بعضکم من بعض قرآنی تعبیر ہے جس کا مطلب ہے کہ عورت بھی اتنی ہی انسان ہے جتنا انسان مرد ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اگر مسلم مرد اپنے فرض منصبی سے بہت زیادہ غافل ہیں تومسلم عورتیں بحیثیت مجموعی اپنے فرض منصبی سے یکسر ناواقف ہیں۔ مردوں کے درمیان تو اصلاح وتجدید کی تحریکیں کچھ نہ کچھ صدا بلند کرتی رہتی ہیں لیکن عورتوں کے درمیان اس موضوع پر گفتگو کرنے اور یاد دلانے کے چینل ہی تقریبًا مفقود ہیں۔ نصب العین کے حوالے سے مسلم عورت کے بنیادی طور پر تین کام بتائے جاتے ہیں، بچوں کی اسلامی تربیت، گھر اور خاندان میں اسلامی ماحول سازی اور عورتوں کے سماج میں اصلاح ودعوت۔ ان تینوں کاموں کی انجام دہی سے پہلے اپنی شخصیت کی بہتر تعمیر مطلوب ہے۔ ان تمام حوالوں سے مسلم عورت کی صورت حال بہت زیادہ توجہ چاہتی ہے۔
مسلم عورت اگر اپنے میدان میں سرگرم نہیں ہے، تو اس کی متعدد وجوہات ہیں۔جیسے اپنے مطلوبہ کردار کے بارے میں ناواقفیت، میدانِ کار کے سلسلے میں محدود تصورات،مسلم عورت کی دینی تعلیم کے سلسلے میں عمومی لاپروائی، مسلم عورت کے سماجی کردار پر غیر ضروری پابندیاں وغیرہ۔ اور ان سب کے ساتھ ایک اہم سبب سماج کی نظر میں عورت ذات کا کسی نہ کسی پہلو سے کم تر ہونا اور عورت کا خود احساس کم تری کا شکار ہوجانا بھی ہے۔ یہ آخری سبب ہی ہماری گفتگو کا موضوع ہے۔
احساس کم تری کے نقصانات
ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم عورت کے رتبےکو کم تر بتانے والے غلط تصورات نے اس کے کردار کو سکیڑ دینے اور بہت چھوٹا کردینے میں بڑا رول ادا کیا ہے۔ مقام کو فروتر بتاکر بڑے کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ مرد کا عورت سے بہتر ہونا اور عورت کا مرد کے مقابلے میں فروتر ہونا اتنے زیادہ پہلوؤں سے بیان کیا گیا اور اس میں اتنی زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی کہ یہ غلط بات زیادہ غلط معنوں میں ذہنوں میں بیٹھ گئی اور رویوں میں سرایت کرگئی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں خلافت کا بڑا کردار تفویض کیاتو ساتھ ہی اسے عزت وتکریم سے نواز کر بلند رتبہ بھی دیا۔ انسان میں مردوعورت دونوں یکساں طور پر شامل ہیں۔ اگر عورت کے مقام کو فروتر بتایا جائے گا تو وہ خلافت والے کردار میں بھی پیچھے رہ جائے گی۔
اسلام ایک طرف تو مرد وعورت دونوں کو بلند رتبہ دیتا ہے اور پھر دونوں ہی کو اعلی مقصد وکردار سے بھی روشناس کراتا ہے۔ اس طرح مرد وعورت کے درمیان مقام ومرتبے کی کشمکش نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ دونوں ایک اعلی مقصد کے لیے مشترک جدوجہد میں شامل ہوجاتے ہیں۔
جب یہ تصور ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مرد عورت سے افضل وبرتر ہے، تو اس کے نتیجے میں غیر صحت مند رویے جنم لیتے ہیں۔ مرد کے اندر برتری کا احساس اس کے اندر رعونت پیدا کردیتا ہے، پھر وہ عورت کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھتا ہے اور ایک معزز وقابل احترام فریق کی حیثیت سے اس کے ساتھ برتاؤ اور تعامل نہیں کرتا ہے۔
دوسری طرف عورت کے اندر کم تر ہونے کا احساس اس سے تعمیر وعمل کا جذبہ سلب کرلیتا ہےاور وہ اپنی زندگی کے مقصد ونصب العین کے سلسلے میں بھی اپنے آپ کو نا اہل محسوس کرتی ہے۔
مرد کی طرف سے عورت پر ہونے والا ظلم اور سماج کی طرف سے اس کی خاموش تائید اور جواز دہی اس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتی ہے۔ بسا اوقات اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ سماجی رواجوں کے ساتھ مذہب سے بھی بدگمان ہوجائے، کیوں کہ یہ رواج مذہبی حوالے لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام اس طرح کی تفریق اور اس سے پیدا ہونے والے ظلم کے مظاہر سے بری اور پاک ہے۔
مرد و عورت کے مقام کے سلسلے میں اسلام کے صحیح تصور کو جاننے کا معتبر ترین ذریعہ قرآن مجید ہے۔ زیر نظر مضمون میں قرآن مجید کی بعض آیتوں کی روشنی میں اسلام کے تصور کو بیان کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مفسرین سے تفہیم وتشریح کی جوغلطیاں ہوئی ہیں ان کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔
قرآن میں انسان کارتبہ
اللہ تعالی نے انسان کو بہترین خلقت اور اعلی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا۔ اس نے آدم کی اولاد کو معزز بنایا اور انھیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی۔ فرمایا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ (سورۃالتین:۴)
(ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا)
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّیبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِیرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا (سورۃ الاسراء:۷۰)
(یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انھیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی)
اس تفضیل و تکریم اور احسن تقویم میں مرد وعورت دونوں یکساں طور پر شامل ہیں۔یہ کہنا کسی طرح درست نہیں ہوگا کہ مرد تو احسن تقویم پر پیدا کیا گیا لیکن عورت احسن تقویم پر پیدا نہیں کی گئی۔
جنس کی بنا پر فضیلت نہیں ہے
قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اللہ نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔صرف یہ کہا گیاہے کہ عائلی زندگی میں مرد کے اختیارات کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن اختیارات زیادہ ہونے کا مطلب اس ذمے داری کے لیے موزوں تر ہونا ہوتا ہے، دوسروں سے برتر وبہتر ہونا تو نہیں ہوتا ہے۔
قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی انسانی فطرت کا جائزہ بھی بتاتا ہے کہ مرد کو عورت پر فضیلت حاصل نہیں ہے اور عورت کو مرد پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان فرق برتری اور کم تری کا نہیں بلکہ خصوصیات کا ہے۔ مرد کی خصوصیات مرد کو ممتاز بناتی ہیں اور عورت کی خصوصیات عورت کو۔ مرد اور عورت دونوں کی مشترک اجتماعیت شوہر اور بیوی کی صورت میں وجود میں آتی ہے۔ ہر اجتماعیت کی طرح اس اجتماعیت کے لیے بھی کسی کا امیر ہونا ضروری ہے جو انتظام کی تمام تر ذمے داری اپنے سر لے۔چوں کہ مرد وعورت کی خصوصیات یکساں نہیں ہیں، اور اجتماعیت اگر دو افراد پر مشتمل ہو تو ان دوکے درمیان باہم انتخابی عمل ممکن نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے اس اجتماعیت کی امارت کا فیصلہ اللہ کی طرف سے طبعی اور شرعی حکم کی صورت میں ہوا۔ شوہر کو بیوی پر امیر بنایا گیا، مرد کی عورت پر برتری کی وجہ سے نہیں، بلکہ مرد وعورت کی جداگانہ خصوصیات اور مردکی اضافی ذمے داریوں کے پیش نظر۔ اسلام کی نظر میں سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ امارت بھی ذمے داریوں سے گراں بار ہوتی ہےاور اس بارِ گراں کو اٹھانے کی خصوصیت مرد کے اندر ودیعت کی گئی ہے۔ اسی بات کو قوامیت سے تعبیر کیا گیا۔
اسلام نے مرد وعورت کے درمیان ذمے داریوں کی تقسیم کی ہے، مگر وہ تقسیم انتظامی نوعیت کی ہے۔ انتظامی تقسیم کے نتیجے میں اختیارات بھی تقسیم ہوتے ہیں۔ جس پر ذمے داریاں زیادہ ہوتی ہیں اسے اختیارات بھی زیادہ ملتے ہیں تاکہ ذمے داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دیا جاسکے۔
لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ یہ دراصل انتظامی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم ایسی نہیں ہے جس سے مردوں کو عورتوں پر کسی طرح کی فضیلت، فوقیت اور زیادہ عزت حاصل ہوتی ہو۔ سماجی سطح پر مرد وعورت دونوں یکساں مقام اور مساوی عزت رکھتے ہیں۔
قرآن مجید میں کہیں بھی مرد کو عورت سے افضل یا عورت کو مرد سے کم تر قرار نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن غیر اسلامی فلسفوں اور رواجوں سے متاثر ہوکر مرد کے افضل اور عورت کے کم تر ہونے کا تصور مسلم ذہنوں اور سماجوں میں بھی در آیا۔ چناں چہ قرآن مجید کی بعض آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے کچھ مفسرین نے اس تصور کو قرآن کی آیتوں سے جوڑ کر پیش کیا اور یہ تاثر دیا کہ قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے اور اسے جواز کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔
فضیلت کا معیار اعمال ہیں
اللہ کے نزدیک فضیلت کا معیار تقوی اور اعمال ہیں نہ کہ مرد یا عورت ہونا۔ فرمایا:
یا أَیهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (سورۃ الحجرات: ۱۳)
(لوگو، ہم نے تم کو مرد اور عورت کی صورت میں پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور برادریاں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔) (ترجمہ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحیؒ)
قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں اس اصول کو بہت واضح اور مدلل اسلوب میں ذکر کیا گیا:
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّی لَا أُضِیعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ (سورۃآل عمران: ١٩٥)
(تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو)
شیخ رشید رضا لکھتے ہیں:
اس آیت میں ذکر کیا گیا کہ مرد اور عورت جب عمل میں برابر ہوں تو اللہ کے نزدیک انعام میں بھی برابر ہوتے ہیں۔ یہ بات اس لیے بتائی گئی تاکہ مرد کو جو قوت اور عورت پر جو سرداری حاصل ہے اس سے اسے دھوکہ نہ ہوجائے اور وہ یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اس سے زیادہ اللہ سے قریب ہے۔ اسی طرح عورت کو اپنے سلسلے میں بدگمانی نہ ہو اور وہ اس وہم کا شکار نہ ہوجائے کہ مرد کو اس کا سردار بنایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے یہاں اس سے بلند رتبہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس مساوات کی وجہ بھی یہ کہہ کر بتائی کہ تم ایک دوسرے سے ہو، مرد کی ماں عورت ہوتی ہے اور عورت کا باپ مرد ہوتا ہے، بشریت میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لیے ان کے درمیان ایک دوسرے پر فضیلت صرف اعمال کی وجہ سے ہے۔ اس میں اعمال سے برآمد ہونے والے ثمرات شامل ہیں، اور وہ علوم واخلاق بھی جن کے نتیجے میں اعمال وجود میں آتے ہیں۔
اس تعبیر کا ایک اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ایک ہی شاخ سے نکلے ہیں، ایک دوسرے کی جوڑی ہیں، ایک دوسرے کے لیے بھائی بہن ہیں، اسی مفہوم میں یہ حدیث ہے کہ النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔ یعنی فطرت اور اخلاق میں ان کی جیسی ہوتی ہیں، گویا کہ انھی سے پھوٹی ہوں، یا ان کے ساتھ ایک ہی جڑ سے نکلی ہوں۔ یہ آیت مسلم عورتوں کی شان بلند کرتی ہے، ان کی اپنی نگاہ میں بھی اور مسلم مردوں کی نگاہ میں بھی—جہاں تک یہ بات ہے کہ مرد عورتوں سے علم، عقل اور دنیوی امور کی انجام دہی میں فوقیت رکھتے ہیں تو غالبًا اس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی احوال میں اسی کا رواج رہا ہے۔ اسی طرح وراثت میں مرد کو عورتوں کا دوگنا حصہ دیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے خرچ کا ذمہ دار ہے اور اس کے اوپر وہ ذمے داریاں ہیں جو عورت پر نہیں ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی بھی چیز کا اللہ کے نزدیک انعام وسزا کے معاملے میں یا عزت واحترام کے پہلو سے برترہونے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زوجین کے درمیان سماجی حقوق میں بھی برابری رکھی ہے۔ صرف انتظام وسرداری کے مسئلے میں مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ عطا کیا ہے۔ (تفسیر المنار)
بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:
عورت اور مرد دونوں ایک ہی جنس سے ہیں، دونوں ایک ہی آدم وحوا کی اولاد ہیں، دونوں ایک ہی قسم کے گوشت پوست سے بنے ہوئے ہیں۔ ان دولفظوں میں قرآن نے ان تمام جاہلی نظریات اور غلط مذہبی تصورات کی تردید کردی جو عورت کو مرد کے مقابل میں، ایک فروتر مخلوق قرار دیتے تھے۔ (تدبر قرآن)
مولانا عبدالماجد دریابادی رقم طراز ہیں:
مرد بحیثیت مرد ہرگز اللہ کے ہاں مقرب تر اور نجات کا مستحق تر نہیں، اور عورت اپنی جنس کی بنا پر ہرگز کسی اجر وقرب سے محروم نہ رہے گی، جیسا کہ بعض دوسرے مذہبوں نے قرار دے رکھا ہے، اس میں عورت کے لیے تعلیم ہے کہ وہ اپنا احساس کم تری دور کرے اور سمجھ لے کہ ایک مکلف مخلوق کی حیثیت سے وہ اور مرد دونوں بالکل ایک سطح پر ہیں اور حصول نجات وقرب حق میں وہ مردوں سے ذرا بھی فروتر نہیں۔ (تفسیر ماجدی)
عورتوں کی خصوصیات ان کا امتیاز ہیں
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَیءٍ عَلِیمًا (سورۃالنساء: ٣٢)
(اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انھوں نے کیے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انھوں نے کیے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے)
قرآن مجید کی یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ نے سب انسانوں کو الگ الگ خصوصیات سے نوازا ہے۔ اس معاملے میں کسی کو کسی پر مطلق فضیلت حاصل نہیں ہے، ان خصوصیات کے ہوتے ہوئے اصل اہمیت آخرت کے لیے کمائی کی ہے جس کا اصول سب کے لیے یکساں ہے۔ ایک دوسرے میں موجود خصوصیات پر فریفتہ ہونے کے بجائے اللہ کے فضل کا طلب گار ہونا ہی مفید ہوسکتا ہے، اور اس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
شیخ رشید رضا لکھتے ہیں:
ارشاد تعالی: مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ میں نہایت انوکھا اختصار ہے۔ اللہ نے بعض مردوں کے مقابلے میں بعض مردوں کو جو فضیلت دی، بعض عورتوں کے مقابلے میں بعض عورتوں کو جو فضیلت دی، مردوں کی صنف کو عورتوں پر جو فضیلت دی اور عورتوں کی صنف کو مردوں پر جو فضیلت دی اور بعض مردوں کو بعض عورتوں پر جو فضیلت دی اور بعض عورتوں کو جو بعض مردوں پر فضیلت دی، یہ سب کچھ اس میں شامل ہے۔ اسے اس طرح سمجھا جائے کہ ہر ایک کی خصوصیت اس کے لیے فضیلت ہے اور وہ خصوصیت اسے دوسرےسے ممتاز کردیتی ہے۔ (تفسیر المنار)
خصوصیات میں فرق ایک بات ہے اور مقام ومرتبے میں فرق ایک دوسری بات ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مرد کے اندر مردانگی ہوتی ہے اور عورت کے اندر نسوانیت ہوتی ہے تو ہم حقیقت بیان کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مردانگی اعلی صفت ہے اور نسوانیت ادنی صفت ہے تو ہم حقیقت سے دور ہوجاتے ہیں۔ دراصل مردانگی مردوں کے لیے اعلی صفت ہے اور نسوانیت عورتوں کے لیے اعلی صفت ہے۔ مردانگی کی بنا پر مرد قابل تعریف تو ہوتا ہے لیکن عورتوں سے افضل نہیں ہوتا ہے کیوں کہ عورتوں کے پاس اس کے بالمقابل نسوانیت ہوتی ہے۔ اسی طرح نسوانیت کی بنا پر عورت قابل تعریف ہوتی ہے اور وہ ہرگز اس بنا پر مردوں سے کم تر نہیں ہوتی ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ داڑھی کا اگنا مردوں کے لیے جمال کی بات ہے لیکن عورتوں کے لیے جمال کی بات نہیں ہے۔
فضیلت کے پہلو سے مرد و عورت کی درجہ بندی اپنے آپ میں غیر اسلامی اور غیر انسانی بات ہے۔ اس درجہ بندی کو بیان کرنے کی چھوٹی برائی یہ ہے کہ عورت کے مقابلے میں مرد کی خوبیوں کو گنایا جائے، لیکن اس کی بڑی برائی یہ ہے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی خامیوں کو بیان کیا جائے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرد کے اندر عورت کے مقابلے میں زیادہ جسمانی قوت، زیادہ ذہانت اور زیادہ دور اندیشی و سنجیدگی ہوتی ہے، تو اس دعوے پر گفتگو کی جاسکتی ہے، گو کہ اس طرح کے اطلاقی دعوے عام طور سے ثابت نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کم تر ہوتی ہے کیوں کہ وہ کم عقل، ناقص الخلقت اور ناسمجھ ہوتی ہے تو یہ بہت زیادہ منفی بات ہوتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ نہایت منفی طرز بیان مسلمانوں کے روایتی لٹریچر میں کہیں کہیں نظر آتا ہے اور جگہ جگہ ان کے رویوں میں غالب ہوجاتا ہے۔
حقوق وواجبات کا پیمانہ یکساں ہے
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیهِنَّ دَرَجَةٌ (سورۃالبقرة : ٢٢٨]
(عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے)
قرآن مجید میں شوہر اور بیوی پر مشتمل اجتماعیت کی رہ نمائی کے لیے دو اہم اصول دیے گئے۔ ایک اصول یہ کہ بیوی کے حقوق اس کی ذمے داریوں کے بقدر ہوں گے اور اسے شوہر کی صواب دید پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ درست عرف ورواج کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رواج کو جتنا بہتر کیا جائے گا گھریلو حقوق اور ذمے داریوں کی وضاحت اتنی ہی اچھی طرح سے ہوجائے گی۔ بہرحال عورت کے ساتھ حقوق و واجبات کے سلسلے میں مکمل عدل کا معاملہ کیا جائے گا۔ دوسرا یہ اصول دیا گیا کہ حقوق وواجبات کی عادلانہ تقسیم کے بعد مختلف درپیش معاملات میں، جن میں عرف ورواج کی رہ نمائی نہیں مل سکے، مرد کا اختیار عورت سے ایک درجہ زیادہ رہے گا۔ یہ دونوں اصول مل کر ایک ایسی عائلی اجتماعیت کا تصور دیتے ہیں جو دنیا کے ہر خطے اور ہر زمانے میں قابل عمل ہے۔ یہ اجتماعیت عدل پر قائم ہوتی ہے، اس کے پاس عرف ورواج کا مرجع بھی ہوتا ہے اور مسدود راستوں سے نکلنے کے لیے شوہر اور بیوی کے درمیان اختیارات اور ذمے داریوں کا کچھ فرق بھی ہوتا ہے۔
مفسر شیخ رشید رضا لکھتے ہیں:
اللہ تعالی نے مرد وعورت میں سے ہر ایک کے دوسرے پر حق کو مختصر عبارت میں بیان کردیا۔ فرمایا: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔ یہ مختصر جملہ انسانوں کی اصلاح کے لیے ایک رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہایت عظیم بات ہے، مختصر ہونے کے باوجود اس میں وہ کچھ ہے جسے بیان کرنے کے لیے بڑی کتاب درکار ہوگی۔ یہ ایک کلی قاعدہ ہے جو کہتا ہے کہ عورت تمام حقوق میں مرد کے برابر ہے سوائے ایک چیز کے جسے وَلِلرِّجَالِ عَلَیهِنَّ دَرَجَةٌ کہا—یہ جملہ مرد کو ایک میزان دیتا ہے، اس سے اسے تمام احوال وظروف میں وزن کرتے رہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔ جب وہ اس سے کسی بھی چیز کا مطالبہ کرنے کا ارادہ کرے تو یہ بھی یاد کرلے کہ اس کے بالمقابل اس پر بھی اسی طرح کی چیز واجب ہوگی۔ اسی لیے ابن عباس ؓ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے : میں اپنی بیوی کے لیے بناؤ سنگھار کرتا ہوں جس طرح میری بیوی میرے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے۔ یہاں مثل سے مراد یہ نہیں ہے کہ جو مرد کو ملے بعینہ وہی عورت کو بھی ملے، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کے درمیان حقوق کا برابری کی بنا پر تبادلہ ہو، عورت مرد کے لیے کچھ کرے تو مرد بھی اس کے مقابل میں اس کے لیے کچھ کرے، خواہ وہ بالکل وہی چیز نہ ہو لیکن اس کے ہم پلہ تو ہو۔ غرض مرد وعورت حقوق واعمال میں ایک دوسرے کے مثل ہیں، اسی طرح وہ ذات، احساس، شعور اور عقل میں بھی ایک جیسے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی مکمل انسان ہے، اس کے پاس عقل ہے جس سے وہ اپنا برابھلا سوچتا ہےاور اس کے پاس دل ہے جو اپنی پسندیدہ اور راس آنے والی چیز سے محبت کرتا ہے اور ناپسندیدہ اور راس نہ آنے والی چیز سے نفرت کرتا ہے۔ اس لیے یہ عدل نہیں ہے کہ ایک صنف دوسری صنف پر اپنی مرضی چلائےاور اسے غلام بناکر رکھے اور اپنے مفادات کے لیے اس کا استعمال کرے، خاص طور سے زوجیت کا معاہدہ کرنے اور مشترک زندگی کا آغاز کرنے کے بعد جس کی خوش گواری کے لیے شرط ہے کہ زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کا احترام کرے اور اس کے حقوق ادا کرے۔ (تفسیر المنار)
ایک درجہ زیادہ اختیار،کئی درجہ زیادہ ذمے داریاں
وَلِلرِّجَالِ عَلَیهِنَّ دَرَجَةٌ اس جملے میں درجۃ کا لفظ تو آیا ہےلیکن اس کے ساتھ تفضیل یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ نہیں آیا ہے، جو کہ دوسرے مقامات پر آیا ہے، جیسے فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِینَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِینَ دَرَجَةً (النساء: ۹۵)
دراصل حقوق واختیارات میں کسی کو کچھ زیادہ حاصل ہو اور کوئی کسی سے برتر اور افضل ہو، دونوں میں فرق ہے۔ بعض لوگ اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھ سکے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بچے کی پیدائش وپرورش میں ماں کے کردار کی بار بار تعریف کی، رسول پاک ﷺ سے سوال ہوا کہ حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے، آپ نے تین بار فرمایا تمھاری ماں اور چوتھی بار فرمایا تمھارا باپ۔ لیکن دوسری طرف شریعت میں اولاد کا نسب باپ سے جوڑا جاتا ہے۔ الگ الگ جہتوں سے ماں اور باپ دونوں کی فضیلت ہے۔ ماں کی خصوصیات الگ ہیں اور باپ کی خصوصیات الگ ہیں۔ کسی ایک پہلو کو سامنے رکھ کر کسی ایک کو دوسرے سے برتر یا کم تر قرار دینا درست نہیں ہوسکتا ہے۔ بعض اہل علم نے بجا طور پر کہا ہے کہ اطاعت کے معاملے میں باپ کو فوقیت حاصل ہے اور خدمت کے معاملے میں ماں کو فوقیت حاصل ہے۔
وراثت میں بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا ہوتا ہے، دوسری طرف بیٹی کی اچھی پرورش کرنے پر زیادہ بشارتیں ملتی ہیں۔اس سب کے باوجود مقام ومرتبے کے لحاظ سے دونوں میں کوئی کسی سے برتر یا کم تر نہیں ہے۔
شوہر اور بیوی کے معاملے کو بھی اسی طرح دیکھنا چاہیے، شوہر کا اختیار ایک درجہ زیادہ ہے، لیکن اس بنا پر کوئی کسی سے برتر یا کم تر نہیں ہے۔
ولِلرِّجالِ عَلَیهِنَّ دَرَجَة کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر جلالین میں مختصر مگر واضح الفاظ میں کہا گیا: یہ حق میں فضیلت کا ذکر ہے، کہ شوہروں نے مہر اور خرچ پیش کیا تو بیویوں پر ان کی اطاعت واجب ہوئی۔
مفسر رشید رضا اس جملے کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہ درجہ عورت پر ایک چیز واجب کرتا ہے اور مردوں پر بہت سی چیزیں واجب کرتا ہے، کیوں کہ یہ درجہ سرداری اور مصالح کی انجام دہی کا درجہ ہے۔ (تفسیر المنار)
اس کے مقابلے میں بعض مفسرین اس آیت کی تفسیر میں مردوں کو باکمال اور عورتوں کو ناقص وکم تر قرار دینا ضروری سمجھتے ہیں، حالاں کہ ان باتوں کا یہاں کوئی محل ہی نہیں ہے۔ ایک مفسر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
‘‘اس طرف اشارہ ہے کہ مرد عورت سے افضل ہے، کیوں کہ مردانگی شرف اور کمال ہے، جب کہ نسوانیت خلقی اور طبعی نقص ہے۔ ’’
ایک دوسرے مفسر لکھتے ہیں: ‘‘اگر مردوں کی عورتوں پر فضیلت صرف یہی ہوتی کہ ان کی تخلیق مردوں سے ہوئی ہے، جیسا کہ ثابت ہے کہ حوا آدم کی پسلی سے پیدا کی گئیں تو یہ بھی کافی ہے۔’’
حالاںکہ یہ بات بھی تحقیق شدہ نہیں ہے۔ نہ تو حوا کا آدم کی پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہے، اور نہ ہی قرآن مجید میں کہیں یہ کہا گیا ہے کہ عورتوں کی تخلیق مردوں سے ہوئی ہے۔ قرآن مجید میں تو صرف اس پر زور دیا گیا ہے کہ انسانوں کا جوڑا انسانوں کی جنس سے بنایا گیا ہے، یعنی مرد وعورت کی جنس ایک ہے۔ یہ دراصل بائبل کی کہانی ہے جو مسلمانوں کے روایتی لٹریچر میں داخل ہوکر مشہور ہوگئی اور اس کی بنا پر مرد کی عورت پر فضیلت کا تصور بھی قائم کرلیا گیا۔
قوامیت کی بنیاد خصوصیات کا فرق ہے
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (النساء: ۳۴)
(مرد عورتوں کے سرپرست ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مال خرچ کیے)
مرد کے اندر احساس برتری پیدا نہ ہو اور عورت کے اندر احساس کم تری پیدا نہ ہو، اس کی اس آیت میں زبردست رعایت کی گئی ہے۔ حاکم، امیر اور رئیس جیسے الفاظ کے بجائے قوام کا لفظ استعمال کیا جس میں ذمے داری کا پہلو غالب ہے حکومت وامارت کا پہلو نمایاں نہیں ہے۔ اسی طرح فضّل اللہ الرجال علی النساء نہیں کہا بلکہ فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ کہا۔ یہ اسلوب ویسے ہی ہے جیسے رسولوں کے بارے میں کہا گیا: تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ (البقرۃ: ۲۵۳) شیخ محمد ابوزہرۃ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
یعنی یہ کہ ہم نے بعض کو کچھ پہلوؤں سے دوسرے بعض سے زیادہ دیا۔ یہاں فضل اضافی ہے ذاتی نہیں ہے، یعنی اس فضل کا تعلق رسولوں کی ذات سے نہیں ہے، بلکہ اس سے ہے کہ اللہ بعض کو خاص طور سے ایسے معجزات دے دیتا ہے جو دوسروں کے معجزات سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ تفضیل اضافی ہوتی ہے، کیوں کہ وہ ایک پہلو سے ہوتی ہے، اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جسے ایک پہلو سے فضل نہیں ملا اسے دوسرے پہلو سے فضل مل گیا۔ چناں چہ موسی کو عیسی کے مقابلے میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ نے ان سے کلام کیا، اور عیسی کو موسی کے مقابلے میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے، غرض تفضیل اضافی ہے، اپنے موضوع، اپنی نوعیت اور اپنے پہلوؤں کے اعتبار سے۔ تفضیل کی اس طرح تفسیر کرنے سے تطبیق ہوجاتی ہے ان آیتوں میں جن میں تفضیل کا ذکر ہے اور ان احادیث میں جن میں نبی کریم ﷺ نے نبیوں میں مقابلہ کرنے سے منع کیا ہے۔ (تفسیر زہرۃ التفاسیر)
جس طرح رسولوں کے حوالے سے یہ بات کہی گئی کہ ہر کسی کو الگ الگ پہلو سے فضیلت دی گئی، اسی طرح اس آیت میں یہ کہا گیا کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ پہلوؤں سے فضیلت دی گئی۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس نکتے کو ملحوظ رکھا، وہ لکھتے ہیں:
اللہ تعالی نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔ مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوّق حاصل ہے جن کی بنا پر وہی سزاوار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اس پر ڈالی جائے۔ مثلًا محافظت ومدافعت کی جو قوت وصلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد وہمت اس کے اندر ہے، وہ عورت کے اندر نہیں ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے۔ بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں لیکن ان کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے۔ مثلًا عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش ونگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے وہ مرد نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے۔ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے۔ (تدبر قرآن)
وہیں بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ہر طرح سے عورتوں پر مردوں کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی۔
کسی کے بقول:
‘‘ اس میں شک نہیں کہ مردوں کی عقلیں اور ان کے علوم زیادہ ہیں، اور اس میں بھی شک نہیں کہ دشوار گزارکاموں کے لیے ان کی قدرت کمال تر درجے کی ہے۔ ان دونوں اسباب کی بنا پر مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہوئی، عقل میں، قوت فیصلہ میں، قوت اور بیشتر کتابت میں، شہ سواری اور تیر اندازی میں، اور انھیں میں نبی اور علما ہوتے ہیں، اور انھیں میں امامت کبری اور امامت صغری ہے، اسی طرح جہاد، اذان،خطبہ، اعتکاف، سب کے نزدیک حدود وقصاص میں گواہی، اور شافعی کے نزدیک نکاح میں گواہی، وراثت میں زیادہ حصہ، قتل اور قتل خطا میں دیت کا بار، قسامہ، نکاح میں ولایت، طلاق، رجوع، تعدد ازواج بھی انھیں میں ہے۔ مزید برآں نسبت انھیں کی طرف ہوتی ہے۔ غرض یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔’’
ایک اور صاحب لکھتے ہیں:
‘‘مرد کا مزاج قوی تر کامل تر خوب تر اور حسین تر ہوتا ہے۔ تمھیں عجیب وغریب لگے گا اگر میں یہ کہوں کہ مرد عورت سے زیادہ خوب صورت ہوتا ہے، اور خوب صورتی تو خلقت کے کمال وتمام ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسان اپنے زندہ جسم کی صورت میں حیوانات ہی کی ایک قسم ہے۔ خلقت کا نظام ان میں ایک ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام حیوانات میں نر مادہ سے زیادہ حسین وکامل ہوتے ہیں، جیسا کہ تم دیکھتے ہو، مرغا اور مرغی، بکرا اور بکری، شیر اور شیرنی میں۔ مردوں کی خلقت کے حسن وکمال کی ایک مثال داڑھی اور مونچھ کے بال ہیں، اسی لیے جس کی داڑھی مونچھ نہیں ہوتی ہے وہ ناقص خلقت مانا جاتا ہے، اور اس کی تمنا ہوتی ہے کہ کاش بال اگانے کی دوا مل جائے’’
کوئی پوچھے کہ کیا عورت کے لیے بھی داڑھی اور مونچھ جمال کی علامت ہے؟!
اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع کے بیان میں قدرے اعتدال ملتا ہے، وہ لکھتے ہیں:
اگرچہ عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم وواجب ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں اور دونوں کے حقوق باہم مماثل ہیں، لیکن ایک چیز میں مردوں کو امتیاز حاصل ہے کہ وہ حاکم ہیں۔ اور قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ حکومت جو مردوں کی عورتوں پر ہے، محض آمریت اور استبداد کی حکومت نہیں، بلکہ حاکم یعنی مرد بھی قانون شرع اور مشورے کا پابند ہے، محض اپنی طبیعت کے تقاضے سے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ (معارف القرآن)
آگے لکھتے ہیں:
مردوں کی حاکمیت سے نہ عورتوں کا کوئی درجہ کم ہوتا ہے اور نہ اس کی اس میں کوئی منفعت ہے۔ بلکہ اس کا فائدہ بھی عورتوں ہی کی طرف عائد ہوتا ہے۔ (معارف القرآن)
وراثت زیادہ ملنے کا مطلب افضل ہونا نہیں ہے
وراثت کے حصے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:
یوصِیكُمُ اللَّهُ فِی أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیینِ (سورۃ النساء: ۱۱)
(تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے)
یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ اگر بیٹوں کو وراثت میں زیادہ حصہ ملتا ہے، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ بیٹے بیٹیوں سے افضل وبہتر ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان پر خرچ کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اسے مرد وزن میں فرق مراتب سے جوڑ دیا۔
شیخ رشید رضا اس طرز فکر پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے مثل رکھنے کی حکمت یہ ہے مرد کو اپنے اور اپنی بیوی کے اوپر خرچ کرنا ہوتا ہے، اس لیے اس کے دو حصے ہیں، جب کہ عورت صرف اپنے اوپر خرچ کرتی ہے، اور اگر اس کی شادی ہوجائے تو اس کا اپنا خرچ بھی اس کے شوہر پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے بعض صورتوں میں عورت کا وراثت میں حصہ مرد کے حصے سے زیادہ ہوجاتا ہے، اگر دونوں کے خرچ کو سامنے رکھا جائے۔ اور رہی وہ بات جو اس کی حکمت بتاتے ہوئے بعض مفسرین نے ذکر کی ہے کہ ان کی عقل کم ہوتی ہے اور ان پر خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ ناپسندیدہ راہوں میں خرچ کرسکتی ہیں تو یہ بہت ہی غلط اور شنیع بات ہے۔ (تفسیر المنار)
گواہی کا فرق بھی افضلیت کی دلیل نہیں ہے
قرآن میں جہاں ادھار لین دین کے سلسلے میں احکام دیے گئے ہیں، وہاں معاملے کو لکھنے کا اور پھر اس پر گواہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں فرمایا:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِیدَینِ مِن رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ یكُونَا رَجُلَینِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ وَلَا یأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا (البقرة: ۲۸۲)
(پھر اپنے مردوں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اسے یاد دلا دے)
اس مسئلے کا فرق مراتب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا تعلق میدان کار کے فرق سے ہے۔ لیکن اسے بعض مفسرین نے مردوں کی عورتوں پر برتری اور افضلیت سے جوڑ دیا۔
شیخ رشید رضا اور ان کے استاذ شیخ محمد عبدہ اس طرز فکر سے اتفاق نہیں کرتے ہیں:
عورتوں کے بھول چوک سے دوچار ہونے کی بعض لوگوں نے وجہ یہ بتائی کہ ان کے اندر عقل اور دین کی کمی ہوتی ہے، اور بعض لوگ اس کی وجہ ان کے مزاجوں میں رطوبت کی زیادتی بتاتے ہیں۔استاذ امام (شیخ محمد عبدہ) نے کہا: مفسرین نے اس بارے میں گفتگو کی اور اس کا سبب مزاج کو بتایا، انھوں نے کہا: عورت کے مزاج کو سردی لاحق ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں نسیان واقع ہوتا ہے۔ یہ غیر تحقیقی بات ہے۔ صحیح سبب یہ ہے کہ بیع وشرا جیسے مالی معاملات میں مصروف رہنا عورت کا کام نہیں ہے، اس لیے ان کے سلسلے میں عورت کی یادداشت کم زور ہوتی ہے، جب کہ گھریلو معاملات میں جن میں وہ مصروف رہتی ہے،ایسا نہیں ہوتا ہے، بلکہ وہاں تو اس کی یادداشت مردوں سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ انسانوں کی فطرت یہ ہے، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، کہ جو معاملات ان سے وابستہ ہوتے ہیں اور جن میں وہ زیادہ مشغول ہوتے ہیں، ان کی یادداشت زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس دور میں اجنبی ملکوں کی بعض عورتوں کے مالی معاملات میں مشغول رہنے سے اس قاعدے کی نفی نہیں ہوتی ہے، کیوں کہ وہ کم ہے، اس پر بنا نہیں رکھی جاسکتی۔ عمومی احکام کا دارو مدار اکثر اور اصل پر رکھا جاتا ہے۔(تفسیر المنار)
عورت ناقص الخلقت نہیں ہے
اللہ تعالی نے صاف کہا کہ اس نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، لیکن بعض مفسرین نے درج ذیل آیتوں کے تحت گفتگو کرتے ہوئے عورت کو ناقص الخلقت قرار دے دیا۔
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِیمٌ۔ أَوَمَن ینَشَّأُ فِی الْحِلْیةِ وَهُوَ فِی الْخِصَامِ غَیرُ مُبِینٍ۔ (الزخرف: ۱۷، ۱۸)
ان دونوں آیتوں کا ترجمہ عام طور سے اس طرح کیا گیا:
(اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا (اللہ کی اولاد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟)
اس مفہوم کی رو سے اللہ تعالی نے لڑکیوں کی یہ کم زوریاں ذکر کی ہیں۔ چناں چہ اس مفہوم کو بنیاد بناکر لڑکیوں کی کم زوریوں کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔ کہا گیا کہ: ‘‘جس کی زیورات میں پرورش کی جاتی ہے وہ ذات کی ناقص ہوتی ہے، کیوں کہ اگر اس کی ذات میں کمی نہیں ہوتی تو خود کو زیورات سے مزین کرنے کی ضرورت مند نہیں ہوتی۔’’ یہ بھی کہا گیا کہ : ‘‘ عورت ناقص ہے، بچپن سے ہی اس کے نقص کی تکمیل زیورات پہننے سے ہوتی ہے، اور جب وہ بحث کرتی ہے تو اس کے پاس الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ عاجز وناکام ہوتی ہے، کیا جو ایسی ہو اسے اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے؟ غرض عورت ظاہر وباطن اور صورت ومعنی کے پہلو سے ناقص ہوتی ہے۔’’ کسی نے یہاں تک کہہ دیا کہ : ‘‘ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے ناقص العقل اور ضعیف الرائے ضرور ہے۔’’
مفسرین کو یہ ساری باتیں اس وجہ سے کہنی پڑیں کیوں کہ ان سے آیت کی تفسیر کرنے میں غلطی ہوگئی۔
آیت کا درج ذیل ترجمہ ان تمام باتوں کی گنجائش ختم کردیتا ہے:
(اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ گھٹا گھٹا سا رہتا ہے،کہتا ہے کہ کیا (وہ پیدا ہوئی ہے) جو زیورات میں پالی جاتی ہے اوربحث ومباحثے میں (اپنی بات) واضح نہ کرپاتی ہے۔)
مولانا امین احسن اصلاحی نے اس آیت کی صحیح تفسیر کی ہے۔
یہ ان کے اس احساس کی تعبیر ہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کے دل میں پیدا ہوتا اور ان کی گھٹن کا باعث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اس سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وہ وجود مین آئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت کے مقابلوں میں بالکل بے زبان ہے—۔ یہ امر یہاں اچھی طرح ملحوظ رہے کہ عورت پر یہ تبصرہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان اہل عرب کی طرف سے ہے جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عام طور پر مفسرین نے یہ خیال کیا کہ یہ تبصرہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ یہ غلط فہمی لوگوں کو کلام کے سیاق پر غور نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ (تدبر قرآن)
مفسرین سمجھے کہ یہ اللہ نے لڑکیوں کے بارے میں کہا ہے، اس لیے اس کی توجیہ کرنی ضروری ہے۔ حالاں کہ وہ جاہلی معاشرے میں اس فرد کے احساسات ہیں جس کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ اس رائے کے حق میں ایک مضبوط دلیل یہ ہے کہ مشرکینِ عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے لیکن وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ فرشتے انسانی لڑکیوں کی طرح ہوتے ہیں، زیورات میں پلتے ہیں اور اپنی بات کہہ نہیں پاتے ہیں۔ یہ اوصاف تو وہ اپنے گھر پیدا ہونے والی لڑکیوں میں دیکھتے تھے۔
زمین میں خلیفہ مرد اور عورت دونوں ہیں
ہمیں روایتی لٹریچر میں یہ تصور بھی ملتا ہے کہ عورت محض مرد کے لیے بنائی گئی ہے،انسانی تخلیق کا اصل مقصود تو مرد ہے اور گویا وہی خلافت کے کردار کا اہل ہے۔
وَمِنْ آیاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَیهَا وَجَعَلَ بَینَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِی ذَٰلِكَ لَآیاتٍ لِّقَوْمٍ یتَفَكَّرُونَ (الروم: ۲۱)
اس آیت کو دو طرح سے سمجھا گیا ہے، اور اسی لیے دو طرح سے ترجمہ کیا گیا ہے:
‘‘اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔ ’’
‘‘اور یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے پیدا کیےتاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور ہم دردی ودیعت کی۔ ’’
مفسر فخرالدین رازی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایسی باتیں لکھیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بعض مسلم علما پر غیر اسلامی نظریات کے تہہ بہ تہہ انبار کتنے زیادہ اثرانداز ہوئے، وہ لکھتے ہیں:
ارشاد باری: ﴿خَلَقَ لَكُمْ﴾ اس بات کی دلیل ہے کہ عورتیں چوپایوں،نباتات اور دیگر سود مند چیزوں کی طرح پیدا کی گئی ہیں، جیسا کہ ارشاد بار ی ہے: ﴿خَلَقَ لَكم ما فی الأرْضِ﴾ (البقرة: ٢٩) اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عبادت و شریعت کے لیے پیدا کی ہوئی نہ ہوں۔ لہذا ہم کہتے ہیں: عورتوں کی تخلیق ہمارے لیے بطور نعمت کے ہے اور انھیں شریعت کا مکلف اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ ہماری نعمت کمال درجے کی ہوجائے۔ جس طرح سے ہم شریعت کے مکلف ہیں اس طرح سے وہ مکلف نہیں ہیں۔ دلائل کے پہلو سے اس بات کی تائید میں یہ اور دیگر منقول دلیلیں ہیں۔ احکام کے پہلو سے دیکھیں تو عورت پر ایسے بہت سے احکام عائد نہیں ہیں جو مرد پر عائد ہوتے ہیں اور معنوی پہلو سے دیکھیں تو عورت کم زور اور کم عقل ہوتی ہے، اس پہلو سے وہ بچے سے مشابہ ہوتی ہے۔بچہ بھی مکلف نہیں ہوتا ہے اس لیے عورت کے لیے بھی مناسب یہ تھا کہ اسے شریعت کے احکام کا اہل نہ سمجھا جائے، لیکن انھیں مکلف بنائے بغیر ہمارے اوپر نعمت مکمل نہیں ہوتی۔ انھیں اس لیے مکلف بنایا گیا تاکہ ان میں سے ہر کوئی عذاب سے ڈرے، شوہر کی مطیع وفرماں بردار بن جائے اور حرام سے دور رہے، اگر یہ نہ ہوتا تو بگاڑ برپا ہوجاتا۔ (التفسیر الکبیر)
اس ساری گفتگو کی بنیاد غلط تفسیر پر ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ اس آیت میں صرف مردوں سے خطاب ہے،حالاں کہ خطاب انسانوں سے ہے جن میں مرد وعورت سب شامل ہیں۔خلق لکم کا خطاب اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے جب اسی آیت میں آگے وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ آتا ہے۔
اسی طرح یہ سمجھ لیا گیا کہ ازواج سے مراد بیویاں ہیں، حالاں کہ ازواج سے مراد جوڑے ہیں، مردوں کے لیے عورتیں ازواج ہیں اور عورتوں کے لیے مرد ازواج ہیں۔ اور یہیں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ لتسکنوا کا خطاب بھی سب سے ہے مرد عورتوں سے سکون پائیں اور عورتیں مردو ں سے سکون پائیں۔
درج ذیل آیت میں ازواج کے اس ترجمے کا خیال کرنے سے اس کی معنویت بھی دو چند ہوجاتی ہے :
وَالَّذِینَ یقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیاتِنَا قُرَّةَ أَعْینٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِینَ إِمَامًا (الفرقان: ۷۴)
عام طور سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے:
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ “اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا”
اس طرح یہ خالص مردانہ دعا ہوجاتی ہے۔ جب کہ درج ذیل ترجمہ اسے مردوں اور عورتوں سب کی دعا بنا دیتا ہے:
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ “اے ہمارے رب، ہمیں اپنے جوڑے اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا”
خلاصہ یہ ہے کہ مرد کے عورت سے بہتر وبرتر ہونے اور عورت کے مرد سے کم تر وپست تر ہونے کا تصور غیر اسلامی تصور ہے۔ آج ضرورت ہے کہ مسلم مرد کی طرح مسلم عورت کے اندر بھی اونچی سوچ پیدا کی جائے۔ انھیں ان کے بلند مقام اور اس کے تقاضوں کو یاد دلایا جائے۔ ان کے اندر سے احساس کم تری کو دور کیا جائے۔ مسلم مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے نصب العین میں ان کے ساتھ شریک ہونے اور ان کی راہ میں ان کا مددگار بننے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ عورتوں کے سلسلے میں مسلم مردوں اور مسلم سماج کی سوچ کو بدلا جائے۔عورت کو قابل احترام نظروں سے دیکھا جائے اور اس کی خصوصیات کی قدر کی جائے۔
مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کے درمیان تعلق کو بتانے والی قرآنی تعبیرات نہایت بلیغ اور بے بدل ہیں۔ جیسے بعضکم من بعض اور بعضھم اولیاء بعض۔ حدیث پاک کی تعبیر: النساء شقائق الرجال بھی بہت معنی خیز ہے۔ دین کا تقاضا اور وقت کی پکار ہے کہ انھیں تعبیرات کی بنیاد پر مرد وزن کے سلسلے میں اسلامی تصور کی عمارت تشکیل دی جائے۔ اسی کے نتیجے میں ایسا معاشرہ وجود میں آسکتا ہے جس میں عورتیں مردوں کا احترام کریں اور مرد عورتوں کا احترام کریں۔ باہمی احترام ہی اس بات کی ضمانت لے سکتا ہے کہ کسی کے اندر احساس برتری پیدا ہو نہ کسی کے اندر احساس کم تری۔
مشمولہ: شمارہ اکتوبر 2021