رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

گاؤں میں نماز جمعہ

سوال:

ایک بستی کی مجموعی آبادی تقریباً دو ہزار چار سو (۲۴۰۰) افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے بالغ مردوں کی تعداد سات سو(۷۰۰)ہے۔ اس میں تین مسجدیں ہیں اور عید گاہ بھی ہے۔ اس آبادی میں دس بڑی پکی گلیاں ہیں، جن میں بڑے بڑے ٹریکٹر وغیرہ نکل سکتے ہیں۔ پانچ چھوٹی پکی گلیاں ہیں اور پندرہ کچی بڑی گلیاں ہیں۔ یہاں ضروریاتِ زندگی کا ہر طرح کا سامان ملتا ہے۔ ہر طرح کی دوکانیں ہیں۔ گاؤں کی ایک مسجد میں ۱۹۷۶ء تک جمعہ ہوتا تھا، لیکن کچھ لوگوں کے کہنے پر (کہ اس بستی میں جمعہ قائم کرنے کی شرائط نہیں پائی جاتیں) نماز جمعہ روک دی گئی تھی۔

برائے مہربانی مدلل و مفصل جواب مرحمت فرمائیں کہ کسی بستی میں نماز جمعہ کے قیام کی کیا شرائط ہیں؟ کیا اتنی بڑی بستی میں کسی ایک مسجد میں بھی نماز جمعہ نہیں پڑھی جا سکتی؟ اگر نماز جمعہ جائز ہے تو کیا ایک ہی مسجد میں یا تینوں مسجدوں میں پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب:

فقہائے احناف کے نزدیک کسی آبادی میں نماز جمعہ درست ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ اس پر شہر کا اطلاق ہوتا ہو۔ بعض فقہاء کے نزدیک شہر سے مرادوہ بستی ہے جس میں سلطان (مسلم حکم راں) ہو، یا قاضی ہو، جو لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ کرتا ہو ، حدود نافذ کرتا ہو اور دیگر دینی احکام صادر کرتا ہو۔ جس بستی میں یہ شرط نہ پائی جائے وہاں لوگوں پر جمعہ واجب نہیں ، وہ ظہر پڑھیں گے۔

اس سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کے شاگر رشید قاضی ابو یوسفؒ کا قول یہ ہے کہ اگر کسی آبادی کے تمام لوگ پنچ گانہ مساجد میں سے بڑی مسجد میں جمع ہوں اور وہ ان کے لیے ناکافی ہو جائے تو ایسی آبادی کو شہر کہا جائے گا۔( انّہ ما اذا اجتمعوافی أکبر مساجدھم للصلوات الخمس لم یسعھم) اسی پر اکثر فقہائے احناف کا فتویٰ ہے۔ (البحر الرائق: ۳؍۲۴۶، بدائع الصنائع: ۱؍ ۵۸۵، فتح القدیر: ۲؍ ۴۲)

یہ شرط صرف فقہائے احناف کے نزدیک ہے۔ دوسرے فقہاء کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ہر طرح کی بستی میں نماز جمعہ پڑھی جا سکتی ہے۔ موجودہ دور میں، جب کہ مسلم عوام کی اکثریت میں جہالت اور بے دینی کے سبب پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام نہیں ہے، وہ صرف نماز جمعہ پڑھ کر ہی اسلام سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں، ان حالات میں مناسب، بلکہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ’ شہر‘ کا وہ مفہوم لیا جائے جس سے زیادہ سے زیادہ مقامات پر نماز جمعہ قائم کرنے کی گنجائش نکل جائے اور اس موقع کو عوام کی تذکیر و موعظت کے لیے استعمال کیا جائے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مذکورہ بستی کی تین مساجد میں سے کسی ایک میں نماز جمعہ کا آغاز کیا جائے اور بعد میں جب وہ تنگ ہو جائے یا دوسرے مقامات سے وہاں پہنچنے میں لوگوں کو زحمت ہو تو دوسری مسجدوں میں بھی نماز جمعہ شروع کر دی جائے۔

خواتین کا اجتماعی سفر

سوال:

ہم لوگ ریاستی سطح پر خواتین کی ایک کانفرنس کررہے ہیں۔ اس میں مختلف شہروں سے طالبات او ر خواتین شریک ہوں گی۔ عموماً یہ سب گروپس کی شکل میں سفر کرتی ہیں ۔ ہر ایک کے ساتھ اس کا محرم نہیں ہوتا ۔ بعض حضرات  اس پر اشکال پیش کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر لڑکی یا عورت کے ساتھ دورانِ سفر کوئی محرم ہونا  ضروری ہے ۔

بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں ، کیا اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے ؟ یا ان میں سے بعض مختلف رائے رکھتے ہیں، اس سلسلے میں ائمہ اربعہ کے مسلک پر روشنی ڈالیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب:

احادیث میں صراحت ہے کہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:

لَا تُسَافِرُ الْمَرْاَۃُ اِلاَّ معَ ذِیْ محرمٍ (بخاری : ۱۸۶۲، مسلم: ۱۳۱۴)

’’عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے‘‘۔

دوسری حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لاَ یَحِلُّ لاِ مْرَاَ ۃٍ تُوْمِنُ باللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ اَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃِ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ (بخاری: ۱۰۸۸، مسلم: ۱۳۳۹)

’’ کسی عورت کے لیے ،جواللہ اورروزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں ہے کہ محرم کے بغیر ایک دن اورایک رات کی مسافت کے بقدر سفر کرے‘‘۔

اس مضمون کی احادیث مختلف الفاظ میں مروی ہیں۔ کسی  حدیث میں دو دن ورات اورکسی میں تین دن تین رات کا تذکرہ ہے ۔ محدثین نے ان کے درمیان اس طرح تطبیق دینےکی کوشش کی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بغیر محرم کے عورت کے سفر کو ممنوع قرار دیا ہے، چاہے جتنی مسافت کا سفر ہو ۔ کسی نے تین دن کی مسافت کے بارے میں دریافت کیا ، کسی نے دو دن کی مسافت کے بارے میں اور کسی نے ایک دن کی مسافت کے بارے میں ۔ آپ ؐ کا جواب ہر موقع پر یہی تھا کہ بغیر محرم کے عورت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔

عورت کے (بغیر محرم کے ) سفر کی کئی صورتیں ہیں:

وہ دار الکفر میں ہو، وہاں سے دارالاسلام میں سفر کرنا چاہتی ہو ، یا کسی پر خطر مقام پر ہو ، وہاں سے کسی پُر امن علاقے میں آنا چاہتی ہو ،تو اسےمحرم فراہم ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ اضطراری حالت ہے ۔ وہ اس حالت میں بغیر محرم کے بھی سفر کر سکتی ہے۔

اس پر حج فرض ہوگیا ہو ، لیکن کوئی محرم نہ ہو جواسے اپنے ساتھ لے جاسکے، یا محرم تو ہو، لیکن کسی وجہ سے اس کا ساتھ جانا ممکن نہ ہو۔ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ اس میںفقہاء کا اختلاف ہے ۔ جمہور بغیر محرم کے عورت کو سفر حج کی بھی اجازت نہیں دیتے، جب کہ بعض فقہاء قابل اعتماد عورتوں کی جماعت کے ساتھ حج کے لیے نکلنے کو جائز کہتے ہیں۔

عورت نہ اضطراری حالت میں ہو اور نہ اسے سفرِ حج در پیش ہو، بلکہ وہ کسی اور ضرورت سے ، (مثلاً تجارت، تعلیم یا کسی رشتے دارسے ملاقات یا کسی  دینی پروگرام میں شرکت وغیرہ کے لیے) سفر کرنا چاہتی ہو، اس صور ت میں بھی جمہور فقہاء بغیرمحرم کے اس کے سفر کوناجائز  قرار دیتے ہیں۔ بعض حضرات اس پر اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن یہ دعویٰ درست نہیں، اس لیے کہ بعض فقہاء نے اس سے مختلف نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔

کچھ فقہا ء عام حالات میں بغیر محرم کے عورت کے سفر کو بعض شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں۔ مثلاً راستہ پر امن ہو، فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور کوئی ضرر لا حق ہونے کا خطرہ نہ ہو یاکچھ دوسری قابل اعتماد عورتوں کا سا تھ ہو ۔ یہ رائے حضرت حسن بصریؒ، امام اوزاعیؒ اورداؤد ظاہری ؒ سے مروی ہے ۔ شوافع (المجموع: ۸؍ ۳۴۲) اور  حنابلہ سے ایک قول ایسا مروی ہے ۔علامہ ابن تیمیہؒ کا ایک قول تو جمہور کے مطابق ہے ( شرح العمدۃ: ۲؍۱۷۲۔۱۷۷، الفتاویٰ الکبریٰ :۵؍۳۸۱) لیکن ان کا دوسرا قول ابن المفلح نے یہ نقل کیا ہے : ’’راستے پر امن ہونے کی صورت میں امام ابن تیمیہؒ کے نز دیک عورت محرم کے بغیر حج کو جاسکتی ہے ۔ اسی طرح دیگر ضروریات سے بھی سفر کرسکتی ہے ۔ کرابیسی نے یہ قول نفلی حج کے سلسلے میں امام شافعی ؒ سے بھی نقل کیا ہے ۔ ان کے بعضـ اصحاب کی رائے ہے کہ اس کا اطلاق ہر طرح کے سفر پر ہوتا ہے ‘‘۔ (الفروع :۳؍۱۷۷)امام نوویؒ نے لکھا ہے : ’’ماوردی ؒ فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب میں سے بعض نے یہ رائے دی ہے کہ عورت بغیر محرم کے معتبر عورتوں کی جماعت کے ساتھ نکل سکتی ہے ، جیسا کہ فرض حج میں اس کی اجازت ہے ‘‘۔ (المجموع:۸؍۳۴۳)

فقہاء کے درمیان اس اختلاف کی بنیاد یہ سوال ہے کہ محرم کے بغیر عورت کا سفرممنوع ہونے کی علّت کیا ہے؟

جمہور فقہا ء اس کی علّت خود سفر کوقرار دیتے ہیں۔ اس صور ت میںچاہے راستے پر امن ہوں اور عورت کے تحفظ کی دیگر تدابیر فراہم ہوں تب بھی اس کا بغیر محرم کے سفر جائز نہ ہوگا۔

جوفقہا ء یہ مانتے ہیں کہ علّتِ تحریم عورت کی جان اور عزت وآبرو کا تحفظ ہے وہ کہتے ہیں کہ راستہ  پُرامن ہو، یا دیگر عورتوں کا ساتھ ہوتو عورت بغیر محرم کے بھی سفر کرسکتی ہے ۔ اس کی دلیل وہ حضرت عدی بن حاتمؓ سے مروی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَاِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِیْنَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیْرَۃِ حَتّٰی تَطُوْفُ بِالْکَعْبَۃِ لاَ تَخَافُ اَحَداً اِلاَّ اللہ (بخاری : ۳۵۹۵)

’’ اگرتم زندہ رہے تو یقیناً دیکھ لوگے کہ ایک عورت حیرہ سے تنہا سفر کرکے آئے گی اورکعبہ کا طواف کرے گی ۔ راستے میں اسے اللہ کے علاوہ اورکسی کا خوف نہ ہوگا‘‘۔

ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اس حدیث کےذیل میں لکھا ہے :

