دسویں بیماری: بخل و شح
بخل و شح دل کی سنگین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ بخل کی بیماری یہ ہے کہ آدمی ضروری اور واجبی چیزوں کے بارے میں کنجوسی کرے۔ اپنی ذات اور اصحاب حقوق کے ساتھ بخل کرے۔ شح بخل سے بھی زیادہ شدید ہے۔ حرص و لالچ کی آمیزش کے ساتھ جو کنجوسی ہوتی ہے، وہ شح ہے۔ مال کی محبت دل میں اتنا گھر کر لیتی ہے کہ آدمی بنیادی ضرورتوں میں بھی بخل کرنے لگتا ہے۔ بخل و شح کا تعلق عام طور پر مال اور ضروریات زندگی سے ہے لیکن اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اچھی باتیں بتانے، علم و معرفت سے فائدہ پہنچانے اور بہتر مشورہ دینے میں بھی آدمی بخالت کرنے لگتا ہے۔ دل کی یہ بیماری ایمان کی کم زوری، فکرِآخرت سے غفلت اور دنیا کی محبت کی بنا پر پیدا ہوتی ہے اور اگر توجہ کے ساتھ اس کا علاج نہ کیا جائے تو دنیا کی زندگی اجیرن تو ہوتی ہی ہے آخرت بھی برباد ہو جاتی ہے۔
ابن قیم ؒ بخل وشح کے سلسلے میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’شح اور بخل کے درمیان فرق یہ ہے کہ شح کسی چیز کے سلسلے میں شدت حرص، اس کی طلب میں پوری لگن، اس کے حصول میں انتھک کوشش اور اس کے سلسلے میں دل کے اندر شدید لالچ کا نام ہے۔ بخل چیز کے حصول کے بعد اس کا خرچ نہ کرنا ہے۔ اس سے محبت کرنا اور اس کو روک کر رکھنا ہے۔ تو انسان چیز کے حصول سے پہلے ’شحیح‘ (لالچی بخیل) ہے اور اس کے حصول کے بعد بخیل ہے۔ لہٰذا بخل شح کا پھل ہے اور شح بخل کی طرف بلاتا ہے۔ شح دل کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ تو جو بخل کرتا ہے وہ اپنے شح کی اطاعت کرتا ہے اور جو بخل نہیں کرتا وہ اپنے شح کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے شر سے بچا رہتا ہے۔ یہی وہ کام یاب شخص ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمَنْ یوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [الحشر: 9] ’’اور جو اپنے نفس کے شح سے بچا لیے گئے، وہی لوگ کام یاب ہیں۔‘‘ (الوابل الصیب، ص 33)
بخل بندۂ مومن کا شیوہ نہیں ہوسکتا ہے۔ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں ان کے لیے عذاب کی وعید ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِینَ یبْخَلُونَ وَیأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَیكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِینَ عَذَابًا مُّهِینًا(النساء: 37)
(ایسے لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اُسے چُھپاتے ہیں۔ ایسے کافِر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کُن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔)
بخل و شح کی سنگینی
بخل ایک سنگین بیماری ہے۔ دل کے اندر حبِ دنیا اور حب مال کی وجہ سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہیں۔ آدمی سمجھتا ہے کہ مال خرچ کرنے سے ختم ہو جائے گا پھر وہ کیا کرے گا۔ اس لیے وہ اپنی واجبی ضروریات بھی پوری نہیں کرتا اور اپنے زیر کفالت لوگوں پر بھی انھیں خرچ نہیں کرتا۔ حالاں کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ نوازنے والا رب ذوالجلال ہے۔ نبی اکرمﷺ بخل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے:
اللَّهمَّ إنِّی أعوذُ بِكَ منَ البُخلِ، وأعوذُ بِكَ منَ الجُبنِ، وأعوذُ بِكَ أن أُرَدَّ إلى أرذلِ العمرِ، وأعوذُ بِكَ مِن فتنةِ الدُّنیا، وأعوذُ بِكَ مِن عذابِ القبرِ (رواہ احمد)
’’اے اللہ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ارذل العمر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘
بخیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ بہت اچھا کر رہا ہے، حالاں کہ وہ بہت برا کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے رب کو ناراض کر رہا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں بخیلوں کے لیے شدید وعید آئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا یحْسَبَنَّ الَّذِینَ یبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَیرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْۖ سَیطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ یوْمَ الْقِیامَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِیرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ. (آل عمران: 180)
(جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتےہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ا ن کےلیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔)
بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ذات اور اپنی بیوی بچوں پر تو کسی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے میں شدید بخل کرتے ہیں۔ انھیں نہیں معلوم کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا خود ان کے لیے نہایت مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے اور ستودہ صفات ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
هَا أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَّن یبْخَلُ ۖ وَمَن یبْخَلْ فَإِنَّمَا یبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ۚ وَاللَّهُ الْغَنِی وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوْا یسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیرَكُمْ ثُمَّ لَا یكُونُوا أَمْثَالَكُم (محمد: 38)
(دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اِس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالاں کہ جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منھ موڑو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔)
نبی اکرم ﷺ نے بخیل اور خرچ کرنے والے کے بارے میں ایک حدیث میں مثال دے کر یوں ارشاد فرمایا ہے:
مَثَلُ البَخیلِ والمُنفِقِ كمَثَلِ رَجُلَینِ علیهما جُبَّتانِ مِن حَدیدٍ مِن ثُدیهما إلى تَراقیهما؛ فأمَّا المُنفِقُ فلا ینفِقُ إلَّا سَبَغَت أو وفَرَت على جِلدِه، حتَّى تُخفی بَنانَه وتَعفوَ أثَرَه، وأمَّا البَخیلُ فلا یریدُ أن ینفِقَ شیئًا إلَّا لَزِقَت كُلُّ حَلقةٍ مَكانَها، فهو یوسِّعُها ولا تَتَّسِعُ (رواہ البخاری)
’’بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسی ہے کہ دو آدمی ہوں اور ان دونوں پر چھاتی سے لے کر گردن تک لوہے کا ایک ایک لبادہ ہو۔ خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو لبادہ اس پر کشادہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتا ہے۔ (یعنی پورے وجود کی حفاظت کرتا ہے اور عمل میں رکاوٹ نہیں بنتا) اور بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو لوہے کی ہر زنجیر اپنی جگہ چپک جاتی ہے۔ وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں پھیلتا۔ (یعنی وبالِ جان بن جاتا ہے اور کسی کام کا نہیں رہنے دیتا)۔‘‘
بخل سے آدمی کی شخصیت خراب ہوجاتی ہے اور وہ دنیا کی نظر میں خراب شخص گردانا جاتا ہے۔ دین و شریعت نے تو خاص طور سے بخل کو بُری صفت بتایا ہے اور مؤمنین کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اس بیماری کو اپنے اندر آنے کا موقع نہ دیں۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے۔ آپؐ ارشاد فرماتے ہیں:
شرُّ ما فی الرجلِ شُحٌّ هالِعٌ وجُبنٌ خالِعٌ (رواہ ابوداؤد)
’’آدمی کے اندر سب سے بری صفت شح ہے جو اس کو اندیشہ ناک رکھے اور بزدلی جو اس کے دل کو خالی (ہمت و حوصلے سے) رکھے۔‘‘
بخل و شح سے بچنے پر شریعت نے بہت زور دیا ہے، کیوں کہ یہ صفت ہلاکت و بربادی کا سبب بنتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے پچھلی قوموں کی ہلاکت کا ایک سبب شحّ بتایا ہے:
اتَّقوا الظُّلمَ؛ فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ یومَ القیامةِ، واتَّقوا الشُّحَّ؛ فإنَّ الشُّحَّ أهلَك من كان قَبلَكم، حمَلَهم على أن سفَكوا دماءَهم، واستحَلُّوا محارِمَهم (رواہ مسلم)
’’ظلم سے بچو، بے شک ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا اور شحّ سے بچو کیوں کہ تم سے پہلے لوگوں کو شحّ نے ہلاک کیا۔ ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنا خون بہائیں اور اپنے اوپر حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیں۔‘‘
بخل اپنے ساتھ بہت ساری برائیاں لے کر آتا ہے۔ وہ بظاہر ایک صفت ہے، لیکن اس کے نتیجے میں انسان کے اندر مختلف قسم کی منفی چیزیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے:
البخلُ جامعٌ لمساوئِ العیوبِ، وهو زمامٌ یقادُ به إلى كلِّ سوءٍ (ربیع الابرار للزمخشری:4؍ 393)
’’بخل سارے عیوب کا جامع ہے اور وہ ایسی لگام ہے جس سے ہر برائی کی طرف ہنکایا جاسکتا ہے۔‘‘
بخل و شح ایسی خراب بیماری ہے کہ وہ اپنے بیمار شخص کو خراب تو کرتی ہی ہے جو لوگ ان کے ساتھ رہتے ہیں انھیں بھی خراب کردیتی ہے۔ بعض علما نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ بخیلوں کو دیکھنا قساوتِ قلبی کا سبب بنتا ہے۔ بشیر بن حارثؒ کہتے ہیں:
النَّظَرُ إلى البخیلِ یقَسِّی القلبَ، ولِقاءُ البُخلاءِ كَربٌ على قلوبِ المُؤمِنین (حلیة الاولیاء: 8/350)
’’بخیل کو دیکھنا دل کو سخت کردیتا ہے اور بخیلوں سے ملاقات کرنا مومنوں کے دلوں پر ایک مصیبت کی طرح ہے۔‘‘
بخل آخرت میں خسران کا سبب بنتا ہے۔ بخیل شخص اپنے اور لوگوں کے لیے دنیا میں صرف نقصان دہ نہیں ہوتا ۔بلکہ اس کا بخل آخرت میں بھی اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ شعبیؒ کہتے ہیں:
لا أدری أیهما أبعَدُ غَورًا فی نارِ جَهنَّمَ: البُخلُ، أو الكَذِبُ. (احیاء علوم الدین:3/255)
’’مجھے نہیں معلوم جہنم کے نچلے طبقے میں عذاب کا مستحق کرنے والی صفت کون سی ہے، بخل یا جھوٹ؟
بندۂ مومن کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بخیل ہو۔ مومن کی صفت سخاوت اور فیاضی ہے۔ اسی لیے سلف صالح بخل کو حد درجہ معیوب سمجھتے تھے اور جس کے اندر بخل پایا جاتا اس کو نیک شخص نہیں گردانتے تھے۔ حبیش بن مبشر الثقفی کہتے ہیں:
قعَدْتُ مع أحمدَ بنِ حنبَلٍ ویحیى بنِ مَعینٍ، والنَّاسُ مُتوافِرون، فأجمَعوا أنَّهم لا یعرِفون رجلًا صالحًا بخیلًا (الاداب الشرعیة: 3؍311)
”میں احمد بن حنبلؒ اور یحییٰ بن معینؒ کے پاس بیٹھا تھا اور کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ وہ کسی ایسے نیک شخص کو نہیں جانتے جو بخیل بھی ہو۔‘‘
بخل و شح کے نقصانات
بخل و شح ایک مہلک بیماری ہے۔ اگر آدمی اس سے جلد از جلد نجات حاصل نہیں کرلیتا تو اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے اور وہ مختلف طرح کے نقصانات کا شکار ہوجاتا ہے۔
بخل کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بخیل کے اندر نفاق پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرنے کے نتیجے میں اس سنگین مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنْ الصَّالِحِینَ * فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَهُمْ مُعْرِضُونَ * فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوبِهِمْ إِلَى یوْمِ یلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا یكْذِبُونَ (التوبة: 75-77)
(ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے۔ مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بُخل پر اُتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انھیں اس کی پروا تک نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اِس بد عہدی کی وجہ سے جو انھوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔)
بخل کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ شقاوت و بدبختی کا سبب بنتا ہے۔ آدمی بخل کے اس عمل سے شقی و بد بخت ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
كانَ رَسولُ اللهِ ﷺ ذاتَ یومٍ جالِسًا وفی یدِه عودٌ ینكُتُ به، فرَفَعَ رَأسَه فقال: ما مِنكُم مِن نَفسٍ إلَّا وقد عُلِمَ مَنزِلُها مِنَ الجَنَّةِ والنَّارِ، قالوا: یا رَسولَ اللهِ، فلِمَ نَعمَلُ؟ أفلا نَتَّكِلُ؟ قال: لا، اعمَلوا، فكُلٌّ مُیسَّرٌ لما خُلِقَ له، ثُمَّ قَرَأ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُیسِّرُهُ لِلْیسْرَىٰ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ فَسَنُیسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ(اللیل: 5-10) (رواہ البخاری)
’’رسول اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور آپؐ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی۔ آپؐ اس لکڑی سے زمین پر ضرب لگا رہے تھے۔ پھر آپؐ نے اپنا سَر اٹھایا اور فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص کا مقام جنت اور جہنم میں متعین ہے۔ تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ تو ہم عمل کیوں کریں؟ تو آپؐ نے فرمایا: کام کرتے رہو۔ ہر شخص جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔ پھر آپؐ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی:’’تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا،اور بھلائی کو سچ مانا،اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہُولت دیں گے۔اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی،اور بَھلائی کو جھُٹلایا،اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہُولت دیں گے۔‘‘
بخل و شح کی صفت کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ایک بڑا سبب بخل تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إیاكم والشُّحَ ؛ فإِنَّما هَلَكَ مَنْ كانَ قَبْلَكُمْ بالشُّحِّ، أمَرَهُم بالبُخْلِ فبَخِلُوا، وأمرهم بالقَطِیعَةِ فقَطَعُوا، وأَمَرَهُمْ بالفُجُورِ فَفَجَرُوا. (رواہ ابوداؤد)
’’تم شحّ سے بچ کے رہنا۔ تم سے پہلے کے لوگ شح کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ شحّ نے انھیں بخل کے لیے کہا تو انھوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو رشتوں کو کاٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے رشتوں کو کاٹا اور اس نے انھیں علانیہ گناہ کرنے کا حکم دیا تو انھوں نے علانیہ گناہ کیا۔‘‘
بخل کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ خیر سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَن یبْخَلْ فَإِنَّمَا یبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ۚ وَاللَّهُ الْغَنِی وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوْا یسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیرَكُمْ ثُمَّ لَا یكُونُوا أَمْثَالَكُم (محمد: 38)
(اور جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے. اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو اگر تم منھ موڑو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔)
حضرت سلمان فارسیؓ کا مشہور قول ہے:
إذا مات السّخی، قالت الأرض والحفظة: ربّ تجاوز عن عبدك فی الدّنیا بسخائه، وإذا مات البخیل قالت: اللهمّ احجب هذا العبد عن الجنّة كما حجب عبادك عمّا جعلت فی یدیه من الدّنیا
(نضرة النعیم فی مکارم الاخلاق: 6؍2255)
’’جب سخی آدمی کا انتقال ہوتا ہے تو زمین اور فرشتے کہتے ہیں: اے رب! اس بندے کی دنیا کی غلطیوں کو درگزر فرما دے، اس کی سخاوت کی وجہ سے اور جب بخیل آدمی کا انتقال ہوتا ہے تو زمین اور فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! اس بندے کو جنت سے دور فرما جس طرح یہ تیرے بندوں کو دنیا کی چیزوں سے دور رکھتا تھا۔‘‘
بخل اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے اور بخیل ہمیشہ قلق و اضطراب میں رہتا ہے، پریشانی اور مصیبت میں گھرا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِی فَإِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ یوْمَ الْقِیامَةِ أَعْمَىٰ (طٰہٰ: 124)
(اور جو میرے’ذکر‘(درسِ نصیحت) سے منھ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔)
بخیل کے غم اور پریشانی کے سلسلے میں ابن القیمؒ نے لکھا ہے:
’’چوں کہ بخیل احسان اور خیر سے رُکا ہوا ہوتا ہے تو اس کو بدلہ اس کے جنسِ عمل سے ملتا ہے۔ لہٰذا وہ تنگ دل، فرحت سے محروم، بے صبرا، حقیر، فرح و انبساط سے دور اور غم و حزن سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کی کوئی ضرورت پوری نہیں ہوتی اور اس کی کسی خواہش کی تکمیل میں مدد نہیں کی جاتی۔‘‘ (الوابل الصیب، ص33)
بخل و شح کے اسباب
بخل و شحّ کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ آدمی کا اللہ تعالیٰ پر ایمان کم زور ہوتا ہے اور اس کو اس بات پر یقین نہیں رہتا کہ روزی کا مالک رب ذو الجلال ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَیعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِی كِتَابٍ مُّبِینٍ (ہود: 6)
(زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمّے نہ ہواور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہےاور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے۔)
انسان کو اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ زمین و آسمان کے خزانے اس کے پاس ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یفْقَهُونَ۔ (المنافقون: 7)
(اور زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں۔)
بخل کا ایک سبب یہ ہے کہ بخیل حبِّ دنیا اور حبِّ مال میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا اہم ہے، جتنا چاہو دولت اکھٹی کرلو۔ حالاں کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ دنیا کی نعمتوں کا استعمال حصول آخرت میں لگنا چاہیے۔ یہاں وہ انفاق اور فیاضی کرکے اللہ تعالیٰ کو خوش کرسکتا ہے اور اپنی آخرت بنا سکتا ہے۔ دنیا کی حقیقت تو صرف لہو ولعب کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِینَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَینَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَیثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ یهِیجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَیاُ الدُّنْیا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (الحدید: 20)
(خُوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمھارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دُوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بُھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹّی کے سوا کچھ نہیں۔)
بخل کا ایک سبب یہ ہے کہ آدمی اس غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ بخل اس کی ذہانت کی علامت ہے۔ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کرنا اور اس ڈر سے کہ کہیں وہ ختم نہ ہو اسے جمع کرکے رکھنا اس کی ذہانت اور قابلیت کی دلیل ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے اَمَر کردے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَیلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ الَّذِی جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ یحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ (الھمزة: 1-3)
(تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (منھ در منھ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) بُرائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا۔)
بخل کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آدمی کو مستقبل کا خوف ستاتا ہے کہ کہیں اس کا مال ختم نہ ہوجائے۔ وہ اپنے بچوں پر غربت کا اندیشہ محسوس کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے بچوں کے لیے کئی پشتوں کا انتظام خود کرکے جائے۔ حالاں کہ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بخیل کا مال ضائع ہونے والا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
ما مِن یومٍ یصبِحُ العِبادُ فیه إلَّا مَلَكانِ ینزِلانِ، فیقولُ أحَدُهما: اللَّهمَّ أعطِ مُنفِقًا خَلَفًا، ویقولُ الآخَرُ: اللهمَّ أعطِ مُمسِكًا تَلَفًا (رواہ مسلم)
’’روزانہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتےہیں۔ ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! روک کر رکھنے والے کا مال ضائع فرمادے۔‘‘
بخل و شح سے بچنے کے طریقے
بخل و شح سے بچنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ آدمی بخل و شحّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی وہ واحد ہستی ہے جو انسان کو برائیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ جو معصوم عن الخطا ہیں وہ بخل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ ہمیں تو اور زیادہ اس جانب متوجہ رہنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:
اللهُمَّ إنِّی أعوذُ بكَ مِنَ الهَمِّ والحَزَنِ، والعَجزِ والكَسَلِ، والبُخلِ والجُبنِ، وضَلَعِ الدَّینِ، وغَلَبةِ الرِّجالِ (رواہ البخاری)
’’اے اللہ تعالیٰ میں تیری پناہ مانگتا ہوں پریشانی اور غم سے، عاجزی اور کسل مندی سے، بخالت اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے ظلم سے۔‘‘
بخل سے بچنے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر شکر گزاری کا جذبہ پروان چڑھائے۔ اور اس سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنے سامنے رکھے۔ نبی اکرم ﷺ فیاضی میں بے مثال تھے۔ مشہور حدیث ہے:
كان رسولُ اللهِ ﷺ أجودَ الناسِ بالخیرِ، وكان أجودَ ما یكون فی شهرِ رمضانَ حتى ینسلِخَ، فیأتیه جبریلُ فیعرضُ علیه القرآنَ، فإذا لقِیه جبریلُ كان رسولُ اللهِ أجودَ بالخیرِ من الرِّیحِ الْمُرسَلَةِ (رواہ البخاری)
’’رسول اللہ ﷺ بھلائی کے معاملے میں سارے لوگوں میں سب سے زیادہ فیاض تھے اور آپؐ سب سے زیادہ ماہِ رمضان میں فیاض ہوتے، یہاں تک کہ مہینہ ختم ہوجاتا۔ ماہِ رمضان میں جبریلؑ آتے اور آپؐ پر قرآن مجید پیش کرتے تو جب جبریلؑ آپؐ سے ملاقات کرتے تو رسول اللہ ﷺ چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی کے بارے میں فیاض ہوتے۔‘‘
بندے کو ہمیشہ یہ مستحضر رہنا چاہیے کہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں ہے بلکہ بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی برکت اس میں شامل ہوجاتی ہے۔ اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ مزید نعمتیں عنایت فرماتا ہے۔ ناشکری سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور بخالت ناشکری کے مترادف ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (ابراہیم: 7)
’’اور یاد رکھو، تمھارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گےتو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔‘‘
بخل سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر قناعت پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور فیاضی دکھائے اور اپنی زندگی میں قناعت کا مظاہرہ کرے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
طُوبَى لِمنْ هُدِی للإسلامِ، وكانَ عیشُه كَفَافًا وقَنَعَ (رواہ الترمذی)
’’سعادت ہے اس شخص کے لیے جسے اسلام لانے کی ہدایت نصیب ہوئی اور اس کی زندگی کفاف اور قناعت میں گزری۔‘‘
بخل و شحّ سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی ذخیرہ اندوزی سے بچے۔ مال و اسباب جمع کرکے رکھنا اور بنیادی ضرورتوں پر بھی خرچ نہ کرنا آدمی کی خساست کی علامت ہے۔ آدمی جب بخیل ہوتا ہے تو وہ اپنے مال کی زکوٰة بھی ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں انفاق سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ بخیل کو چاہیے کہ مال و اسباب ذخیرہ کرنے اور اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرنے کی وعید سے ڈرے اور اپنی اصلاح کرلے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ كَثِیرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَیأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِینَ یكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا ینفِقُونَهَا فِی سَبِیلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِیمٍ . (التوبة: 34)
’’اے ایمان لانے والو! اِن اہلِ کتاب کے اکثر علما اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دردناک سزا کی خوشخبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انھیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘
بخل سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بخیل کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں مال خرچ کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اپنے اوپر، اپنے بال بچوں کے اوپر اور دین کے اہم مقاصد کے لیے مال خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صفت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ الَّذِینَ ینفِقُونَ فِی السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِینَ الْغَیظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ یحِبُّ الْمُحْسِنِینَ (آل عمران: 133۔134)
’’تیز چلو اُ س راہ پر جو تمھارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘
بخل سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی میانہ روی اختیار کرے اور افراط و تفریط سے بچے۔ توازن کے ساتھ مدات پر خرچ کرے اور اللہ تعالیٰ کے کرم کی امید رکھے۔ وہ بخالت سے نکلے اور اعتدال کے ساتھ زندگی گزارے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَجْعَلْ یدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا۔ إِنَّ رَبَّكَ یبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن یشَاءُ وَیقْدِرُ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِیرًا بَصِیرًا (الاسراء: 29۔30)
(نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کُھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاوٴ۔تیرا ربّ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انھیں دیکھ رہا ہے۔)
بخل سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسلاف کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے کہ انھوں نے کس طرح مال و اسباب کی محبت کو دل میں گھر کرنے نہ دیا اور فیاضی کا مظاہرہ کیا۔ خصوصیت کے ساتھ خلفائے راشدین، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ، حضرت عبد اللہ بن المبارکؒ جیسے اسلاف کی سیرت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
فیاض اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے والوں کی قرآن مجید نے تعریف فرمائی ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِینَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِیمَانَ مِن قَبْلِهِمْ یحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَیهِمْ وَلَا یجِدُونَ فِی صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَیؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن یوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر: 9)
((اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے)جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلےہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ اُن لوگوں سےمحبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے اُن کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اُس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دُوسروں کو تر جیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچالیے گئے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔)
بخل و شحّ سے نجات پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بخیلوں کی زندگیوں اور ان کے انجام سے نصیحت حاصل کرے۔ کتنے بخیل مال دار جنھوں نے اپنے اوپر ضرورت کے وقت بھی خرچ نہیں کیا اور کافی مال چھوڑ کر گئے۔ دوسروں نے ان کے مال سے فائدہ اٹھایا۔ ابن الجوزیؒ کہتے ہیں:
’’میں نے اپنے ایک بوڑھے بزرگ کو دیکھا کہ ان کی عمر اسّی سال ہوگئی۔ نہ ان کی بیوی ہے نہ بچے۔ بیمار ہوئے تو اپنے کسی دوست کے گھر جا پڑے۔ وہ دوست بڑی مشقت سے ان کی ضرورت پوری کرتا اور ان کا علاج کرواتا رہا۔ بہرحال ان کا انتقال ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے پیچھے بہت مال چھوڑا۔‘‘(صید الخاطر)
بخل و شح دل کو برباد کردینے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ بخل کے مرض کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دینا چاہیے اور اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہوگیا ہے تو جلد از جلد اسے اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرلینا چاہیے، ورنہ دین و دنیا کا خسران لازم آئے گا۔
یہ بیماری اتنی خطرناک ہے کہ بخیل سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہی ہے، اس شخص کو لوگ بھی ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ اس کو حقیر سمجھتے ہیں، اس کی برائی بیان کرتے ہیں اور اس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے شحّ کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں:
فأمّا المهلِكاتُ : فشُحٌّ مُطاعٌ، وهَوًى مُتَّبَعٌ، وإِعجابُ المرْءِ بنفْسِهِ.(رواہ الطبرانی)
’’تو ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں: شح جس کی اطاعت کی جائے، خواہش جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود پسندی میں مبتلا ہونا۔‘‘
بندۂ مومن کو ہمیشہ فکر مند ہونا چاہیے کہ اس کا دل امراض سے پاک ہوکر قلبِ سلیم بن جائے تاکہ وہ رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا حقدار ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دل کی تمام بیماریوں سے محفوظ فرمائے، آمین۔







