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس شخص کے لیے جنت کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان بیماریوں سے محفوظ رکھے۔
رِیا
ریا کاری شدید مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ آدمی کوئی کام کرے تو دکھاوے کے لیے کرے۔ خصوصیت کے ساتھ وہ کام جو اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے کیے جائیں انہی میں دکھاوا کرنے لگے۔ کام کرے تو اللہ تعالیٰ کے لیے لیکن چاہے کہ لوگ بھی اسے دیکھیں اور اس کی تعریف کریں۔ ریا کے معنی دکھانے کے ہیں۔ ایک جگہ ابن حجر عسقلانی ؒلکھتے ہیں:
الریاء إظهارُ العبادة، لقصْد رؤية الناس لها، فيحمدوا صاحبَها۔(فتح الباری: 18/336)
’’عبادت کا اظہار اس لیے کیا جائے کہ لوگ دیکھیں اور تعریف کریں، یہ ریا ہے۔‘‘
امام غزالی ؒ نے اسے یوں بیان کیا ہے:
طلب المنزلة فی قلوب الناس بایرائھم خصال الخیر فھو ارادۃ العباد بطاعة اللہ (احیاء علوم الدین:2/483)
’’اچھی عادتوں کے اظہار کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر بنانے کی کوشش کرنا۔ اللہ تعالی کی اطاعت کے ذریعے لوگوں کی واہ واہی لوٹنا۔ ‘‘
ریاء کی بیماری جب جڑ پکڑ لے تو اس کی مختلف شکلیں بن جاتی ہیں۔ ریا کار کی ایک ایک حرکت سے دکھاوا جھلکنے لگتا ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے تو دکھاوے کے لیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ ٱلْمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا۔ (النساء: 142)
(یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔)
اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا بڑے اجر کا کام ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور جنت میں درجات بلند فرماتا ہے۔ لیکن ریا کار انفاق میں بھی دکھاوا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبْطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلْمَنِّ وَٱلْأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْآخِرِ .(البقرۃ: 264)
(اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر۔ )
نبی اکرم ﷺ نے ریا کو شرکِ اصغر کہا ہے۔ اس لیے کہ بندہ کام تو کرتا ہے اللہ رب العزت کے لیے لیکن اس میں دکھاوے کو شریک کردیتا ہے۔
إنَّ أخْوَفَ ما أخافُ عليكم الشِّركُ الأصْغَرُ، قالوا: وما الشِّركُ الأصْغَرُ يا رسولَ اللهِ؟ قال: الرِّياءُ(رواہ احمد)
’’مجھے تمہارے سلسلے میں سب سے زیادہ شرکِ اصغر کا اندیشہ ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ اللہ کے رسولﷺ شرکِ اصغر کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا وہ ریا ہے۔ ‘‘
ریا اتنا خراب مرض ہے کہ وہ دل کو تو برباد کرتا ہی ہے اعمال بھی کھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز اور روزے کو دکھاوے کے طور پر انجام دیتا ہے تو اس کی عبادت اس کے منھ پر مار دی جاتی ہے۔ مزید برآں وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
نبی اکرمﷺ نے ریا کو ایک حدیث میں شرکِ خفی کہا ہے:
ألَا أُخبركم بما هو أخوفُ عليكم عندي من المسيحِ الدجالِ قال قلنا بلى فقال الشركُ الخفيُّ أن يقومَ الرجلُ يُصلي فيُزيِّنُ صلاتَه لما يرى من نظرِ رجلٍ (رواہ ابن ماجه)
’’کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ بات جو میرے نزدیک دجال کے فتنے سے زیادہ تمہارے سلسلے میں خطرناک ہے۔ ہم نے کہا کیوں نہیں، بتائیے۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا شرک خفی، اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی نماز کو مزین کر کے پڑھے گا کہ دوسرے اس کو نماز پڑھتا دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘
یہ بیماری سینے میں گھر کرلیتی ہے۔ جب آدمی کی تعریف ہونے لگے تو اسے لذّت محسوس ہوتی ہے۔ تقریر کی تعریف، تحریر کی تعریف، یا خدمتِ خلق کی تعریف سن کر آدمی مسحور ہوجاتا ہے اور بسا اوقات کوئی تعریف نہ کرے تو انتظار میں رہتا ہے کہ کسی بہانے اس کی تعریف کا تذکرہ چھڑجائے۔ شیطان اسے تسلی دیتا ہے کہ تم نے کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے، اب لوگ تعریف بھی کر رہے ہیں تو کیا حرج ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ وہ ریا کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو صرف وہی عمل قابلِ قبول ہے جو صرف اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ۔ (البينۃ : 5)
(اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسُو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔ )
ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے تذکرہ ہوا کہ ایک شخص غزوہ میں جاتا ہے، اللہ تعالی سے اجر چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے جانیں اور اس کا تذکرہ کریں۔ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اسے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ اس شخص نے اس بات کو تین مرتبہ کہا اور آپؐ نے تینوں مرتبہ یہی فرمایا کہ اسے کچھ بھی نہیں ملے گا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہو۔(رواہ النسائی)
بندۂ مومن کو ریا کے سلسلے میں حد درجہ محتاط و فکرمند رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پوری زندگی اطاعتِ رب میں گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کے وقت یہ پتہ چلے کہ ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کو پسند ہی نہیں آئے۔ اس لیے کہ اس میں ریاکاری تھی۔ دل کی یہ بیماری انسان کو کنگال کردیتی ہے اور رسوا کر کے چھوڑتی ہے۔ بندہ بڑے سے بڑا عمل کرے، غیر معمولی قربانیاں پیش کرے، پوری زندگی دین کے غلبے میں لگا دے، لیکن اس کا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئے تو اس سے برا کوئی سودا نہیں۔ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں خبر دی جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کے لیے لگا دی ہوگی لیکن چونکہ ان کے اندر ریاکاری تھی لہٰذا اللہ رب العزت انھیں جہنم میں ڈال دیں گے بلکہ انہی کے ذریعے جہنم پہلے پہل بھڑکائی جائے گی۔ حدیث شریف میں ہے:
فأوَّلُ من يدعو بِه رجلٌ جمعَ القرآنَ ورجلٌ يقتَتِلُ في سبيلِ اللهِ ورجلٌ كثيرُ المالِ فيقولُ اللَّهُ للقارئِ ألم أعلِّمْكَ ما أنزلتُ علَى رسولي قالَ بلى يا ربِّ قالَ فماذا عملتَ فيما عُلِّمتَ قالَ كنتُ أقومُ بِه آناءَ اللَّيلِ وآناءَ النَّهارِ فيقولُ اللَّهُ لَه كذَبتَ وتقولُ الملائِكةُ كذَبتَ ويقولُ له اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ قارئٌ فقد قيلَ ذلكَ ويؤتى بصاحبِ المالِ فيقولُ اللَّهُ ألم أوسِّعْ عليكَ حتَّى لم أدعْكَ تحتاجُ إلى أحدٍ قالَ بلى يا ربِّ قالَ فماذا عمِلتَ فيما آتيتُك قالَ كنتُ أصلُ الرَّحمَ وأتصدَّقُ فيقولُ اللَّهُ لَه كذَبتَ وتقولُ الملائِكةُ لَه كذَبتَ ويقولُ اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ جَوادٌ وقد قيلَ ذلكَ ويُؤتى بالَّذي قُتلَ في سبيلِ اللهِ فيقولُ اللَّهُ لَه في ماذا قُتلتَ فيقولُ أُمِرتُ بالجِهادِ في سبيلِك فقاتلتُ حتَّى قُتلتُ فيقولُ اللَّهُ لَه كذبتَ وتقولُ لَه الملائِكةُ كذبتَ ويقولُ اللَّهُ بل أردتَ أن يقالَ فلانٌ جريءٌ فقد قيلَ ذلكَ ثمَّ ضربَ رسولُ اللهِ ﷺ علَى رُكبتي فقالَ يا أبا هريرةَ أولئِك الثَّلاثةُ أوَّلُ خلقِ اللهِ تُسعَّرُ بِهمُ النَّارُ يومَ القيامةِ۔(رواہ الترمذی)
’’سب سے پہلے حساب کتاب کے لیے قرآن مجید کے عالم کو لایا جائے گا، دوسرا وہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہادت حاصل کی اور تیسرا وہ جو کافی مالدار تھا۔ تینوں سے اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے کہ تم نے کیا کیا؟ تینوں کہیں گے کہ ہم نے تیری رضا کے لیے کام کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم تینوں جھوٹے ہو۔ تم نے یہ سب کام اس لیے کیا تاکہ لوگ تمہاری تعریف کریں۔ دنیا میں تمہیں تمہارا بدلہ مل گیا۔ میرے پاس تمہارے لیے کچھ نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ان تینوں کے ذریعے پہلے پہل جہنم بھڑکائی جائے گی۔ ‘‘
اس حدیث کو شفی الاصبحی نے حضرت ابوہریرہؓ سے گزارش کرکے سننا چاہا تو حضرت ابوہریرہؓ اس حدیث کو بیان کرتے وقت تین مرتبہ بے ہوش ہوئے۔
کبھی کبھی آدمی کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب ہر چیز میں ریاکاری کا خدشہ ہے تو پھر عمل ہی نہ کیا جائے۔ عمل کرنے سے ریاکاری آئے گی اور اس کی سزا بہت سخت ہے۔ لہٰذا نہ عمل کریں گے اور نہ سزا کا خطرہ ہوگا۔ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ آدمی ریا کے ڈر سے عمل کرنا بند کردے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ عمل ہرگز بند نہ کرنا چاہیے بلکہ ریاکاری کے جذبے پر قابو پانے اور اخلاص کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
ریا کا علاج تعلق باللہ ہے۔ اللہ رب العزت پر مضبوط ایمان کے ساتھ ساتھ یقین اور اخلاص کی کیفیت کو مزید بڑھایا جائے۔ استحضار رب کی کیفیت کو ہمیشہ اپنے اوپر طاری رکھا جائے۔ اللہ رب العزت ہمیں ہمہ آن دیکھ رہا ہے یہ جذبہ ہر وقت مستحضر رہے۔” فانہ یراک “اور ” اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیكُمْ رَقِیبًا”جیسے روحانی ماحول میں زندگی گزارنے کی کوشش کی جائے اور استغفار اور دعا کا مستقل اہتمام کیا جائے۔
دل کو بیماریاں لاحق ہونے سے اور اعمال کو اکارت ہونے سے بچانا از حد ضروری کام ہے۔ ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ہمارے روز مرہ کے اعمال میں کیا جذبہ کار فرما ہے۔ دکھاوا اور خود پسندی کے جذبات کو ختم کرنا اور اخلاص کے عمل کو تیز سے تیز کرنا فلاحِ اخرت کے لیے لازم ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس کی لذتیں بھی عارضی ہیں۔ رب دو جہاں کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ زندگی میں نکھار پیدا کرنا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ریا کاری کا فتنہ بڑھ گیا ہے۔ آدمی دانستہ یا نا دانستہ طور پر اپنی نیکیوں کو سوشل میڈیا پر ڈالتا رہتا ہے۔ ہمیں اپنا بغور جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے اس عمل کا محرک کیا ہے بعض لوگ اس کی توجیہ کرتے ہیں کہ لوگوں کے اندر بیداری لانے، سرگرمیوں میں رغبت پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ تاہم بہت باریک بینی سے اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہاں کیا ہے۔ رضائے الٰہی کے جذبے کے ساتھ ساتھ کہیں خود پسندی کا شائبہ تو نہیں ہے۔ (جاری)