’’ اس حدیث میں نہ صرف اس بات کی پیشین گوئی ہے کہ ایساو اقعہ وقوع پذیر ہوگا، بلکہ سفر پُر امن ہونے کی صورت میں اکیلی عورت کے سفر پر نکلنے کے جواز کی بھی دلیل ہے ۔ کیوں کہ حضورؐ نے اس واقع کی پیشین گوئی تعریف اورمدح کے صیغے میںفرمائی ہے۔‘‘( فتاویٰ یوسف القرضاوی ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی ، ۱۲۰۱۱، جلد اوّل ، ص ۱۸۱)

اس تفصیل سے واضح ہو اکہ جمہور فقہاء کسی بھی صورت میں محرم کے بغیر عورت کے سفر کرنے کو نا جائز قرار دیتے ہیں ، البتہ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ راستے پر امن ہوں اور دیگر عورتوں کا ساتھ ہو، توعورت محرم کے بغیر بھی سفر کرسکتی ہے، یا کچھ عورتوں کے ساتھ ان کےمحرم ہوں تو دیگر عورتیں ان کے ساتھ سفر کرسکتی ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جمہور کے موقف میں احتیاط اوربعض فقہاء کے موقف میں کچھ گنجائش پائی جاتی ہے۔

باپ بیٹوں کے مشترکہ کاروبار میں وراثت کا مسئلہ

سوال :

ہمارے ایک عز یز کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوا ہے ۔ وہ اپنے پیچھے بیوی ، (۲) دو لڑکے اور چھ (۶) لڑکیاں چھوڑ گئے ہیں۔

مرحوم کی ایک دوکان تھی ۔ انہوں نے بڑے لڑکے کواپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرلیا ۔ دونوں نے مل کر کاروبار کوخوب ترقی دی ۔ چندسال کے بعد چھوٹا لڑکا بھی اسی کاروبار میںشریک ہوگیا۔ مرحوم نے وہ دوکان ، جسے انہوںنے کرایے پر حاصل کیا تھا ، کچھ عرصے کےبعد خریدلی اور اسے دونوں بیٹوں کے نام رجسٹر ڈ کروادیا ۔ کاروبار بھی انہوںنے دونوں بیٹوں کے درمیان تقسیم کردیا کہ بڑا بھائی   ہول سیل سنبھالے گا اور چھوٹا بھائی ریٹیل ۔

باپ کے انتقال کے بعد جب تقسیم وراثت کا مسئلہ سامنے آیا تو بڑے بھائی نے کہا کہ والد صاحب نے دوکان ہمارے نام رجسٹرڈ کرادی تھی ، اس لیے وہ ہماری ہے ۔ باقی جائیداد میں وراثت تقسیم ہوگی ۔ چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ والد صاحب کاروبار میں آخری وقت تک ساتھ تھے، اس لیے پوری جائیداد دوکان سمیت وراثت میں تقسیم کی جائے۔ لڑکیوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ والد صاحب نے کبھی ہمارے سامنے یہ ذکر نہیں کیا کہ دوکان صرف لڑکوں کی ہے، اس لیے اس میں ہمارا بھی حق بنتا ہے۔

بہ راہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ دوکان میں لڑکیوں کا حصہ بنتا ہے  یا نہیں؟

جواب:

باپ کے کاروبار میں لڑکے تعاون کریں تو اس کا مالک باپ ہی رہے گا ، الّا یہ کہ باقاعدہ پارٹنر شپ کی صراحت ہوجائے ۔ لیکن جن چیزوں کی رجسٹری باپ نے اپنی زندگی میںبیٹوں کے نام کردای ان کے مالک بیٹے تصور کیےجائیں گے ، کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں وہ چیزیں بیٹوں کوہبہ کردیں اور ان کوان کا مالک بنادیا۔باپ نے اپنی زندگی میں کاروبار بھی بیٹوں کے درمیان بانٹ دیا تو اس کے مالک بھی بیٹے سمجھے جائیں گے ۔ بقیہ جو چیزیں باپ کی ملکیت میں تھیں ، اس کے انتقال کےبعد وہ مستحقینِ وراثت میں تقسیم ہوں گی۔

سوال(۲)

میرے پاس  ایک کرائے کی دوکان ہے ، جس کی تعمیر نو میرے بڑے بیٹے نے اپنے پیسوں سے  کرائی  اوردوکان میں کاروبار کے لیے جوسرمایہ لگا ہے وہ بھی میرے بڑے بیٹے کا ہے ۔ دوکان پر میرا ایک چھوٹا بیٹا بھی بیٹھتا ہے ۔ شریعت کی نگا ہ میں دوکان کی ملکیت کس کی ہوگی؟

اسی طرح میر ے پاس ایک آبائی مکان ہے ، جس کی تعمیر بھی میرے بڑے بیٹے نے کرائی ہے ۔ میں اس مکان کو اپنے بڑے بیٹے کے علاوہ دوسرے  وارثوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں ۔کیا مجھے اس کی تعمیر میں جوخرچ ہوا ہے اس کا معاوضہ بڑے بیٹے کودینا ہوگا؟

براہ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرمادیں۔

جواب:

معاملات صاف ہوںتو بعد میں تنازعہ سے بچا جاسکتا ہے ۔ صورت مسئولہ سے واضح ہے کہ باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار اوررہائش کے معاملات صاف نہیں ہیں۔

کرایے کی دوکان باپ کی ہو، جس کی تعمیر نو بیٹے نے کی ہو تو اس کی ملکیت (کرایہ داری) باپ کی ہی سمجھی جائے گی۔ اس میں اگر کل سرمایہ بڑے بیٹے کا ہے تو کاروبار اسی کا سمجھا جائے گا ۔ چھوٹے بیٹے کی حیثیت اجیر (ملازم) کی ہوگی، جس کے معاوضہ کا وہ مستحق ہوگا۔ لیکن اگر بڑے بیٹے کا سرمایہ جزوی ہے تووہ اور اس کا باپ اور چھوٹا بھائی تجارت میں شریک سمجھے جائیں گے ۔ بڑے بیٹے نے دوکان کی تعمیر نو میں جوپیسہ لگایا ہے اسے وہ لینے کا مستحق ہے ۔

رہائشی مکان کی ملکیت بھی باپ کی سمجھی جائےگی۔ بیٹے نے اس کی تعمیر میں جورقم خرچ کی ہے اس کا معاوضہ لینے کا و ہ مستحق ہے ۔

بیٹے اپنی کمائی میں کچھ رقم باپ کودیتے رہیں تو اسے با پ کی ملکیت شمار کیا جائے گا۔

اس موضوع پر اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا ) کے سیمینار منعقدہ ۲۰۱۰ء گجرات میں غور ہوا تھا اوردرج ذیل تجاویز منظور کی گئی تھیں:

۱۔   شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کومعاملات کی صفائی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے، اس لیے مسلمان اپنی معاشرت میں معاملات کی صفائی کا خاص اہتمام کریں، خصوصاً تجارت اورکاروبار میں اس کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے ۔ ایک شخص تجارت کررہا ہے اور اس کی اولاد بھی اس کاروبار میںشریک ہے تو جوبیٹے باپ کے ساتھ کاروبار میں شریک ہورہے ہیں ، ان کی حیثیت (شریک، اجیر یا معاون کے طور پر ) شروع سے متعین ہوجائے توخاندانوں میں ملکیت کے اعتبار سے جونزاعات ہوتے ہیں ان کا بڑی حدتک سدّ باب ہوجائے گا، اس لیے اس طرح کے معاملات میں پہلے سے شرکاء کی حیثیت متعین کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

۲۔   اگر والد نے اپنے سرمایے سے کاروبار شروع کیا ، بعد میں اس کے لڑکوںمیںسے بعض شریک کار ہوگئے ، مگر الگ سے انہوںنے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا اوروالد نے ایسے لڑکوں کی کوئی حیثیت متعین نہیںکی تو اگروہ لڑکے باپ کی کفالت میں ہیں تواس صورت میں وہ لڑکے والد کے معاون شمار کیے جائیں گے اوراگر باپ کی زیر کفالت نہیں ہیں تو عرفاً جواجرتِ عمل ہوسکتی ہے وہ ان کو دی جائے۔

۳۔   اگروالد کے ساتھ بیٹوںنے بھی کاروبار میں سرمایہ لگایا ہوا ور سب کا سرمایہ معلوم ہوکہ کس نے کتنا لگایا ہے تو ایسے بیٹوں کی حیثیت  با پ کے شریک کی ہوگی اورسرمایے کی مقدار کے تناسب سے شرکت مانی جائے گی ، اِلّا یہ کہ سرمایہ لگانے والے بیٹے کی (اعلان کردہ) نیت والد کے یا مشترکہ کاوبار کے تعاون کی ہو، شرکت کی نہیں ۔

۴۔    اگر کاروبا ر کسی لڑکے نے اپنے ہی سرمایے سے شروع کیا ہو،لیکن بہ طور احترام دوکان پر والد کو بٹھایا ہو،یا اپنے والد کے نام پر دوکان کا نام رکھا ہوتو اس صورت میں کاروبار کا مالک لڑکا ہوگا ، والد کودوکان پر بٹھانے یا ان کے نام پر دوکان کانام رکھنے سے کاروبار میںوالد کی ملکیت و شرکت ثابت نہ ہوگی۔

۵۔   باپ کی موجودگی میں اگر بیٹوں نے اپنے طور پر مختلف ذرائع کسب اختیار کیے اوراپنی کمائی کا ایک حصہ والد کے حوالے کرتے رہے تو اس صورت میں باپ کوادا کردہ سرمایہ باپ کی ملکیت شمار کیا جائے گا۔

۶۔    اگر کسی وجہ سے والد کا کاوربار ختم ہوگیا، لیکن کاروبار کی جگہ باقی ہو، خواہ وہ جگہ مملوکہ ہویا کرائے  پرحاصل کی گئی ہو اوراولاد میں سے کسی نے اپنا سرمایہ لگاکر اسی جگہ اوراسی نام سے دوبارہ کاروبار شروع کیا تو اس صورت میں جس نے سرمایہ لگا کر کاروبار شروع کیا ، کاروبار اس کی ملکیت ہوگی، والد کی ملکیت نہیں ہوگا، لیکن وہ جگہ (خواہ مملوکہ ہو یا کرایہ پر لی گئی ہو )دوبارہ کاروبار شروع کرنے والے کی نہیں، بلکہ اس کے والد کی ہوگی اوروالد کی وفات کی صورت میں اس میں تمام ورثہ کا حق ہوگا۔ اسی طرح کاروبار کا گُڈوِل (معنوی قیمت) بھی باپ کا حق ہے اوراس کی وفات کے بعد تمام ورثہ کا حق ہوگا۔(نئے مسائل اورفقہ اکیڈمی کے فیصلے ، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نئی دہلی ،۲۰۱۴ء ص :۳۔۴ )

وکالت کا پیشہ

سوال :

کیا موجودہ عدالتی نظام میں کسی مسلمان وکیل کے لیے پریکٹس کرنا جائز ہے؟

جواب:

اسلام میں کسی ضرورت مند کی مدد اورکسی پریشان حال کی پریشانی دور کرنے کوکارِ خیرقرار دیا گیا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے عمل کوصدقہ سے تعبیر فرمایا ہے۔( بخاری: ۱۴۴۵، مسلم: ۱۰۰۸)

فقہ اسلامی میں’وکالۃ‘ کا ایک مستقل باب ہے ، جس میںکسی شخص کی نیابت اورترجمانی کرنے کوجائز قرار دیا گیا ہے اوراس کے احکام ومسائل بیان کیے گئے ہیں۔

موجودہ عدالتی نظام میں کسی شخص کے لیے اپنے کسی کیس کی پیروی ممکن نہیں ہے ۔ اس کے لیے اسے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں۔ اس بنا پر وکالت ایک پیشہ (Profession) بن گیا ہے ۔ وکالت کی تعلیم حاصل کرنا اوراس پیشہ کو اختیار کرنا عام حالات میں جائز ہے ۔ البتہ ضروری ہے کہ وکیل اخلاقی حدود وآداب کی پابندی کرے ۔ یعنی

۔ وکیل اورموکل کے درمیان اجرت اورکار کردگی کی تفصیلات طے ہوں۔

۔ وکیل اپنے موکل کا بہی خواہ ہو ، اس لیے کیس کو خواہ مخواہ طول دینے کی کوشش نہ کرے۔

۔وکیل اپنے مؤکل کا ترجمان ہے ، اس لیے کیس سے متعلق کوئی بات اس سے نہ چھپائے ۔

۔وکیل اپنے مؤکل کو جتانے کے لیے کسی بھی مرحلے میں جھوٹ کا سہارا نہ لے۔

۔ وکیل کواگر کسی مرحلے پر معلوم ہوجائے کہ اس کا موکل بھی خطا کار ہے تو اس کوبے خطا ثابت کرنے کی کوشش نہ کرے۔

۔ کوئی ایسا حق، اپنے موکل کو دِلانے کی کوشش نہ کرے جو شریعت کے مطابق موکل کا حق نہ ہو (چاہے مُلکی قانون میں موکل اُسے لے سکتا ہو)

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی عدالتوں میں کسی مسلمان کے لیے وکالت کی پریکٹس کرنا جائز ہے ؟ بعض حضرات کو اس سلسلے میں اشکال ہے ۔ اس لیے کہ عدالتوں کا نظام جن قوانین پر مبنی ہے وہ انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں ، جب کہ مسلمانوں کوصرف اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور غیر اللہ کے قوانین پر عمل کرنے کوکفر، ظلم اورفسق کہا گیا ہے۔

یہاںغور کرنا چاہیے کہ یہ بات توصحیح ہے کہ مسلمان احکامِ اِلٰہی کا پابند ہے ۔ چنانچہ اسلامی ریاست میں کتاب وسنت کی روشنی میں قانون سازی ہوگی اورکوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکے گا جوکتاب وسنت سے ٹکراتا ہو ۔ لیکن جومسلمان  غیر اسلامی ریاست میں رہتے ہوں وہ وہاں  کے نظام کے عملاً پابند ہوں گے ۔ اگر یہ قوانین اسلامی تعلیما ت واقدار کے مطابق ہیں تو ٹھیک ہے ، لیکن اگر ان سے ٹکراتے ہیںتووہ ان میں تبدیلی کے لیے کوشش کریں گے ۔اس تفصیل سے واضح ہو ا کہ ایک مسلمان ہندوستانی عدالتوں میں وکالت کی پریکٹس کرسکتا ہے ۔ (شرائط اوپر بیان کی جاچکی ہیں۔ )البتہ اگر ملک کا کوئی قانون اسلامی قانون سے ٹکراتا ہے تو وکیل کو چاہیے کہ وہ کوئی ایسا حق اپنے موکل کو نہ دِلائے جو اسلامی قانون کے مطابق ، اسے نہ مِل سکتا ہو۔

موجودہ دور میں ہندوستانی عدالتی نظام کے ذریعے، ازالہ ظلم کی سعی ضروری ہوگئی ہے ۔ کیوں کہ  بسا اوقات مسلمانوں اور خاص طور پر مسلم نوجوانوں کو جھوٹے الزامات کے تحت نا حق پھنسا یا جاتا ہے ۔ اگر مسلمان ماہر وکلاء موجود ہوں گے تو ان کے کیسوں کا دفاع آسان ہوگا اوروہ دینی حمیت اورجذبے سےیہ کام کریں گے ۔

دسمبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau