کتاب نما

سید تنویر احمد

مسلم امت: منزل اور راستہ

ہندستانی مسلمان اس وقت ایک مخصوص قسم کی صورت حال سے گزر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اندر بے چینی پیدا ہوئی ہے اور مظلومیت کا احساس ان کے اندر پروان چڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کوئی ان کی رہ نمائی کر سکے،  ان کے احساس مظلومیت کو مزید گہرا کرنے کے بجائے ان کے اندر خود اعتمادی کو بحال کر سکے اور حالات سے نبردآزما ہونے کے لیے ان کے اندر صبر و حوصلے کو پروان چڑھا سکے۔

‘مسلم امت: منزل اور راستہ’ ایک ایسی ہی کتاب ہے جو ملک کے موجودہ حالات میں صحیح راہ اور لائحہ عمل اختیار کرنے کے سلسلے میں مسلمانوں کی رہ نمائی کرتی ہے۔

جناب سید سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کی امارت کے ساتھ ساتھ گذشتہ دو برسوں سے  ماہنامہ زندگی نو کےمدیراعلیٰ بھی ہیں۔یہ کتاب موصوف محترم کے ان ادارتی مضامین پر مشتمل ہے جو ستمبر ۲۰۱۹اور  نومبر ۲۰۲۰کے درمیان ان کے قلم سے نکل کر اوراق  زندگی کی زینت بنے ہیں۔یہ مضامین ماہنامہ رسالے کے ادارتی کالم ‘‘اشارات’’ میں شائع ہو چکے ہیں۔ زندگی نو کے قارئین اگرچہ ان مضامین کا مطالعہ کر چکے ہوں گے، تاہم کتابی شکل میں ان مضامین کی اشاعت دوسرے لوگوں کے لیے بھی یقیناً مفید ثابت ہوگی۔اس میں مجموعی طور پر بارہ مضامین شامل ہیں، جن کی تین الگ الگ حصوں میں درجہ بندی کی گئی ہے:

۱۔ مزاج اور رویے۔ ۲۔ رائے عامہ اور اس کی ہم واری۔ ۳۔ چیلنج اور ان کا سامنا۔

پہلی سرخی—  مزاج اور رویے—   کے تحت پانچ مضامین ہیں:(ا) ماہِ رمضان، ہمارے رویے اور کووِڈ کی عالمی وبا، (۲)نصب العین پر ارتکاز، (۳) خود اعتمادی اور یقین، (۴)صبر امت کے لیے لائحہ عمل کا اہم عنوان،  اور(۵)توکل، تدبیر اور امت کا اجتماعی رویہ۔

دوسری سرخی —  رائے عامہ اور اس کی ہم واری—  کے تحت تین مضامین شامل ہیں:۱۔ رائے عامہ کی تشکیل، (۲) رائے عامہ کی تشکیل اور ذرائع ابلاغ، (۳) مابعد کووِڈ منظرنامہ اور اسلامی دعوت۔

تیسری سرخی —  چیلنج اور ان کا سامنا—  کے تحت چار مضامین شامل ہیں:(۱) معاشی بحران اور ہماری ذمہ داریاں، (۲) ظلم کے خلاف مزاحمت، (۳) سازشیت، سازشی نظریات اور اسلامی فکر، اور (۴) آخر زمان، دجال اور سازشیت۔

تمام مضامین میں حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے اور اس جائزے کی روشنی میں سنجیدہ طریق عمل یا لائحہ عمل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت کاایک بڑا مسئلہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے اسلام کے حق میں رائے عامہ کی ہم واری  کا ہے۔یہاں اس کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ کام اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ مسلمان یہاں کی رائے عامہ کو متاثر کرنے میں ناکام ہیں، لیکن اس کی وجہ ان کا اقلیت ہونا نہیں، بلکہ بااثر اقلیت نہ بن پانا ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل کے وسیلے کے طور پر ذرائع ابلاغ اور خاص طور سے سوشل میڈیا کے استعمال کو انھوں نے خصوصی گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا بڑے پیمانے پر اسلام کے تعلق سے منفی سوچ کو فروغ دینے کا پلیٹ فارم بن چکا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اہل اسلام کی سرگرمی سوشل میڈیا پر  ایک تو بہت کم ہے اور جو ہے بھی، وہ زیادہ تر یا تو غیر سنجیدہ، اسلام پر حملوں کے مقابلے میں معذرت خواہانہ اور مدافعانہ ہے، یا انتہاپسندانہ اور جارحانہ رخ لیے ہوئے ہے۔ اس جائزے کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا کے درست و مثبت اور نتیجہ خیز استعمال کے لیے مشورے بھی دیے ہیں۔

مصنف: سید سعادت اللہ حسینی ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

الحاد— علم وعقل کی عدالت میں

الحاد، یعنی خدا کے انکار کا تصور جدید دور کی ایجاد نہیں، بلکہ مذہب و عقیدے کے سلسلے میں انسانوں کے اندر پایا جانے والا ایک قدیم رجحان ہے۔البتہ اپنے ہر دور میں  سرے سے خدا کے انکار کا یہ تصور توحید یا شرک کے مقابلے ہمیشہ کم زور ہی رہا۔ اس کے برعکس ہر دور میں نسل آدم کی زیادہ تر تعداد یا تو موحد رہی یا شرک کے پھندے میں گرفتار ہوئی۔ عیسائی کلیسا کے مظالم نے عوام الناس کے اندر مذہب بے زاری کا رجحان پیدا کیا تو لوگ نئے الحاد، لادینیت، کی طرف جانے لگے۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے دور میں اس رجحان نے ترقی کی، اور اب اس نے  ایک منظم طرز فکر کی صورت اختیار کر لی ہے۔جدید سائنس نے اسے منطقی اور عقلی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ڈارون کے نظریہ ارتقا نے ان کے اِس تصور کو مزید قوت فراہم کی کہ کسی خالق کے بغیر بھی دنیا میں زندگی کا تصور ممکن ہے۔ایک وقت وہ آیا کہ سائنسی تحقیقات نے الحاد و لادینیت کی توجیہات پیش کرنی شروع کر دیں۔ لیکن پھر وہ دور بھی آیا جب خود سائنس کی ہی نئی تحقیقات نے الحاد کی بنیاد بننے والے نظریات کو رد کرنا شروع کر دیا۔

یہ کتاب الحاد کی تاریخ کے انھی گوشوں  اور اس کے اصول و مبادی اور الحاد کی مختلف قسموں، یعنی الحادِ مطق، لا ادریت اور ڈیزم (deism)  کو بیان  کرتی ہے۔ ڈیزم یہ ہے کہ خدا کے وجود کو تو تسلیم کیا جائے، لیکن نظامِ کائنات میں اس کے دخل کو تسلیم نہ کیا جائے۔ الحاد کی اس قسم سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ خدا کاکام کائنات کی تخلیق کرنا تھا۔ یہ کام کر چکنے کے بعد اب وہ معطل ہو چکا ہے اور نظام کائنات اور اس کے قوانین میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ۱۲۳ صفحات کی یہ کتاب پانچ مختصر حصوں پر مشتمل ہے۔ ۱) الحاد کی تاریخ۔ ۲) الحاد کے اصول و مبادی۔ ۳) خدا مذہب اور سائنس۔ ۴) ملحدین کے عمومی سوالات، اور ۵) الحاد کی وجوہ اور اس کے سدِ باب کی حکمتِ عملی۔

مذکورہ بالا تمام عنوانات پر اس کتاب کے اندر مختصر انداز میں مواد فراہم کیا گیا ہے۔ الحاد اوراس کے متعلقات پر بنیادی معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ ایک اچھی کتاب ہو سکتی ہے۔ الحاد کے بالمقابل خدا کے تصور کو مضبوط کرنے  کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ مذہب اور خدا کے تصور کو سائنس کی ہی سان پر لگانے والوں کے سامنے یہ واضح کیا گیا ہے کہ خدا کے وجود کا اثبات سائنس کا کام نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ سائنس کا دائرہ کار مادہ، توانائی اور ان کے طبعی قوانین تک محدود ہوتا ہے، جب کہ خدا کی ذات نہ مادہ ہے، نہ توانائی۔‘‘ خدا کو ماننے کا کام خالصتاً عقل و استدلال کا ہے اور خدا کی معرفت استدلال سے ہی ممکن ہے۔’’ اسی لیے قرآن بار بار عقل کے استعمال پر زور بھی دیتا ہے۔ملحدین کے سوالات مثلاً خدا کا خالق کون ہے؟ وہ نظر کیوں نہیں آتا؟ بن دیکھے اس پر ایمان کیوں لایا جائے؟ وغیرہ جیسے اہم سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے علاوہ الحاد کے سدباب اور ملحدین کو دعوت دینے کی اہمیت اور طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

مصنف: حافظ محمد شارق/ سید اسرار احمد بخاری    ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

زندگی کا سلیقہ

بہت پہلے (۱۹۵۸ءمیں) مکتبہ الحسنات رام پور نے ڈاکٹر ابن فریدؒ کی کتاب ‘ہم کیسے رہیں؟’’ دو حصوں میں شائع کی تھی۔ دوسرے ایڈیشن میں دوسرے حصے کا نام تبدیل کر کے ’زندگی کا سلیقہ’ کر دیا گیا تھا۔ پہلا حصہ تو پابندی سے شائع ہوتا رہا ہے، لیکن دوسرا حصہ طویل زمانے سے نایاب تھا۔حال ہی میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔

کتاب کا موضوع یہ ہے کہ زندگی کو کس طرح خوش گوار بنایا جائے اور وہ کیا اصول ہیں جنھیں اپنا کر  زندگی سلیقے سے بسر کی جا سکتی ہے؟ اس موضوع پراگرچہ کتابیں عام ہو گئی ہیں، تاہم اردو زبان میں اس پر بہت کم کتابیں ہیں، جو ہیں  بھی تو انگریزی یا دیگر زبانوں سے ترجمہ شدہ ہیں اور  ایک خاص اسلوب اور  پس منظر میں تحریر کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈیل کارنیگی اس موضوع پر ایک بڑا نام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مومن کے لیے خوش گوار زندگی کے اصول کسی ڈیل کارنیگی سے نہیں، بلکہ ایک ایسی ہستی سے حاصل ہوتے ہیں جو ہر انسان کے مزاج و طبیعت سے نہ صرف واقف ہے، بلکہ اس کا خالق ہے۔

اردو ادب میں ڈاکٹر ابن فرید کو خاص مقام حاصل ہے، لیکن وہ اصلاًنفسیات کے آدمی تھے۔ خاص طور سے بچوں اور عورتوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں  وہ اصول بیان کیے ہیں جن  کو اپنا لینے کے بعد زندگی میں سلیقہ بھی آتا ہے اور زندگی خوش گوار بھی بن جاتی ہے۔ انھوں نے کتاب کا تعارف اس طرح کرایاہے:

‘‘زندگی کے بارے میں ہر فرد کا نقطہ نظر جدگانہ ہوتا ہے، خواہشین جداگانہ ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر فرداً فرداً سب کی خوشی پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ایک مقام وہ بھی آئے گا جب دو افراد کی خواہشاتِ نفس ٹکرا جائیں گی اور پھر وہی انتشار جنم لے گا جو پہلے تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ جہاں معاشرتی تقاضے افراد کے مزاج و کیفیت میں ہم آہنگی کے متقاضی ہوں وہاں اجتماعی مفاد کو فوقیت دی جائے — لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ دومعاشرے آپس میں ٹکرا جائیں،  دو معاشروں کے مفاد ایک دوسرے سے مزاحم ہو جائیں۔ ایسی صورت میں معاشرے پر بھی برتری رکھنے والی ہستی کی ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے۔ غرض فرد کو کام یاب زندگی گزارنے کے لیے نہ صرف اپنی ذات پر توجہ رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ معاشرتی تقاضوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔’’

کتاب کی مخاطب خواتین ہیں۔ پہلے حصے— ہم کیسے رہیں؟ — میں ماحول کے غلط اثرات کو زائل کرنے اور پسندیدہ ماحول کی تعمیر کے لیے عملی مشورے دیے گئے ہیں، مثلاً زندگی کا مقصد معلوم ہونا چاہیے، عورت اپنے مقام و مرتبے کو پہچانے، سہیلیوں، شوہر او رپڑوسیوں سے تعلقات کی کیا نوعیت ہونی چاہیے، وغیرہ۔ دوسرے  حصے — زندگی کا سلیقہ — میں ان اوصاف کا تذکرہ ہے جو معاشرتی زندگی کو خوش گوار بناتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک یہ وہ اوصاف ہیں جن کے بغیر انفرادی زندگی کو معاشرتی زندگی سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔زبان کو خاص طور پر آسان اور عام فہم رکھا گیا ہے، تاکہ کم پڑھی لکھی خواتین کو بھی اس سے استفادہ کرنے میں دشواری نہ ہو۔کتاب میں جن اوصاف کو اختیار کرنے کی طرف خواتین کو متوجہ کیا گیا ہے، وہ اوصاف ہیں جن کا مظاہرہ روز مرہ کی معاشرتی زندگی میں ہوتا رہتا ہے، مثلاً حسنِ اخلاق، مہمان نوازی، اپنی نسوانیت کی حفاظت اور گفتگو کا سلیقہ وغیرہ۔

مصنف: ڈاکٹر ابن فرید    ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

ٹیکنالوجی اور ہم

انسان کو ایک نفسیاتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کا انسان اس سہارے کا سب سے زیادہ محتاج ہے۔ نتیجتاً انسانی زندگی مختلف سماجی و نفسیاتی پیچیدگیوں سے دوچار ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے ظہور اور اس کے بطن سے جنم لینے والے آلات اور گیجٹس کےمصنوعی سہارے نے اس نفسیاتی خلا کو پر کرنے کی کوشش تو کی، لیکن انسان غیر شعوری اور غیر ارادی طور پر ایک ایسے چنگل، بلکہ دلدل میں دھنستا چلا گیا، جس نے اس کی حرکت و عمل کو منجمد کر دیا یا اپنے تابع کر لیا ہے۔ٹیکنالوجی کے بطن سے نمودار ہونے والا سوشل میڈیا کتنا خطرناک جال ہے اس کی ایک جھلک ‘ٹیکنالوجی اور ہم’ کے مقدمہ نگار جناب ایس امین الحسن لکھتے ہیں:

‘‘آج ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے اس کے متعلق 4000 سے 5000 ڈیٹا پوائنٹس ان بڑی کمپنیوں کے پاس موجود ہوتےہیں۔ ان بڑے اعداد و شمار سے فر دکی نفسیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان کی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر اس کے مطابق انھیں مزید دیکھنے اور ان کی مشغولیت کو بڑھانے کے مشورے بھی دیے جاتے ہیں۔’’

انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اس ڈیٹا کا استعمال سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی ذہن سازی کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے الیکشنی نظام میں اس ڈیٹا کے ذریعے ووٹرز کی ذہن سازی کی جاتی ہے!!بڑی بڑی مغربی کمپنیاں یہ ڈیٹا جمع رکھتی ہیں اور پروپیگنڈے اور من مرضی کی اطلاعات فراہم کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتی ہیں۔لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بے فائدہ یا سراسر نقصان دہ چیز ہے۔ اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ اس کا بہتر استعمال کرتے ہوئےاس کے ضرر اور اس کے ذریعے انجام دی جانی والی فریب کاریوں سے خود کو محفوظ رکھا جائے۔

ڈاکٹر شاداب موسیٰ نے ‘ٹیکنالوجی اور ہم’ اسی مقصد سے لکھی ہے اور بعض ایسی ترکیبیں بتائی ہیں جن کی مدد سے خود کو سوشل میڈیا کا غیر ضروری طور پر محتاج بننے سے روکا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر شاداب موسیٰ کا تعلق اگرچہ میڈیسن کے شعبے سے ہے، لیکن قرآن سے گہری دلچسپی نے انھیں عر بی زبان کو براہ راست سمجھنے پر آمادہ کیا ۔ انھوں نے عربی زبان سیکھی بھی اور اب عربی کتابوں سے براہ راست استفادہ بھی کر تے ہیں۔اس وقت وہ ایک میڈیکل کالج میں پرفیسر ہیں۔ کتاب کا مقصد تحریر بیان کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے:

‘‘ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح آج کے دور کی مروجہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے کئی پہلؤوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، جس میں نہ صرف ہماری زندگی کے انفرادی و خْانگی گوشے آتے ہیں، بلکہ ہماری گھریلو زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ ایک ایسے سماج کی تشکیل دے رہی ہے جو انسانی قدروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ خاص طور پر اس کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی نئی نسل کے اپنے وجود اور مقصد زندگی کو کھو بیٹھنے کا اندیشہ ہے۔’’

اس کتاب کے ذریعے انھوں نے سماج کے الگ الگ حصوں ، اورمعیشت و سیاست پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے کر انھیں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اہم ترین پہلو جعلی اطلاعات اور نظریہ سازش  کا ظہور ہے۔ انھوں نے اس کو بھی موضوع بحث بنایاہے۔ اس کے علاوہ آخر میں ٹیکنالوجی کے نقصانات سے بچتے ہوئے اس کے مثبت استعمال کے عملی طریقوں کی طرف بھی رہنمائی کی ہے۔

مصنف: ڈاکٹر شاداب منور موسیٰ ناشر: وہائٹ ڈاٹ پبلشرز، نئی دہلی

اکتوبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau